وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام - محمد عرفان ندیم

جیسے ہی صبح آٹھ بج کرپچیس منٹ ہوئے پورے اسکول میں ہلچل مچ گئی۔ ہر طرف افراتفری تھی، خوف تھا، بے چینی تھی، بد حواسی تھی اور اساتذہ سمیت تمام طلباء کے چہروں پرپریشانی کے اثرات نمایاں تھے۔ میں یہ منظر دیکھ کر پریشان ہو گیا،میں جلدی سے مین گیٹ کی طرف بڑھا تو دیکھا چوکیدار نے اسکول کا مین گیٹ بند کر دیا تھا۔ اسکول کے باہر بیسیوں اسٹوڈنٹ کھڑے اندر آنے کے منتظر تھے لیکن چوکیدار بضد تھا، چند اساتذہ بھی اسکول میں داخل ہونے کے منتظر تھے جنہیں چوکیدار نے بڑی منت کے بعد اندر داخل ہونے کی اجازت دی۔ صرف ایک یا دو منٹ کی تاخیر کی وجہ سے بیسیوں اسٹوڈنٹ اور چار پانچ اساتذہ باہر سڑک پر کھڑے ہو نے پر مجبور تھے۔سڑک پر رش بڑھ گیا تھااور تھوڑی دیر بعد ٹریفک بھی جام ہو گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ مجھے اس کا علم نہیں کیونکہ میں دوبارہ اسکول کے اندر آ گیا تھا۔

میں نے جو منظر اسکول سے باہر دیکھاتھا اندر کا منظر اس سے بھی زیادہ خوفناک اور افسوس ناک تھا۔ میں نے ٹائم دیکھا آٹھ بج کر ستائیس منٹ ہوئے تھے، میں پرنسپل آفس کی طر ف بڑھاتو دیکھا کچھ اساتذہ پرنسپل آفس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ میں پریشان ہو گیا، دل ہی دل میں اللہ سے خیر کی دعا کی اور ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ میں نے دیکھا اساتذہ بڑی تیزی سے آتے ہیں۔ پرنسپل آفس سے دو تین سو گز دور بائیک کھڑی کرتے ہیں اور آفس کی طرف دوڑ لگا دیتے ہیں۔ کچھ اساتذہ گاڑی پر آئے انہوں نے گاڑی دور پار ک کی اور آفس کی طرف دوڑ لگا دی۔ تقریباً دس پندرہ منٹ یہ منظر جا ری رہا، جس کے بعد ماحول کچھ پر سکون ہوا تو میں نے سکھ کا سانس لیا۔ میں پرنسپل آفس کی طرف بڑھا اور ایک انیسویں گریڈ کے استاد سے اس خوفناک منظر کی وضاحت چاہی۔ میں نے پوچھا ’’ اساتذہ اتنی بے چینی سے پرنسپل آفس کی طرف کیوں بھاگ رہے تھے؟‘‘وہ بولے ’’ اسکول کا ٹائم آٹھ بج کر تیس منٹ ہے، لیکن پرنسپل صاحب کی طرف سے آرڈر ہے کہ تمام اساتذہ آٹھ بج کر پچیس منٹ پر اسکول میں موجود ہوں، جو اساتذہ پچیس منٹ سے لیٹ ہوئے ا ن کی غیر حاضری لگا دی جائے گی، یہ اساتذہ حاضری لگانے کے لیے پرنسپل آفس کی طرف دوڑ رہے تھے کیونکہ جیسے ہی آٹھ بج کر تیس منٹ ہوتے ہیں رجسٹر بند کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد کسی کو حاضری لگانے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘‘ میں نے پوچھا کہ ’’ کیا آپ کے پرنسپل صاحب کو معلوم نہیں کہ ان کا اسٹاف بڑی دور دور سے آتا ہے اور اتنے گنجان آباد شہر میں اکثر ٹریفک جام ہو جاتی ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی پانچ دس منٹ کی تاخیر ہو جاتی ہے؟ اور کیا انہیں احساس نہیں کہ ان کے اسٹاف ممبرز کی تعداد ستّر کے لگ بھگ ہے اور اتنی بڑی تعداد میں اکثر دو چار اساتذہ لیٹ ہو ہی جاتے ہیں، کیا پرنسپل صاحب اس صورتحال کو نہیں سمجھتے؟‘‘ وہ بولے ’’ ہم نے کئی دفعہ پرنسپل صاحب کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا ہے لیکن اوّل تو وہ ہماری بات سنتے ہیں نہیں اور اگرکبھی سن بھی لیں تو کہہ دیتے ہیں ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سختی ہے۔ ‘‘

یہ پنجاب کے ایک بڑے شہر کے نامور اور مشہور اسکول کا منظر ہے، اس سکول میں، میں نے اپنی آنکھوں سے گریڈ اٹھارہ اور انیس کے اساتذہ کو بچوں کی طرح بھاگتے ہوئے اور اپنی عزت نفس کو خاک میں ملاتے ہوئے دیکھاہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے گریڈ سترہ اور اٹھارہ کے اساتذہ کو حاضری لگانے کے لیے پرنسپل کی منتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں جب اساتذہ کو بچوں کی طرح بھاگتے ہوئے دیکھ رہا تھا تو مجھے اس اسکول میں پڑھنے والے بچوں پر ترس آرہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا جن اساتذہ کی اپنی عزت نفس خا ک میں مل چکی ہو وہ بچوں کو عزت نفس کا خاک سبق دیں گے؟ جن اساتذہ کی اپنی خودی مر چکی ہو وہ قوم کے مستقبل کو خودی کا کیا سبق دیں گے؟ میں سوچ رہا تھا کہ کاش میں ابھی مزار اقبال پر جاؤں اور انہیں بتاؤں کہ آپ جس خودی کا سبق دے کر گئے تھے ہم نے اس خودی کو آپ کے ساتھ ہی قبر میں دفن کر دیا تھا۔ جن درسگاہوں میں خودی کا سبق پڑھایا جانا تھا ہم نے انہیں خودی کا مقتل گاہ بنا دیا۔

حکومت پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے مختلف اداروں اور خصوصاً سکولز ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ پر جس طرح کے قوانین نافذ کر رکھے ہیں اس سے انہیں وقتی فوائد تو حاصل ہو رہے ہیں لیکن اس سے قوم کا مستقبل کبھی خوشحال نہیں ہو سکتا۔ محض ٹیچرز اور اسٹوڈنٹس کی نوّے فیصدحاضری سے قوم کا مستقل کبھی خوشحال نہیں ہو گا۔ وزیر اعلیٰ صاحب ! آپ کو شایدا حساس نہیں کہ آپ روزانہ کتنے دکھی انسانوں کی بد دعائیں سمیٹتے ہیں، آپ کو شاید احساس نہیں کہ کتنے مجبور انسانوں کی آہ روزانہ عرش پر جا کر آپ کی تباہی اور بربادی کے فیصلے کرتی ہے۔ میں صرف ایک واقعہ عرض کر دیتا ہوں، ساہیوال کے ایک اسکول میں ایک استاد کا تین ماہ کا بیٹا بیمار تھا، اسے ایمرجنسی ہسپتال لے جا نا پڑا لیکن افسران کی طرف سے چھٹی نہیں دی گئی کہ جب تک مانیٹرنگ والا نہیں ہو جاتا تب تک چھٹی نہیں مل سکتی، ٹیچر منتیں کرتا رہا لیکن اسے چھٹی نہیں دی گئی اسی کشمکش میں اس کا تین ماہ کا بچہ وفات پا گیا۔ وزیر اعلیٰ صاحب !بچے کے والدین چیخ چیخ کرآپ سے اپنے بیٹے کا حساب مانگ رہے ہیں، آپ اس بچے کے قاتل ہیں اور آپ کو اس کا حساب دینا پڑے گا۔ یہ تو تین ماہ کا بچہ تھا یہاں توصورتحال یہ ہے کہ اساتذہ بیماری کی چھٹی لیتے لیتے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن انہیں چھٹی نہیں ملتی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان کے لواحقین کے دل سے جو آہ نکلے گی وہ رائیگاں جائے گی؟ ہرگز نہیں بلکہ آپ کو اس کا حساب دینا پڑے گا اورآپ کے لیے یہ آہ پانامہ اور اقامہ سے زیادہ خوفناک ثابت ہوگی!

وزیر اعلیٰ صاحب !آپ اپنی پالیسیوں پر غور کریں، اگر آپ استاد کو احترام نہیں دیں گے، اس کی عزت نفس اور خودی کا خیال نہیں رکھیں گے توآپ خالی تقریروں اور پرجوش نعروں سے قوم کا مستقبل نہیں بدل سکتے۔ آپ قوم کے نونہالان سے عزت، غیرت اور خودی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔اگر آپ قوم کے مستقبل کو ان اوصاف سے متصف دیکھنا چاہتے ہیں توسب سے پہلے آپ اساتذہ کی عزت نفس اور ان کا وقار بحال کریں، ان کی جائز ضروریات کو سمجھیں اور ان کی مجبوریوں کا احساس کریں۔ آپ کو شایدا حساس نہیں کہ ایک استاد کو مہینے میں ایک چھٹی کے لیے بھی کتنی منتیں کرنی پڑتی ہیں، کتنی خوشامد کرنی پڑتی ہے اور کتنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

آپ اساتذہ کی عزت نفس کو خاک میں ملا کر ملک اور قوم کی ترقی چاہتے ہیں تو آپ کی یہ اپروچ غلط ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ایک دن بھیس بدل کر اسکول آئیں اور صبح ساڑھے آٹھ سے دوپہر ڈھائی بجے تک ہیڈ ماسٹر کے ساتھ وقت گزاریں، آپ مہینے میں ایک بار ہیڈ ماسٹر سے چھٹی لے کر دکھائیں اور مہینے میں ایک بارڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کا چکر لگا ئیں، آپ ایجوکیشن اتھارٹی کے کلرک سے اپنا کوئی جائز کام کر وا کر دکھائیں، آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی، آپ کو اساتذہ کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں اور اذیتوں کا اندازہ ہو جائے گا اور آپ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com