خورشید ندیم صاحب اور حسن ظن کی تکرار - ابو انصار علی

اچھے لکھنے والوں سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن ان کااحترام چھوڑ دینا ایک اچھے انسان اور قاری کی نشانی نہیں۔

خورشید ندیم اپنی ہی طرز کے لکھاری ہیں، ان سے اختلاف ممکن ہے، لیکن مجھے ان کا احترام اس سے بھی عزیز تر ہے، وہ جو سوچتے اور سمجھتے ہیں، جس بھی فکری تناظر کو وہ لے کر چلتے ہیں، اس کے حوالے سے ان کا قلم رواں ہے، ہم زندگی میں ان سے کبھی نہیں ملے، ساتھ ہم حسن ظن سے نہیں یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حوالے سے فکر مند دل رکھتے ہیں، وہ ملک کو ہر روز بہتر دیکھنا چاہتے ہیں، مگر ساتھ ہی حیرت اس بات پر ہے کہ وہ اس باب میں اکیلے رہنے کے خواہشمند ہیں، وہ تنہا اس طرز کی زندگی بسرکرنا چاہتے ہیں، وہ کسی اور کے لکھے کو جذباتیت، بدگمانی، تہمت اور پراگندگی سے کیسے تعبیر کرسکتے ہیں؟ کیا ہم اسے تعبیر کی غلطی سمجھیں؟

کئی برسوں سے ہم اوریا مقبول جان اور خورشید ندیم کے قاری ہیں اور دونوں ہی لکھاریوں کو پڑھ کر ہمیشہ لگا کہ کچھ سیکھا اور سمجھاہے، سوچ کے انداز میں مزید نکھار محسوس ہوا، جو یقیناً کسی بھی اچھا پڑھنے کے خواہشمند کی ترجیح اول ہوتی ہے۔ چند برس سے ان کے درمیان ہونے والی فکری نقطہ چینی ان کے قارئین کے لئے یقینا ً فکری غذا کا درجہ رکھتی ہے، جس سے سیکھنا اور مزید غور و فکر سے اسے نکھارنا اب پڑھنے والے پر ہے۔

یقیناً بدگمانی بری بات ہے، بعض گمان گناہ ہیں، لیکن کیا اس سے یہ مطلب اخذکرلیا جائے کہ خوش گمانی اچھی، اور ثواب کا ذریعہ ہے؟ وہ بھی ان سے جو آئین کی اکثر دفعات کو عملی طور پر معطل کیے بیٹھے ہیں، لیکن جب بات اپنے حقوق یا لیڈر کی ذات کی ہو تو قانون سازی سے قانون پر عمل تک کو 48 گھنٹوں میں ممکن بنا لیا جاتا ہے، جو چار چار باریوں میں بھی ملک کے عوام کو صاف پانی نہ دے سکے، ہر شہری کے لئے معیاری تعلیم تو چھوڑیں، یکساں تعلیم تک دینے میں ناکام ہیں، جو عوام کو ایسا صحت کا نظام دینے سے قاصر ہیں، جس میں غریب اور ارکان پارلیمان خوشی خوشی اپنا علاج کروا سکیں، ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کی حالت نہ پوچھیں۔

حسن ظن رکھنےکی آپ کی بات سر آنکھوں پر۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ جس رکن پارلیمنٹ کو سورہ اخلاص تک درست انداز سے نہ آتی ہو اور انھی سینیٹر صاحب کی سربراہی میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شادی کی حتمی عمر کیا ہو؟ کو متعین کرنے کی عملی کوشش ہو رہی ہو۔ چلیں ٹھیک ہے حسن ظن رکھ لیتے ہیں، ساتھ ہی یہ پوچھنے کی جسارت بھی کرلیتے ہیں کہ اس ملک کی پارلیمان میں (ماضی اور حال میں) بیٹھنے والے عناصرنے کیا ملک کے وسائل نہیں لوٹے؟ کیا بیرون ملک کی بینکوں میں موجود دولت یہاں سے وہاں منتقل نہیں ہوئی؟ اسمبلی فلور پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ سوئس بینکوں میں ملک کے 200 ارب ڈالرز (روپے نہیں) موجود ہیں، ( خیال رہے کہ ’سی پیک 48ارب ڈالر‘ میں بن رہا ہے، جو گیم چینجر ہے)، پھر ان ارکان پارلیمان سے خوش گمانی کا کہتے ہیں ؟ یعنی کریلے بیل سے خوشہ انگور کی امید!!

یہ بھی پڑھیں:   خورشید ندیم صاحب کا تصور امت - محمد عرفان ندیم

جناب محترم درست بات ہے کہ جمہوریت حکمرانی کےحصول کا ایک عملی ذریعہ ہے، اس سے بہتر فی الحال موجود نہیں، لیکن کیا آپ اسی جمہوریت کی تعریف کر رہے ہیں، جو جمہور کُش ہے؟ یعنی جس میں جمہوریت پرست پارٹیاں خاندانی اجارہ داری میں پروان چڑھ رہی ہیں ،جہاں پہلے لیڈر،پھر اس کی اولاد پارٹی کو اپنی جائیداد سمجھتی ہے اور پارٹی میں موجود اہل دماغ پر حکومت کرتی ہے اور وہ بھی ایک طرح کی غلامی کے لئے تیار ہیں کیونکہ ووٹ تو پارٹی لیڈر کے نام پر ملتے ہیں، ان ہی ارکان پارلیمان میں کئی ایک وہ بھی ہیں، جن کو ووٹ جس ذات کے نام پر ملا، وہ ملک توڑنے کے نعرے لگا چکا ہے، جس نے بوری بند لاش کا کلچر متعارف کرایا، جس کے کارندوں نے ایک آن میں 250 سے زائد فیکٹری مزدور پھونک دیے کہ مالکان بھتہ کیوں نہیں دیتے، ہڑتالوں اور اسٹریٹ کرائمز کی ایسی دنیا آباد کی کہ ہنستا بستا کراچی سسکنے لگا۔

شاید نہیں بلکہ یقین سے کہا جاسکتا ہےکہ آپ اسی جمہوریت کی بات کر رہے ہیں، جس کےبارے میں احسن اقبال کہہ چکے ہیں کہ ’مدت پوری نہ کرنے دی تو جمہوریت کا نقصان ہوگا‘ یعنی کارکردگی نہیں معیارحکومت کا مدت کا پورا کیا جانا ٹھہرا، آپ اسی جمہوری نظام کی بات کر رہے ہیں، جس میں ہمارے عزیز صحافی دوست جاوید چوہدری کے پروگرام میں ایک وفاقی وزیر نے کہا تھاکہ ’ کرپشن کرنا ہمارا حق ہے ‘، اور پھر وہی صاحب اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے شراب و شباب سمیت حراست میں بھی لیے گئے تھے، یقینا آپ اس جمہوریت کی بات کررہے ہیں، جس میں جمہوریت کی دو چیمپئن پارٹیاں ’پی پی اور ایم کیو ایم‘ وسائل ہونے کے باوجود ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا کچرا تک ٹھکانے لگانے میں ناکام ہیں، اور ’پوائنٹ اسکورننگ کی پچ‘ پر بیان داغ رہی ہیں۔

اگر آپ جیسا صاحب فکر آدمی ہم پر تہمت زنی کا الزام نہ لگائے تو کیا یہ پوچھنے کی جرات کی جاسکتی ہے کہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جو ارکان پارلیمان ہماری فکری، معاشی، سیاسی، تعلیمی اور برداشت سے بھرپور معاشرت کی تشکیل میں رکاوٹ ہیں، (اس حوالے سے مندرجہ بالا دلائل پر ایک بار پھر نظر ڈالی جاسکتی ہے) ان کےبارے میں خوش گمانی کی حد کیا ہو؟ کیا اس بارے میں ڈرون کے نظریہ ارتقا پر ایمان لے آیا جائے؟ کہ بھائی اس نظام کو چلنے دو، سب کچھ بتدریج ٹھیک ہوجائے گا، پہلے انہیں انتخابی مہم کے دوران لگائے اپنے پیسے پورے کرنے دو، پھر کچھ عزیز و اقارب کو اپنےکوٹے پر نوکریوں سےنوازنے دو (یعنی میرٹ کا قتل عام ہونے دو )، انہیں پارٹی پالیسی اور بیرونی آقانوں کے ایما پر غیر ضروری قانون سازی پہلے کرنےدو، بیرون ملک کے دورے اور غیر ضروری بیان بازی سے لطف اٹھانے دو، اپنی قیادت پر یہ ثابت کرنے دو کون زیادہ وفادار ہے، پھر اگر کچھ وقت بچے گا تو آپ کے بارے میں بھی سوچ لیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیں:   بوتل کے جن پر کون قابو پائے گا - خالد ایم خان

جناب محترم ! جمہوریت اچھی ہے، لیکن ایسی جمہوریت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جس کے انتخابات میں جیتے اور ہارنے والے ’دھاندلی‘ کے الزامات لگائیں، جس الیکشن کمیشن کی عملیت پر سوال اٹھ رہے ہوں، جس میں بہتری کی آواز چار سو بلند ہو رہی ہو، لیکن میں اس میں تبدیلی یا بہتری کے عنوان سے ’ختم نبوت‘ کے قانون پر کچوکے لگانے کی ناپاک کوشش کی گئی، پہلے ڈھٹائی سے کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، پھر انھی معزز ارکان پارلیمان نے اسے’ کلیریکل‘غلطی کہہ دیا۔

مندرجہ بالا عملی اور قولی صورتحال پر، جس کا یقینا ًہم نے 10 فیصد بھی پیش نہیں کیا ہے، ورنہ بات تو اتنی کہنے کی ہے کہ کہتا جا اور شرماتا جا کا قول بھی ادھورا لگے، ایسے میں اگر ہم کہیں کہ آمریت اور بادشاہت نہیں چاہیے، آسمان سے پروانہ لانے والوں (پیغمبران) پر بھی انگلیاب اٹھیں، انہیں سخت امتحان سے گزرنا پڑا، انہیں اپنی پاکی اور پارسائی کے ثبوت دینے پڑے، تب کہیں جا کر ایک جہان ان کے ساتھ ہوا، جس کا سلسلہ ختم نبوتﷺ کےسبب تمام ہوا۔ آج کل جمہوریت بہتر ہے، جو مشاورت پر مبنی ہے، لیکن کیا اس میں استعداد میں اضافے کے لیے تعلیم اور شعور کی آبیاری کی جاسکتی ہے؟ اور کیا اہل مشورہ کی اہلیت میں اضافے پر بات نہ کی جائے؟ اس میں اہل اقتدار کے حوالے سے سخت قواعد و ضوابط نہ تشکیل دیے جائیں؟ (ہم قحط الرجال کے دور میں نہیں رہتے کہ 21 کروڑ سے زائد کی آبادی میں طے شدہ معیار کے مطابق 10 ہزار منتخب ہونے کے قابل افراد میسر نہ آسکیں جو سسٹم کو رواں رکھنے کا سبب بنیں) کیا اس حوالے سے ارکان شوریٰ کی ترجیحات پر سوال نہ اٹھایا جائے؟ ان کی بےعملی اور بدعملی پر خوش گمان رہا جائے؟انہیں مارجن آف ڈاؤٹ دے دیا جائے؟

میرے عزیز! جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپنے سے آپ کی بات درست ثابت نہ ہوگی، لوگ عملی رویے اور اس کےنتائج دیکھ اور بھگت بھی رہے ہیں، ملک کے ابتدائی الیکشنز میں ووٹ پر اعتماد 63 فیصد لوگوں کو تھا، پھر یہ شرح بتدریج گری اور ایک وقت میں 36 فیصد پر آگیا، سب چور ہیں کی آوازیں سنائی دیں، اب 2013ء میں جاکر ووٹنگ ٹرن آؤٹ 55 فیصد پر آیا ہے، یہ ایک بار پھر ان لوگوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔ لوگوں کی تقدیر بدلنے کے لیے نظام بدلنا ہوگا، بےعمل، کرپٹ اور ایسے عناصر جن کے بارے میں اب گمان نہیں یقین ہوچکا کہ ملک کی پستی کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے، ان کی کرپشن، اقربا پروری، پارٹی کو خاندانی جاگیر سمجھنے والوں کو پارلیمان چھوڑنے پر مجبور کرنا ہوگا، تاکہ ملک میں صاحب کردار لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کا آئینی فریضہ بخوبی ادا کرسکیں اور کوئی بھی ان پر انگلی نہ اٹھاسکے۔