ممتازمفتی کی تحریروں سے - نورین تبسم

٭سمے کا بندھن
یہ کہانیاں
نہ تو میں نے فن
کے لیے لکھی ہیں
اور نہ ہی زندگی کے لیے
یہ کہانیاں
میں نے اپنے لیے
لکھی ہیں
دراصل یہ کہانیاں نہیں ہیں
یہ سب کچھ وہ ہے جو
میں نے زندگی میں پایا کھویا
یہ میرے ہونٹوں پر آیا ہوا
تبسم بھی ہیں،
طنز سے پاک، میری آنکھ
سے گرا ہوا آنسو بھی ہیں
ممتازمفتی مارچ 1986۔

٭ایک ہاتھ کی تالی، ص54
میری دانست میں محبت میں کوئی شرط نہیں ہوتی۔ محبت صرف کی جاتی ہے چاہے دوسرا کرے نہ کرے۔ محبت ایک ہاتھ کی تالی ہے۔ اس میں نہ شکوے کی گنجائش ہے، نہ شکایت کی۔ نہ وفا کی شرط، نہ بےوفائی کا گلہ. محبت لین دین نہیں، صرف دین ہی دین ہے۔

٭مانانمانہ، ص65
لڑکی کا المیہ یہ ہے کہ جو رُک جائے وہ توجہ کے لائق نہیں رہتا، جو شرارہ چھوڑ کر چلا جائے، وہ ذہن میں اٹک جاتا ہے۔ سنجیدہ اور مخلص جھڑ جاتا ہے، تفریحی کانٹے کی طرح چُبھ جاتا ہے۔

٭دیوی، ص74
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اُسے محبت بھری نظروں سے دیکھے اور عورت کو پتہ ہی نہ چلے، ضرور اسے پتہ ہوگا۔ پھر بھی لپٹی لپٹائی یوں گزر جاتی ہے جیسے کوئی بات ہی نہ ہو، ہوتا ہوگا، ضرور ہوتا ہوگا۔ اس کے دل کی گہرائیوں میں پتہ نہیں کیا کیا ہوتا ہوگا۔ میں جانوں بھری ہوئی ہوتی ہے پر چھلکتی نہیں۔ وہ تو کرنے والی محبت ہوتی ہے جو چھلکتی ہے۔ بھری نہیں خالی چھلکتی ہے، صرف چھلکن ہی چھلکن۔

٭عینی اور عفریت، ص92
محبت دوڑ بھاگ نہیں ہوتی، طوفان نہیں ہوتی، سکون ہوتی ہے، دریا نہیں ہوتی، جھیل ہوتی ہے، دوپہر نہیں ہوتی، بھورسمے ہوتی ہے، آگ نہیں ہوتی، اُجالا ہوتی ہے۔ اب میں تجھے کیا بتاؤں کہ کیا ہوتی ہے، وہ بتانے کی چیز نہیں، بیتنے کی چیز ہے، سمجھنے کی چیز نہیں جاننے کی چیز ہے۔
ص94 محبت ایک پرسکون کیفیت ہے، وجدان ہے۔

٭دومونہی، ص 110
میرے خدوخال ایوریج سہی لیکن مجھ میں بڑا چارم ہے۔ راہ چلتے سر اُٹھا اُٹھا کر،گردن موڑ کر دیکھتے ہیں، میں لڑکی پن سے نکل آئی ہوں لیکن ابھی لڑکی ہی ہوں عورت نہیں بنی۔ اللہ نہ کرے کہ بنوں۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ مجھ میں بڑا چارم ہے۔ راہ چلتے کوئی بانکا اچھا لگےتو ایسی چھلکی چھلکی بھرپورنگاہ ڈالتی ہوں کہ اس کا سارا کلف اتر جاتا ہے، "گویا" ہو کرگر پڑتا ہے۔ پھر میرے اندر سے آواز آتی ہے، تت تت بےچارہ اپنے کام سے گیا۔ مجھے پتہ ہے کہ میں بڑی طاقتور نگاہ رکھتی ہوں۔ اتنی سادگی سے نخرہ کرتی ہوں کہ کوئی اسے نخرہ مان ہی نہیں سکتا۔ سمجھتا ہے انوسنس ہی انوسنس ہوں۔

بس میری ایک ہی مشکل ہے۔ میرے اندر کچھ ہے۔ پتا نہیں کیا ہے، پر ہے جس طرح مدفون خزانے پر سانپ ہوتا ہے، جس طرح اہرامِ مصر کے اندر جادو ٹونا کیلا ہوا ہے۔ ویسا ہی کچھ ہے۔ میرے اندر ایک نہیں دو ہیں۔ دو دو روحیں ہیں۔ کبھی ایک کنڑول پر بیٹھ جاتی ہے، کبھی دوسرے پر۔

ہند یاترا
صفحہ15
جاننا اور بات ہے اور ماننا اور بات۔ ہم بہت سی باتیں جان لیتے ہیں مگر وہ ہمارا جزو ایمان نہیں بنتیں۔ جاننا صرف ذہن کو متحرک کرتا ہے، دل میں جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عمل پر اپنا رنگ نہیں چڑھاتا۔ ایسا جاننا ذہن پر بوجھ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ میری طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سروں پر جاننے کی بھاری گھٹڑیاں اُٹھائے پھرتے ہیں لیکن ماننے کی سُبک روی سے محروم ہیں۔

صفحہ 35
میں نے خود کو سکھی رکھنے کے لیے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جو ہونا چاہیے اس کی توقع نہ رکھو۔ اگر نہ ہو تو غم نہیں ہوگا، ہو جائے تو مفت کی خوشی۔

صفحہ 77
ایک شخص کے ساتھ آپ گھنٹوں بلکہ دنوں رہتے ہیں اور جدا ہوتے وقت کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا جیسے کوئی بات ہی نہ ہو، جیسے کچھ فرق نہ پڑا ہو۔ ایک شخص کے ساتھ آپ چند گھڑیاں اکھٹی گزارتے ہیں اور جدا ہوتے وقت اور بعد میں بھی دنوں احساس ِجدائی سے چھلکتے رہتے ہیں۔

راہ رواں۔۔۔۔ بانو قدسیہ صفحہ 517 تا 520
ایک ذاتی خاکہ ممتاز مفتی کے قلم سے۔
اس وقت یہ عالم ہے کہ اعضاء بے رحمی کے محکمے کو آوازیں دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں 86 سال سے ہم دن رات ٹک ٹک کر رہے ہیں، نہ کبھی جمعے کی چھٹی ملی ہے نہ عید شب برات کی۔ بس اب بہت ہو لیا، ہم پر ظلم بند کیا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ میں پلیٹ فارم پر بیٹھا انتظار کر رہا ہوں کہ کب گاڑی آئے اور میں ٹا ٹا کر کے رُخصت ہو جاؤں۔

جناب والا!
میری تحریر اور شخصیت کے متعلق چند خوش فہمیاں چل نکلی تھیں۔ سوچا رخصت ہونے سے پہلےاحوالِ واقعی قلم بند کرجاؤں۔ حال ہی میں میں نے اپنی تحریراور شخصیت پر ایک مضمون لکھا تھا جس میں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

عنوان ہے، چھوٹا
ممتاز مفتی کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے، سیانے کہتے ہیں، دو جگہوں سے دیکھو تو ٹھیک سے نظر نہیں آتا۔
!دور سے
!بہت قریب سے
چونکہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے، اس لیے مضمون سند نہیں ہے۔

مفتی کو ادیب ہونے پر فخر نہیں ہے بلکہ معذرت ہے۔ اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ ادیب بنے۔ اتفاق سے بن گیا۔ تالی بج گئی۔ یوں زندگی بھر لکھنے پر مجبور کر دیا گیا۔
اسے اردو زبان نہیں آتی۔ اس کی تحریر کی روٹس اردو ادب میں نہیں ہیں۔ اس نے کبھی شعوری طور پر اُردو ادب کے لیے نہیں لکھا۔ اس نے اردو ادب پر کوئی احسان نہیں کیا نہ ادب کی خدمت کی ہے۔ اُلٹا اہل ِادب نے مفتی پراحسان کیا ہے۔ اسے ادیب کا مرتبہ بخشا، اہمیت عطا کر دی۔ زندگی بے مصرف نہیں رہی۔

اس کے گھر میں کسی کو ادب سے خصوصاً اُس کی تحریروں سے دلچسپی نہیں ہے۔ بیٹے میں بڑی صلاحیت تھی لیکن اس نے کہا میں خود! میں خود! جیسے جان دار ضدی بچے کہا کرتے ہیں مطلب تھا، میں اپنا راستہ خود تلاش کروں گا۔ بنے ہوئے راستے پر چلنا گوارا نہیں۔ یہ تو بیٹے کا باپ کا تعلق ہے۔ بیوی کہتی ہے، کیوں جھوٹی کہانیاں لکھ کر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔ اب بھی تو بہ کر لے۔

دوست کہتے ہیں، تجھے تو سچ کے زعم میں خود کوسر ِبازار رسوا کرنے کی لت پڑی ہوئی ہے۔ نہ نہ ہمیں معاف ہی رکھنا، خبر دار ہمارا تذکرہ نہ کرنا۔

مفتی ازلی طور پر اکیلا ہے۔
اکیلے دو قسم کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو جان بوجھ کر التزاماً الگ رہنا پسند کرتے ہیں، محفل لگ جائے تو ڈوبتے نہیں تیرتے رہتے ہیں۔
دوسرے وہ جو محفل سے گھبراتے ہیں، کتراتے ہیں، لگ جائے تو ڈوب جاتے ہیں۔ مفتی دوسری قسم کا اکیلا ہے۔ اگر آپ مفتی کو ایک کمرے میں بند کر دیں جہاں اس کی ضروریات اسے ملتی رہیں تو بےشک چھ مہینے کے بعد اگر دروازہ کھولیں مفتی یوں ہشاش بشاش بیٹھا ہوگا جیسے ابھی ابھی روز گارڈن کی سیر کر کے آیا ہے۔
صفحہ 520 ۔۔

دوستو ! سچی بات یہ ہے کہ میں نے مفتی جیسا خوش قسمت شخص نہیں دیکھا۔ اونہوں! خوش قسمت نہیں وہ توایک لکی ڈیول ہے۔

اس نے بڑی رچ زندگی، بڑی بھرپور زندگی گزاری ہے۔ اللہ نے اسے بہت کچھ اور بن مانگے دیا ہے۔ ساتھ ہی اللہ نے اسے کئی ایک لعنتوں سے بچائے رکھا۔ امارت سے بچائے رکھا، اقتدار سے بچائے رکھا، عہدے سے بچائے رکھا، ذاتی اہمیت کے احساس سے بچائے رکھا۔

بلی ماراں دلی کے بزرگ حاجی رفیع الدین نے 1930ء میں سچ کہا تھا۔ کہنے لگے، جوانی میں دُھول اڑے گی ،بدنامی ہوگی، رسوائی ہوگی لیکن بعد میں آپ کو بڑے اچھے لوگ ملیں گے۔ واقعی مفتی کو زندگی میں بڑے اچھے اچھے لوگ ملے۔

اگر آج اللہ میاں ممتاز مفتی کے روبرو آ کھڑے ہوں اور کہیں " مانگ کیا مانگتا ہے" تو سوچ میں پڑ جائے گا، کیا مانگوں۔ جسے زندگی بھر بن مانگے ملا ہو، وہ کیا مانگے۔ اب تو وہ تکمیل کی خوشی میں سرمست پلیٹ فارم پر بیٹھا ہے انتظار کر رہا ہے کہ کب گاڑی آئے اور کب وہ آپ کو "ٹاٹا" کہہ کر رُخصت ہو جائے۔

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.