روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟ خالد ارشاد صوفی

ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے: تمام مسلمان (مومن) جسد واحد کی طرح ہیں۔ جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو دوسرا حصہ بھی اس کی شدت کو محسوس کرتا ہے۔ اس حدیث کی سچائی یوں ثابت ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں کہیں سے خبر ملے کہ کسی علاقے میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے یا ان کے انسانی حقوق غصب کئے جا رہے ہیں تو ہم پاکستانی بے چین ہو جاتے ہوں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر‘ فلسطین‘ افغانستان‘ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ برما سب ہماری نظروں کے سامنے ہیں اور ہمارے دماغ مسلسل اپنے ان غم زدہ اور مصیبت کے مارے مسلمان بھائیوں کے بارے میں سوچتے ‘ ہمارے دل ان کے لئے دھڑکتے ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ برما کی حکومت اور شہری جو سلوک کر رہے ہیں‘ اس نے انسانیت کو شرما دیا ہے۔ سنا تھا کہ چنگیز خان ‘ ہلاکو خان اور قبلائی خان اپنے مفتوحہ علاقوں میں لوگوں کو قتل کرکے ان کی کھوپڑیوں سے مینار تعمیر کرتے تھے۔ برما کے بودھوں میں لگتا ہے چنگیز خان کی روح حلول کر گئی ہے۔ اگر روہنگیا مسلم کو برما کا باشندہ تسلیم نہیں کیا جا رہا تو نہ سہی لیکن انہیں قتل کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ انہیں پڑا رہنے دیں ایک طرف‘ کسی کا کیا لیتے ہیں؟ پھر بھی اگر بہت زیادہ تکلیف ہو تو انہیں وقت دینا چاہئے کہ مختلف ممالک انہیں اپنے ہاں پناہ دیں اور وہ ہجرت کر کے وہاں چلے جائیں اور سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ظلم محض روہنگیا مسلم کے ساتھ ہی روا نہیں رکھا جا رہا‘ بلکہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی بھی یہی حالت ہے‘ اور دورکیا جانا ہمارے ہمسائے بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے‘ وہ اکھنڈ بھارت کی بہیمیت آشکار کرنے کے لئے کافی ہے۔ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ برما یا میانمار کی حکومت کو مسلمانوں کی نسل کشی سے روکے اور انہیں (روہنگیاز کو) دوسرے ممالک میں بسانے کا بندوبست کرے۔ لیکن وہاں ایک طرح کی مکمل خاموشی چھائی ہے کیونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کا ہے۔ اگر مسلمانوں کی جگہ کسی اور مذہب کے لوگ تکلیف میں مبتلا ہوتے تو ان تک امداد پہنچ بھی چکی ہوتی اور مسئلہ بھی حل ہو چکا ہوتا۔ شاید اس کی نظر میں راخائن میں جاری تشدد کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہاں معاملہ مشرقی تیمور کے عیسائیوں کا نہیں ‘ مسلمانوں کا ہے۔

برمی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی تاریخ کتنی طویل ہے اور اس عرصے میں ان کے ساتھ کتنی زیادتیاں ہوئیں اس بارے میں آپ کافی کچھ پڑھ چکے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے اس پر جتنا ردعمل ظاہر ہونا چاہئے تھا‘ نہیں کیا گیا۔ روہنگیا مسلمان انسان ہیں‘ اسی طرح کے جیسے امریکہ‘ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں ہوتے ہیں۔ان کو اتنا ہی درد ہوتا ہے اور اتنی ہی بھوک لگتی ہے‘ جتنی یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے باشندوں کو۔ وہ بے وطن قرار دئیے گئے ہیں لیکن ان کو سردی لگتی ہے اور گرمی بھی‘ اتنی ہی جتنی وطن والوں کو۔ حیرت ہے کہ اتنی بڑی دنیا میں روہنگیاز کے لئے سر چھپانے کو کوئی جگہ نہیں۔ اللہ کی یہ زمین اتنی تنگ تو کبھی نہ تھی۔ برما کے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان پر مذہبی پابندیوں کے قلابے برما کی کئی صدیاں پُرانی تاریخ سے ملتے ہیں۔ مذہبی عقائد کی آڑ میں مسلمانوں کے جانور ذبح کرنے پر پابندی سولہویں‘ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں بھی عائد کی جاتی رہی۔ 1962ء میں برما میں قائم فوجی حکومت نے مسلمانوں کو باغی قرار دے کر اُن کے خلاف آپریشن شروع کردیا جو 1982ء تک جاری رہا۔ برمی فوج کے ظلم سے تنگ اندازاً 20 لاکھ مسلمانوں نے اس دور میں بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ حالیہ دل خراش واقعات کا سلسلہ 2012ء میں شروع ہواجو اب تک جاری ہے۔ برما کی فوجی حکومت نے 1982 کے سٹیزن شپ قانون کے تحت میانمار میں روہنگیا مسلمانوں اور دیگرلاکھوں چینی و بنگالی مسلمانوں کواپناشہری تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں اپنے علاقوں سے باہر جانے سے منع کردیا تھا۔ اس قانون کے تحت یہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نسلی گروپ کو یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ وہ 1823 کے قبل سے میانمار کا باشندہ ہے۔ برمی بودھوں کے دماغ میں بھردیاگیا ہے کہ مسلمان یہاں غیر قانونی مہاجر ہیں اس لئے انہیں ملک کا شہری کہلانے حق نہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ 1962میں جنرل نیون نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس نے اپنے اقتدارکو دوام بخشنے کے لیے برمی قومیت کے جذبات ابھارے۔ اس کے نتیجے میں پہلے شان صوبے کی اقلیتیں تعصب کا نشانہ بنیں مگراس نے اپنے تحفظ میں ہتھیار اٹھا لئے،اس طرح وہاں تشدد کا آغازہو گیا۔ پھر روہنگیا زکی باری آ گئی‘ جو نہتے اور مظلوم ہیں۔

آج برما میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنرل نیون کی اسی کمینگی کا نتیجہ اور شاخسانہ ہے۔ حالت یہ ہے کہ فوج کی سرپرستی میں روہنگیا خواتین کے ساتھ زیادتیاں کی جا رہی ہیں‘ عورتوں، بچوں اور مردوں کا قتل عامکیا جا رہا ہے۔ ان کی مساجد، سکول ‘ گھر اور دوسری املاک تباہ کی جا رہی ہیں۔ لگتا ہے مظالم کا یہ سلسلہ شاید اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سارے روہنگیامر نہیں جاتے یا برما سے فرار نہیں ہو جاتے۔ اکتوبر 2015 میں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے کچھ محققین کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت میانمارکی زیرِ سر پرستی، روہنگیا کی باضابطہ نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔ برما کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت یعنی آنگ سان سوچی ان ساری وحشتناکیوں پر مہر بلب تماشائی بنی ہوئی ہیں‘ جس کی وجہ سے ان کے بارے قائم یہ تاثر ہی ختم ہو گیا ہے کہ وہ ایک اعتدال پسند سیاسی رہنما ہیں۔ ہو یقیناً متعسب ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ امن کا نوبل انعام دینے والوں نے کیا سوچ کر انہیں اس ایوارڈ سے نوازا۔ ان سے یہ ایوارڈ واپس لے لینا چاہئے۔ اس سے بھی بڑھ کر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو برما میں دہائیوں سے جاری آمریت نظر نہیں آتی؟

بہرحال چند روز پہلے سامنے آ نے والی ایک چھوٹی سی خبر نے کچھ حوصلہ دیا‘ اور امید ایک کرن جگمگائی ہے۔ اقوام متحدہ نے جنیوا میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی کانفرنس میں روہنگیا کے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے مسلمانوں کے لئے 340ملین ڈالر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کانفرنس کی جزوی میزبانی اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی یونین اور کویت نے کی۔ کیاہی اچھا ہو کہ دوسرے ممالک بھی اس فنڈ میں حصہ ڈالیں اور بنگلہ دیشی حکومت کو اتنے وافر فنڈز فراہم کئے جائیں کہ وہ راخائن سے فرار ہو کر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کو نہ صرف اپنے ساحلوں پر اترنے کی اجازت دے دے اور گولیوں کا نشانہ نہ بنائے بلکہ اپنے ایک مخصوص علاقے میں ان کے لئے وسیع پیمانے پر کیمپ بھی قائم کر دے اور پھر عالمی برادری ہی ان پناہ گزینوں کے لئے خوراک اور عارضی رہائش کا بھی بندوبست کرے۔ کیا ہی بہترہو کہ اقوام متحدہ آگے بڑھے اور برما میں پھنسے اور بودھ بھکشوؤں کے ظلم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کو وہاں سے نکالنے کا ڈول ڈالے۔ ویسے بھی موسم سرما شروع ہو رہا ہے تو برما سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلم کو اشیائے صرف کی ضرورت ہو گی۔ سوچیے کہ یہاں سے ان کے لئے کھانے پینے کی چیزیں یا سردیوں میں استعمال ہونے والے کپڑے اور دوسری اشیا پہنچانے کا بندوبست کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا حکومت اس سلسلے میں کوئی رہنمائی کرے گا یا یہ بار این جی اوز کو اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہیے۔ ایک بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوگی کی روہنگیا کیمپوں کے نام پر لوگ اپنی روزی روٹی کا بندوبست نہ کرنا شروع کر دیں۔ میرے خیال میں ضروری ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کے روا رکھے گئے ظلم کے بارے میں مختلف بڑے فورمز پر آواز بلند کی جاتی رہے‘ کہ عالمی ضمیر جگانے کا یہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک خود تو دوسرے سیاروں پر بستیاں آباد کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں‘ لیکن روہنگیا کے لئے اس زمین پر بھی رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہ کیسی جدید تہذیب ہے؟