دارارقم، اصلاح معاشرہ کی اولین تربیت گاہ – نوید احمد

ہمارے معاشرے میں مدارس اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں بُعد المشرقین ہے۔ مدارس صرف دینی تعلیم تک محدود جبکہ یونیورسٹیز میں صرف دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے سوائے چند ایک شعبہ جات کے۔ مدرسہ ہو یا یونیورسٹی کسی ایک کے بھی پیش نظر معاشرے کی اصلاح ترجیح نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے کیا مسلم معاشروں میں یہ دورنگی یا دوری کوئی مثبت عمل ہے؟ ہر گز نہیں… ایک مسلمان کے لیے دینی اور دنیاوی دونوں علوم ہی ضروری ہیں لیکن آج اسی دُوری کا نتیجہ یہ نکلا ہےکہ مدرسوں میں پڑھنےوالے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے اور یونیورسٹی والے مدرسہ والوں کو جاہل سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ آئیے دور نبوی سے کچھ علم کے موتی چننے کی کوشش کریں شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے ہادی و رہنما بنا کر بھیجا اور آپ کے بعد بحیثیت خلیفہ کے اصلاح معاشرہ کی یہ ڈیوٹی اب ہمارے ذمہ ہے۔ کیا یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ کسی کے ذمے کام تو ہو معاشرے کی اصلاح کا، معاشرے کو صحیح ڈگر پر چلانے کا، انہیں حرام و حلال کی تمیز سکھانے کا، ان میں اچھے اخلاق کو پروان چڑھانے کا، لیکن وہ ساری عمر سرکاری یا پرائیوٹ جاب کرتے گزار دے؟ وہ بزنس کرے، ڈاکٹر انجینئر سائنسدان بنے، بیورو کریٹ اور سیاستدان بنے؟ کیا صرف دنیا کمانے سے وہ اپنی اصل ڈیوٹی کو ادا کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں… اسی طرح وہ لوگ بھی قابل گرفت ہیں جو ساری عمر درس نظامی پڑھتے رہیں، پڑھاتے رہیں، بچوں کو قرآن پڑھاتے، حفظ کراتے زندگی گزار دیں لیکن ان کے پیش نظر معاشرے میں پنپتی اخلاقی گراوٹ کے آگے بند باندھنے کا کوئی ایجنڈا ہی نہ ہو۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی آئیڈیل ہے اور وہی ہمیں نشان منزل کا پتہ دیتی ہے۔ انہوں نے اتنے بڑے مشن کی تکمیل کے لیے مکہ کے ابتدائی دور ہی میں صفا کی پہاڑی پر واقع ارقم بن ابی ارقم کے گھر یعنی "دار ارقم" میں پہلی تربیت گاہ (آپ کی مرضی آپ اسے مدرسہ کہیں یا یونیورسٹی ) قائم کی جس کے بارے میں ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی صاحب کہتے ہیں: ’’قبولِ اسلام کا مرکز ہونے کے علاوہ وہ تعلیم گاہ،خانقاہ، تربیت گاہ، مشاورت گاہ، مسجد و مدرسہ، منزلِ نبوی اور بہت کچھ تھا۔وہ مکی دور کا مستقل اور عظیم اسلامی مرکز بن گیا تھا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کا زوال اورسیرت النبی - عائشہ یاسین

دارارقم میں خفیہ تعلیم جان کے ڈر سے نہ تھی بلکہ حکمت پر مبنی تھی۔ اس کا ایک مقصد صالح افراد کار کی تیاری تھا جن لوگوں کو بڑے مقاصد حاصل کرنا ہو انہیں پوری یکسوئی کیساتھ مطلوبہ علوم بھی حاصل کرنا چاہئیں۔ دارارقم میں صحابہٴ کرام کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اجتماعی طور پر عبادات، ذکر اللہ اور دعاوٴں کا سلسلہ ہمہ وقت جاری رہتا تھا، یہیں پر لوگ آ کر حلقہ بگوش اسلام ہوا کرتے تھے۔

دارارقم میں باہم مشاورت سے تبلیغ کے لیے بھی حکمت عملی طے کی جاتی تھی اور اس کا جائزہ بھی لیا جاتا تھا۔ کہنے کو تو ہماری مساجد میں ہفتہ وار بنیاد پر جمعہ کے روز نماز جمعہ کے وقت بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، جس کا مقصد اصلاح احوال ہی ہونا چاہیے لیکن ستم بالائے ستم یہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان اجتماعات میں آخری وقت میں شریک ہوتی ہے جس کی ایک وجہ عوام کی مذہب سے بیزاری اور دوسری بڑی اور اہم وجہ علمائے کرام خود ہیں۔ ان کی تقاریر کےموضوعات فرقہ پرستی پر زیادہ اور اصلاح معاشرہ پر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میں آج بھی چند ایسی مساجد سے واقف ہوں جن میں عوام کی اکثریت خطیب صاحب کی گفتگو شروع ہونے سے قبل مسجد میں پہنچتی ہے جس کی بڑی وجہ ان کے خطبات کا علمی اور عملی ہونا ہے۔

دارارقم مسلمانوں کے لیے اطمینانِ قلب کا مرکز تھا، بالخصوص نادار، ستائے ہوئے اور مجبور و مقہور اور غلام یہاں آ کر پناہ لیتے تھے۔

دارارقم میں معاشرے کی اصلاح کے لیے مبلغین بھی تیار ہوتے تھے چنانچہ اس تربیت گاہ کے تربیت یافتہ معلّمین میں سے حضرت ابوبکر،خباب بن الارت، عبداللہ بن مسعود اور مصعب بن عمیررضوان اللہ علیہم کے نام نمایاں ہیں۔

دارارقم کی اس ابتدائی تربیت گاہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں اصلاح احوال کے لیے ایسے مدارس اور یونیورسٹیاں قائم کریں جہاں دینی و دنیاوی تعلیم کا بھی بندوبست ہو، جہاں سے لوگ علم حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی اصلاح کے لیے تیار ہوں۔ یہ ادارے مستقل بنیادوں پر اپنے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں۔ نیز ایسے اداروں میں معاشرے کے نادار اور مجبور افراد کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ اگر ہم ربیع الاول کے اس مہینے میں اصلاح معاشرہ کے لیے کوئی انفرادی یا اجتماعی پلان بنا سکیں تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن سے محبت کا اظہار ہوگا۔