ماحول اور ہوائی آلودگی - ریاض علی خٹک

انسان کی زندگی کی ڈور سانسوں کی ترتیب ہے. انسان کا سب سے بڑا خوف دم گھٹنے، سانس رکنے کا ہوتا ہے. یہ سانس کیا ہے؟ یہ فضا میں سے پھیپھڑوں کا ہوا کھینچ کر جسم کے اندر لے جانا ہے. اس میں سے آکسیجن کشید کرنا اور استعمال شدہ آکسیجن جو کاربن ڈائی آکسائیڈ بن چکی ہوتی ہے، اسے واپس خارج کرنا ہے. ہم اپنی ہر سانس میں یہ عمل دہرا رہے ہوتے ہیں. ایک عام انسان دن میں سترہ ہزار سے تیس ہزار بار سانس لیتا ہے. مشقت کرتے جسم کی طلب بڑھ جاتی ہے. جیسے دوڑتے جسم کو دگنی آکسیجن درکار ہوتی ہے.

کرہ ارض کو جب اللہ رب العزت نے انسان کا مسکن بنایا تو اس کی ہوا انسان کے لیے متوازن کی. ایک عام خشک ہوا میں 78 فیصد نائٹروجن اور 21 فیصد آکسیجن ہوتی ہے. 0.04 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ اس ہوا کا حصہ ہوتی ہے. اس نظام کو تازہ رکھنے کے لیے رب العالمین نے جب انسان کی طلب آکسیجن رکھی، اخراج کاربن ڈائی آکسائیڈ رکھا تو اس کے ساتھ سرسبز پودے پیدا کیے. جن کی طلب کاربن ڈائی آکسائیڈ اور اخراج آکسیجن بنایا. یہ طلب و رسد کا ایک مربوط پروگرام تھا. انسان اور پودوں کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بنایا گیا.

انسان اور پودوں کا یہ ساتھ چلتے چلتے اس دوراہے پر آیا جب انسان بزعم خود ترقی یافتہ دور میں داخل ہوا. اسے انڈسٹریل دور کہا جاتا ہے. یہ تعلیم و ٹیکنالوجی کے عروج کا دور کہلایا. اٹھارویں صدی سے شروع اس دور کے لیے ہوش ربا کہانیاں بنائی گئیں. اور یہ بے جا بھی نہ تھیں کہ اس دور میں میڈیکل سائنس سے لے کر گھر کے کچن اور سواری سے لے کر رہائش تک، ہر جگہ انقلاب آیا. انسان چاند پر پہنچ گیا، اس نے مہینوں کے سفر کو گھنٹوں میں کرلیا. ٹی وی سکرینوں نے اس دنیا کو ایک محلہ بنا دیا، لیکن اس انقلاب کی قیمت بھی اب ہم ہی ادا کر رہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   قیامت آنے سے پہلے پہلے درخت لگاؤ - احتشام احمد یوسفزئی

انڈسٹریل دور سے پہلے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا لیول 280ppm تھا. آج یہ چار سو پی پی ایم ہے. یہ کیونکر ہوا؟ اس صنعتی انقلاب کی بھٹیاں دہکانے کے لیے ہم ایندھن ڈالتے رہے اور گھر دھوئیں سے بھر دیا. آج ہماری فیکٹریاں دھواں اگل رہی ہیں. سڑکیں، فضا میں جہاز، سمندر میں بحری جہاز دھواں اگل رہے ہیں. اور ہم دھواں اگل رہے ہیں. جی ہاں. ہم انسانوں کی بڑھتی آبادی کاربن ڈائی آکسائیڈ اگل رہی ہے. اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنی زندگی کے لیے آکسیجن بنانے والی مخلوق درخت سمٹتے جا رہے ہیں.

دنیا بھر میں جنگلات کا صفایا ہوتا جا رہا ہے. انڈسٹریل دور سے پہلے کے جنگلات چھوڑیں کے صدیوں میں ہم نے کیا تباہی پھیلائی، یہ تفصیل انتہائی مایوسی دیتی ہے. جنگلات پر آج کے اس شعور والے دور میں جب شعور کی صورتحال بہت بہتر ہوچکی، جنگلات کا یہ حال ہے کہ 1990ء میں دنیا میں 4128 ہیکٹرز جنگلات جو دنیا کی زمین کا 31.6 فیصد بنتے تھے. ان کا حساب 2015ء میں کیا بنا؟ 2015 میں اقوام متحدہ کی ایک ریسرچ بتاتی ہے کہ یہ اب 3999ء ہیکٹرز ہیں. یعنی اب یہ زمین کا 30.6 فیصد رہ گئے ہیں.

یہ دنیا ہمارا گھر ہے. ہم اپنے اپنے وقت میں اس میں زندگی گزارتے ہیں. اور اپنے آنے والی نسلوں کے لیے پھر اسے میراث میں چھوڑتے ہیں. کبھی انسان یہ سوچے گا کہ اپنے بچوں کی وراثت میں اب ہم کیا چھوڑ رہے ہیں؟ کل کی نسل یعنی آج کے بچے آبادی کا دس فیصد ہوتے ہیں. آج کی آلودگیوں سے جنم لی بیماریوں کے 40 فیصد کا بوجھ یہ بچے اٹھاتے ہیں. کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں. ہماری نسل ابھی پیروں پر کھڑی نہیں ہوتی کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا بوجھ ان کے سر ڈال دیتے ہیں، اور پھر ماتم کرتے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   انکل! انسان کیا ہوتا ہے؟ - اسد علی

قدرت بار بار انسان کو یاد دہانی کراتی ہے. جس ماحول کو ہم بگاڑ رہے ہوتے ہیں، یہی ماحول فریاد کررہا ہوتا ہے. آج کی اس سموگ والی فضا کو دیکھ کر 1952ء کی لندن سموگ یاد آتی ہے. جب صنعت میں جلتے کوئلے کی وجہ سے صرف چھ دن کی سموگ میں ایک لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے. دس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے. آج اپنی زرخیز زمینوں پر جہاں ہمیں درختوں کی شجرکاری کرنی تھی، وہاں اگر کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹ لگا رہے ہوں گے تو ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں. آنے والے سالوں میں سموگ مزید سے مزید پھیلتی چلی جائے گی.

یہ دنیا میراث ہے. آنے والی نسلوں کے لیے ہم نے اسے کیسے چھوڑنا ہے. یہ طے کرنا ہے. یہ اجتماعی شعور کا معاملہ ہے. ہم ماحول کو برباد کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یا ماحول کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ. ہم میں سے ہر ایک اس سوال پر جوابدہ ہے. کل روز محشر حقوق العباد کے سوالات ہوں گے. ہم گریبان پکڑنے والے بنتے ہیں یا ہمارا گریبان پکڑا جائے گا. آج ہم اس اختیار پر ہیں. آج ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں کہ فضائی آلودگی سے گرمی میں ہیٹ ویو آتی ہے. سردی میں سموگ بنتی ہے. آنے والے دس برسوں میں موسم بہار کا نشان ختم ہو جائے گا. یہ فیصلہ ہر ایک نے اپنی ذات پر لینا ہے.