حماقت در حماقت، لیکن آخری حماقت نہ کریں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

حکومت کو ختمِ نبوت سے متعلق دفعات کو چھیڑنا ہی نہیں چاہیے تھا؛
اگر ان دفعات میں کسی طرح کی تبدیلی کی ضرورت تھی تو اس کے متعلق کھلی بحث ہونی چاہیے تھی؛
اگر قانون سازی کے وقت کھلی بحث سے گریز کو ہی کسی وجہ سے ترجیح دی گئی تو جب ان دفعات میں تبدیلیوں کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں تو اس وقت حکومت کو سارا معاملہ کھل کر سامنے رکھنا چاہیے تھا؛
اگر کسی وجہ سے اس موقع پر بھی ہر بات کو "صیغۂ راز" میں رکھنے کو ہی ترجیح دی گئی تو کم از کم یہ کیا جاتا کہ ان دفعات کی واپس اصل حالت میں بحالی کےلیے سوچ سمجھ کر قانون سازی کی جاتی، لیکن 2 اکتوبر کو الیکشن قوانین منظور کیے گئے اور 5 اکتوبر کو ختمِ نبوت سے متعلق دفعات کو جلدی میں اور بےدلی سے بحال کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے معاملہ ختم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوا.

پھر مزید اس معاملے کو ایک مہینے تک لٹکائے رکھا گیا یہاں تک کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کی نوبت آگئی؛
دھرنا دینے والوں کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے قبل بھی روکا جاسکتا تھا اور اسلام آباد میں بھی کسی مناسب مقام پر بیٹھنے کےلیے کہا جاسکتا تھا لیکن حکومت نے مسلسل بے حکمتی کا مظاہرہ کیا؛
بالآخر 16 نومبر کو حکومت نے قومی اسمبلی سے ایک اور ترمیمی بل منظور کروالیا جس کی رو سے ختمِ نبوت سے متعلق دفعات واپس مؤثر ہوگئیں لیکن اس حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنے میں حکومت بری طرح ناکام رہی ہے؛
اب تک کی سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ ختمِ نبوت سے متعلق دفعات میں تبدیلی کے مرتکب / مرتکبین کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ مسلسل اسے /انھیں تحفظ دیا جا رہا ہے؛
الیکشن قوانین میں ختمِ نبوت سے متعلق دفعات میں تبدیلی سے لے کر آج تک حکومت مسلسل حماقتیں ہی کرتی آئی ہے لیکن طاقت کا استعمال وہ حماقت ہوگی جس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے؛ آج تک ہم لال مسجد پر حملے والی حماقت کے نتائج بھگت رہے ہیں؛ قوم مزید کسی حماقت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانا اور ’عمرانی‘ معاہدہ - عاصمہ شیرازی

کہا جاتا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد کے شہریوں کو سخت تکلیف کا سامنا ہے ۔ یہ بات صحیح ہے۔ اسلام آباد کے رہائشی ہونے کے ناطے مجھ سے بہتر کون اس حقیقت سے آگاہ ہے ؟ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کی یہ تکلیف حکومت کی بدانتظامی اور بے حکمتی کا نتیجہ ہے ۔ اب حکومت پر لازم ہے کہ اپنی بدانتظامی اور بے حکمتی کے نتائج بھگتے ، بجاے اس کے کہ مزید حماقت کرکے پوری قوم کو مزید فساد اور بربادی کی طرف دھکیلے۔ سڑکوں کی بندش ، آمد ورفت میں پریشانی ، مریضوں کے مسائل ، سب کچھ بجا لیکن دھرنے والوں پر طاقت کے استعمال کے بعد جو فساد ہوگا یہ مسائل اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں ۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں ۔ طاقت کے استعمال سے گریز کریں خواہ مزید کئی دن اسلام آباد کے شہریوں کو آمدورفت میں پریشانی کا سامنا ہو۔ طاقت کے استعمال سے گریز کریں خواہ وزیرِ قانون یا کسی بیوروکریٹ یا کسی سیاسی لیڈر کو فارغ کرنا پڑے۔ یاد رکھیں۔ آج جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ بلیک میل نہ ہوں اور طاقت استعمال کریں، کل یہی لوگ کہیں گے کہ طاقت کا استعمال نہ کرتے تو پورے ملک کو اتنی بڑی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ یقین نہ ہو تو لال مسجد پر حملے سے قبل اور اس حملے کے بعد کے صحافتی تجزیے اور ٹی وی ٹاک شوز پر ایک نظر ڈالیے۔
مانیں نہ مانیں آپ کو یہ اختیار ہے
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں!

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.