قیامت آنے سے پہلے پہلے درخت لگاؤ - احتشام احمد یوسفزئی

"قیامت آنے سے پہلے پہلے درخت لگاؤ " ہم میں سے جو بھی اِس جملے کو پہلی بار سنے گا تو اسے یہ جملہ کچھ معقول سا نہیں لگے گا کیونکہ جب قیامت آنے والی ہو تو درخت لگانے کا کیا فائدہ؟ درخت تو تب لگائے جاتے ہیں جب جینے کی امید ہو، اس دنیا کے باقی رہنے کی امید ہو لیکن جب دنیا ختم ہونے جارہی ہو تو درخت لگانے کا عمل بے سود اور بے فائدہ ہے۔ مگر ہمارے پیغمبر حضرت مصطفی ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا:

"اگر قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا سا پودا ہو اور وہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے اسے لگا سکتا ہے تو ضرور لگائے"

یعنی یہ سمجھ کر نہ چھوڑے کہ ویسے ہی قیامت آنے والی ہے تو اس کو لگانے کا کیا فائدہ ہوگا؟ بظاہر سمجھ میں نہ آنے والی اس حدیث میں ہمارے لیے سیکھنے کی بہت سی چیزیں ہیں:

  • امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث مبارکہ پر جو عنوان باندھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ مال کیسے کمایا جائے کیونکہ اس حدیث میں کھجور کے درخت لگانے کا ذکر ہے جو کہ مال کمانے کا ایک ذریعہ ہے۔
  • اگر چہ پھل دار درخت لگاکر مال کمانے کا عمل سست اور مشقت طلب ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے فوائد کو دیکھ کر لوگوں کو اس کی ترغیب دی بالخصوص کھجور کے درخت لگانے کی کیونکہ مدینہ منورہ کی آب و ہوا کھجور کے لیے موزوں تھی۔
  • حدیث مبارکہ میں لوگوں کو کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ چاہے قیامت کیوں نہ قریب ہو اپنی ذمہ داری کو مکمل طور پر ادا کرے، حلال رزق کمائے اور دوسروں پر بوجھ نہ بنے
  • اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ زمین کو سرسبز شاداب رکھا جائے، درخت لگائے جائے اور ماحول کی حفاظت کی جائے۔
  • امام مناوی فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی طرف ترغیب دی گئی ہے کہ انسان زمین کو آباد رکھے، درخت لگائے، ان کے لیے پانی کا بندوبست کرے اور جس طرح ایک انسان اپنے سے پچھلے انسان کے لگائے ہوئے درختوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اس طرح اس کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اس زمین کو سرسبز و شاداب رکھے
  • کوئی معاشرہ معاشی حوالے سے اس وقت ترقی کرتا ہے جب اس کا ہر فرد اس کی معیشت میں حصہ ڈالے، اس حدیث میں بھی فرد کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اس کے کام کرنے سے معاشرہ آگے بڑھے گا۔
  • اس حدیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ حالات کیسے بھی ہو ں، انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔
  • حدیث میں حلال کمانے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ زراعت کرنا ایک حلال کمائی کا ذریعہ ہے۔
  • اس حدیث میں نیکی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ درخت لگانا ایک نیک کام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مسلمان کا درخت لگانا صدقہ ہے۔
  • اس حدیث سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سوچنا، زمین کو اچھی حالت میں ان کے لیے چھوڑنا ایک مستحب عمل ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر دجال کا ظہور ہوجائے اور تم سے کوئی درخت لگانے میں مصروف ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے کام کو پورا طرح کرے کیونکہ آنے والی نسلوں کی زندگی کے لیے یہ ضروری ہے۔

آپ ﷺ کی احادیث میں ہمارے لیے ہر قسم کی رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان احادیث کو سمجھ کر پڑھیں اور اس میں پنہاں اسرار و رموز تک اکابر کی تشریحات کے توسط سے پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ دنیا میں جن مشکلات کا ہمیں سامنا ہے ان کا سامنا کرنے میں ہمیں آسانی ہو۔ اللہ ہمیں احادیث مبارکہ پڑھنے کی اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔