بائیس سو لوگ بمقابلہ بائیس کروڑ لوگ؟ - وقاص احمد

فیض آباد دھرنے کے ڈراپ سین اور طرفین کے درمیان معاہدے کے بعد کئی نیوز چینلز کے مغرب زدہ لبرل اینکرز اور الیکٹرانک میڈیا میں میں گشت کرنے والے ہم خیال دانشورں نے کچھ اس طرح کے تجزیات پیش کیے، جن سے یہ تاثر ابھر کے سامنے آیا کہ جیسے دھرنے والوں نے ایک نہایت شاندار، مخلص اور بائیس کروڑ عوام کی امنگوں کی مطابق چلنے والی حکومت کو کسی غیر ضروری، غیر عوامی، محدود نوعیت کے مطالبے پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ آپ اِن گماشتوں کے ذرا جملے سنیں ’’ یہ معاہدہ کسی سانحہ سے کم نہیں ہے‘‘، ’’یہ معاہدہ ریاست کی ناکامی کے مترادف ہے‘‘، ’’ ریا ست کو جھکا دیا گیا ‘‘، ’’ بائیس کروڑ لوگوں کے ووٹوں کی توہین ہے‘‘، ’’دھرنا پالیٹکس کا راستہ کھل گیا ہے۔‘‘، ’’ بائیس سو لوگوں نے بائیس کروڑ لوگوں کی حکومت کو مجبور کردیا‘‘۔

یہ تمام جملے اپنے سیاق و سباق کے بغیر صرف اور صرف بے سرو پا مجموعہ الفاظ ہیں یعنی سادہ زبان میں 'بکواس' ہیں۔ سیاست کا ادنیٰ طالبعلم بھی جانتا ہے کہ ریاست نظریہ، زمین، عوام اور حکومت کا نام ہوتی ہے اور حکومت کے بھی تین ستون ہوتے ہیں۔ انتظامیہ، مقنّنہ اور عدلیہ جبکہ پاکستان کے تناظر میں انتظامیہ میں آپ فوج کو بھی الگ سے شمار کر سکتے ہیں۔ اب جس ریاست کے نظریہ اور روح میں ہی اسلام کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہو، آ ئین جو کہ ریاست کے نظریات کی دستاویز ہوتا ہے وہاں اللہ کی حاکمیت، قرآن ِ حکیم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو انتہائی کلیدی حیثیت حاصل ہو۔ عوام جو بے شک مسالک اور فرقے میں بٹے ہوئے ہوں لیکن رسول اللہﷺ کی ختم نبوت اور عظمت و ناموس کے معاملے میں یک جان و ہم آواز ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اُس ریاست کی حکومت اور بر سرِ اقتدار پارٹی کی سرکردہ قیادت کو اس بات کا ادراک نہ ہو کہ ختم نبوّت ﷺ اور ناموس رسالتﷺ کے حوالے کوئی بھی قدم کتنا پھونک پھونک کر اور مشاورت سے لینا چاہیے۔اس حساس معاملے میں الٹ رویّہ اختیار کرنا ریاست کے لیے کتنا خطرناک ہے اور یہ معاملہ پاکستان کی 98 فیصد عوام جس میں سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے، کے جذبات کو کتنا مشتعل کر سکتا ہے؟

تو یہ کہنا کہ حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ ریاست کو جھکانے کے مترادف ہے انتہائی لغو اور بے ہودہ بات ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ریاست کے دو سرے عناصر نے مل کر ایک ڈھیٹ اور ہٹ دھرم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ یہ معاہد ہ سانحہ نہیں بلکہ اس معاہدے تک پہنچنے میں تا خیر، ایک وزیر کو بچانے میں ڈھٹائی، عوام کے نقصان میں حکومت کی بے حسی اور معاملے کی حساسیت اور اہمیت کے ادراک میں مجرمانہ غفلت ایک سانحہ ہے۔

نجانے کس شماریاتی قانون اور اصول کے تحت یہ ووٹوں کی توہین ہے کیونکہ ن لیگ کے ووٹروں سے کوئی چار پانچ گنا زیاوہ ووٹ تو ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے ن لیگ کو ووٹ نہیں دیے تو تو ہین کس بات کی؟ بلکہ ایک وزیر اور اس کے شیطانی مشیر وں نے ریاست کے نظریے، عوام بشمول اپنے ووٹروں اور انتظامیہ کے بھی ایک بڑے حصے کی صریح توہین کی۔ رہی بات 'دھرنا پالیٹکس' کا راستہ کھولنےاور بند کرنے کی، تو یہ بات تو پاکستان کی تاریخ دیکھ کر سب کو سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اس ملک کے بنیادی نظریات، ہم آہنگ عوامی جذبات اور ( اسی میں اضافہ کرتے ہوئے ) عوام کے اجتماعی شعور و فکر میں پائے جانے والے متفقہ امور اور مسائل کا حل اگر حکومت نے مستقبل میں احسن طریقے سے حل کرنے کا بیڑہ نہیں اٹھایا تو معاملات سڑکوں، چوراہوں پر ہی حل ہونا اس ملک کا نصیب لگ رہا ہے۔ اداروں نے اگر عوام کی فلاح و بہبود کا بُھولا ہوا سبق یاد نہیں کیا تو مسائل عوامی دباؤ کے ذریعے ہی حل ہوں گے۔

حکومت، عدلیہ، پارلیمنٹ اور فوج کو عوام کی اجتماعی اخلاقی سوچ میں موجود جائز مطالبات کا شعور ہونا چاہیے۔ امیر اور طاقتور کا احتساب، سود جیسے شنیع و قبیح حرام شے سے معاشرے کو پاک کرنے میں ناکامی عوام کے دل میں کس طرح کَھل رہی ہے، اس کا علم ہونا چاہیے۔ تعلیم، صحت، انصاف اور مہنگائی کے مسائل پاکستان کی عوام کے کسی چھوٹے موٹے حصے کو نہیں بلکہ 70 سے 80 فیصد عوام کو درپیش ہیں۔ 45 فیصد تو وہ ہیں جو غربت کی سطح سے بھی نیچے ہیں۔ جن کو ایک وقت کھانے کے بعد اگلے کھانے کا یقین نہیں ہوتا۔ عوام کے اندر حکمرانوں کی کرپشن کی کہانیاں عام ہونے سے ان کے اندر غصہ، انتہا پسندی کی طرف کیسے بڑھ رہا ہے، معلوم ہونا چاہیے۔

فیض آباد دھرنا اور اس کے نتائج یہ باور کرا رہے ہیں کہ حقوق کے لیے ساری عوام نہ بھی نکلے بلکہ معتدبہ تعداد بھی نکل جائے جو اپنی جانیں دینے کے لیے تیار ہوں تو وہ بے انتہا مسائل پیدا کر سکتے ہیں اور وہ کروڑوں لوگ جو ان کا ساتھ نہ بھی دے پائیں وہ دل سے ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میڈیا کے وہ حصے جو یک طرفہ حکومتی موقف کی ہی ترجمانی کر رہے ہیں، بلکہ بعض اینکرز تو اپنی نمک حلالی میں حکومتی وزراء کو اس معاہدے پر ذلیل بھی کر رہے ہیں وہ اپنے آپ کو بری طرح ایکسپوز کر رہے ہیں۔ وہ اس طرح کہ یہ لوگ حکومت کے غلط فیصلوں اور غفلت پر بات کرنے کے بجائے دباؤ سے مطالبات مان لینے پر بات کر رہے ہیں۔ شرارت اس درجے کی ہے اِن میں سے شاید ہی کسی اینکر نے اس بات پر بحث کرائی ہو کہ زاہد حامد کو استعفیٰ دینا چاہیے یا نہیں کیونکہ اس سے اس معاملے کی دینی اہمیت اور مسئلے کی حساسیت اجاگر ہوتی۔ سارا فوکس دھرنے والوں کی زبان، ان کا طریقہ کار، عوام کی تکالیف اور فوج کے کردار پر کیا جا رہا ہے۔ یہی ان کے آقاؤں کا حکم ہے۔ان لوگوں کو فوج کا عوام پر گولی نہ چلانا، اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرانا بالکل ہضم نہیں ہورہا۔

واقعہ یہ ہے کہ ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالت ﷺ کے قوانین کے حوالے سے عالمی قوتوں اور ان کے ایجنٹوں کو زبردست پیغام گیا ہے۔ نواز شریف اور شاہد خاقان کا ایک استعفیٰ لینے میں اتنی تاخیر اور معاملات بگاڑ کر فوج کو معاملہ حل کرنے کی دعوت دینا بہت بڑی سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ نواز شریف یہ نہیں چاہتے کہ جمہوری سیٹ اپ میں ان کے کیسز چلیں اور اس کی خاطر وہ کوئی بھی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اسمبلیاں اگر وہ توڑتے ہیں تو آئین میں نگراں حکومت لانے کا فارمولا متعین ہے۔ عدلیہ وہ توڑ نہیں سکتے۔ بڑی بڑی آ ئینی ترامیم ہی ان کا آخری حربہ ہے جو ن لیگ کو مزید ذلیل و رسوا کرے گی۔ پیپلز پارٹی اپنے مسائل کی وجہ سے دائیں اور بائیں دونوں طرف دیکھ رہی ہے وہ اپنے پتے کھیلنے میں بے حد محتاط ہے۔ چونکہ ابھی احتساب کا دائرہ کار کھل کر سندھ کے اکابرین پر بجلی بن کر نہیں گرا ہے اسلیے پیپلز پارٹی کو خوش فہمیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

فوج و عدلیہ کو تاریخ سے سبق لیتے ہوئے ا ب ہرنظریہ ضرورت اور این آر او سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ فوج اور عدلیہ کی موجودہ عزت اللہ تعا لیٰ کی مرضی کے بعد پاکستان ہی کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کی عوام نے بہت برداشت کر لیا ہے۔ وسائل سے اتنے مالا مال ملک کی عوام کا یہ حشر اب برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو مستقبل کی افراتفری اور دھرنا سیاست سے بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ریاست کے با شعور اور مخلص حلقے ادارے مضبوط کریں۔ اشرافیہ کے نیک اور مخلص لوگ ہمت کر کے اشرافیہ کے بدمعاش لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس چونکہ عوام میں سے ہی ہے اس لیے وہ اُن مطالبات پر جو عوام کے اجتماعی شعور میں رچے بسے ہیں، جو انتہائی واضح اور معروف ہیں ان پر تحریک چلانے والی عوام پر گولی چلانے کے بارے کئی بار سوچیں گے اور حکومت کو یہی مشورہ دیں گے جو انہوں نے فیض آباد دھرنے میں دیا۔ رہے مغرب زدہ لبرلزم اور سیکولزم کے گماشتے، تو ان سے علمی و فکری جنگ ہر محاذ پر جاری رہے گی۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com