جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ - محمد عمار احمد

وطنِ عزیز کے اہم ترین مسائل میں ایک بڑا مسئلہ کمزور جمہوریت ہے۔اس کا سبب ایک تو یہ ہے کہ ایسے لوگ سیاست میں شامل رہے جن کے پسِ پردہ مقاصد خدمتِ خلق وخدمتِ وطن کی بجائے ذاتی مفاد اورخواہشات کی تکمیل رہے ہیں۔ انہی لوگوں کے سبب جمہوریت و سیاست معطون ٹھہرے ہیں حالانکہ دونوں ہی موجودہ دور میں دنیا بھر کے عوام کے مسائل کے حل کا ذریعہ ہیں۔ وڈیروں، طاقتوروں اورغنڈہ گرد عناصر نے سیاسی میدان کو اپنے غلط کردار سے کوڑے کا ایک ڈھیر سا بنا دیا، جسے صاف کرنے کی ہمت کم ہی لوگوں کو ہوئی ہے۔ جو لوگ اس کوڑے کوصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں توان کے اپنے لباس صاف نہیں رہنے دیے جاتے۔

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد سیاسی میدان ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہا جو نوزائیدہ مملکت کو سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ بعد ازاں جب سیاسی باگ ڈور مضبوط ہاتھوں میں آئی تو ملک کی سیاہ وسفید کی مالک اسٹیبلشمنٹ نے ان ہاتھوں کوآڑے ہاتھوں لیا اور ان کے سروں کو ناکردہ جرائم سے بوجھل کرکے تن سے جدا کر دیا گیا۔ معاملات پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلے گئے اورانہی کی کوکھ سے سیاسی بچے جنم لینے لگے جن کا کھلونا سیاسی معاملات تھے جبکہ مشغلہ عوام کے جذبات سے کھلواڑ۔ یہی بچے جب اسٹیبلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر پارلیمان کی راہداریوں میں پہنچتے تو اپنے ہی آقاؤں کو کوسنے لگتے۔ پرورش کرنے والوں کو کب اچھا لگتا ہے کہ جن کی وہ پرورش کریں وہ انہی کے سامنے آن کھڑے ہوں؟ ان بچوں کی کوئی نہ کوئی کمزوری یا تو ان کے ہاتھوں میں ہوتی یا پھر ذرائع ابلاغ میں اپنے ’نمائندوں‘ کے ذریعے کوئی نہ کوئی کمزوری تخلیق کرکے اچھالی جاتی اورعوام کو ان ’بالغ‘ ہوتے سیاسی کرداروں سے بدگمان کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا جاتا ہے۔

میاں محمد نواز شریف پہلی بار ہی وزیرِ اعظم بنے تو ان کے عالی ذہن میں ’سویلین بالادستی‘ کا خمار موجود تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اور طاقت کا مرکز راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی خواہش میں وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بھی اسی طرح کے ’جرم‘ کے سبب اقتدار سے الگ کردی گئیں۔ نواز شریف پھر اقتدار میں آئے تو پہلے والے راستے پر چلنے کی خواہش کا اندازہ راولپنڈی والوں کو ہوا تو انہیں یہ ہرگز ہضم نہ ہوا اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ہی ’مہرباں ‘ کو چلتا کیا۔ میاں صاحب اور محترمہ جب ایک ہی طرح کی سزا کا شکار ہوئے تو انہیں احساس ہواکہ ہمیں مل کر جمہوریت کی بقاء کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ سیاسی مخالفت اپنی جگہ مگر سیاسی مسائل میں ’تیسرے ہاتھ ‘ کی مدد نہیں لینی چاہیے۔ سو ’میثاقِ جمہوریت ‘ ہوا، محترمہ راہیِ اجل ہوئیں اور پیپلزپارٹی برسرِ اقتدار آئی توآصف علی زرداری، یوسف رضاگیلانی اور راجہ پرویز اشرف سبھی کو مختلف الزامات اور پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا۔ میاں صاحب برسرِ اقتدارآئے تو پھر وہی پرانی عادتیں اور باتیں سوجھنے لگیں تو پانامہ کا شور شرابہ، دھاندلی اور مالی بدعنوانی کی باتیں ’مخصوص طبقات‘ کی طرف سے سامنے آنے لگیں۔ جو لوگ ان طبقات کی پشت پر ہوتے ہیں انہیں میاں صاحب، بھٹو خاندان اور دیگر سیاسی راہنماؤں کی ’کمزوریوں ‘ کا علم ہوتا ہی ہے سو وہ ان کو کسی بھی طرح ’دبا‘ کر رکھنا چاہتے ہیں۔

میاں صاحب اس وقت جس ’محاذ‘ پر ہیں اور جو باتیں وہ باربار دہرارہے ہیں، یہ باتیں انہیں محض اپنے ہی اقتدار کے دوران کیوں نظر آتی ہیں؟ میاں صاحب شکوہ کناں رہتے ہیں کہ ’ووٹ کا تقدس‘ پامال ہوتا رہا ہے حالانکہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے عہد ہائے حکومت میں ووٹ کے تقدس کی ’پامالی‘ میں برابر کے حصہ دار ہیں۔ جو رویّہ آج بلاول یا ان کے والد کا ہے وہی رویّہ میاں صاحب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کا پیپلزپارٹی کے ادوار میں رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ایک حقیقت ہے تو یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہاتھ بھی نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف دیتی رہی ہیں۔

حالیہ دنوں میں کراچی کی سیاسی صورتحال میں ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کا نام لیا گیا ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی، پرویز مشرف کا اپنے رفقاء کے ساتھ اتحاد اور کچھ دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نئے بنتے ہوئے اتحاد بھی اس بات کا اشارہ ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ تینوں بڑی جماعتوں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی راہ روکنے کے لیے تگ و دو میں مصروف ہے۔ ان حالات میں بڑی سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کھلم کھلا بات کریں کہ سیاسی میدان کو سیاسی جماعتوں اور عوام کے لیے خالی کردیاجائے تو یہ ملک کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔

اسی طرح خود سیاسی جماعتیں باہم مل بیٹھ کر ایک بات طے کریں کہ حزبِ اختلاف دیانتداری سے مقتدر جماعت کی پالیسیوں یا اقدامات پر نقد کریں ناکہ کسی اور کے اشاروں پر عوام اورپارلیمان کی جگ ہنسائی کا ذریعہ بنیں۔ خود عسکری قیادت کو بھی اس بات کااحساس ہونا چاہیے کہ سیاسی جماعتوں نے آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد اندرونی و بیرونی دفاع کے لیے مضبوط تر اختیارات انہیں ان کا حق سمجھتے ہوئے دیے ہیں تو وہ بھی ایک احسان عظیم سیاست دانوں پر اور ملک پر بھی کریں کہ جمہوریت اورجمہوری اداروں کومضبوط ہونے دیں۔ اپنے پسندیدہ لوگوں کو سیاسی اکھاڑوں میں اتارنا ترک کرکے عوام کو اپنی پسند کے کھلاڑیوں کومنتخب کرنے کا موقع فراہم کریں۔ امید ہے کہ چندسالوں بعد عوام میں اتنی سمجھ بوجھ آ ہی جائے گی کہ وہ اخلاقی و مالی بدعنوانی سے آلودہ بدکردار نمائندوں کی بجائے اہل لوگوں کو منتخب کریں گے۔ اگر عوام یا پارلیمان کی بجائے سیاسی و انتخابی فیصلے عسکری ہاتھوں میں ہی ہوتے رہے تواسی طرح کے بدعنوان اور نااہل لوگ ہی حکمرانی کرتے رہیں گے کیوں کہ ان لوگوں کو اسٹیبلشمنٹ ہی سامنے لاتی رہتی ہے تاکہ برائے نام جمہوریت تو ہو مگرحقیقی طاقت کا منبع وہی رہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com