وقت کرتا ہے پرورش برسوں - حسیب اصغر

امریکااورایران کے تعلقات میں ہرگزتے وقت کے ساتھ تلخی میں اضافہ ہوتا جارہاہے، امریکا کے سابق صدر براک اوباما اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرکے صورتحال کو معمول پرلانے کی کوشش کی جو کہ کامیاب بھی ثابت ہوئی۔ امید کی جارہی تھی کہ اب امریکا اور ایران کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوجائیں گے لیکن اسی دوران 2016ء کے انتخابات ہوئے اور امریکی صدرکا عہدہ ڈونلڈ ٹرمپ‘ کے نصیب میں آگیا۔

اپنا عہدۂ صدارت سنبھالتے ہی ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ پہلے پہل تو یہ معاملہ بیانات کی حد تک رہا لیکن ٹرمپ کی جانب سے افغان پالیسی اورپھر ایران کے حوالے سے بھی پالیسی کی اعلان کردیا۔ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پاپندیوں کے حوالے سے معاملہ امریکی کانگریس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت 6 ممالک کے درمیان ہونے والے مشترکہ جوہری معاہدے کے نقائص کو دور کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ تعاون کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیاربنانے کی اجازت ہرگزبھی نہیں دی جائے گی، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ امریکا کا بدترین فیصلہ تھا۔ امریکی صدرکے اس بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ایرانی صدر حسن روحانی کا کہناتھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ایک تسلیم شدہ بین الااقوامی معاہدہ ہے۔ ایران عالمی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا، ایسے دس ٹرمپ بھی مل جائیں تو بھی اس معاہدے کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

یہ تو ہوا حالیہ عالمی سیاسی منظرنامہ! اب ذرا آپ کو کچھ سال پیچھے لے کر جانا چاہوں گا تو مکمل کہانی بھی سمجھ آجائے گی۔ گیارہ ستمبر2001ء کو امریکی سرزمین پر ہونے والے خودساختہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد امریکی جلد باز پالیسیوں کامقصد "گریٹراسرائیل" کے خواب کو شرمندہ تعبیرکرنا تھا۔ آپ یقیناً یہ سوچیں گے کہ اچانک اسرائیل کہاں سے آگیا؟ تو جناب ذرا توجہ دیں۔ لوئر مین ہٹن میں خودساختہ دہشت گرد حملے میں زمین بوس ہونے والی عمارتوں کی گرد بھی ابھی نہ بیٹھی تھی کہ نئے قدامت پسندوں نے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کو ایسی راہ پر لے کر چل پڑے جس کا مقصد نہ صرف وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کو مستحکم کرنا تھا بلکہ عرب ریاستوں کو بھی محدود کرنا تھا اور دوسری جانب یہی وہ وقت تھا جہاں سے امریکا کی تباہی کا باقاعدہ آغازکیا گیا۔ یہاں یہ جملہ دانستہ استعمال کر رہا ہوں کہ جب امریکا کی تباہی کا آغازکیا گیا ۔

خارجہ پالیسی کےماہرین میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سابق امریکی صدر بش کی انتظامیہ نے11ستمبر کے حملوں پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ اس وقت کی امریکی انتظامیہ میں حامیوں کے طور پر نئے قدامت پسندوں یعنی neo-conservatives کا اثر و رسوخ تھا۔ نئے قدامت پسندوں نے چار برس قبل پروجیکٹ فارنیو امریکن سینچری نامی تھنک ٹینک میں شمولیت اختیار کی۔ اس تھنک ٹینک کے بانیوں میں ولیم کرسٹل اور روبرٹ کیگن جیسے نظریہ ساز شامل تھے جنہوں نے بہت پہلے سے امریکا پر زور دینا شروع کر دیا تھا کہ وہ جب تک ممکن ہو، دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھے۔ واضح رہے کہ ولیم کرسٹل اور وربرٹ کیگن امریکی سیاست میں انتہائی طاقتورشخصیات میں شمار ہوتے ہیں جبکہ یہ دونوں حضرات کٹریہودی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ولیم کرسٹل اور وربرٹ کیگن نے زیادہ فوجی اخراجات، ممکنہ خطرات کے خلاف پیشگی اور ضرورت کے مطابق یکطرفہ فوجی کارروائی اور امریکا کے نزدیک ناپسندیدہ ملکوں کی حکومتوں کو بزور طاقت تبدیل کرنے کے نظریات کو فروغ دینا شروع کیا۔ امریکا کی جانب سے دنیا میں مسلم ممالک کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ زرخیز ذہنوں میں تو واضح ہوتے جارہے تھے لیکن بعض حلقے اس سے نابلد تھے۔ مسلمانوں کےساتھ امریکا اور دیگر یورپی ممالک کا جو رویہ تھا وہ نائن الیون کے حملے کا فوری ردعمل ہرگزنہیں تھا۔

وضاحت ضروری ہے کہ 'امریکا کی تباہی کا آغاز کیا گیا' کا کیا مطلب ہے۔ دنیا گریٹر اسرائیل کے نام سے آشنا ہے، لیکن اس بارے میں شاید اکثریت نہیں جانتی کہ یہ ہے کیا؟ اور اس کی سرحدیں کہاں تک ہوں گی اور اس مقصد کوحاصل کرنےکیے لیےاور دنیا کے کون سے ممالک کو تباہ کیا جانا ہے اور اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وہ کون سے فیصلے ہیں جو آج سے کئی سال پہلے کرلیے گئے ہیں؟

دراصل یہودی وہ واحد مذہب ہے کہ جس کو اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہودی پیدائشی یہودی ہوتا ہے اور بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کوئی یہودی اپنا مذہب چھوڑکر کسی اور مذہب میں داخل ہوا ہو۔

نائین الیون کے حملے کا مقصد ان کے منصوبے کے آغاز تھا۔ اس حملے سے دنیا بھرمیں امریکا کےساتھ ہمدردی اور عوام کا اتحاد پیدا کرنا تھا، جس کا بنیادی مقصد اسرائیلی عزائم کو عملی شکل دینے کا موقع فراہم کرنا تھا چنانچہ سب سے پہلے افغانستان کو نشانہ بنایا گیا جو ان کے خیال میں آسان ہدف تھا۔ افغانستان میں اس وقت کی حکومت طالبان کی تھی اور طالبان کے ساتھ مختلف ممالک کے جنگجو شامل تھے۔ طالبان میں ازبک، چیچن، کرد اور دیگر عرب جنگجو تھے۔ القاعدہ کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر عرب ریاستوں کو بھی طالبان کے ساتھ رابطوں پر نشانہ بنایاگیا۔ افغانستان کی تعمیرنو کی بجائے بش انتظامیہ نے عراق کے خلاف جنگ شروع کردی۔ 2003ء میں عراق کے خلاف جنگ کو امریکی خارجہ پالیسی کا انتہائی تباہ کن فیصلہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف واشنگٹن کو حاصل بین الاقوامی حمایت اور یکجہتی ختم ہو گئی بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ امریکا کی جنگ اسلام کے خلاف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف اقدامات کیے ان کے پیچھے دماغ اور پیسہ ہمیشہ یہودیوں کا استعمال ہوا ہے۔

اس بات میں کسی کوبھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اسرائیل امریکا کا بھی دوست نہیں اسرائیل نے اپنے مقاصد کے حصول کےلیے امریکا کو استعمال کیا۔ عراق، افغانستان کی جنگوں اور یمن، صومالیہ، پاکستان اور دیگرممالک میں ڈرون حملوں سے امریکا کے فوجی اخراجات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ان جگہوں پر لڑائی کے دوران شہریوں کی ہلاکت اور امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سے واشنگٹن کی اخلاقی ساکھ بھی پامال کیا، جس سے دنیا بھر میں امریکا مخالف جذبات میں 200فیصد اضافہ ہوا خود امریکا کے عوام امریکی انتظامیہ کے خلاف کھڑے ہوگئے۔

واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک 4.4 ٹریلین ڈالر سے زائد ا‌خراجات برداشت کرچکا ہے اور اس رقم کا امریکا کے مالیاتی بحران میں قابل ذکر حصہ ہے۔ اسرائیل جو کہ براہ راست ان ممالک پر حملہ نہیں کرسکتا اور نہ کرنا چاہتا تھا، اس لیے امریکا کو استعمال کرکے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کیا۔ یہاں ایک بات اور بتاتا چلوں کے نائن الیون کے حملوں سے قبل امریکی سی آئی اے کی جانب سے القاعدہ کو خطیر رقم فراہم کی جاتی رہی یعنی القاعدہ کو بنانے میں امریکا کا کردار تمام دنیا کے سامنے ہے۔

بات کررہا تھا گریٹر اسرائیل کی تو باآسانی گریٹر اسرائیل کے نقشے کو انٹرنیٹ پر دیکھا جاسکتا ہے اور یہ اب کوئی رازنہیں رہا ہے۔ اگر گریٹر اسرائیل کے نقشے کو دیکھا جائے تو اس کی ایک لکیر عراق کے شہر بغداد سے شروع ہوکر کردستان سے ترکی اسرائیل، لبنان، اردن اور آخرمیں سعودی عرب تک آتی ہے جو پورے عرب ریجن کو اپنی لیپٹ میں لیتا ہے۔ ذراغورکیا جائے تو اسی خطے کے علاقے تباہی کی بدترین مثال بنے ہیں۔ عراق پر حملے کے لیے کہا گیا کہ یہاں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارموجود ہیں لیکن لاکھوں عراقیوں کے قتل کےبعد بھی کسی ہتھیار کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ عراق کے تیل کی دولت پرامریکا اور اس کے اتحادیوں کی اتنی مضبوط گرفت ہوگئی اور کوئی اس کا سوال کرنے والا نہیں۔ عراق پر کنٹرول کا مقصد طرف عراق کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی تیل کی دولت پر قبضہ حاصل کرنا بھی ایک مقصد تھا۔ اسرائیل کے معروف اخبار یروشلم پوسٹ میں 24اگست 2015ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اسرائیل عراق سے اپنی ضرورت کا77 فیصد تیل حاصل کرتا ہے۔ ذراغور تو کیجیے کہ عراق سے اسرائیل کا فاصلہ کتنا ہے؟ اس طویل ترین تیل کی پائپ لائن کی حفاظت کیسے ہوتی ہے جبکہ عرب ریجن میں موجود داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد جماعتیں کسی بھی چیز کو تباہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں، لیکن یہ ہزاروں میل پر مشتمل تیل کی پائپ لائن باقاعدگی سے اسرائیل کو تیل فراہم کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آل سعود کے لیے بصیرت کی دعا - یاسر محمود آرائیں

عرب خطے کی تباہی سے دنیا تو آگاہ ہے آپ کو بھی علم ہوگا کہ عراق میں کردستان سے نئی ریاست کےلیے جدوجہد کرنے والے کردوں کی کارروائیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ شمالی عراق میں آزاد کُردستان کے لیے ریفرنڈم کامیاب ہو گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ 75 فیصد سے زائد کُردوں نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ عراق نے اِسے مسترد کرتے ہُوئے سخت مخالفت کی ہے لیکن نحیف عراق کی کون سنےگا؟ فوری طور پر اسرائیلی وزیراعظم نے آزاد کردستان میں اسرائیلی سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان معنی خیز ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ اسپین میں بھی ایک علیحدگی پسند تحریک چل رہی تھی جس میں اسپین کے شمال مشرقی علاقے کاتا لونیا میں ایک کامیاب ریفرنڈم کے تحت علیحدہ وطن کا مطالبہ کردیا گیا ہے لیکن اسرائیل نے وہاں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان نہیں کیا۔ وجہ زرخیز ذہنوں میں باآسانی سماگئی ہوگی کیونکہ اسپین نہ تو مسلم ملک ہے اور نہ ہی وہ گریٹر اسرائیل کی سرحدوں سے ملتا ہے۔

درحقیقت اسرائیل خود امریکا کے ساتھ بھی مخلص نہیں ہے۔ سوشل میڈیا سے اب امریکیوں کو بھی علم ہوگیا ہے کہ ان کے ٹیکس کے پیسے براہ راست اسرائیل کو بطور ملٹری ایڈ دیے جاتے ہیں جس کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ حالیہ ہی امریکا نےاسرائیل کے لیے38 بلین ڈالر کی ایک اور امداد کا اعلان کیا ہے، کیا اسرائیل کو کسی امداد کی ضرورت ہے؟

ان وجوہات کی بنا پر امریکا میں اسرائیل مخالفت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور اسرائیل کے مفادات کو رکاوٹ کا سامنا ہورہا ہے بلکہ یوں کہا جائے کے اب امریکا اسرائیل کے کسی کام کا نہیں رہا تو یوں اسرائیل نے امریکا کو ایسے پھنسادیا، جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ معاملہ یہیں پربس نہیں ہورہا، سونے پر سہاگہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو رہی سہی بھی پوری کر رہے ہیں امریکی ساکھ کا کباڑا کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ اسرائیل 'گریٹراسرائیل' کے منصوبے پرکامیابی سے عمل پیرا ہے اور اس سلسلے میں اس کی راہ میں حائل ہررکاوٹ کوامریکا، داعش، القاعدہ ، راء اور دیگر حواریوں کی مدد سے ہٹاتا جارہاہے۔