ولادت کا درد سہتی مائیں عمرؓ کو یاد کرتی ہیں - حافظ یوسف سراج

ہسپتالوں کے باہر بچوں کی ولادت کی خبریں پڑھتا ہوں اور میں خطاب کے بیٹے عمر ؓ کو یاد کرتا ہوں۔ تحصیل ہسپتال رائے ونڈ کے باہر سڑک پر اور گنگا رام ہسپتال لاہور کے احاطے میں، دو ماؤں کو بچے یوں جننے پڑے کہ وہ فرشِ زمیں پر لیٹی تھیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے سہولیات سے آراستہ ہسپتال سر بلند کھڑے تھے۔

ہسپتال جہاں مسیحا ہوتے ہیں، جہاں درد کو دوا ، بیماری کو درماں اور بے چارگی کو چارہ گر ملتے ہیں، ہسپتال کہ جہاں امید کی شکل دھارے سفید لباس میں فرشتے پھرا کرتے ہیں۔ افسوس! ان دو ماؤں کی قسمت میں مگر کنویں کے پاس پہنچ کے بھی پیاس ہی لکھی تھی۔ ’’ان دو میں سے ایک واقعے میں قصور ماں کا نکلا ہے ۔‘‘

اخبار سے میں یہ خبر پڑھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ خبر کبھی کس قدر سطحی اور فرد کبھی کس قدر گہرے اور سر بلند ہوتے ہیں۔ کائنات پھر ایک سرگوشی میں ڈھلتی سنائی دیتی ہے۔ دھرتی کے سینے پر بھی کیا جاوِداں لوگ ہو گزرے ہیں، دھرتی کا مان اور پہاڑی کا چراغ لوگ! زمین کی چادر اوڑھ کے سو رہنے کے باوجود جو صدیوں تک جیتے چلے جاتے اور نسلوں کی یادوں اور زمانوں کی نبضوں پر جو حکمرانی کرتے ہیں۔ اپنی بے مثل ریاضت اور اپنے بے لاگ عدل کے ساتھ ، اپنی سرشارجولانی ٔ طبع اور ہر عہد کے لیے معتبر ہو جاتی، نگینے کی سی تراشیدہ اپنی ندرتِ فکر کے ساتھ زندہ رہتے لوگ، جیسے دوسرے خلیفہ سیدنا عمر، رضی اللہ عنہ!

آدمیت ہی کے نہیں ، نبوت کے جن میں اوصاف ہویدا تھے، ارفع انسانیت کے جن میں فراواں خصائل پوشیدہ تھے اور دانائی جن میں جی اٹھتی تھی۔ خطاب کے وہی گلہ بان بیٹے عمرؓ کہ نبی نے جن کو خدا سے مانگ کر لیا تھا۔ گو عین وہی نہ مانگے گئے تھے کہ رسولِ اطہر مکہ کے دو بااثر ترین عمروں میں سے، کوئی سا بھی ایک عمر چاہتے تھے، خدا نے مگر عین وہی دیے، خطاب کے بیٹے عمرؓ!
تو یوں عمر خدا کا انتخاب تھے۔ بعد کے زمانوں نے پھر ثابت کر دیا کہ خدا کا انتخاب خدا کا انتخاب ہی ہوتا ہے۔ اور یہ کہ زمیں کے لئے آسمان کا انتخاب خطاب کا کوئی بیٹا عمر ہی ہوا کرتا ہے، وہ عمر کہ مسلمانوں کا جنھیں خلیفہ ہونا تھا اور بعد کے ہر عہد کو پھر جن پر نازاں رہنا تھا۔

’’اسلام کوایک عمر اور مل جاتا تو پورے کرہ ٔ ارض پر اسلام کا علم لہرا جاتا۔‘‘ مغرب نے خلوصِ دل سے جن متعلق یہ گواہی دی۔ شاید الفاروق میں شبلی نعمانی نے اسے نقل کیا۔ پھر قبل از مسیح سے 1990 تک کی ساری انسانی تاریخ کھنگال کے دنیا کی 100موثرترین ہستیوں کے نگینے چن لانے والے عیسائی مصنف مائیکل ہارٹ نے انسانی عظمت کو ترازو میں تولا تو اپنے حساب سے 52 واں نمبرخطاب کے اس بیٹے کو دیا۔ یورپ کے بعض فلاحی قانون، تمدن کا آسمان چھوتی موجودہ صدی میں بھی، خطاب کے اسی چرواہے بیٹے عمر ؓکے نام سے منسوب ہیں۔ تو کیا عرب کے صحرا سے اٹھے خلیفہ عمرؓ کے ویژن اور ان کی عظمت کو کسی مزید دلیل یا کسی اور ثبوت کی بھی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

وفات رسول ؐ والے اس دن، کہ جب بنو ساعدہ کے چھپر تلے انصاری صحابہ، خلیفہ کے انتخاب کے بارے تدبر فرماتے تھے، سیدنا ابو بکرؓ کو ساتھ لے کے فی الفور سیدنا عمرؓ وہاں پہنچے اور ذرا سی گفتگو کے بعد یکا یک اپنا ہاتھ سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ میں بیعت کے لئے دے دیا۔ سب کاوشیں چنانچہ تمام ہوئیں اور ابو بکرؓ ہی مسلمانوں کے پہلے خلیفہ چن لئے گئے۔ وقتِ آخرابو بکرؓ نے عمر ؓ کو اپنا جانشیں مقرر فرمایا تو بعض جید اصحاب نے سیدنا عمرؓ کی جلالی طبع کے باعث خلیفہ سے نظرثانی کی درخواست کی۔ ایک نے سیدنا ابوبکر سے پوچھا، عمرؓ کو خلیفہ منتخب کر کے جائیں گے تو رب کو آپ کیا جواب دیں گے؟ ’’یہ کہ مخلوقِ خدا کو زمیں کے بہترین انسان کے حوالے کر آیا ہوں۔‘‘ بستر ِموت پر پڑے سیدنا ابو بکر ؓ نے مسکرا کے سائل کو جواب دیا۔

سیدنا عمرخلیفہ بنے توزمانے نے عمر ؓ کا ایک اور ہی روپ دیکھا۔ مخلوق ِخدا کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرنے والے عمر ؓ کا روپ۔ اس روپ کے بھی پھر کئی اور روپ سامنے آئے۔ ریاست کوجدید جمہوری ریاست کے خدو خال دئیے۔ ریاست کو ماں کے جیسی مہربان فلاحی ریاست میں بدل ڈالا۔ ریاستی نظم و نسق کے باب میں جو اختراعات اور ایجاد کیں، سیرتِ عمرؓ کی کتابوں کا وہ مستقل باب ہیں۔ احتساب کا نظام لاگو کیا اور ایسا کہ گورنر تک جس سے مستثنیٰ نہ تھے۔ عدالت اور رعایا کو ایسی آزادی بخشی کہ ہر دو بے جھجھک خلیفہ تک کو ٹوک دیا کرتے۔ مسلمان رعایا ہی کو نہیں، اقلیتوں تک کو شفقت بھری آسانیاں دیں۔ خلیفہ کو نہیں، عملاً عدل کو قوم کا حکمران کر دیا۔ مقابل اہلِ مذہب کی خواہش پر ایک دستخط سے فلسطین کو حاصل کرنے محوِ سفر تھے۔ شہر کے قریب پہنچے تو اہلِ شہر نے عجب منظر دیکھا۔ خلیفہ پیدل تھے اور ان کا خادم اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ کوئی کہاں سے ایسی مثال لائے گا!

رعایا کی خبر گیری کا نظام بھی منظم تھا اور شب خود بھی باہر نکل کے لوگوں کے احوال جانتے۔ اُس شب جب ایک بے سہارا بڑھیا کے بچوں کو بھوک سے بلکتے دیکھا توبیت المال سے اپنی پیٹھ پر سامان لاد کے لائے۔ آٹا، گھی اورکھجوریں۔ غلام نے سامان اٹھانا چاہا تو یہ کہہ کر روک دیا کہ آج تم اٹھا بھی لو گے توکل قیامت کو بہرحال مجھے اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے۔ جب بڑھیا کے چولہے میں آگ جلانے کو خلیفہ پھونکیں مارتے تو راکھ اڑ کے داڑھی مبارک پر جا گرتی۔ ناواقف بڑھیا نے یہ عالم دیکھا تو کہا، خلیفہ تو تمھیں ہونا چاہیے، نہ کہ ُاس بے خبر عمر کو۔ جانتی نہ تھی کہ خلیفہ نہیں، وہ خود بے خبر تھی۔ خلیفہ کا یہ قول تو ضرب المثل بن چکا کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی جانور بھی مر جاتا ہے تو خلیفہ خود کو اس کا جواب دہ سمجھتا ہے۔

الفاروق میں ہے۔ ایک شب رعایا کی خبر گیری کا گشت جاری تھا کہ چلتے چلتے مدینے سے باہر ایک خیمے تک جا پہنچے۔ خیمے کے دروازے پر بیٹھے مسافرکے چہرے پر رنج ہلکورے لیتا تھا۔ دریافت فرمایا تواس نے عرض کی۔ مسافرت میں بیوی پر وہ وقت آ گیا کہ جو گھرمیں بھی سہنا آسان نہیں ہوتا۔ فی الفور آپ گھر پہنچے، اور امِ کلثوم بیوی کو لے کر دوبارہ خیمے کے پاس پہنچ گئے۔ بیوی کو اندر بھیجا اورخود مسافر کی دلجوئی کرنے لگے۔ کچھ دیرکے بعد اندر سے آواز آئی ۔ ’’ امیر المومنین ! اپنے دوست کو بچے کی خوشخبری سنا دیجئے۔‘‘ امیرالمومنین کا لفظ سن کے اجنبی مسافر چونک کے گھبرا اٹھا۔ فرمایا ،’’ مت گھبراؤ، صبح میرے پاس آ جانا میں بچے کا وظیفہ جاری کر دوں گا۔‘‘

افسوس وہ دور لد گیا۔ خیموں میں جا کے ماؤں کے درد چنتے خلیفہ کا نہیں، یہ کسی اور کا دور ہے۔ چنانچہ مائیں ہسپتالوں کے عین سامنے ،سڑکوں پر بچے جنتی ہیں اور کسی کے دل میں درد نہیں جاگتا، کسی کا ضمیر ملامت نہیں کرتا۔ شیر خوار تڑپتے ہیں تو مائیں اپنے عہد کے گم گشتہ عمر کو ڈھونڈتی ہیں۔ خلیفہ عمر ؓمگر جانے کیوں کب سے اس قوم سے روٹھ چکے ہیں۔ اب یہاں ہیں تو شریف ہیں، زردار ہیں، عمران خان ہیں اور مولانا فضل الرحمن ہیں۔ کاش! زخم سہتی ماؤں کو پھر سے ان کا عمر ملے!

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.