ایک اور بڑی صحافتی قربانی، ڈیفن کرونا گریزیا - خالد ایم خان

سچائی کی جنگ لڑنے والی ایک اور زبان بند کردی گئی، ایک اور صحافی سچ کہنے کی پاداش میں اپنی زندگی کی بازی ہار گئی۔ ایک ایسی صحافی خاتون جس نے دو سال پہلے پاناما پیپرز کے حوالے سے دنیا کے کرپٹ سیاستدانوں اور ان کے رشتہ داروں کے پول کھول دیے۔ بہت دکھ اور صدمے کے ساتھ لکھ رہا ہوں کیوں کہ پاناما پیپرز کی انتہائی اہم لیڈ نگ تحقیقاتی صحافی خاتون ڈیفن کرونا گالیزیا کو16اکتوبر 2017ء بروز پیر کی دوپہر مالٹا کے زیتون کی جنت کہلائے جانے والے علاقے بدینجا میں اپنے گھر سے چند میٹر دور ایک انتہائی خطرناک کار بم دھماکہ کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا۔ اُن کی اس انداز میں ہلاکت کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے آج دنیا میں کرپشن اور جھوٹ کی جیت ہو گئی اور آخر کار سچائی کا دیا ٹمٹماتے ٹمٹماتے بُجھ ہی گیا۔

ڈیفن نے اپنی حق اور سچ کی لڑائی دنیا سے کرپشن کے خاتمے کے لیے لڑی جس کی وجہ سے اُنہیں بے شمارمرتبہ جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ کسی بھی دھمکی کو خاطر میں نہ لائیں۔ نہ صرف اپنے ملک مالٹا کے کرپٹ حکمرانوں اورکرمنل مافیاز کی منی لانڈرنگ کو بے نقاب کیا بلکہ یورپی یونین سمیت دنیا کے دیگر چند اہم بڑے ملکوں کے حکمرانوں اور اُن کے رشتہ داروں کی آف شور کمپنیوں کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، جس کے بعد دنیا میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کئی ملکوں کے سربراہوں اور اہم وزیروں کو اپنے عہدوں سے استعفے دینے پڑے تو کئی ملکوں کے حکمران ایسے بھی ہیں جومسلسل ان الزامات کو جھٹلاتے چلے آرہے ہیں لیکن جن کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کردیا گیا ہے اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کو کرپشن کے ان کیسسز کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بعد اُن ملکوں کے حکمرانوں کی بھی یہی حالت ہے کہ سوتے ہوئے بھی بڑبڑا رہے ہوتے ہیں کہ "مجھے کیوں نکالا؟ آخر مجھے بتاؤ مجھے کیوں نکالا ؟"

اپنے آخری جملے کے لیے معذرت خواہ ہوں لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ آخر کیا تھا والیم 10کی دستاویزات میں کہ جس کو کھولنے سے حکومتی وزراء ڈرتے تھے؟ خیر، یہ تمام معاملات اب عدالت میں ہیں اور ہمیں پوری امید ہے اپنے ملکی اداروں سے کہ وہ عوام، اس ملک کی غریب عوام کا لوٹا ہوا مال ان کرپٹ مافیاز سے ضرور نکلوائیں گے۔

16اکتوبر ہی کی دوپہر 2 بج کر30 منٹ پر ڈیفن کرونا نے اپنے آخری ویڈیو پیغام میں کرپشن کے چند مزید ثبوت فراہم کیے اورنومبر میں مزید کچھ اہم ترین پیپرز دنیا کے سامنے لانے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ کچھ ایسے خائف لوگ جنہیں شبہ تھا کہ اس مرتبہ شاید اُن کے نام بھی پبلک کیے جاسکتے ہیں، یا پھر چند ایسے اہم ثبوت کہ جن کے سامنے آنے کے بعد دنیا کے کرپٹ مافیاز کے لیے بچنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جاتی۔ ان تما م کرپٹ مافیاز کو پہلے ہی خبر ہو چکی تھی کہ ڈیفن مزید دستاویزات سامنے لانے کی پوزیشن میں ہیں اس لیے انہوں نے اُن کی گاڑی میں ایک انتہائی خوفناک بم لگا دیا لیکن ڈیفن گھر سے نکلتے نکلتے بھی اپنی زندگی کا کرپشن کے خلاف ایک آخری پیغام چھوڑ گئیں، جس کے بعد وہ اپنی گاڑی پیجو 108 میں اپنے گھر سے روانہ ہوئیں۔ اُن کے تین بیٹوں میں سے ایک میتھیو کرونا بھی مالٹا کے ایک جانے مانے تحقیقاتی جرنلسٹ ہیں، نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جیسے ہی والدہ اپنا بیان ریکارڈ کروا کر گھر سے روانہ ہوئیں تو تھوڑی ہی دیر کے بعد مجھے ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا جس کے بعد میں فوری طور پر دھماکے والی جگہ کی جانب بھاگا لیکن گاڑی سڑک سے دور پڑی جل رہی تھی اور دور دور تک مجھے اپنی والدہ کے جسم کے حصے پڑے دکھائی دیے۔ میں نے اور میری والدہ نے کئی مرتبہ پولیس میں رپورٹ درج کروائی تھی کہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں تواتر کے ساتھ دی جارہی تھیں، اور آج اُن پر عمل بھی کردیا گیا ہے۔ کیا اس ملک میں کسی کی جان سلامت ہے، کیا یہ ایک کرمنل اسٹیٹ ہے؟

اس تمام معاملے میں ایک بات بالکل صاف ہے کہ دنیا بھر کے کرپٹ اور کرمنل مافیاز ایک جیسے ہی ہیں پاکستان ہو کہ مالٹا، روس ہو کہ برطانیہ تمام ملکوں کے حکمرانوں کی منی لانڈرنگ میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ کچھ تھوڑا اور کچھ اندھا دھند لوٹ مار میں مشغول ہیں، منی لانڈرنگ کے ثبوت سامنے آنے پر کچھ نے خود کُشیاں کرلیں، کچھ نے استعفے دیے تو کچھ ابھی بھی ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ملک مالٹا کے وزیر اعظم موسقاٹ جن کو ڈیفن کرونا نے اپنے پاناما پیپرز میں مالٹا کا انتہائی کرپٹ ترین انسان ثابت کیا ہے، جن کی منی لانڈرنگ کے ثبوت عدالت کو دے دیے تھے اور موسقاٹ کی آف شور کمپنیوں کے ثبوت بھی چند دنوں میں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، نے ڈیفن کرونا کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے وزیر توانائی موصوف کونراڈ میزی جن پر ڈیفن نے الزام لگایا تھا کہ موصوف کی نیوزی لینڈ ٹرسٹ کے ذریعے پاناما میں آف شور کمپنیاں موجود ہیں، جن کے ثبوت نومبر میں مہیا کیے جائیں گے، نے بھی ڈیفن کرونا کی ناگہانی موت پر انتہائی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ڈیفن مالٹا کی ایک انتہائی اہم آواز تھی، ڈیفن کرونا مالٹا کی ایک انتہائی اہم شخصیت تھی اور ہم کھوج میں لگے ہیں کہ کس نے یہ کام کیا ہے ہم ضرور اُسے انجام تک پہنچائیں گے۔ لیکن ۔۔۔۔ نجانے کیوں لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور مالٹا کے سیاستدانوں میں کوئی انتہائی قریبی تعلق ضرور موجود ہے۔

آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ کیا سچائی کے لیے آواز بلند کرنے والوں کا خون اتنا ہی ارزاں ہے کہ دنیا بھر میں جن کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے، جس کا بھی چاہے جب بھی دل کرے ختم کر ڈالو، زبان بند کردی جاتی ہے، قیمت لگائی جاتی ہے،دھمکیاں دی جاتی ہیں،ڈرایا جاتا ہے، جو بک جائے تو ٹھیک ورنہ مار ڈالو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے سارے پول کھول ڈالے، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ سچائی کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، ایک زبان بند کی جائے گی تو دس زبانیں آپ لوگوں کی کرپشن کے خلاف آواز حق بلند کریں گی کس کس کو مارو گے؟ ہم اس بزدلانہ کارروائی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور ڈیفن کرونا گریزیا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ میتھیو کرونا گریزیا کو ہمارا پیغام ہے کہ آپ کی والدہ نے دنیا میں حق اور سچ کی خاطر جان دی، آپ کی والدہ آج کے دورکی ایک عظیم صحافی تھیں جنہوں نے دنیا سے کرپشن کے خاتمے کے لیے آواز حق بلندکی تھی، اور یقیناً آپ کی والدہ کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان شاء اللہ!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com