نصف صدی کی کہانی، ہارون الرشید کی زبانی - اہم انٹرویو کا آخری حصہ

 

معروف صحافی اور صاحبِ طرز کالم نگار جناب ہارون الرشید کے ساتھ خصوصی گفتگو کا دوسرا اور آخری حصہ


انٹرویو: جمال عبداللہ عثمان


اس دلچسپ اور تہلکہ خیز انٹرویو کا پہلا حصہ پڑھیں۔
سوال: آپ نے صحافت کو ہی کیوں منتخب کیا؟ کسی اور شعبے میں جانے کا موقع نہیں ملا یا صحافت ہی آپ کی منزل تھی؟
ہارون الرشید: ایک آدمی جو ایف اے کا امتحان پاس کرے، ابھی نتیجہ بھی نہ آیا ہو، صورتِ حال یہ ہو کہ گھروالے کہیں کہ ایم بی بی ایس کرلو، اب اسے دوائیوں کی بُو ہی گوارا نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آدمی نے اس پروفیشن میں جانا ہوتا ہے جو اس کا مقدر ہو۔ سرکارﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ جو کام بندے سے لینا چاہے وہ اس کے لیے سہل کردیتا ہے۔ میرے پاس دو option تھے: ایم اے کرلیتا یا اردو پڑھاتا۔ مجھے اردو سے دلچسپی تھی، کہہ سکتے ہیں کہ زبان سے دلچسپی تھی، پنجابی سے بھی ہے اور تھوڑی بہت فارسی اور عربی سے بھی۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ میں صحافت کی طرف آتا۔ سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اللہ نے مجھے اس راستے پر ڈال دیا جو میرا راستہ تھا۔ سول سروس میں جاتا تو شاید سال چھ ماہ ہی گزار پاتا۔ ہمارے خاندان کا مزاج ہے کہ کوئی شخص کبھی کسی دربار میں نہیں گیا۔ کسی نے کوئی سرکاری ملازمت نہیں کی۔ میرے بھائی طارق چوہدری بارہ سال سینیٹر رہے، وزیر بن سکتے تھے، کئی بار پیشکش ہوئی، مگر نہیں بنے۔

سوال: نجی ٹی وی چینلز کی اجازت اور اخبارات میں اضافے سے میڈیا کافی طاقتور ہوچکا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک وقوم کے لیے فائدہ مند ہے، یا اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں؟
ہارون الرشید: فی الحال تو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ اس لیے کہ ریاست کی رِٹ رہنی چاہیے۔ پیمرا کا سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال جیسا شخص ہوتا تو شاید کچھ کنٹرول قائم ہوجاتا۔ جب آپ اپنے کسی ذاتی وفادار کو بنائیں گے تو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ میڈیا کی یہ کیسی آزادی ہے کہ جنگ گروپ ملک کی خارجہ پالیسی تشکیل دینے کی کوشش کرتا رہا؟ ایسی آزادی کون گوارا کرسکتا ہے؟ برسوں پہلے میرشکیل الرحمن صاحب سے عرض کیا تھا کہ یہ نہیں ہوسکتا ریاست کے اندر ریاست نہیں ہوتی۔ لال مسجد کی مثال بھی دی۔ گزارش کی کہ ریاست پلٹ کر حملہ کیا کرتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے۔ الحمدللہ! لال مسجد کے معاملے میں واضح تھا۔ منتظمین سے چھ ماہ پہلے کہا تھا کہ آپ لوگ پچھتائیں گے۔ ریاست سپریم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ یہ ریاست ہی سے وفاداری ہے، کسی شخص سے نہیں۔ یہ ایگریمنٹ ہے۔ گاہے ذمہ دار اخبار نویسوں کے پاس معلومات ہوتی ہیں، لیکن وہ نہیں چھاپتے۔ اگر محسوس ہو کہ اس طرح ریاست کو نقصان پہنچے گا۔ آزادی ہمیشہ احساسِ ذمہ دار اور discipline میں پنپتی ہے۔ مادرپدر آزادی پاگل پن ہے۔

سوال: بہت سے اچھا لکھنے یا لکھنے کی خواہش رکھنے والے موجود ہیں، ان کے لیے کیا تجویز کریں گے، وہ اپنی تحریر کو کیسے بہتر بنائیں؟
ہارون الرشید: عبارت آرائی عقلِ عام کی کرامت ہے۔ میں نے اپنے سارے بیٹوں سے لکھوایا، معظم رشید نے کہا کہ میرا رجحان نہیں، دل نہیں چاہتا۔ مامون اچھا لکھتا ہے، لیکن وہ آئی ٹی میں لگ گیا۔ بلال الرشید نے ضد کی کہ میں لکھنا چاہتا ہوں، میں نے کہا: مشقت اُٹھانا پڑے گی۔ وہ تیار ہوگیا، اس نے اُردو ٹائپ سیکھا، روزنامہ دُنیا میں لکھنا شروع کیا۔ غلطیاں کیں، پڑھتا رہا، سیکھا، نئے موضوعات منتخب کیے، تخلیقِ کائنات پر پڑھا، انسانی ذہن کے اندازِ کار کا مطالعہ کیا، ماہرینِ نفسیات سے ملا، پروفیسر احمد رفیق اختر سے استفادہ کرتا رہا، مجھ سے بحثیں کرتا رہا، لیکن بہت محنت کی ہے۔ کبھی وہ کہتا کہ اس رفتار سے آدمی کام نہیں کرسکتا، جس کا آپ مطالبہ کرتے ہیں، لیکن وہ بالآخر کامیاب ہوگیا۔ اخبار نویس کو بدترین حالات میں بھی لکھنا ہوتا ہے۔ پرسوں پرلے روز، سوا بارہ بجے شب فاروق ستار والے ڈرامے پر ایک پورا تجزیہ لکھنے کے لیے صرف پچیس منٹ ملے۔ یہ مشکل ہوتا ہے، ناممکن نہیں۔ ریڈیو مانیٹرنگ میں ہم تقریر کی رفتار سے لکھنے کی کوشش کرتے۔ اصول تو سارے پیشوں میں وہی ایک ہے:

خشک سیروں اک تنِ شاعر کا لہو ہوتا ہے

تب نظر آتی ہے مصرعہ تر کی صورت

ہم کس شمار قطار میں ہیں۔ بڑے لکھنے والوں کو دیکھیے کہ کیسی کیسی ریاضت انہوں نے کی ہے۔ زہیر بن ابی سلمیٰ، عمر ابن خطابؓ کا پسندیدہ شاعر، سال بھر سے پہلے اپنا کلام نہ سناتا۔ مشتاق یوسفی برسوں ایک تحریر کو ’’پال‘‘ میں رکھ چھوڑتے۔ اس نادر روزگار شاعر میر انیسؔ کا قرینہ بھی یہی تھا۔ اقبال نے کہا تھا:

بلبلِ شوریدہ، نغمہ ہے ترا خام ابھی

اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

حافظِ شیراز کو مشاعروں سے نکال دیا جاتا، وہ بابا کوہی کے مزار پر گئے اور دُعا کی، فریاد کی کہ یااللہ! میں ایک مصرعِ موزوں کے سوا تیری رحمت سے کیا مانگتا ہوں۔ اس کے بعد حافظ نے وہ شاعری کی جو ابد الآباد تک باقی رہے گی۔ اقبالؔ پر بھی ایسی کوئی واردات لازماً گزری ہے۔ بانگِ درا کی شاعری بالِ جبریل اور ضربِ کلیم سے بہت مختلف ہے۔ ’’اے ہمالہِ فصیل کشور ہندوستاں/ تیری پیشانی کو جھک کر چومتا ہے آسماں‘‘ ’’ہے حسینوں میں وفا ناآشنا میرا خطاب/ حسن سے مضبوط پیمانِ وفا رکھتا ہوں میں‘‘ اور اب دیکھیے ’’عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا۔۔۔ اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام‘‘ اور دیکھیے

من اے میر اممؐ از تو داد خواہم

مرا یاراں غزل خوانے شمردند

اے امتوں کے سردارؐ! میں آپ سے فریاد کرتا ہوں۔ لوگوں نے مجھے غزل خواں سمجھ لیا۔

زندگی کے دُکھ درد سے آدمی گزرتا ہے۔ اسے وہ بدقسمتی سمجھتا ہے، حالانکہ اسی میں خوش قسمتی پوشیدہ ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے: عسیٰ ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم، وعسیٰ ان تحبوا شیئا وھو شرلکم، میں آج کل اس پر بہت سوچتا ہوں، جس چیز کو ہم برا سمجھتے ہیں، جس سے کراہت ہوتی ہے، ظفرمندی اسی سے طلوع ہوتی ہے۔ جس چیز کو ہم اچھا سمجھتے ہیں، وہی زوال اور پستی کی طرف لے جاتی ہے۔

جب تک آپ درد سے نہیں گزریں گے، تنہائی سے نہیں گزریں گے، افلاس نہیں دیکھیں گے، اور مقابلہ نہیں کریں گے، گہرائی اور گیرائی آپ کی تحریر میں نہیں آسکتی۔ اچھا لکھنے کے لیے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ لفظوں کے رشتہ وپیوند ہوتے ہیں۔ قبائل اور ناتے ہوا کرتے ہیں۔ مصرعے کی طرح جملے کا بھی ایک وزن ہوتا ہے۔ یہ نقطہ اگر آدمی نہ سمجھتا ہو تو فصاحت کہاں سے آئے گی؟ نہ کبھی عربی پڑھی ہے نہ کبھی قرآن پڑھا۔ ایک مشہور اور ممتاز مصنف نے کہا: ساری رات ہم مشقت کرتے ہیں، آپ اس رسان سے کس طرح لکھ لیتے ہیں؟‘‘ عرض کیا: ’’قرآن پڑھا، اقبالؔ کو پڑھا۔ سیرت پڑھی، صحابہ کو پڑھا، پورے کا پورا اُردو ادب پڑھنے کی کوشش کی، روسی ادب گھول کر پی لیا۔ اس طرح پڑھا کہ ساری رات جاگتے رہا کرتے، نیند پوری نہ ہوتی تھی۔ اب بھی اچھی کتاب مل جائے تو پوری رات جاگ کر گزاردیتا ہوں۔ کل میں سونے کے لیے تیار تھا، کسی نے کتاب بھیجی تھی، ابتدائی تاثر اچھا نہیں تھا، لیکن جب پڑھنا شروع کی تو سورج نکل آیا۔ مسلسل پڑھنا پڑتا ہے۔ جو شخص ہر روز کلاسک نہیں پڑھتا، شاعری یا فکشن، وہ اگر یہ چاہے کہ اس کی زبان میں تازگی رہے، یہ ناممکن ہے۔

سارا دن آپ ٹی وی پر، مجالس میں بازاری زبان سنتے ہیں۔ آپ کی زبان کا معیار گرنے لگتا ہے۔ فکر کا معیار بھی گرتا ہے اگر آپ اہلِ علم سے نہ ملیں۔ میں پروفیسر احمد رفیق اختر سے ملتا ہوں، کبھی ڈاکٹر خورشید رضوی کے پاس چلا جاتا ہوں، اگرچہ ان سے ملنے کا مقصد محض تحریر کو بہتر بنانا ہی نہیں ہوتا۔ اہلِ علم سے ملنے کے بہت سے فوائد ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے: جب اُلجھ جائو تو اہل ذکر کے پاس جائو۔‘‘ خواجہ نظام الدین اولیاؒ فرمایا کرتے: نیکوں کی صحبت نیکی سے بھی بہتر ہے اور بروں کی صحبت برائی سے بھی بدتر۔ اخبار نویس ہیں تو آپ کو اپنے ذرائع معلومات تراشنا پڑتے ہیں۔ جو کالم نویس اپنی معلومات کے براہِ راست ذرائع نہیں رکھتے، وہ کیسا ہی کمال کردکھائیں، شہرت بھی پالے، معروف بھی ہوجائیں، معلومات کے لیے قاری ان پر بھروسہ نہیں کرتا۔ کچھ دوسرے ہیں،مجھ ایسوں کے مقابلے میں معلومات بہت زیادہ رکھتے ہیں، ڈھنگ کا ایک جملہ بھی مگر لکھ نہیں سکتے۔ میں خوش قسمت تھا، جنرل کیانی جیسا آدمی مل گیا۔ اس کی وجہ سے بہت سے جنرلوں کے ساتھ مراسم استوار ہوئے، اب تک باقی ہیں۔ عمران خان سے دوستی ہوگئی۔ پروفیسر احمد رفیق اختر ایسے عبقری سے ملاقات ہوئی اور ان کے توسط سے سیکڑوں اہم لوگوں سے۔ فاروق گیلانی مرحوم میرے دوست تھے، ان کی وجہ سے بیوروکریسی میں تعلقات استوار ہوئے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ کو زیادہ دشواری نہیں ہوتی، محفلوں میں کوئی آپ کو مل جاتا ہے۔ اگر آپ کا اعتبار اور ساکھ ہو۔

سوال: لکھنے کے لیے کوئی خاص وقت بھی ہوتا ہے یا جس وقت طبیعت لکھنے پر مائل ہو، لکھ ڈالنا چاہیے؟

ہارون الرشید: کسی وقت بھی لکھا جاسکتا ہے اور کہیں بھی۔ پرسوں کا کالم دنیا گروپ کے آئی ٹی منیجر محسن مختار صاحب کی میز کے سامنے بیٹھ کر لکھا۔ ایک بار ایرانی پارلیمنٹ کی بریفنگ کے دوران۔ معیار البتہ متاثر ہوتا ہے۔ اگرچہ یکسوئی کبھی ہجوم میں بھی پیدا ہوتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ٹیلی فون پر بلال الرشید کو لکھوادیا۔ صبح کاذب اور صبح صادق کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے لیے برکت کی دُعا مانگی تھی۔ فجر کا وقت ہی بہترین ہے۔ ہاں! اگر اس وقت اُٹھ بھی جائیں تو لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ میں نے جب کبھی اس وقت لکھا، اس میں عجیب برکت دیکھی۔ انتہائی آسانی سے کام نمٹ جاتا ہے۔ تین گھنٹے کا کام ایک گھنٹہ میں بخوبی انجام پاتا ہے۔

سوال: آپ کی تحریر پر کس کے اثرات زیادہ ہیں؟ طرزِ تحریر کہاں سے اخذ کیا؟

ہارون الرشید: طرزِ تحریر آدمی کی شخصیت سے پھوٹتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ماحول کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ بایں ہمہ آدمی کی افتاد طبع ہی اس کی تقدیر ہے۔ مجھ پہ بہت سے لوگوں کے اثرات ہیں، علامہ اقبال کے ہیں۔ انگریزی صحافت، مثلاً: ریڈرز ڈائجسٹ، عربی اور روسی ادب کے ہیں۔ میں اس کا تعین نہیں کرسکتا۔ ہیرلڈلیم سے بہت متاثر ہوا۔ تھوڑا سا مختار مسعود سے، کچھ مشتاق احمد یوسفی سے۔ ان سے زیادہ رشید احمد صدیقی سے۔ بہت سے دوسرے بھی ہیں۔ شاعری پڑھی، فکشن پڑھی۔ آخر کار ایک ایک خاص طرح کا قوام بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب پروفیسر احمد رفیق اختر کے افکار کا اثر ہے تو کچھ نہ کچھ طرزِ بیان ان کا بھی۔

تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ چند سالوں بعد نام ونشان بھی نہ ہوگا۔ لیڈروں کا کیا ہوتا ہے، پیدا ہوتے ہیں، چھا جاتے ہیں اور پھر دنیا سے غائب ہوجاتے ہیں۔

سوال: لکھنے والوں کو آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ انہیں کن چیزوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے؟

ہارون الرشید: غوروفکر اور وسیع مطالعے کی وسعت۔ انسان کیا ہے، زندگی کیا ہے، یہ کائنات کیا ہے اور اس کا خالق کون ہے! اس خالق کے تشکیل کردہ ابدی قوانین کیا ہیں۔ آپ کو اپنے پسندیدہ موضوعات منتخب کرنے چاہییں۔ نہایت احتیاط سے آپ کو لٹریچر پڑھنا چاہیے۔ کبھی وقت نہ ہو تو پندرہ بیس منٹ پڑھ لیں۔ جس طرح نماز فرض ہے، اس طرح لکھنے والے کے لیے اعلیٰ ادب پڑھنا فرض ہے۔ شاعری پڑھیں، اپنے عہد کی سیاست کو سمجھیں۔ تاریخ پڑھیں، آپ کو برصغیر کی تاریخ اور سیاسی تحریکوں کا کچھ پتا نہیں تو کیا لکھیں گے۔ خاکسار کون تھے، احرار کون تھے؟ کانگریس کیا تھی، جمعیت علمائے ہند کیا تھی، کس پس منظر سے سید ابوالاعلیٰ مودودی اُبھرے، ادب کی ترقی پسند تحریک کن نشیب وفراز سے گزری، اگر آپ یہ نہیں جانتے تو آپ کیا لکھیں گے؟ مغرب پر لکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ کو مغرب کا پتا ہی نہیں، مغربی جمہوریت کیا ہے، برطانوی جمہوریت کیا ہے، آپ کو سوشلزم کا پتا نہیں، تو کیا لکھیں گے؟ میں نے دیکھا ہے کہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی تشکیل اور ترجیحات کا اکثر اخبار نویس ادراک نہیں رکھتے۔ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں۔ پھر ایک اخبار نویس کے لیے شک کرنا بہت ضروری ہے۔ حسنِ ظن اچھا ہے، مگر تجزئیے میں نہیں۔ ایک ایرانی دربار میں بادشاہ سے عہدِ جاہلیت کے ایک عرب خطیب نے کہا تھا: بادشاہ! حسنِ ظن ایک بھنور ہے اور بدگمانی بجائے خود ایک تحفظ۔ کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ، اس طرزِ فکر کا اطلاق سیاست اور صحافت پر ہوتا ہے۔

سوال: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ ہمارے ہاں لکھنے والوں پر سیاست بہت زیادہ غالب آگئی ہے، سیاست کے علاوہ بھی کچھ موضوعات پر لکھنا چاہیے؟

ہارون الرشید: اصل موضوعات تو وہی ہیں۔ سوچتے ہیں، خاکہ بناتے ہیں، کبھی تو شب بھر، پھر کوئی بڑی خبر آجاتی ہے تو اس پر لکھنا پڑجاتا ہے۔ عظیم قلم کار تو وہی ہے جس کا تناظر وسیع اور موضوعات بڑے ہوں۔ قوم کو اخلاقی تعمیر کی ضرورت ہے۔ ہم تجزیہ کار بن کر اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ وہ لوگ اچھا کرتے ہیں جو سیاست کے علاوہ بھی لکھتے ہیں۔ مثلاً: عامر خاکوانی۔ معاشرے کے تارپود پر، ملاوٹ کے خلاف لکھنا، گندا دودھ، گندا پانی، شیرہ شہد کے طور پر بک رہا ہے، گوشت میں پانی ملایا جارہا ہے، گھی اور تیل کے نام پر کیا کچھ بک رہا ہے۔ اصول اللہ کے رسول نے بیان کردیا۔ جب برائی سے روکا نہیں جائے گا اور بھلائی کی ترغیب نہیں دی جائے گی، تو بدترین حاکم تم پر مسلط کیے جائیں گے۔ وہ تمہیں بدترین ایذا دیں گے۔ اور اس وقت تمہارے نیک لوگوں کی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ اصول قرآن کریم میں ہے، جو زندگی اور تخلیقِ کائنات پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ صحافت اسی لیے سطحی چیز ہے کہ اس کے موضوعات اکثر وقتی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میں باغی کیوں ہوں؟-اوریا مقبول جان کے اہم انٹرویو کا آخری حصہ

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سارے کام کرلے گی، کیسے کرسکے گی؟ کوئی بڑے سے بڑا حاکم، کوئی بڑے سے بڑا فاتح، حتیٰ کہ کوئی صلاح الدین ایوبی ایسا کوئی نادر روزگار جنرل بھی، امام شافعی کا بدل تو نہیں ہوسکتا۔ کچھ کام شہریوں کے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب، ڈاکٹر ادیب رضوی، ایدھی صاحب، تعمیر ملت فائونڈیشن، ریڈ فائونڈیشن والے اگر حکومت کی طرف دیکھتے رہیں؟ دس پندرہ لاکھ افراد کی پروفیسر احمد رفیق اختر نے تربیت کی۔ کچھ کام حکومتوں کے ہوتے ہیں، کچھ کام حکومتیں کبھی نہیں کرسکتیں۔ تعمیر کردار، تعمیر اخلاق لکھنے والوں کا بھی کام ہونا چاہیے۔ اسکول بن گئے، لیکن بچوں کو انگریزی کے علاوہ کچھ نہیں سکھایا جاتا۔ کئی دن سے سیکولرازم پر لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن نہیں لکھ پایا۔ اخبارات کو احمد جاوید صاحب اور ڈاکٹر خورشید رضوی ایسے اہلِ نظر کے دروازوں پر جانا چاہیے۔

سوال: احمد فراز مرحوم اور آپ کی کوئی لڑائی تھی، سنا ہے ان کی طرف سے آپ پر مقدمہ بھی ہوا، کسی محفل میں بھی خاصی گرما گرمی ہوگئی تھی۔ اس کی کچھ تفصیل بتانا پسند فرمائیں گے؟

جواب: احمد فراز زود رنج آدمی تھے، کسی کالم پر ناراض ہوگئے۔ ایک محفل میں بیٹھے تھے، کہنے لگے کہ رنجیت سنگھ پنجابیوں کا ویسا ہی ہیرو ہے جیسے پٹھانوں کا غفار خان۔ ملک معراج خالد بھی موجود تھے، افتخار عارف اور اکرم ذکی بھی۔ میں نے کہا: دونوں باتیں غلط ہیں۔ فراز نے کہا: ’’میں جو کہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا: یہ کوئی شاعری ہے جس پر آپ کی رائے مانی جائے؟ یہ تاریخ اور سیاست ہے، یہ آپ کے بس کا روگ نہیں۔ موضوع پر بات کرنے کا حق انہیں ہوتا ہے جنہوں نے اس میں عرق ریزی کی ہو۔ وہ ایک مقبولِ عام ہیرو تھے، ان کے نام پر بچوں کے نام رکھے جاتے تھے، ایسی سخت بات وہ کیسے سن سکتے تھے۔ میں نے کہا: آپ جو بات کررہے ہیں، گلی میں جاکر کسی سے پوچھ لیں جواب مل جائے گا، کون پنجابی رنجیت سنگھ کو اپنا ہیرو مانتا ہے؟ یہاں چار پنجابی بیٹھے ہیں، ان میں سے کسی سے پوچھ لیں۔ رہی غفار خان کی بات تو کبھی اسے اکثریت نہیں ملی۔ معراج خالد صاحب نے کہا ان باتوں کو چھوڑیں۔ خیر! وہ آخر تک ناراض ہی رہے۔ تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اس وجہ سے چھوڑگئے کہ پہلے دن ہی انہوں نے مجھے عمران خان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا ہوا پایا۔ آخر میں تو یہ حال تھا کہ کسی تقریب میں جاتا اور مجھے دیکھ لیتے تو اُٹھ کر چلے جاتے۔

1997ء میں برسراقتدار آنے کے بعد نواز شریف نے ایم کیو ایم کے پانچ سو دہشت گرد رہا کیے اور پچاس کروڑ روپے تاوان بھی ادا کیا۔ کیا یہ اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے ہوا؟

سوال: عمران خان سے آپ کا قریبی تعلق رہا، تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہے؟

ہارون الرشید: سولہ برس تک تنہا اس کا حامی تھا اخبار نویسوں میں، حتیٰ کہ 30 اکتوبر 2011ء کا دن آپہنچا۔ اب اس کے بعد بہت سے فدائین ہیں، حسبِ توفیق ان میں سے بعض اس ناچیز کو گالی بھی بکتے ہیں۔ آخری تجزیے میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح تحریک انصاف کا بھی کوئی مستقبل نہیں ہے۔ جمہوری تشکیل ہی نہیں ان پارٹیوں کی۔ شخصیت پرستی ہے۔ نظریاتی خطوط واضح نہیں۔ چند سالوں بعد نام ونشان بھی نہ ہوگا۔ لیڈروں کا کیا ہوتا ہے، پیدا ہوتے ہیں، چھا جاتے ہیں اور پھر دنیا سے غائب ہوجاتے ہیں۔

کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کرگئے

بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی پھر مرگئے

ظہیر الدین بابر نے کہا تھا: ابدی زندگی شاعروں اور فقیروں کی ہوتی ہے۔ بادشاہوں کو کون یاد رکھتا ہے۔ خواجہ نظام الدین اولیاء نے ایک دن ارشاد کیا تھا: کتنے بادشاہ ہوگزرے، نام بھی کسی کو یاد نہیں، جنید وبایزید یوں لگتا ہے ابھی کل کی بات ہے۔‘‘

عمران میں ردِعمل پایا جاتا ہے، زبان لڑکوں والی ہے۔ وہ آسانی سے معاف کرنے والا آدمی نہیں۔ کہا جب ان کی ڈٹ کر میں مذمت کرتا ہوں تو مجھے نیند اچھی آتی ہے۔

بہت سے اپنی زندگی ہی میں دھندلا جاتے ہیں۔ کیا ہمارے سامنے نواز شریف کا زوال برپا نہیں؟ پائیدار تو وہ چیز ہے جس کی بِنا پائیدار ہو۔ اگلا الیکشن تحریک انصاف جیت سکتی ہے اگر موزوں اُمیدواروں کا انتخاب کرے۔ خدا کا قانون ہے کہ ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے۔ اندازے میں غلطی ہوسکتی ہے کہ ہم سمجھیں دو چار برس ہے اور وہ دس بیس برس جی لے۔ میں الطاف حسین کے بارے میں کہتا تھا کہ 20، 25 برس ہیں اس کے، 30، 32 مل گئے۔ آج کم ہی لوگ اس کا نام لینے کا روادار ہیں۔ تاریخ بڑی بے رحم ہے۔ ہر چیز کی تباہی کے عوامل اس کے اندر رکھ دئیے جاتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ’’لکل اُمت اجل‘‘ ’’کل من علیھا فان‘‘ قرآن کی جن آیتوں نے کبھی مجھ پر سحر سا طاری کردیا تھا، ان میں ایک تھی۔ ’’الھکم التکاثر‘‘ تمنائے کثرت نے تمہیں تباہ کرڈالا۔ یہ اللہ ہی کرسکتا ہے کہ دو لفظوں میں اتنی بڑی سچائی بیان کردے۔ ہر چیز جو زمین پر ہے، وہ فنا ہونے والی ہے۔ 20، 22 سال کی عمر میں خلافتِ عثمانیہ کے تاجدار بننے والے سلطان سلیم نے اپنے دوست ابراہیم سے کہا: ’’کیا کوئی محل آباد کریں، کوئی نیا شہر بسائیں؟‘‘ ابراہیم نے کہا: ’’شہر اُجڑجاتے ہیں اور محل باقی نہیں رہتے۔‘‘ سلطان نے کہا: ’’کیا چیز باقی رہے گی؟‘‘ ابراہیم نے کہا: ’’دانش! اور یہ لوک گیت جو ابھی میں گارہا تھا۔‘‘ سلطان نے ٹھنڈی سانس لی اور کہا: ’’۔۔۔ اور انگورہ کی چراگاہوں میں چرنے والی بکریاں رہ جائیں گی۔‘‘

ضیاء الحق کو مرے 29 سال ہوچکے، اب تک اسے روئے جاتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے قربانی کا ایک بکرا ہے۔ امریکا کے حامی بائیں بازو کے نام نہاد دانشوروں کا بس نہیں چلتا ورنہ قابیل کے قتل کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہی قرار پاتا۔

سوال: عمران خان کے ساتھ چونکہ آپ کا قریبی تعلق رہا، مخالفین کہتے ہیں پاکستانی سیاست میں تلخیوں کا سہرا عمران کے سر ہے۔ انہیں اپنی زبان پر قابو نہیں۔

جواب: برسوں نواز شریف عمران خان کو تنگ کرتا رہا۔ اس کی بیوی پر قدیم ٹائلوں کی چوری کا جھوٹا مقدمہ بنایا۔ وہ سال بھر پاکستان نہ آسکی۔ اس کے بینر اُتاردئیے جاتے۔ اس کے دفاتر میں بیٹھنے والوں کو دھمکایا جاتا۔ 1996ء کی انتخابی مہم میں ایک منصوبے کے تحت اس کی کردار کشی کی گئی۔ یہ بات درست ہے کہ عمران میں اس کا ردِعمل پایا جاتا ہے۔ وہ آسانی سے معاف کرنے والا آدمی نہیں۔ 2012ء کو مینارِ پاکستان کے جلسہ عام سے قبل اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں عمران سے میں نے کہا کہ تمہارا لہجہ کھردرا بہت ہے۔ نام لے کر لوگوں کی مذمت نہ کیا کرو۔ وہ ہنسا اور اس نے کہا آج کے دن میں تمہاری بات مان لیتا ہوں، لیکن جب ان کی ڈٹ کر میں مذمت کرتا ہوں تو مجھے نیند اچھی آتی ہے۔

بعض سیاسی راہنما ٹی وی پر بیٹھ کر عمران کی تذلیل کرتے ہیں، عمران اپنے کسی ساتھی سے نہیں کہتا کہ تم انہیں گالیاں دو۔ وہ خود ان سے نمٹتا ہے۔ باقی بے نظیر اور نواز شریف ’’تو، تم‘‘ اگرچہ نہ کہتے تھے، لیکن ایک دوسرے پر ہر طرح کی الزام تراشی وہ بھی کرتے رہے۔ بے نظیر بھٹو، نواز شریف کو دورِ جاہلیت کی نشانی کہا کرتیں۔ نواز شریف بھٹو کے بارے میں کہتے کہ اس کا نام سن کر میرا خون کھولتا ہے۔ بے نظیر کو سیکیورٹی رسک کہتے تھے۔ سبھی یہ کرتے رہے، عمران کی زبان ذرا لڑکوں والی ہے جو نہیں ہونی چاہیے۔ ’’جنون‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال نہیں کرنی چاہیے، جذبہ ٹھیک ہے۔ ’’جنون‘‘ تو پاگل پن کو کہتے ہیں۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ پناہ مانگو جنون سے۔

سوال: جنرل ضیاء الحق ہمارے ہاں شدید تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں منشیات اور اسلحہ کے فروغ میں ان کی پالیسیوں اور کردار کا دخل تھا؟

ہارون الرشید: جنگیں اپنے ساتھ تباہی لے کر آتی ہیں۔ عصمت فروشی، غنڈہ گردی اور منشیات پھیلتی ہیں۔ روسیوں کو پاکستان نے افغانستان میں مدعو نہیں کیا تھا۔ انہوں نے تیرہ لاکھ افغان قتل کیے اور تیرہ لاکھ کو اپاہج کرڈالا۔ سترہ اگست 1988ء تک ہیروئن کی کوئی ایک بھی فیکٹری قبائلی علاقے میں نہیں تھی۔ یہ مفروضے ہیں جو بعد میں گھڑے گئے۔ بائیں بازو کے ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے ضیاء الحق سے زخم اُٹھائے، جن کے باپ کو ضیاء الحق نے مارڈالا۔ ضیاء الحق چونکہ ’’بے اولاد‘‘ مرا، اس کا کوئی دفاع کرنے والا نہیں تھا، اس لیے یہ باتیں پھیلتی گئیں۔ اسلحے کا ضرور کچھ نہ کچھ پھیلائو ہوا، لیکن اس سے زیادہ تو ہرگز نہیں جو سندھ میں ذوالفقار مرزا نے کیا۔ دو لاکھ اسلحہ لائسنس اس نے سندھ میں تقسیم کیے او رکہا کہ یہ میں نے شادی میں ہوائی فائرنگ کے لیے نہیں بانٹے۔ اس پر کوئی بات نہیں کرتا کہ روسی افغانستان میں کیا لینے آئے تھے؟

اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ منشیات کے دھندے میں کئی بڑی سیاسی جماعتوں کے ممتاز راہنما ملوث ہیں۔ ایک آدھ مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے، کئی اور بھی ہیں۔ مثلا: یوسف رضا گیلانی کے فرزند، اور وہ مخدوم صاحب بھی، پرویز اشرف کے بعد زرداری صاحب جنہیں وزیراعظم بنانا چاہتے تھے۔ نون لیگ کے دو ممتاز لیڈروں پر بھی الزام تھا انسدادِ منشیات فورس کے ایک ذمہ دار نے اس سلسلے میں کچھ تفصیلات مجھے بتائی تھیں۔

ضیاء الحق کو مرے 29 سال ہوچکے، اب تک اسے روئے جاتے ہیں۔ ضیاء الحق ہر ایک کے لیے قربانی کا ایک بکرا ہے۔ کوئی کہے گا اس نے کالاباغ ڈیم نہیں بنایا۔ کسی کا خیال ہے کہ ہیروئن اور اسلحہ پھیلایا۔ جناب! ضیاء الحق نے ایٹم بم بنایا۔ انڈیا کو اپنی حدود میں رکھا۔ روسی آج یہاں دندنارہے ہوتے۔ یہ سارا خطہ برباد ہوچکا ہوتا۔ روس ایک کے بعد دوسرے خطے کو ہڑپ کرتا ہوا دریائے آمو تک آگیا تھا۔ امریکا کے حامی بائیں بازو کے نام نہاد دانشوروں کا بس نہیں چلتا ورنہ قابیل کے قتل کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہی قرار پاتا۔

جنرل راحیل شریف کہتے تھے کہ آپ میرا موازنہ جنرل کیانی سے نہ کریں۔ پوچھا کیا میں ان کا مقابلہ نپولین سے کروں؟

سوال: جنرل ضیاء کا دور صحافت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے صحافیوں کو کوڑے مارے، ان پر ظلم ڈھائے، الطاف حسن قریشی اور مجیب الرحمن شامی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پابندِ سلاسل رہے، لیکن اس پر کم ہی بات کی جاتی ہے، کیا وجہ ہے؟

ہارون الرشید: آپ اگر بھٹو، غفار خان یا نواز شریف پر بات کریں گے تو آپ کو گالیاں پڑیں گی۔ میں بھٹو کی مذمت کرتا ہوں۔ جواب میں مجھے گالیاں پڑتی ہیں، میسجز آتے ہیں۔ کسی میں گالیاں کھانے کی ہمت ہے تو ضرور کرے۔ الطاف حسین کی مزاحمت صلاح الدین کے سوا کس نے کی؟ تھوڑی سی اس ناچیز اور گنتی کے چند دوسرے دوستوں نے۔ اکثر خوفزدہ تھے اور بعض تو احتیاطاً اس پر ایمان ہی لے آئے۔ اسی وجہ سے میری کتنی کردار کشی کی گئی؟ اگر میں اس پر خاموشی اختیار نہ کرتا۔ چیخ کر ردِعمل کا اظہار کرتا تو مجھے قتل کردیتے یا پھر میں پاگل ہوجاتا۔ بڑے بڑے دلاور الطاف حسین کے خلاف کیوں نہ لکھتے تھے، کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ الطاف حسین قاتل ہے، غنڈہ ہے، را کا ایجنٹ ہے، امریکا اور برطانیہ کا کارندہ ہے؟ گالیاں کھانا بڑا مشکل کام ہے۔ لوگ بس اتنی ہی بہادری دکھاتے ہیں، جتنی دکھاسکتے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی محمد صلاح الدین پیدا ہوتا ہے، وہ ڈٹ کر مقتل میں کھڑا رہا۔ مرگیا لیکن اس کا نام ہمیشہ رہے گا۔ زندگی تو اتنی ہی لائے تھے، کسی ٹریفک حادثے میں مرجاتے۔ جواںمردی کے ساتھ امر ہوگئے۔

سوال: آپ نے الطاف حسین کی بات کی تو ہمارے ہاں اعتراض یہ ہوتا ہے کہ انہیں اسٹبلشمنٹ نے بنایا اور لوگوں پر مسلط کیا، انہیں ڈھیل دی تو وہ ایسے مقام پر پہنچا کہ کسی کے قابو میں نہ رہا۔

ہارون الرشید: یہ فقط الطاف حسین کو ڈھیل دینے کی وجہ سے نہیں ہوا، ڈھیل دی اور غلطی کی، لیکن اصل خرابی تب پیدا ہوئی جب کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ کچھ اور چیزیں بھی تھیں، جن سے مسائل پیدا ہوئے۔ انڈیا نے اس پر انوسٹ کیا۔ دو لاکھ لوگ آکر یہاں آباد ہوئے۔ دبئی جانے والوں کو ہم ٹرانزٹ ویزا دیتے تھے۔ وہ آکر یہاں گم ہوجاتے۔ ان میں کتنے ہندو ہوتے ہوں گے، را کے کتنے ایجنٹ ہوں گے۔ دس لاکھ بنگالی اور برمی آگئے۔ جب آپ اپنی سرحدوں کی حفاظت نہیں کریں گے، اپنی سلامتی کے تقاضوں سے بے بہرہ ہوں گے تو یہی ہوگا۔ ضیاء الحق کے پالے نواز شریف کے دور میں میجر عامر نے دریافت کیا کہ یہ ٹرانزٹ ویزا دیتے ہیں اور اکثر لوگ واپس نہیں جاتے۔ 1997ء میں برسراقتدار آنے کے بعد نواز شریف نے ایم کیو ایم کے پانچ سو دہشت گرد رہا کیے اور پچاس کروڑ روپے تاوان بھی ادا کیا۔ کیا یہ اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے ہوا؟ نواز شریف کے ترقی پسند حامی اسی ضیاء الحق کو گالی دیتے ہیں، جس کا اصل جرم شریف خاندان کی سرپرستی ہے۔

ایم کیو ایم کے کچھ بے گناہ لوگ پکڑے گئے، اس پر کالم لکھا۔ جنرل رضوان آج تک ناراض ہیں

سوال: آپ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ پرو اسٹبلشمنٹ ہیں، کیا اسے بخوشی قبول کرتے ہیں یا اختلاف کرتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   آزاد مر کیوں نہیں جاتا؟ حافظ یوسف سراج

ہارون الرشید: میں اتنا پرو اسٹبلشمنٹ ہوں کہ ایک جنرل ’’دنیا‘‘ کے دفتر میں آکر بیٹھ گیا اور کہا کہ اس سے ہم نالاں ہیں۔ میں نے کہا ہوتے رہے نالاں۔ جنرل راحیل شریف کہتے تھے کہ آپ میرا موازنہ جنرل کیانی سے نہ کریں۔ پوچھا کیا میں ان کا مقابلہ نپولین سے کروں؟ فوج نے ملک کو بچارکھا ہے، آئین نے تو اس وقت نہیں بچارکھا، سیاست دانوں نے نہیں بچایا۔ کراچی اور بلوچستان میں فوج نے ہی بچایا ہے۔ وزیرستان اور سوات میں اسی نے بچایا۔ میں ان چیزوں میں فوج کی حمایت کرتا ہوں۔ کیا میں نے جمہوریت کی مخالفت کی ہے؟ میں نے آج بھی کالم لکھا ہے کہ بڑی غلطی ہوگی اگر انتخابات نہ کرائے گئے۔ میں نے جنرل کیانی کے وقت بھی ٹیکنوکریٹس حکومت کی مخالفت کی، اب بھی کرتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہفتہ 11 نومبر کو جب مصطفی کمال، فاروق ستار تنازع پر بحث جاری تھی، تو خاکسار نے عرض کیا تھا: جب بھی جنرل کھیر پکائیں گے، دلیہ بن جائے گی۔ کمزوری سول اداروں میں ہے۔ سول ادارے مضبوط ہوتے جائیں تو فوج کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ پاکستانی فوج کے جس سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی، میں نے ہمیشہ اس سے یہ کہا کہ سول اداروں کو مضبوط بناکر ایک ایک قدم آپ کو پیچھے ہٹنا چاہیے۔ مگر سیاست دان بھی تو کچھ کریں۔ ہر ایس ایچ او، ہر ڈی ایس پی، ہر حتیٰ کہ ہر پٹواری اپنے مرضی کا لگانا چاہتے ہیں۔ پختونخوا میں تجربہ ہوا اور کامیاب ہوگیا۔ پولیس، پٹوار اور سول سروس میں مداخلت برائے نام ہے۔ ٹیم اگرچہ ناپختہ ہے، اس کے باوجود نتائج اچھے رہے۔

جب بھی جنرل کھیر پکائیں گے، دلیہ بن جائے گی

فوج کا ایک رول ہے جس کی ستر، اسی فیصد لوگ توثیق کرتے ہیں، میں وہ آدمی ہوں جس نے اسے بآواز بلند اسے own کرلیا۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ مجھ پر تبریٰ کیا جائے گا۔ لوگ حکومت سے ٹی وی کی نوکریاں لیتے ہیں، پیسے لیتے ہیں، میں نے کبھی فوج سے نوکری مانگی ہے؟ کبھی آئی ایس پی آر کے لیے فلم بنائی یا ڈرامے لکھے؟ جہاں میں سمجھتا ہوں کہ فوج کی کوئی خرابی ہے، نشاندہی کرتا ہوں۔ مثلاً: میں سمجھتا تھا کہ ایم کیو ایم کے کچھ بے گناہ لوگ پکڑے گئے، اس پر کالم لکھا۔ جنرل رضوان اس پر ناراض تھے۔ شاید آج تک ناراض ہیں۔ ڈان لیکس پر جنرل آصف غفور نے جب اپنی ٹویٹس میں rejected کا لفظ استعمال کیا تو ٹی وی پر میں نے پوچھا: کیا نواز شریف نے آپ کے نام چھٹی کی کوئی درخواست لکھی تھی کہ آپ نے یہ لفظ استعمال کیا؟

سوال: ہمارے ہاں سویلین بالادستی کی بات ہوتی ہے، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ یہ ایک بہتر آپشن ہے؟

ہارون الرشید: میں ایک دفتر میں ہوں، اس کا ایک نظام ہے۔ اس کے اندر رہتے ہوئے میں ڈیلیور کروں گا تو میری بات سنی جائے گی۔ صرف تقریریں کرتا رہوں، کام کوئی نہ کروں اور کرپشن بھی کروں تو کون میری بات مانے گا؟ سویلین بالادستی سے ملائشیا میں ترقی ہوئی، ترکی میں ہوئی۔ ساری دنیا میں ہوئی۔ مگر نظم ونسق سے، اصولوں کی پاسداری سے، قانون کی بالاتری سے۔ ہمارا ماڈل ہی غلط ہے، صدارتی نظام ہونا چاہیے، صوبے چھوٹے ہونے چاہییں، بلدیاتی ادارے مضبوط ہونے چاہییں۔ میں نے تو ہمیشہ فوج کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اپنی مرضی کی حکومت نہ بنائیں، سول ادارے مضبوط کریں، قدم قدم پیچھے ہٹیں، فوج کی تشکیل نو کریں۔ میں آج بھی اس پر قائم ہوں۔

کیسی ہی خطاکار ہو 14 سو سال سے یہ قوم قبلہ رو کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ اللہ کو چھوڑے گی نہ اللہ کے رسول سے رشتہ ناتہ توڑسکتی ہے۔

سوال: یہاں انڈیا کی طرح کا ماڈل آسکتا ہے تاکہ فوجی مداخلت کا راستہ مستقل ہی روکا جاسکے؟

ہارون الرشید: بالکل ہوسکتا ہے لیکن اس کے تقاضے ہیں۔ نیشنل سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ کسی کو پروا ہی نہیں ہے۔ کسی جماعت نے دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر جنگ نہیں لڑی۔ جنگ میں جو کردار سول اداروں کو ادا کرنا تھا، وہ نہ کرسکے۔ نواز شریف مذاکرات کے حق میں رہے۔ درندوں سے کیا مذاکرات؟ عمران خان پشاور میں طالبان کا دفتر کھولنا چاہتے تھے۔ پیپلز پارٹی نے امن کمیٹی بناکر سیکڑوں دہشت گرد پالے۔ بلوچستان میں بہت سے دہشت گردوں کی مدد کی جارہی ہے۔ لڑائی فوج نے ہی لڑی، فوج کی غلطیاں ہوسکتی ہیں، لیکن جنگ تو وہی لڑتی ہے۔

سیکولرازم کی کوئی حقیقت ہی نہیں، قائداعظم نے یہ لفظ استعمال کرنا ہی پسند نہیں کیا۔ ان کے نزدیک یہ لفظ اتنا بے معنی تھا۔

سوال: ہر وقت کسی نہ کسی ازم کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی کمیونزم تھا، سوشل ازم تھا، آج کل کہیں کہیں سے سیکولرازم کی آواز سنائی دیتی ہے۔ پاکستان کے لیے اب کسی ’’ازم‘‘ کا خطرہ محسوس کرتے ہیں؟

ہارون الرشید: ’’کیسی ہی خطاکار ہو 14 سو سال سے یہ قوم قبلہ رو کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ اعمال میں زوال ہوسکتا ہے، اخلاقی خرابیوں کا شکار ہوسکتی ہے۔ لیکن اللہ کو چھوڑے گی نہ اللہ کے رسول سے رشتہ ناتہ توڑسکتی ہے۔‘‘ ڈان پبلی کیشنز کے ماہانہ جریدے ہیرلڈ2000ء کا سروے نکال کر آپ دیکھیں 98 فیصد لوگوں نے شرعی قوانین کی حمایت کی۔ یہ ان کا اپنا سروے ہے۔ اگرچہ شرعی قوانین کے اپنے تقاضے ہیں، یہ نہیں کہ آپ صرف سزائیں نافذ کردیں اور سوشل سیکیورٹی سسٹم بھول جائیں۔ اقلیتوں کے حقوق بھی پورے کرنا ہوں گے۔ یہ اللہ کے رسول کی وصیت ہے۔ یہ نہیں کہ آپ انہیں جبراً مسلمان بنارہے ہوں، یا پھر جیسے قادیانیوں کو قتل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

خطرہ اصل فرقہ پرستی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ یہ ایک زہر ہے۔ کم وبیش تمام مکاتب میں بعض لوگ اس مرض کا شکار ہیں جو ان کے مبالغے میں ظاہر ہوگا۔ مثلاً: سبز پگڑی والے ایک مفکر ارشاد فرمارہے تھے ’’سورج اس لیے زمین کا طواف کرتا ہے کہ سرکارؐ کا روضہ مبارک اسی کرہِ خاک پر ہے۔‘‘ ارے بھائی! سورج زمین کا طواف نہیں کرتا۔ قرآن کریم میں ہے کہ ہر چیز اپنے مدار کے گرد گھومتی ہے۔ شیعہ اور اہلحدیث اکابر کو لیجیے، ایران اور سعودی عرب کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔

سیکولرازم، تو اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں، قائداعظم نے یہ لفظ استعمال کرنا ہی پسند نہیں کیا۔ ان کے نزدیک یہ لفظ اتنا بے معنی تھا۔ البتہ رواداری ہونی چاہیے، اس میں بہت کمی ہے، اس میں ہمارے مزاج کا دخل ہے۔ قوموں کا مزاج ہوتا ہے اور آسانی سے بدلتا بھی نہیں۔ قائداعظم سے زیادہ روادار کون ہوسکتا ہے؟ انہوں نے تو غیرمسلموں کو عہدے دئیے۔ ترکی اور ایران میں یہودی رہتے تھے نا؟ عیسائی ہوتے تھے، کبھی کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہوا؟ سیکولرازم کے نام پر یہاں نواز شریف اور آصف زرداری یا ہمارے دانشور الیکشن لڑکر دیکھ لیں۔ اسی بنیاد پر کسی شہر کا بلدیاتی الیکشن ہی کوئی لڑلے اور اپنی حکومت بناکر دکھادے۔ سیکولرازم ترکی میں ناکام ہوگیا، سوئیکارنو ناکام ہوگیا۔ رضا شاہ کبیر اور رضا شاہ پہلوی ناکام ہوگئے۔ امان اللہ خان پر سیکولر ہونے کا اگرچہ صرف الزام ہی تھا، مگر وہ بھی ناکام ہوگیا۔ وہ تو خواجہ مہر علی شاہ کے دروزازے پر دستک دیا کرتا تھا۔ ایک بار حاضر ہوا اور دعا کی درخواست کی تو فرمایا: امیر عبدالرحمن کے لیے، اللہ کی بارگاہ میں، میں نے التجا کی ہے۔ اب تمہارے لیے کیسے دعا کروں؟ قسمت کا دھنی تھا، آخر کو بادشاہ ہوگیا۔

سوال: سیکولرازم کا پرچار کرنے والے عام طورپر رواداری کی بات کرتے ہیں۔ غریب اور پسے ہوئے طبقات کی بات کرتے ہیں، اگر وہ اس کا پرچا کرتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟

ہارون الرشید: یہ تو اسلام کا خاصا ہے۔ اگر مسلمان اسلام پر عمل پیرا نہیں تو یہ اسلام کی کمزوری نہیں۔ میں ہی خطاکار ہوں، قرآن اور اسلام کا تو میری کمزوریوں سے تعلق نہیں۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقے میں سختی ہے، دوسری طرف وہ غریبوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ہی پسند نہیں کرتا۔ جناب ابوذر غفاریؓ نے رسالت مآبؐ سے نصیحت کی درخواست کی۔ فرمایا: ’’سب سے اہم چیز تقویٰ ہے۔‘‘ اصرار کرتے رہے تو فرمایا: ’مسکینوں کے ساتھ اُٹھا بیٹھا کرو۔‘‘ مسکینوں کے ساتھ کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں۔ معمولی لباس پہنے ایک شخص مدینہ آیا، عرب سرداروں نے جس سے کچھ گریز کیا۔ اس پر آیات نازل ہوئیں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر قسم کھالیں تو پوری کردی جائے گی۔ ہمیں غریب ادنیٰ لگتا ہے۔ یہ ہندو کلچر ہے۔

سوال: کالم نگاروں میں کون سے پسند ہیں یا جن کا کالم شوق سے پڑھتے ہیں؟

ہارون الرشید: عامر خاکوانی اور اظہار الحق کو ذوق وشوق سے پڑھتا ہوں۔ اگر کسی دن دو کالم پڑھنے ہوں تو یہ دو ہی پڑھوں گا۔ سرل المیڈا کو پڑھتا ہوں، اگرچہ اس کا نقطہ نظر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ رئوف کلاسرا اور خالد مسعود خان کو پڑھتا ہوں۔ بہت سی چیزیں سرے سے پڑھتا ہی نہیں۔ جو آدمی نواز شریف کے دسترخوان سے اُٹھ کر لکھتا ہے، اسے نہیں پڑھتا۔ دیانت دار ہو، خواہ اس کی رائے بالکل مختلف ہو۔ مثلاً: میں عامر متین کی بات سنتا ہوں، اتفاق اور اختلاف الگ چیز ہے۔ مگر اسے سنتا ہوں اور ہاں! نصرت جاوید کا کالم پابندی سے پڑھتا ہوں۔

’’اتنی تکلیف مجھے کربلا میں نہیں ہوئی، جتنی کوفہ والوں کی خاموشی پر۔ کوفہ ایک شہر نہیں، بلکہ ایک خاموش اُمت کا نام ہے۔ جہاں بھی ظلم ہو اور خاموشی رہے، وہ شہر کوفہ ہے اور وہ لوگ کوفی۔‘‘

سوال: کالم نگاروں کا ہی ذکر چھڑا تویہ بتائیے کہ پرنٹ میڈیا کا مستقبل آپ کیا دیکھتے ہیں؟

ہارون الرشید: بہت شاندار۔ قلم کی سلطنت کو زوال نہیں۔ اللہ نے قلم کی قسم کھائی ہے۔ جو فقرہ ہم کالم میں لکھتے ہیں، وہ ہم ٹی وی پر نہیں کہہ سکتے۔ اللہ کا شکر ہے کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ میں اچھا لکھنے والا ہوں۔ وسوسہ کبھی ہو تو استغفار پڑھتا ہوں۔ دو چار ماہ میں اپنا کوئی کالم بھی پسند آتا ہے، اگرچہ اس کی روشنی مستعار ہی ہوتی ہے۔ آدمی کی کوئی ذاتی صلاحیت ہے نہ ذاتی کامیابی۔ خیال اس نے بخشا، حسنِ کلام اس نے عطا کیا۔ ناز کیا اور دعویٰ کیسا۔ دعویٰ باطل ہے اور نری جہالت۔ قرآن سے، حدیث سے یا اقبال سے، کشف المحجوب سے۔ کوئی جملہ اور برق سی چمک اُٹھتی ہے۔ مثلاً: ’’راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔‘‘ ’’عقل جہاں رُکتی ہے، بت خانہ وہیں تعمیر ہوتا ہے۔‘‘ خواجہ نظام الدین اولیاء کا ایک جملہ ’’اگر کسی نے کانٹا رکھ دیا اور جواب میں تم نے بھی کانٹا رکھ دیا تو یہ دنیا کانٹوں سے بھرجائے گی۔‘‘ ٹی وی پر ایسی گفتگو نہیں ہوتی۔ مثلاً: میں نے امام زین العابدین کا ایک قول پڑھا، پچھلے دو ماہ میں چار دفعہ ری ٹویٹ کیا: ’’اتنی تکلیف مجھے کربلا میں نہیں ہوئی، جتنی کوفہ والوں کی خاموشی پر۔ کوفہ ایک شہر نہیں، بلکہ ایک خاموش اُمت کا نام ہے۔ جہاں بھی ظلم ہو اور خاموشی رہے، وہ شہر کوفہ ہے اور وہ لوگ کوفی۔‘‘ یہ بات آپ ٹی وی پر کتنی بار دُہراسکتے ہیں؟ کبھی میں سوچتا ہوں کہ اہل سنت میں سے بعض نے اہل بیت کی محبت کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ ان کا علم، ان کا مرتبہ اور ان کے اقوال ہم بھلابیٹھے۔ امام ابوحنیفہؒ نے امام جعفر صادقؒ کے بارے میں کہا کہ ’’میں نے علم میں کوئی ان سے بہتر پایا نہ تقویٰ میں۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ امام جعفرؒ کے سامنے امام ابوحنیفہ مودب رہتے، بلکہ مرعوب۔

سوال: آپ نے سوشل میڈیا جوائن کیا ہے، اس کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
ہارون الرشید: سوشل میڈیا نے ابھی کوئی واضح شکل اختیار نہیں کی۔ غیر ذمہ داری بہت ہے۔ کسی نے مجھے میسج بھیجا کہ آپ نے اپنے کالم میں نکسن سے چرچل کی ملاقات کروادی، میں نے کہا پروف کی غلطی تھی، اب وہ بحث پر اُتر آیا کہ پروف کی غلطی نہیں تھی۔ معذرت کی تو ٹلا۔ سوشل میڈیا کو چھوڑ نہیں دینا چاہیے، کچھ سنجیدہ لوگ اس میں داخل ہوں تو بتدریج بہتری آئے گی۔ میں نے تین ماہ تک کسی کو بلاک نہیں کیا، میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کون کیا کہتا ہے۔ جب آپ نے انٹرویو کے لیے سوشل میڈیا پر سوالات کی دعوت دی تو ایک صاحب نے ایسا سوال لکھ بھیجا جس کے جواب میں عرض کیا: ’’میں نے خود کو انٹرویو کے لیے پیش کیا ہے، پولیس کی تفتیش کے لیے نہیں۔‘‘

Comments

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان

جمال عبداللہ عثمان نے صحافتی زندگی کا آغاز کراچی سے کیا۔ مختلف روزناموں کے ساتھ وابستہ رہے۔ چار کتابوں کے مصنف ہیں۔ آج کل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بطورِ پروگرام پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • دوسرا حصہ شاندار ہے.ہارون صاحب بھی اپنے تعصبات کے اسیر ہیں.پروفیسر صاحب بھلے انسان ہوں گے لیکن ان کو مجدد ثابت کرنے کی کوشش میں سب کو رگڑا لگادینا قرین انصاف نہیں.ابوالکلام آزاد سمیت دوسری بڑی شخصیات کوکچھ گنجائش ملنی چاہئے.اتنی قطعیت کے ساتھ نفی تکبر کے زمرے میں آتی ہے.تبلیغی جماعت کے بارے میں بات جزوی طور پر درست ہوسکتی ہے لیکن کتنا بڑا انقلاب اس سے آیا شاید وہ نہیں جانتے.ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں کی زندگی تبدیل ہوئی.معاشرے میں اس کا بڑا کردار ہے .باقی یہ ایک یادگار انٹرویو ہے عامر خاکوانی.جمال عبداللہ عثمان شکریہ کے مستحق ہیں .ہارون الرشید صاحب کابھی شکریہ بہت کچھ سیکھنے کوملا