ڈراپ سین - محمد عامر خاکوانی

آخر کار دھرنا ختم ہوا اورملک پر غیر یقینی، کنفیوژن اور نامعلوم خوف کی جو دھند چھائی تھی، وہ چھٹ گئی۔ الحمداللہ! اس ہیجانی صورتحال کا خاتمہ ہوا۔ انگریزی محاورے کے مطابق جب اختتام اچھا ہو تو سب اچھا ہے۔ فیض آباد کا دھرنا البتہ سنجیدہ تجزیے کا متقاضی ہے کہ اس سے اگر سبق نہ سیکھے گئے تو طوفان امنڈ کر آتے رہیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بحران خود حکومت نے پیدا کیا۔ صرف دو مہینے پہلے تک کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں ہوگا کہ کچھ ہی دنوں بعد اسلام آباد ایسی خطرناک صورتحال میں گھر جائے گا۔ حکومتی جماعت قانون میں ترمیم لانا چاہ رہی تھی تاکہ اپنے نااہل لیڈر میاں نواز شریف کے لیے پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انتخابی اصلاحاتی کمیٹی نے کچھ تجاویز بھی دی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں ختم نبوت سے متعلقہ شقیں یا قادیانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلقہ معاملات کیوں چھیڑے گئے؟ کس حکیم نے اس کا مشورہ دیا تھا؟ان کا اس معاملے سے کچھ لینا دینا تھا ہی نہیں۔ ایک ایف-اے کی سطح کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ یہ کس قدر حساس ایشو ہے اور اسے کسی بھی صورت نہیں چھیڑنا چاہیے۔ ایسا بلنڈر کیا گیا اور پھر نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اس کا دفاع کیا جاتا رہا۔ پہلے حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ اس قانون کو تمام جماعتوں کے نمائندوں نے منظور کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے نمائندوں نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ اُن کے اراکین پارلیمنٹ نے ٹی وی چینلز پر آ کر بتایا کہ جو مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، یہ وہ نہیں جو ہمیں دکھایا گیا۔ اس سے شکوک بڑھ گئے۔

حکومت نے ایک سمجھداری کی، فوری طور پر سابقہ ترامیم بحال کر دیں اور یوں 'ڈیمیج کنٹرول' کی کوشش کی۔ غلطی یہ ہوئی کہ وہ ختم نبوت ﷺ والے ایشو کی نزاکت اور عوام میں موجود اس کی حساسیت کا درست ادراک نہ کر سکی۔ حکومت یہ سمجھی کہ معاملہ ختم ہوچکا ہے، مگر اس قسم کے معاملات میں جب تک ملزموں کا تعیّن نہ کیا جائے، ان کے خلاف کارروائی نہ ہو، تب تک لوگوں کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوتے۔ مسلم لیگ ن کا یہ دعویٰ ہر ایک نے مسترد کر دیا کہ نادانستہ طور پر ایسا ہوا اور یہ "کلریکل مسٹیک" تھی۔ عام سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ کوئی کلرک اس قدر احمق نہیں ہوسکتا کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودے؟ اس کے پیچھے یقیناً کچھ نہ کچھ ہے، کیونکہ بڑی ہوشیاری اور ہنرمندی سے یہ سب کچھ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور کے ایک جلسہ میں یہ کہہ ڈالا کہ جس وزیر نے یہ کیا ہے، اس سے استعفا لیا جائے۔ میاں نواز شریف بھی اسی جلسے میں موجود تھے، ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمودار ہوئے، مگر وہ بولے کچھ نہیں۔

بحران بڑھانے کی ذمہ داری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ان کی کابینہ کے بااثر وزرا، اور مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف پانامہ والے عدالتی فیصلے کے بعد سے ایسی ردعمل کی نفسیات میں گرفتا ر ہیں کہ انہیں ہرایشو اپنے خلاف سازش دکھائی دیتا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ پیچھے ہٹنے کے بجائے جارحیت سے مقابلہ کرنا ہے۔ فیض آباد میں ہونے والا دھرنا اور اس سے پھوٹنے والے بحران نے اسی بے لچک، جارحانہ پالیسی کے باعث شدت پکڑی۔ حکومت نے دھرنے کی قیادت اور ان کے عزائم کو 'انڈ ر ایسٹیمیٹ' کیا۔ ان کا خیال تھا کہ چند دنوں میں اسلام آباد کی سرد راتوں سے تنگ آ کر یہ مولوی صاحبان واپس ہوجائیں گے۔ مگر یہ خام خیالی ثابت ہوئی۔

ختم نبوت ﷺ ایک ایسا اہم ترین معاملہ ہے، جس کی خاطر کوئی بھی بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہوجائے۔ حکومت اس ایشو کو درست طریقے سے ہینڈل ہی نہیں کر سکی۔ وزیرقانون زاہد حامد اب مستعفی ہوگئے ہیں۔ یہ استعفا چند ہفتے پہلے کیوں نہیں لیا گیا؟ اسی دھرنے کے دوران بھی مذاکراتی راؤنڈز چلتے رہے، ان میں پہلا مطالبہ ہی وزیرقانون کے استعفے کا تھا۔ اگر یہ پورا کر لیا جاتا تو پھر ممکن ہے ناکام آپریشن کی ذلت اٹھانا ہی نہ پڑتی۔ ویسے آپریشن جس قدر بچکانہ انداز سے کیا گیا، میڈیا اور سوشل میڈیا بند کر کے ملک کو مفلوج کر دیا، اس پر وزیرداخلہ احسن اقبال اور وزیر اطلاعات کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ جس حکومت میں ایسے نکمّے وزیر ہوں، انہیں کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے؟

مولوی خادم رضوی اور ان کے ساتھیوں پر کئی حوالوں سے تنقید کی جا سکتی ہے، یہ بات مگر ماننا پڑے گی کہ انہوں نے ثابت قدمی دکھائی اور اپنے مضبوط اعصاب اور غیر متزلزل کمٹمنٹ سے یہ دھرنا کامیاب کرا لیا۔ ایک طویل عرصے کے بعدکسی احتجاجی تحریک کو ایسی کامیابی نصیب ہوئی۔ اس سے پہلے اسلام آباد میں دو دھرنے ہوئے، پہلا ڈاکٹر طاہرالقادری نے 2013ء میں دیا، اس میں قادری صاحب ناکام ہوئے اور ایک مجہول سا معاہدہ کر کے واپسی کی راہ لی۔ دوسرا دھرنا اگلے سال قادری پلس عمران خان نے دیا۔ اس میں بھی ناکامی ہی ہوئی۔ خادم رضوی کا دھرنا البتہ کامیاب رہا، اس کے اہداف پورے ہوئے، جو مطالبات تھے، مانے گئے اورفتح کا پرچم لہراتے واپس ہوں گے۔ انہوں نے ناکافی سازوسامان اور نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدمی سے پولیس آپریشن کا سامنا کیااور اپنے چند ہزار کارکنوں کے ساتھ کئی گنا زیادہ بڑی پولیس فورس کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔

اس وقت یہ لگ رہا ہے کہ لبیک یارسول اللہ تحریک نئی سیاسی قوت بن کر ابھرے گی۔ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے متعدد حلقوں میں اگر لبیک یارسول اللہ تیسرے نمبر پر آئے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی، کہیں وہ سرپرائز بھی دے سکتی ہے۔

عمران خان اس پورے ایشو میں غیر متعلق نظر آئے۔ ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے پیدا ہونے والے ایشو پر وہ کوئی مضبوط اور واضح موقف نہ لے سکے، تحریک انصاف کے دیگر رہنما البتہ فعال رہے۔ عمران خان کی خاموشی کو کوئی چاہے تو مثبت معنوں میں بھی لے سکتا ہے کہ انہوں نے ایک حساس ایشو کو ایکسپلائیٹ کرنے سے گریز کیا اور حکومت کے لیے مذہبی حوالے سے مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ عمران پر تنقیدبھی کی جا سکتی ہے کہ اس نے عوام سے جڑے ایک اہم معاملے پر چپ سادھے رکھی، خان کے حامی اس سے زیادہ واضح موقف کی توقع کر رہے تھے۔ ملک کی بڑی دینی جماعتوں کو بھی اس کامیابی سے دھچکا پہنچا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست خاص طور سے متاثر ہوئی۔ وہ مسلم لیگ ن کے ساتھی ہیں اور حکومتی جماعت سے اس بنیاد پرمفادات لیتے رہے ہیں کہ انہیں دینی حلقوں سے حمایت دلوائیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا اہم کارڈ اب بے اثر ہوگیا۔

ن لیگ اور اس کی قیادت کو پہلی بار یہ اندازہ ہوا کہ دینی ووٹر یا سٹریٹ فورس صرف مولوی فضل الرحمٰن کے ساتھ منسلک نہیں۔ ان کی والہانہ حمایت کے باوجود ایک بڑا دینی حلقہ ایسا ہے جو انہیں ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی بھی اس پورے منظر نامے سے باہر رہی، جماعت کے پرجوش اورسینٹرل سٹیج پر رہنے کے خواہاں امیر جماعت کے لیے یقیناً یہ کوئی خوشگوار امر نہیں ہوگا، مگر جماعت کی یہ مجبوری تھی کہ خادم رضوی 'سٹائل آف پالیٹیکس' میں اس کا ساتھ چلنا ممکن نہیں تھا۔

بہرحال، یہ تو طے ہے کہ سنّی بریلوی سیاست کا دوبارہ سے احیاء ہوا ہے۔ مولانا نورانی کے بعد قدامت پسند سنی ووٹر کسی قیادت کی تلاش میں تھا، انہیں عرصے بعد ایسا لیڈر ملا ہے جو حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا اور اپنی بات منوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب یہ مولوی خادم رضوی پر ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی لا کر میچیور رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں یا ان کا امیج ایک جذباتی، دشنام طرازی کرنے والے مولوی اور 'ایجی ٹیٹر' کا رہے گا۔

یہاں یہ لکھنا ضروری ہے کہ مجھے ذاتی طور پر مولوی خادم رضوی کے طرز سیاست اور طرز گفتار سے شدید اختلاف ہے۔ میرے خیال میں کسی مذہبی شخصیت کوعام مسلمانوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر خوش اخلاق، شیریں زبان اور شائستہ ہونا چاہیے۔ گالم گلوچ پر مبنی زبان استعمال کرنا ہر لحاظ سے غلط ہے۔ مولانا خادم رضوی کو اس حوالے سے اپنے رویّے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ان کا حلقہ اثر اب پھیل رہا ہے اور وہ اہم مذہبی رہنما بن کر ابھر ے ہیں۔ انہیں اپنی پچھلی تقریروں کو 'ڈس اون' کر کے نئے انداز میں سامنے آنا چاہیے۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اصولی طور پر ہم ایسے کسی دھرنے کے حق میں نہیں جس سے عوام کو تکلیف پہنچے۔ سڑکوں پر قبضہ کر کے راستے بند کر دینے کا کسی کو شرعی، اخلاقی، قانونی حق حاصل نہیں۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں کی طرح مولانا خادم رضوی کا دھرنا بھی اس لحاظ سے غلط اور عوام کی مشکلات بڑھانے کا سبب بنا، کئی جانیں اس وجہ سے گئیں۔ اگرچہ رضوی صاحب کے دھرنے کا ایجنڈا عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنوں سے مختلف اور 'ٹو دی پوائنٹ' تھا۔ وہ نسبتاً زیادہ حساس ایجنڈے کو لے کر اٹھے اور اپنا مطالبہ پورا ہوتے ہی دھرنا ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ وہ فتح یاب ہوئے، مگر مطالبات دھرنوں سے منوانے کا منفی رجحان اب ختم ہونا چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.