الجھن بمقابلہ الجھن - خرم اقبال اعوان

اعتزاز احسن صاحب سپریم کورٹ بار کے الیکشن کے موقع پر صحافی حضرات سے گفتگو فرما رہے تھے، جہاں انھوں نے بہت سی باتیں نواز شریف صاحب اور چوہدری نثار کے حوالے سے کیں، وہیں انھوں نے ایک سوال کے جواب میں مریم صفدر صاحبہ کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور کہا کہ مریم صاحبہ نے اداروں کو کنفیوژ کر دیا ہے۔ جسے (ن) لیگ والے کریڈٹ خیال کر رہے ہیں۔ چلو اچھی بات ہے کہ یہ سب مریم صاحبہ کی خوبی تصور ہوتا ہے اور ہو رہا ہے۔ مگر اس سے ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ مریم صاحبہ میں حالات کو سنبھالنے کی طاقت رتی برابر بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ان کی اس الجھن پیدا کرنے کی پالیسی کو کامیاب تصور کیا جائے تو پھر تو نواز شریف صاحب کی جان اب تک اگر چھوٹ نہیں سکتی تھی تو کم از کم کچھ آسان تو ہو جاتی، مگر نواز شریف صاحب کو مزید رگیدا جا رہا ہے، مارا کم گھسیٹا زیادہ جا رہا ہے اور اس کا مطلب تمام لوگ بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔ مریم صاحبہ نے اپنے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹروویو میں منیب فاروق صاحب کے سوال کے جواب میں اپنے والد صاحب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ان کا چپ رہنا غلط ہے، ان کو اسی وقت نام بتا دینے چاہیے تھے۔ انھوں نے جس مصلحت پسندی سے کام لیا وہ غلط تھی۔ پھر ڈان لیکس کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ایک مجرم تو اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ یہ بھی ایک مرتبہ پھر اپنے لیے اور اپنی جماعت کے لیے خود گڑھا کھودنے والی بات کہی محترمہ نے۔ رہتی کسر نواز شریف صاحب نے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پوری کر دی، جب انھوں نے کہا کہ زرداری صاحب ان کو گالیاں کسی کو خوش کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔ یعنی تمام عقل کل (ن) لیگ ہے اور (ن) لیگ میں بھی وہ دھڑا جو نواز شریف صاحب اور مریم صاحبہ کے قریب ہے، باقی تمام تو فارغ العقل ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ جس میں نواز شریف صاحب کی جانب سے ان کے تینوں ریفرنسز اکٹھے کرنے کے حوالے سے جو درخواست خارج کی گئی ہے، اس سے متعلق کہا کہ ان کو دوبارہ سنا جائے ۔ یہ نہیں کہا گیا کہ آپ کے تینوں ریفرنسز ایک کر دیے گئے ہیں۔ اب اس بات کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اور ایسی باتیں پیش کی جا رہی ہیں جیسے کوئی این آر او ہو چکا ہے، یا ہونے جا رہا ہے۔ میری عقل و دانش کے مطابق نہ کوئی این آر او ہے اور نہ کوئی ہوا ہے، آج کی تاریخ تک۔ اور این آر او کا ہونا یا نہ ہونا نواز شریف صاحب اور ان کی دختر نیک اختر کے ہاتھ میں بلکہ ان کی زبان میں ہے۔ لیکن جتنا وہ بول چکے ہیں، اب بات مشکل سے ہی بنے گی۔

ایک سوال جس کی تشویش (ن) لیگ کے حلقوں میں ہے کہ عمران خان صاحب کے جلسوں کی وجہ کیا ہے۔ کیا یہ انتخابات کی تیاری ہے یا کسی احتجاج کی تیاری۔ تو جناب نہ تو یہ کسی انتخاب کی تیاری ہے اور نہ ہی کسی احتجاج کی۔ یہ سب ایک حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اب میرے پڑھنے والے کہیں گے کہ کون سی حکمت عملی؟ تو جناب میری عقل و دانش اور حالات کی روش کو دیکھتے ہوئے یہ مائنس 3 کے فارمولے پر تیار کی گئی حکمت عملی ہے۔ خان صاحب کے ان جلسوں میں آپ بالکل درست طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان صاحب اب اپنے وار جناب آصف زرداری صاحب پر کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ اب آصف علی زرداری کی باری ہے۔ ان کی یا ان کو دی گئی حکمت عملی کے مطابق ایک تو پیپلزپارٹی کو توڑنا ہے، یعنی اس میں سے لوگ نکالنے ہیں اور ان کو عمران خان صاحب کے ساتھ ملانا ہے۔ یعنی زرداری صاحب کے بغیر یہاں تو ہو گئے مائنس 2۔ اب باری ہے تھری کی ،تو میرے پڑھنے والے کہیں کہ شاید تیسرا تو پہلے ہی ہو چکا ہے، یعنی الطاف حسین، تو نہیں جناب یہاں تیسرا جو مائنس ہے، وہ مولانا فضل الرحمان صاحب ہیں، اور ان کی جماعت سے بھی لوگوں کو بنی گالہ سے جوڑا جائے گا۔ اور انھیں اس قابل کر دیا جائے گا کہ آنے والے انتخابات میں یہ لوگ اپنی حکومت تشکیل دے سکیں۔ ابھی تک کے حالات میں یہ مشکل بھی ہے اور اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے کافی عرصہ درکار ہے، کیونکہ زرداری صاحب نے بہت سے ایسے اشارے دیے ہیں کہ ان کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں اور انھیں دوبارہ موقع ملنا چاہیے۔ اور (ن) لیگ عمران خان کے جلسوں پر جس الجھن کا شکار ہے، یہ اس الجھن کا جواب ہے۔ جو اس سے قبل (ن) لیگ نے ڈالی تھی، یعنی اب الجھن کا جواب الجھن سے دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا نے اہم موقع کیسے ضائع کر دیا - اوریا مقبول جان

جی تو میں بات کر رہا تھا کہ یہ حکمت عملی جو مشکل ہے، اگر کامیاب نہیں ہوتی تو پھر ایک اور بیک اپ پلان ہے کہ ان دونوں بڑوں کو ’’بنی گالہ‘‘ کے ساتھ جوڑ دیا جائے، اور کوئی مخلوط قسم کی حکومت بنا دی جائے جس میں زیادہ تر کردار ’’بنی گالہ‘‘ کا ہو تاکہ بات چیت میں آسانی رہے۔ ان سب پر گواہی مولانا فضل الرحمان کے وہ حالیہ بیانات ہیں جن کے مطابق وہ آنے والے عام انتخابات کے حوالے سے الجھن کا شکار ہیں کہ انتخابات ہوں گے یا نہیں۔ اور ان کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ان کی غیر موجودگی میں انتخابات ہوتے ہی،ں تو پھر انھیں کچھ فرق نہیں پڑتا اور اگر نہیں ہوتے تب بھی انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طرز کے بیانات بتاتے ہیں کہ کچھ تو ہو رہا ہے جس کی پردہ داری ہے۔

چلیں اب فرض کرتے ہیں کہ یہ دونوں آپشنز کارگر ثابت نہیں ہوتے تو پھر سودے بازی تھوڑی سی مختلف ہوگی۔ اور اگر یہ دونوں پلان کامیاب نہیں ہوتے تو پھر سودے بازی کی شرائط بہت کمزور ہو جائیں گی اور اس کمزوری میں جگہ بنے گی شہباز شریف صاحب اور ان کی پارٹی کی۔ مگر کیا کیا جائے کہ نواز شریف صاحب سے ملاقات کے بعد خواجہ سعد رفیق فرماتے ہیں کہ زرداری صاحب سے ملاقات کا کوئی شوق نہیں۔ پھر مزید فرماتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف جمہوریت کے منافی کام کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب اپنے آپ کو اور نواز شریف صاحب کو ہی جمہوریت خیال کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کو تو خواجہ صاحب اگر یہ کہیں کہ اس نے جمہوریت کے منافی کام کیا تو بندہ مانے بھی، مگر جب خواجہ صاحب پیپلزپارٹی پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ جمہوریت کے خلاف کام کر رہے ہیں تو حیرت ہے کہ ماضی کا دھرنا اور دھرنے میں پارلیمنٹ کا ساتھ دینا، جمہوریت کا ساتھ دینا کیوں بھول جاتے ہیں۔ جب زرداری صاحب ایک کال پر رائیونڈ جاتے ہیں تو اس وقت خواجہ صاحب جیسے لوگ کہاں تھے؟ کہتے نواز شریف کو کہ آپ کسی کی مدد نہ لیں، تن تنہا مقابلہ کریں۔ جب پانامہ ہوا اور نواز شریف سپریم کورٹ اور کمیشن کی سیڑھیاں چڑھتے رہے اور پیپلزپارٹی کہتی رہی کہ پارلیمنٹ میں آئیں، ادھر ادھر نہ جائیں، اس وقت آپ نے نواز شریف کو کیوں نہ سمجھایا۔ آج آپ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو زرداری صاحب سے ملنا چاہیے تھا۔ اس وقت کیوں نہ روکا کہ آپ ملیں اور مل کر جو بات کہنی ہے، وہ ان سے خلوت میں کہہ لیں۔ جب زرداری صاحب افسوس کرنے کے لیے آنا چاہتے تھے تو آپ نے ان کو افسوس کے لیے بھی آنے کا وقت نہ دیا، اس وقت آپ ایک درباری کی طرح نواز شریف صاحب کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔ اب جب پانی سر سے گزر چکا ہے تو آپ پیپلزپارٹی کو جمہوریت کے منافی کام کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ کچھ شرم ہوتی ہے خواجہ سعد صاحب۔ آپ تو طوطا چشم ہی نہیں احسان فراموش بھی ہیں۔ اب بھی آپ کو ضرورت ہے تو اپنے لیے۔ مگر اب بھی آپ پیپلزپارٹی کو ایک قومی جماعت کی طرح نہیں ایک علاقائی جماعت کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں۔ اگر آپ پیپلزپارٹی سے مفاہمت چاہتے ہیں تو گورنر سندھ کو کہیں کہ جو سندھ میں علاقائی جماعتوں کا اتحاد بنوا رہے ہیں اور ان کی پیٹھ تھپک رہے ہیں وہ بند کریں۔ آپ تو چاہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی آپ کی نمازیں پڑھے اور آپ ان کے لوٹے توڑیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کنٹینر سے کنٹینر تک! خورشید ندیم

اب میرے تمام پڑھنے والے کہیں گے کہ یہ کون کروا رہا ہے، یہ کس کا پلان ہے۔ تو جناب یہ اسکرپٹ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا صرف اپنی ہیئت بدلتا ہے۔ عقلمندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ ایک وقت میں کراچی میں ایک نعرہ بہت مشہور ہوا تھا، میرے جماعت اسلامی کے بھائی اس سے واقف بھی ہیں اور اس کی تشریح اپنے جاننے والوں کو بتا سکتے ہیں۔ وہ تھا۔ ’’اوپر خدا نیچے ہدا‘‘ مگر اب کی بار فرق صرف یہ ہے کہ رینک پہلے سے بڑا ہے، اب دیکھتے ہیں فیض کون پاتا ہے؟ مگر ابھی تک سب کچھ الجھا ہوا ہے، اور الجھن کبھی کسی کے حق میں نہیں ہوتی، نہ پیدا کرنے والے کے اور نہ ہی جس کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ کیونکہ الجھن کا جواب الجھن سے دیا جا رہا ہے۔ اس لیے خدا خیر کرے۔ اگر ان الجھنوں میں سرے ہاتھوں سے نکل گئے، تو پھر فیصلے غلط ہوں گے مگر ظاہراً فیصلے کرنے والے اس ملک کے عوام ہوں گے جو صرف ان غلط فیصلوں پر مہر لگا رہے ہوں گے۔

Comments

خرم اقبال اعوان

خرم اقبال اعوان

خُرم اقبال اعوان 12 سال سے نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز سے وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹر کرنے کی بعد جیو نیوز سے وابستہ ہوئے، یہ سفر مختلف چینلز سے ہوتے ہوئے 2008ء میں دنیا نیوز تک پہنچا۔ اب "نقطہ نظر مجیب الرحمان شامی کے ساتھ'' سیننٔر پروڈیوسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لکھنے اور اپنی رائے دوسروں تک تحریر کے ذریعہ پہنچانے کا شوق زمانہ طالب علمی سے ہے، اپنی تحریر "اے حقیقتِ منتظر" کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.