ایم ایم اے کی بحالی، مگر کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

آخر کار ہماری وہ سیاسی جماعتیں جو خود کو دینی سیاسی جماعتیں کہلانا پسند کرتی ہیں، انہوں نے مل کر اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا، بلکہ یوں کہیں کہ اپنے اتحاد ایم ایم اے کو بحال کرنے پر متفق ہوگئی ہیں۔اس فیصلے پر بات کرتے ہیں،کوشش کرتا ہوں کہ تجزیہ منطقی ہو اور ذاتی پسند ، ناپسند تک محدود نہ رہے۔ایم ایم اے کی بحالی پر کوئی رائے دینے سے پہلے تین چار سوالات کے جواب ڈھونڈنے ہوں گے۔ ایم ایم اے کیوں بنی تھی؟اس اتحاد نے کیا مقاصد حاصل کئے ؟ نقصان کیا ہوا؟ سب سے اہم کہ یہ ا تحاد کیوں ٹوٹا؟ اس کے بعد یہ سوال آتا ہے کہ دوبارہ جڑنے سے پہلے کیا ان وجوہات کا سدباب کر لیا گیا، جن کی وجہ سے ایم ایم اے کی ہنڈیا بیچ چوراہے ٹوٹ گئی؟

ان کے جوابات مشکل نہیں۔ ہم سب نے دیکھا کہ کیا کیا ہوتا رہا؟ نائن الیون کے بعدایک طرف طالبان حکومت ختم ہوئی ، دوسری طرف بدلتے تناظر میں جنرل پرویز مشرف نے اپنا مشہور یوٹرن لیا اور اچانک ہی مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کرنے والی جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی۔ ان تنظیموں کے دفاتر بند ہوگئے ، پکڑ دھکڑ بھی ہوتی رہی اور پھر دینی مدارس پر کریک ڈاﺅن کی خبریں آنے لگیں۔ فطری بات ہے اس پر دینی حلقے مضطرب ہوئے، یہ احساس دامن گیر ہوا کہ متحد ہو ا جائے تاکہ آنے والے مسائل اور چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مختلف مسالک کی جماعتوں اور تنظیموں کو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فار م پر پہلے ہی جمع کیا جا چکا تھا۔ اس وقت سب سے زیادہ مشکل سخت گیر دیوبندی مسلک کی تنظیموں اور اہل تشیع کو اکٹھا کرنا تھا، مگر وہ کام خوش اسلوبی سے ہو گیا اور یوں ایک دوسرے پر تکفیری فتوے چسپاں کرنے کا عمل بڑی حد تک رک گیا۔متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے میں چھ بڑی دینی سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ جمعیت علما اسلام فضل الرحمن (ف)گروپ، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام سمیع الحق(س) گروپ،مولانا شاہ احمد نورانی کی قیادت میں جمعیت علما پاکستان (جے یوپی)، پروفیسر ساجد میر کی قیادت میں جمعیت علما اہل حدیث اور علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ۔ یوں دیوبندی، بریلوی، شیعہ، اہل حدیث مسالک کی نمائندہ جماعتیں اکٹھی ہوگئیں، انتخابی نشان دانستہ طور پرکتاب لیا گیا، جودیکھنے میں قرآن پاک سے مشابہہ تھا۔انتخابی جلسوں میں مقررین اس نکتے کو سمجھداری سے استعمال کرتے رہے۔2002ءکے انتخابات میں ایم ایم اے نے غیر معمولی کارکردگی کامظاہرہ کیا اور ایک بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے بعد اس نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور کے پی کے میں صوبائی حکومت بنا لی، بلوچستان میں وہ مخلوط صوبائی حکومت کا حصہ بنی۔ ایم ایم اے نے کراچی میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔

ایم ایم اے کی خیبر پختون خوا میں کامیابی غیرمعمولی رہی۔طویل عرصے کے بعد دینی جماعتوں کو اقتدار میں براہ راست آنے کا موقعہ ملا۔ یہ ایک لحاظ سے بڑی کامیابی تھی۔ دراصل اس وقت کے حالات ان کے حق میں تھے۔ امریکی افواج افغانستان آ کر بیٹھ گئی اور طالبان حکومت ختم ہوگئی۔ دینی سوچ رکھنے والے حلقوں میں افغان طالبان کے لئے نرم گوشہ تھا، اسے ایم ایم اے نے کیش کرایا۔ دوسرا پہلی بار تمام مسالک کی جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور ایک ساتھ ووٹرز کے پاس گئیں، بہت سے لوگوں نے انہیں آزمانے کے لئے بھی ووٹ دئیے ، خاص کر خیبر پختون خوا(سرحد)کے قدامت پسند ووٹرز نے اپنا وزن مولوی صاحبان کی طرف ڈالا۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی والے تو اسٹیبلشمنٹ پر ایم ایم اے کی حمایت کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ یہ تاثر مکمل بے وزن نہیں تھا، کم از کم اس حد تک درست ہوگا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو دونوں جلاوطن تھے اور پرویز مشرف ان دونوں بڑی پارٹیوں کو آگے آنے سے روکنا چاہتے تھے۔ کراچی میں البتہ پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کو سپورٹ فراہم کی، جماعت اسلامی کے رہنما آج بھی شکوہ کرتے ہیں کہ ان کی تین یقینی نشستوں پر جیت ہار میں تبدیل کی گئی۔ پانچ برس تک وہ بلاشرکت غیرے حکومت کرتے رہے۔ جے یوآئی ف کے اکرم درانی وزیراعلیٰ بنے، حکومت میں غالب حصہ بھی اسی جماعت کا تھا، تاہم جماعت اسلامی کو بھی صوبائی وزارتوں میں حصہ بقدر جثہ نصیب ہوا۔ ایم ایم اے کی پانچ سالہ کارکردگی کہیں سے مثالی نہیں کہی جا سکتی۔ کرپشن کے بہت سے الزام صوبائی وزراءخاص طور پر جے یوآئی ف کے رہنماﺅں پر عائد کئے گئے۔ جماعت اسلامی پر کرپشن کے چھینٹے تو نہیں پڑے، مگر ایم ایم اے کی مجموعی بدنامی اور نااہل حکومت کا بوجھ اسے بھی اٹھانا پڑا۔ ایم ایم اے پر ایک بڑا الزام یہ لگتا رہا کہ وہ پرویز مشرف کواہم مواقع پر سہارا دیتی رہی ۔ ایم ایم اے کی اصطلاح کو طنزاً” ملا، ملٹری الائنس“کہا جاتار ہا۔پرویز مشرف نے اسی اسمبلی سے صدر کا ووٹ دوبارہ حاصل کیا، اس موقعہ پر ایم ایم اے کا کردار نہایت مایوس کن رہا۔ اپوزیشن والے یہ کہہ رہے تھے کہ سرحد اسمبلی توڑ دی جائے تاکہ صدر کا الیکٹوریل کالج ادھورا ہو جائے اور مشرف وردی میں دوبارہ صدر نہ بن سکیں۔ مولانا فضل الرحمن نے ایسا نہ ہونے دیااور مختلف حیلوں بہانوں سے صدارتی انتخابات کا عمل مکمل ہونے دیا۔ ایم ایم اے پر شدید تنقید ہوئی اور یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔جماعت اسلامی نے ویسے بھی اگلے انتخابات (2008) کا عمران خان کے ہمراہ بائیکاٹ کیا۔ جماعت اسلامی کے اندر یہ سوچ ابھری کہ اس اتحاد کے نتیجے میں اسے حاصل تو بہت کم ہوا، مگر بدنامی زیادہ ملی۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل - گل رحمان ہمدرد

مئی 2013ء کے انتخابات سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے بحال کرنے کی بڑی کوشش کی، مگر امیر جماعت سید منور حسن کی استقامت کی وجہ سے کامیاب نہ ہوپائے، اگرچہ اس وقت خیبر پختون خوا کی جماعت اسلامی اس کے حق میں تھی۔ سید منور حسن نے ہم چند اخبارنویسوں کو منصورہ میں ایک بریفنگ کے دوران خود بتایا کہ میں نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ پہلے یہ طے کیا جائے کہ ایم ایم اے کیوں ٹوٹی؟ ہلکے پھلکے انداز میں سید صاحب نے کہا کہ ایم ایم اے بحال تو بعد میں ہو، پہلے یہ تو طے ہو کہ یہ بےحال کیوں ہوئی؟ ان غلطیوں کی نشاندہی کی جائے اور جس نے وہ غلطیاں کیں، وہ اس کا اعتراف کرے، تاکہ دوبارہ پھر وہی سین نہ دہرایا جائے۔ یوں ایم ایم اے بحال نہ ہوسکی۔

اس طویل پس منظر کا جائزہ لینے کے بعد اب ایم ایم اے کی بحالی کے فیصلے کا تجزیہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایم ایم اے کیوں بنائی جائے؟ کیا اس بار مناسب گارنٹی لے لی گئی ہے کہ ماضی کو دہرایا نہیں جائے گا؟ پھر اس اتحاد کا ایجنڈا کیا ہوگا؟ کیا صرف نشستیں لینا ہی مقصود ہیں یا کوئی بامقصد تعمیری ایجنڈا بھی کارفرما ہے؟ خطرناک بات یہ ہے کہ اس وقت جو اہم قومی ایشوز موجود ہیں، ان پر ایم ایم اے کی دونوں بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جے یوآئی ف کا مؤقف انتہائی مختلف بلکہ متضاد ہے۔ کرپشن اور کرپٹ افراد کا احتساب بنیادی قومی ایشو بن چکا ہے۔ جماعت اسلامی نے پانامہ سکینڈل کے بعد اس میں ملوث افراد کے احتساب کے لیے باقاعدہ تحریک چلائی، سپریم کورٹ میں وہ گئی اور عدالت کے فیصلے کی بھرپور سپورٹ کی۔ سراج الحق صاحب اپنے روزانہ کے بیانات میں نواز شریف صاحب کو انتہائی کرپٹ اور ملکی نظام تباہ کرنے والا شخص قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن انہی نواز شریف کے اتحادی ہیں۔ وہ عدالتی فیصلے کے بھی ناقد ہیں، مولوی صاحب پانامہ ایشو پر بھی ”مٹی پاؤ“ فارمولے کا اطلاق چاہتے ہیں۔ درحقیقت جماعت اسلامی کا مؤقف اس وقت پرو ریفارمز، پرو احتساب اور سخت اینٹی کرپشن ہے، جبکہ مولانا صاحب ریفارمز اور احتساب کے باقاعدہ مخالف اور سٹیٹس کو کے علمبردار ہیں۔ اس بنیادی ایشو پر اتنے جوہری اختلافات کے ساتھ ایم ایم اے کیسے چل سکتی ہے؟ اس اتحاد کا اصل میدان خیبر پختونخوا ہے۔ وہاں فاٹا کا صوبے کے ساتھ انضمام والا ایشو سرگرم ہے۔ جماعت اور جے یوآئی ف اس معاملے میں بھی ایک دوسرے کے متضاد موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ جماعت فاٹا کو خیبرپختونخوا کا حصہ بنانا چاہتی ہے، مولوی فضل الرحمن اسے یہودی سازش قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اقامتِ دین کے لیے احتجاجی مطالباتی تحریک کا راستہ - وقاص احمد

جماعت اسلامی، جے یوآئی ف یا کسی بھی اور جماعت کو اپنی مرضی کا اتحاد بنانے کا پورا حق حاصل ہے، مگر بادی النظر میں یہ اتحاد نظریاتی یا فکری اشتراک کے بجائے صرف اور صرف چند نشستوں کے حصول کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ق لیگ ، اے این پی ، پیپلزپارٹی یا کسی بھی دوسری جماعت کے سیاسی جوڑ توڑ کی طرح ایم ایم اے کی دینی جماعتیں بھی خالصتاً سیاست کرنا چاہ رہی ہیں، اصول، نظریے اور منطقی استدلال سے عاری اتحاد۔ جماعت اسلامی اور دیگر دینی سیاسی جماعتوں کو یہ اتحاد مبارک ہو، مگر اب انہیں اپنے آپ کو صرف سیاسی جماعت کہلانا چاہیے، دینی سیاسی جماعت کے اعزاز کی وہ اب مستحق نہیں رہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • تبھی یہ رائے رکھنے والے ٹھیک کہتے ہیں کہ جب ننانوے فیصد انتہائی دینی معاملات سڑکوں اور احتجاج سے ہی حل ہوتے ہیں جبکہ دینی جماعتوں کے اسمبلی کے ارکان کے تو ناک کے نیچے سے ترامیم اور قوانین گزر جاتے ہیں اور اگر پکڑ بھی لیں تو اسمبلی میں انکی کوئی شنوائی نہیں ہوتی تو ایم ایم اے کی بحالی کی وجہ یہی ہے کہ کچھ سیٹیں بڑھائی جائیں اور دین اسلام کے مفادات دیکھیں نہ دیکھیں ، دوسرے ضروری معاملات و مفادات پہلے حل کئے جائیں۔ یہ جماعتیں واضح منشور دیں کہ یہ کیوں عمران اور ن لیگ سے مختلف ہیں۔ اگر اسلام پسندی انکو الگ کرتی ہے تو بتائیں بے شک چھوٹے قدم کے ساتھ کہ وہ کیا واضح تبدیلیاں لائیں گے۔ باقی کرپشن، ماحول، انڈسٹری پر ذہانت سے بات کریں۔ کئی معاملوں میں عمران کے اسلام پسندی کے اقدامات تو ان دینی جماعتوں سے بھی آگے نظر آتے ہیں۔