جہیز لعنت، عادت یا سُنّت؟ - عادل سہیل ظفر

ہمارے مُعاشرے میں بہت سے کام، اور بہت سی باتیں ایسی مروج ہو چکی ہیں جو ایک ہی کام یا معاملے سے متعلق ہونے کے باوجود مختلف ہی نہیں ہوتِیں، بلکہ مختلف انتہاؤں تک پہنچی ہوتی ہیں۔ ایسے ہی مُعاملات میں ایک مُعاملہ شادی کے وقت بیٹی کو کچھ دینا ہے، جِسے عام طور پر" جہیز" کہا جاتا ہے۔

کچھ لوگ اِس معاملے کو کاروبار بنائے ہوئے ہیں، اور بیٹیوں والوں کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں، مُعاشرے میں بہت ہی زیادہ فساد کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اِس یقینی ناجائز رویے کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگ "جہیز" دینے کو بالکل ہی ناجائز، حرام، اور لعنت وغیرہ قرار دیتے ہیں اور دُوسری طرف کچھ لوگ "جہیز" دینے اور لینے میں موجود و مروج غیر اِسلامی، غیر اِخلاقی، حتیٰ کہ غیر اِنسانی رویوں اور مُعاملات کے باوجود اِسے سُنّت قرار دیے ہوئے ہیں اور کچھ لوگ اِسے محض ایک مُقامی مُعاشرتی عادت قرار دیے ہوئے ہیں۔

اِن سب مختلف انتہاؤں پر جا ٹکنے کا سبب یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ کِسی معاملے کے بارے میں اُس کی حقیقت جاننے کی بجائے محض چند اِدھر اُدھر کے فلسفوں اور یک طرف قِسم کی خبروں سے مُتاثر ہو کر دِینی، دُنیاوی، مُعاشرتی اور ا ُخروی مُعاملات میں فرق رَوا نہیں رکھتے۔ اِن شاء اللہ، اِس مضمون میں ہم "جہیز دینے " کو دِین کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دِینے کے لیے ہمیں اللہ عزّو جلّ، یا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار ہوتا ہے، فقط کِسی کے کِسی کام کو جائز یا ناجائز سمجھنے یا قرار دینے سے کوئی کام جائز ناجائز نہیں ہوجاتا ہے۔

اِنسان کے مُعاملات عموماً دو قِسم کے ہوتے ہیں:

(1) عقائد پر مبنی، جِن میں عِبادات شامل ہوتی ہیں، ہر وہ کام جو کوئی مُسلمان نیکی سمجھ کر کرتاہو، اللہ کی رضا کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، آخرت کی خیر کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، اور اِسی قِبیل کے دیگر کام جوکِسی عقیدے پر مبنی ہوں۔

عِبادات کا اصل بنیادی حکم مُمانعت ہے، یعنی، ایسا کوئی بھی کام کرنا منع ہے جب تک کہ اُس کے کرنے کی اجازت اللہ جلّ و عُلا، یا، اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، یا دونوں سے ہی مُیسر نہ ہو۔

اِسی لیے اُمت کے اِماموں اور عُلماء کرام رحمہم اللہ اجمعین نے یہ قانون مُقرر فرما رکھا ہے کہ "الاصل فی العِبادات الحظر والمنع عِبادات کی اصل یعنی اُن کا بنیادی حُکم ممانعت ہے"۔

(2) عادات پر مبنی، جِن میں لین دَین، شادی بیاہ میں سے نکاح کے عِلاوہ رسومات وغیرہ، لِباس، کھانے پینے کے انداز و اطوار، ایک دُوسرے سے مُلاقات کے انداز و اطورا وغیرہ سے متعلق سب ہی کام شامل ہوتے ہیں۔

محترم قارئین! عادات پر مبنی معاملات کے بارے میں اُمت کے اِماموں اور علُماء کرام رحمہم اللہ جمعیاً کا یہ قانون ہے کہ "الأصل فی العادات الاباحیۃ، اِلا ما نَھیٰ عنھا اللَّہُ و رسولہ ُصلی اللَّہ علیہ و علی آلہ وسلم عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے سوائے اُس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو۔"

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کِسی کام سے مُمانعت کا حکم کئی صیغوں، یعنی مختلف اِلفاظ اور انداز کلام میں پایا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ صِرف باز آ جاؤ، مت کرو، وغیرہ جیسے اِلفاظ ہی مُمانعت کے لیے اِستعمال کیے جائیں۔

لہٰذا، مُمانعت کا مفہوم رکھنے والے تمام تر اِلفاظ کا خیال رکھتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ عادات جن پر مُمانعت وارد نہیں ہوئی، وہ عادات اپنی انفرادی حیثیت میں جائز ہیں۔

اِس کے ساتھ ساتھ اُن عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کی شرعی حیثیت کو سمجھا جاتا ہے، جہاں تک کوئی کام کسی شرعی مُمانعت میں داخل نہیں ہوتا اُسے ناجائز نہیں کہا جائے گا۔

یہ قانون سمجھنے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ بیٹی کو اُس کی شادی کے وقت کچھ دِیے جانے کی شرعاً کیا حیثیت ہے؟

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اِن کے ساتھ فاطمہ (رضی اللہ عنہا )کا نکاح کیا تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے والا کوئی کپڑا )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکیاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے (مُسند احمد، الاحادیث المختارہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس عمل مُبارک کی روشنی میں جہیز دِینا کوئی "مُقامی کلچر " نہیں رہتا، اور نہ ہی کِسی مُعاشرے کی کوئی اپنی ہی رسم، بلکہ دُنیا کے تمام مُسلمانوں کے لیے اُن کی اِسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے۔ اسے "کِسی مُعاشرے کا مُقامی کلچر" قرار دِینا یا کہنا دُرُست نہیں اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا ہے جب تک کہ اِس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے، مثلا جہیز، اگر حرام مال سے دِیا جائے، یا، اپنی اولاد میں سے کِسی کا حق مار کر دِیا جائے، یا، معاملہ فضول خرچی کی حُدود میں داخل ہو جائے، یا، بلا ضرورت دِیا جائے، تو یقینا ایسی صُورت میں نا جائز ہو گا، اور نہ ہی جہیز دینے کو سُنّت قرار دینا دُرُست ہے۔

کیونکہ ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پہلے اُن کی دو بڑی بہنوں کو جن دونوں کا نکاح یکے بعددیگرے امیر المؤمنین ذی النورین عثمان رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ کے ساتھ کیا تھا، اپنی اُن دونوں بیٹیوں کو بھی اُن کی شادی پر کچھ دِیا ہو۔

فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دِینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ ُ کے پاس گھر کے سامان میں سے کچھ نہ تھا جیسا کہ خود علی رضی اللہ عنہ ُ کا ہی فرمان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا "اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے "، تو اُنہوں نے اِرشاد فرمایا تمہارے پاس اُسے (مہر میں ) دِینے کے لیے کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا " جی نہیں "، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا أين دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے؟، میں نے عرض کیا "میرے پاس ہی ہے "، تو اِرشاد فرمایا وہ اُسے (مہر میں )دے دو۔ (یہ مندرجہ بالا حدیث، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ، میں ہے، اور مختلف اِلفاظ اور صحیح اَسناد کے ساتھ کئی دیگر کتب میں بھی صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے)

اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں اُس کی وجہ نہ تو کوئی "مُعاشرتی عادت " تھی، اور نہ ہی " کسی مُقامی کلچر " کی وجہ سے تھا، بلکہ ضرورت تھی، پس اِسے سُنّت کا درجہ بھی نہیں دِیا جا سکتا۔ اور یہ بھی پتہ چلا کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دِینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا، اور یہ بھی پتہ چلا کہ، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ نے اپنی دِرع شادی کی تیاری کے لیے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مُطابق بطور مہر دی تھی، اور یہ بھی پتہ چلا کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس دِرع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دِیا تھا، بلکہ اپنے پاس سے دیا تھا۔

یہ معاملہ تو جہیز دِینے والے کے لیے ہوا، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے مُعاشرے میں ہوتا ہے تو ایسا کرنا قطعاً جائز نہیں۔ کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے، اور دُوسری طرف اِسلام میں عورت کو اُس کی طلب کے مُطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا۔ یہ غیر اِسلامی طریقہ ہے اور غیر مُسلموں کی نقالی جائز نہیں، غیر مُسلموں کی نقالی کے بارے میں کچھ دیگر مضامین میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔

حاصل کلام یہ ہوا، کہ اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اُس کی شادی و رخصتی پر جائز حُدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو لڑکی، اور اُس کے سسرال والوں کے لیے وہ لینا جائز ہے لیکن یہ نہ توکوئی مُعاشرتی عادت ہے، نہ سُنّت، اور نہ ہی مُطلقاً ناجائز یا حرام، نہ ہی لعنت کا سبب۔

قارئین کرام، یہ بہت اچھی طرح سے سمجھنے اور یاد رکھنے والا معاملہ ہے کہ جس کام کے غلط، ناجائز، لعنت والا یا کسی اور سبب سے حرام ہونے کی کوئی شہادت اللہ جلّ و عزّ یا اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے میسر نہ ہو، یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اتفاق کی دلیل کے ذریعے سے نہ ہو، تو ایسے کسی کام کو لوگوں کی طرف سے غلط، یا ناجائز، یا مقررہ حد سے خارج ہو کر کیے جانے کی وجہ سے جو نقصانات ہوتے ہیں، ان نقصانات کی وجہ سے ہم اُس کام کو شرعی طور پر حرام یا لعنت قرار نہیں دے سکتے۔

خیال رہے "سد ذرائع" والا قانون اِستعمال کرنا ہم جیسوں عام لوگوں اور چند ایک اِکا دُکا علماء کے اختیارات میں سے نہیں۔

ہم میں سے کوئی بھی اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ جہیز لینے اور دینے میں واقع ہونےو الی زیادتی بھی دیگر بہت سے غلط اور ناجائز کاموں کی طرح ہمارے ُمعاشرے میں ایک معمول بن چکی ہے، جِس کی اِصلاح سختی ترشی سے ہونا تقریباً نا ممکن ہے، پس یہ معاملہ آہستگی، نرمی اور مُستقل تبلیغ کے ذریعے دِلوں اور احساسات کی اِصلاح کے ذریعے ہی سُدھارا جا سکتا ہے اِن شاء اللہ، نہ کہ جہیز کو حرام یا لعنت قرار دے کر، کیونکہ جب کسی کام کو اُس کی اصل شرعی حیثیت کی بجائے کسی اور حیثیت میں کر دیا جاتا ہے تو ِاس کاروائی کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ہوتی، لہٰذا جس کام کی جو شرعی حیثیت ہے اُسے وہیں رکھتے ہوئے، اُس کام کو غلط، ناجائز اور حرام طریقوں سے پورا کرنے کے لیے جو کچھ کیا یا کروایا جاتا ہے اُس کی اِصلاح کی کوشش کی جانی چاہیے، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی اور سب ہی مسلمانوں کی اصلاح فرمائے، اور ہم سب کو حق جاننے، ماننے، اپنانے، اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

ٹیگز

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.