گوسفندانِ جدید - محمد دین جوہر

اظہار الحق کا کالم، جس کے جواب میں‌یہ مضمون لکھا گیا

بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں سرسید سیمینار پر جناب محمد اظہار الحق کا کالم کئی لحاظ سے دلچسپ ہے۔ ایک تو یہ ازحد مبتذل ہے، اور کسی سینئر کالم نگار کی تحریر اتنا ابتذال لیے ہو تو وہ یقیناً دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ عُجب میں پتہ نہیں چلتا کہ یہ الہامات ہیں کہ ہفوات۔ دوسرے یہ کہ ”حسن نیت“ پر حملہ آور ہوتے ہوئے انہوں نے اپنے غضب کو substance فرض کر لیا۔ اگر ”سب جھاگ“ ہے تو اس کی ضرورت کیا آ پڑی تھی؟ یعنی کوئی بات تو ہے! تیسرے یہ کہ ان کی نفرت کا آسیب بخل کے وجودی غار میں رہتا ہے، اور صرف مولوی کو دیکھ کر ”علم“ پھنکارتا ہوا باہر نکلتا ہے۔ یعنی مبلغ علم مولوی سے نفرت کا اظہار ہے۔ چوتھے یہ کہ اگر اسلامی یونیورسٹی ”غیر جدید مدرسہ“ بن گئی ہے تو کیا باقی یونیورسٹیاں آئیوی لیگ میں شامل ہو گئی ہیں؟ پانچویں یہ کہ جناب ”اس طالب علم“ کو بزِ اخفش اور چڑیا گھر کے شیر کی مصاحبت تو خوش آئی، ذرا آقائے سرسید کے ”شیر“ کا بھی پتہ لگا لیتے تو شاید ان کا کالم نفرت کا چیتھڑا نہ بنتا۔ چھٹے یہ کہ جو آدمی احادیث مبارکہ میں بیان کردہ مہلکاتِ نفس پر دھیان رکھتا ہو، کیا اسے اتنی نفرت، بغض، کینہ اور بے انصافی زیبا ہے؟ ہاں اگر صرف بھاشن ہی دینا ہو تو اور بات ہے۔ ساتویں یہ مان لیا کہ اقبال کے ہاں مسلمان ”کشتۂ سلطانی و ملائی و پیری” ہے۔ تو کیا اُن کے ہاں جدید تعلیم، جدید افکار، جمہوریت، جدید کلچر وغیرہ وغیرہ مسلمانوں کے لیے طبیب کا ”کشتہ“ ہے؟ غصے کی پروردہ عقل ایسے ہی کمالات دکھاتی ہے! آٹھویں یہ کہ دو قومی نظریے پر گاندھی جی، ولبھ بھائی پٹیل یا مولانا آزاد ہی تو ”کلیدی خطبے“ دیتے آئے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے؟ بس جواب تیار ہونا چاہیے کہ سیاست اور نظریات تو پنپتے ہی مخاصم ماحول میں ہیں۔ دو قومی نظریہ کوئی گھڑے کی مچھلی نہیں۔ اب تو ایک بڑی دنیا کے دانشور اسے کلیدی خطبوں سے نواز رہے ہیں۔ نعرے بازی چھوڑ کر ذرا ادھر بھی دھیان کرنا چاہیے۔

گزارش ہے کہ آقائے سرسید کے کار و افکار کو ایک بڑے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں سے بنیادی اجزا خارج نہ ہوں، اور ملائیت داخل نہ ہو۔ ان کی خانہ ساز، فرقہ وارانہ اور ”گھریلو“ تفہیم ہمارے آج کے تہذیبی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ جنگ آزادی کی شکست اور تباہی کے بعد آقائے سرسید نے مسلمانوں کو بلاشک قومی بقا کے وسائل فراہم کیے۔ یہ بہت ہی بڑا کارنامہ ہے۔ کیا یہ وسائل ان کے خود ساز تھے، یا انگریز حکومت سے عطا ہوئے تھے؟ انہیں انگریز حکومت کا ایجنٹ کہنا نادانی بھی ہے، اتہام بھی ہے اور دروغ اعظم بھی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ حاضر و موجود سیاسی طاقت سے، جو کہ استعماری تھی، ان کے خود بیان کردہ گہرے اور والہانہ تعلق کی تہذیبی معنویت کیا ہے؟ یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کی واقعاتی محکومی کو نہایت خوش دلی اور دردمندی سے تہذیبی غلامی میں بدل دیا۔ یہ استعمار کا اقتضا تھا جو تاریخ سے عیاں ہے، اور آقائے سرسید کا منصوبہ تھا جو ان کی تحریر سے ظاہر ہے۔ ”تہذیبی غلامی“ سے مراد اسلام اور مسلمانوں دونوں کی غلامی تھی۔ حاضر و موجود محکوم کا غلام بن جانا ممکن ہے، لیکن ایک آفاقی روایت کا محدود جغرافیے میں غلام بن جانا مشکل ہے۔ غلامی کو تہذیب بنانے کا آقائے سرسید کا منصوبہ ادھورا رہا، اس لیے بڑے مسائل ابھی باقی ہیں۔ اگر پورا ہو جاتا تو شاید آج ہم بھی جاپان ہوتے، ترقی یافتہ اور مکمل غلام۔ برصغیر کے مکمل سیاسی، تاریخی اور تہذیبی تناظر میں آقائے سرسید بیک وقت قابل ستائش اور ناقابل دفاع ہیں۔

ہمیں یقین ہے محترم کالم نگار نے سیمینار میں کوئی کلیدی خطبہ نہیں سنا، اس لیے ان کے حوالہ جاتی پیر و مرشد کے مطابق ان کی ”غور و فکر کی صلاحیت کچھ دیر کے لیے سلب [نہیں] ہوئی“ اور یہ کالم لکھا۔ ہمیں حیرت ہے کہ اگر وہ کلیدی خطبہ سن کر یہ کالم لکھتے تو پھر نہ جانے کیا بیت گئی ہوتی۔ ان سے درخواست ہے کہ دو قومی نظریے پر جب وہ گاندھی جی کا کلیدی خطبہ سن کر لوٹیں تو ضرور دانش ارزانی فرمائیں!

ان کی نفرت کا اصل ہدف ملائیت ہے، لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ یہ ہے کیا؟ اگر یہ خلافی موقف پر اندھی نفرت کا اظہار ہے تو ہمارے ممدوح بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ تو کیا ان کا اظہارِ نفرت ادبِ عالیہ ہے؟ اگر ملائیت مذہبی متن پڑھ کر دوسروں کو کافر و مشرک قرار دینا یا عیب چینی کرنا ہے، تو عین یہی کام وہ بھی کر رہے ہیں۔ اگر ملائیت کا مطلب کسی آدمی یا کسی کتاب میں بیان کیے گئے موقف کو غلط پیش کرنا ہے، تو ”مسافران لندن“ کے ساتھ وہ بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ تو یہ ملائیت نہیں کیونکہ انہوں نے ”مسافران لندن“ پڑھ رکھی ہے۔ اگر ملائیت تاریخی شعور کا فقدان ہے، تو ملائیت کو سرسید پر حملہ آور قرار دینا بھی ملائیت جیسی بے خبری ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں پر ایک پوری تہذیب اپنے پورے وسائل کے ساتھ حملہ آور ہے، اور آقائے سرسید اس کا خانہ زاد اور مانوس چہرہ ہیں۔ ملائیت اس چہرہ در چہرہ تہذیب کے خلاف ہاری ہوئی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہندوستانی ملائیت نے تو ایسے حساب بھی چکائے ہیں جو ان پر واجب نہ تھے۔ یہ کہنا کہ ملائیت آخر دم تک کانگریس کے ساتھ رہی بالکل جھوٹ ہے۔ ”ملائیت“ کے نمائندوں کا ایک بہت بڑا حصہ دو قومی نظریے کا حامی بنا اور تقسیم عمل میں آئی۔ تو کیا وہ بھی گردن زدنی ہیں؟ جنگ آزادی کے بعد سے ہر بڑا مسلمان رہنما اولاً یا مستقلاً ہندو مسلم اتحاد کا داعی رہا ہے جس میں قائد اعظمؒ بھی شامل ہیں۔ تو کیا ہمارے ممدوح کے نزدیک اس کا ذکر نہ کرنا تاریخی شعور، علمی دیانت اور رد ملائیت ہے؟ اس کالم کے تناظر میں ملائیت پھر بھی بہتر نظر آئی کہ اس نے زندگیوں کو خالی کر دیا، اور اسلام کو ظاہری وضع قطع ہی میں زندہ رکھا، لیکن ان خالی شدہ زندگیوں کو ہمارے ممدوح نے جس بہیمی نفرت و کینہ و بغض سے بھرا ہے، وہ تو روشن خیالی ہے ملائیت ہرگز نہیں۔ اگر وہ زندگیاں ایک اسلام سے خالی ہو گئی تھیں، تو ہمارے ممدوح کو کیا رکاوٹ تھی کہ وہ اسے اپنے پسندیدہ سرسیدانہ اسلام سے بھر دیتے؟

لیکن اہم تر یہ ہے کہ ملائیت پاکستان کے ساتھ ہو تو بھی قابل قبول نہیں، اور خلاف تو ویسے ہی گردن زدنی ہے، اور روشن خیال بزِ اخفش بس سر ہی ہلاتی ہے۔ اس کالمی چڑیا گھر میں ایک ہاتھی بھی آ نکلا ہے، اور اہل ملائیت اس کے کانوں اور پاؤں کی گوشمالی فرما رہے ہیں۔ ہمارے ممدوح کو کافی جانور نظر آ رہے ہیں، لیکن آقائے سرسید کی اوٹ میں استعمار و استشراق کا آباد پورا چڑیا گھر نظر نہیں آتا۔ سرمۂ افرنگ سے روشن آنکھوں کی بینائی ایسی ہی ہوتی ہے، کیونکہ دماغ روشن ہو تو آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ملائیت تو صرف ایک تھاپ ہے، اور اس سے اٹھائی گئی الاپ محض اسلام دشمنی کی تفصیلات ہیں۔

فرماتے ہیں کہ ”چلیے یہ متنازع بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ ڈیڑھ سو برس ہو چکے ہیں، آپ اتنے عرصہ میں وہ نظام تعلیم کیوں نہ لا سکے جسے آپ درست سمجھتے ہیں؟“ جناب عالی مقام سے یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ یہ ”آپ“ کون ہیں؟ حضور کہاں کھڑے ہو کر کس سے کیا پوچھ رہے ہیں؟ ہمارا پورا نظام تعلیم میکالے کا دیا ہوا ہے، اور غیریورپی محکوموں کے لیے یورپی نظام کا گھٹیا ترین چربہ ہے، اور آقائے سرسید کی پوری زندگی اس کی تعدیل سازی (normalization) میں گزری۔ وہ کم از کم جدید تعلیم سے اس قدر ضرور واقف تھے کہ اس کی مضرتوں سے بچنے کے لیے نیا علم الکلام بنانے نکلے، اور ناکام رہے۔ وہ تعلیم نسواں اور تعلیم اجلاف کے خلاف تھے، لیکن یہ ملائیت نہیں ہو سکتی اسے روشن خیالی ہی کہا جائے گا۔ جناب کا سوال عین وہی ہے جو لارڈ میکالے ”دیسی“ لوگوں سے پوچھتا ہے۔ اگر تو جناب لارڈ میکالے کے ساتھ ہیں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں، اور اگر عامۃ المسلمین کے ساتھ کھڑے ہیں تو وہ خود بھی اس سوال کے مخاطب ہیں۔ اس پر وہ کیا فرماتے ہیں؟ یعنی جدید نظام تعلیم بنانا بھی ملائیت کی ذمہ داری ہے، اور جناب کی ذمہ داری صرف کالمی بھاشن دینا ہے۔

ویسے بے انصافی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ گھی مٹکے میں ہے اور حلوہ کڑاہی میں ہے۔ اٹھارھویں صدی کے آغاز تک دنیا میں سب سے بڑے مٹکے کڑاہیاں ہندوستان ہی میں تھیں، اور اہلِ فرنگ توپ و تفنگ سمیت انہی مٹکے کڑاہیوں کے لیے یہاں آئے تھے۔ یہاں جو کچھ بچ رہا تھا اس میں حصہ دار اہل تجدد ہی ہوئے۔ جنگ آزادی کے بعد اہل تجدد کا حصہ تو بڑھ گیا، اور اہل ملائیت کے حصے میں تو ٹکڑے بھی نہیں آئے۔ اور hubris اس قدر ہے کہ ضیاء الحقی کرتے ہوئے ڈیڑھ صدی کے اپنے مٹکے کڑاہیوں کو بالکل فراموش کر دیتے ہیں۔

ہمیں آقائے سرسید کی عظمتِ کردار کا اعتراف ہے، لیکن ”مسافران لندن“ میں وہ ہندوستانی مسلمانوں کو جانوروں اور وحشیوں سے بدتر کہتے ہیں، انہیں مینڈک اور مچھلی سے بھی کم تر مخلوق سمجھتے ہیں۔ انگریزوں کی طرف سے ہندوستانیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی مستقل توہین کو اُن کی اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہیں، اور اس کے لیے جواز سازی بھی فرماتے ہیں۔ آقائے سرسید لندن میں ایک پل کے بننے کی تجارتی تاریخ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”اب میں اپنے ہم وطنوں سے پوچھتا ہوں کہ یہ لوگ آدمی ہیں یا ہم؟ جو صرف حیوانوں کی طرح اپنی خود غرضی میں مبتلا ہیں؟ ……… افسوس صد افسوس ہزار افسوس! حقیقت میں ڈوب مرنے کی جگہ ہے۔ ہم اس قابل بھی نہیں کہ کسی تربیت یافتہ ملک کے لوگوں کو اپنا منہ بھی دکھلاویں“۔ ص ۱۶۳۔ ایک پل نہ بنانے پر اتنی بڑی فرد جرم؟ اور فرماتے ہیں: ”میں بلامبالغہ نہایت سچے دل سے کہتا ہوں کہ تمام ہندوستانیوں کو اعلیٰ سے لے کر ادنیٰ تک، امیر سے لے کر غریب تک، سوداگر سے لے اہل حرفہ تک، عالم فاضل سے لے کر جاہل تک، انگریزوں کی تعلیم و تربیت اور شائستگی کے مقابلے میں درحقیقت ایسی ہی نسبت ہے جیسے لائق اور خوبصورت آدمی کے سامنے نہایت میلے کچیلے وحشی جانور کی۔ پس تم کسی جانور کو قابلِ تعظیم یا لائقِ ادب سمجھتے ہو؟ کچھ اس کے ساتھ اخلاق اور بد اخلاقی کا خیال کرتے ہو؟ ہرگز نہیں کرتے۔ پس ہمارا کچھ حق نہیں ہے اگرچہ وجہ ہے کہ انگریز ہم ہندوستانیوں کو ہندوستان میں کیوں نہ وحشی جانور سمجھیں“۔ ص ۱۷۰۔

چلیے یہ بھی قبول ہے کہ میں انہیں اپنے ماں باپ سے زیادہ واجب الاحترام سمجھتا ہوں۔ ان کا جوتا سر پر تو قبول ہے، لیکن سر میں اور آنکھوں پر قبول نہیں۔ انہوں نے میرے پورے تہذیبی شجرہ نسب کو بدل دیا، محکومی کو غلامی اور غلامی کو میری تہذیب بنا دیا۔ تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس پر بھی مجھے خاموش رہنا چاہیے؟ تو خراجِ گدا میں جو مٹکے کڑاہیاں ملیں ان پر کوئی بات کر سکتا ہوں؟ کیا مجھے ان کی قوت محرکہ استمعار و استشراق پر سوال اٹھانے کی اجازت ہے؟ کیا یہ ملائیت ہے اور روشن خیالی کی توہین ہے؟ آقائے سرسید نے کبھی خود کو سیکولر نہیں کہا۔ وہ ایک قطعی مذہبی پوزیشن لے کر بات کرتے ہیں۔ ملائیت کے مذہب پر سوال اٹھانا تو روشن خیالی ہے، لیکن آقائے سرسید کے مذہبی موقف پر سوال اٹھانا ملائیت ہے۔ یہ کیا بوالعجبی ہے؟

ہمارے ممدوح فرماتے ہیں کہ ”ظلم یہ ہے کہ سرسید کے افکار کی ہمہ جہتی اور ہمہ گیری سے ان دشنام طرازوں کو مکمل آگاہی ہی نہیں!” آداب و تسلیمات۔ گویا دشنام طرازی کالم میں تو بالکل نہیں ہے، کیونکہ وہ روشن خیالی کی دستاویز ہے۔ جناب تو آقائے سرسید کے فکری تعینات ہی سامنے لا رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو تو کیا افکار کی گفتگو ممکن ہے؟ ضیاء الحقی کا دور اگر گزر گیا ہو، تو اس گفتگو کے شرکا اب کون کون ہوں گے؟ آقائے سرسید ایک معشوق محترم ہیں۔ میں بھی ان کا خانماں ویران عاشقِ جانثار ہوں۔ لیکن توپ و تفنگ سے لیس، استعمار و استشراق بھی ان کا عاشقِ جاں گداز ہے۔ تو جاننا چاہیے کہ یہ جان گدازی عاشق کی ہوئی کہ رقیباں رو سیاہ کا نصیب ٹھہری؟ اور یہ اس گفتگو میں معلوم ہو سکتا ہے جس میں آقائے سرسید کا یہ فرنگی عاشق محذوفِ مطلق نہ ہو۔ ملائیت کو fig leaf کے طور پر استعمال کرتے چلے جانا نہایت قابل مذمت ہے۔ اب وقت ہے کہ آقائے سرسید کے کار و افکار کی تحسین کے کام کا آغاز کیا جائے۔