کس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ؟ - فرحت طاہر

مریم کیا پیارا نام ہے ! اس کے ہم معنی یا ہم صوتی نام ہر مذہب میں بجا طور پر پر دستیاب ہوتے ہیں۔ جس کے عمومی معنی نیک بچی کے لیے جاتے ہیں۔ عیسائی تو اس نام کی شخصیت کو الوہیت میں شریک کرتے ہیں۔ خود ہم مسلمانوں کے لیے یہ بہت معتبر اور پاک نام ہے۔ قرآن مجید میں خواتین کے نام پر واحد اس نام کی سورۃ موجودہے جو بلا شبہ ایک فخر ہے۔ جنتی خواتین کی فہرست میں واضح طور پر حضرت مریم ؑکا نام ملتاہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مسلمان گھرانوں میں یہ نام تقریباً ہر گھر اور خاندان میں پا یا جا تا ہے۔ جن گھروں میں نہیں ہے ان کی منصوبہ بندی میں ضرور ہوتا ہے کہ اگر کوئی بیٹی ہوئی تو اسے یہ نام عطا کریں گے۔ اللہ ان سب کی یہ خواہش پوری کرے۔ آمین!

ہم میں سے ہر خاتون اگر اپنے دوستوں کی فہرست بنائے تو اس میں کم از کم دو چار مریم ضرور پائی جائیں گی۔ ٹیلی فون ڈائری خواہ جیبی ہو یا ڈیجیٹل کے کالم میں مریم نام ضرور ملے گا۔یہ کوئی موسمی نام نہیں کہ ایک خاص عمر اور زمانے میں پایا جائے بلکہ اسّی نوّے سال سے لے کر نومولود تک کی مریم نام ضرور مل جائیں گے۔پھر طبقے اور معاشرے۔۔۔حتٰی کہ بر اعظم کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔ بات افریقہ کی ہو یا کراچی کے کسی گوٹھ کی، اس نام کی خاتون ضرور مل جائے گی۔

مریم نامہ پڑھ کر آپ کے ذہن میں وہ مر یم آئے گی جس نے کچھ عرصہ پہلے (نومبر 2015ء)جام شہادت پی کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ زیر تربیت پائلٹ آ فیسر کا حادثہ کوئی نئی بات نہیں! ہاں خاتون پائلٹ کا شہید ہونا پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔ اعزاز ہے یا نقصان؟ اس بات پر بہت سے حوالوں سے بات ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے تو کہ جہاز کیوں کرتباہ ہوا ؟ اس پر تحقیقات لازم ہے۔ اللہ کی مر ضی کہہ کراور شہادت کارتبہ پا کر ایک جذباتی اور روحانی فضا بننے کے باوجود یہ سوال اہم ہے ؟ سازش کا عنصر کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا! جو دشمن فوجی اسکول میں گھس کر ہمارے سینکڑوں بچوں کو شہید کر سکتا ہے اس کے لیے کیا بڑی بات ہے ؟ وہ دشمن جو اتنا کائیاں ہے کہ ہمارے ہی اثاثے، ہماری ہی زمین اور ہمارا ہی خون استعمال کرتا ہے اور مقصد اپنے مطلب کا نکالتا ہے یعنی ایک تیر سے کئی شکار!

جی ہاں ! ایک نیک فطرت، مجسم سادگی، با حجاب، اسلام پر چلنے والی فلائٹ افسر کو راستے سے ہٹا کر بہت آگے تک کی پیش بندی کی گئی ہے۔ اس حد تک بہت سے افراد کی سوچ گئی ہو گی مگر بات کچھ اس سے بھی زیادہ گہری ہے جو آ گے بیان ہوگی۔

شہادت کو رومانوی درجہ دینے پر پوری قوم یکسوہے مگر لبرل کی منطق کا بھی ذکر ہو۔ ایک انگلش روزنامے کی خاتون بلاگر کا کہنا ہے کہ’’۔۔۔۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کے ڈرائیونگ کرنے پر تحفظات ہوں، وہاں جنگی جہاز اڑانا کیسے ہضم ہو سکتا تھا؟۔۔۔۔ اس پر تحقیق ہونی چاہیے کہ یہ حادثہ کیوں کر پیش آ یا ؟ ہمیں زندہ مریم چاہیے تھی، ہمت اور خود مختاری کی مثال۔۔۔۔مُردہ ( شہید) مریم تو شدت پسندوں کی فتح ہے ـــــ۔۔۔۔! ‘‘ہوسکتا ہے ترجمے کے دوران معنی کچھ تبدیل ہوگئے ہوں مگر مفہوم یہ ہی تھا بلاگ کا۔ بات ان کی بھی درست ہے مگر اسے ایک اور زاویے سے بھی دیکھنا ہوگا۔ اس کے لیے مریم مختیار کے پرو فائل پر نظر ڈالنی ہوگی۔

90 ء کی دہائی میں پیدا ہونے والی مریم نے بے نظیر بھٹو کو سر براہ مملکت رہنما کی حیثیت سے شعوری نہ سہی غیر شعوری طور پر رول ماڈل بنا یا ہوگا۔ یہ کہنا بعید از قیاس نہیں کہ سر کو ڈھانپنے کی ادا بھی انہی سے سیکھی ہوگی۔ معاشرے کے جس طبقے سے اس کا تعلق تھا وہاں عموماً خواہشوں اور منصوبہ بندی کی عمل درآمدمیں کوئی رکاوٹ نہیں ہو تی۔ والدین کیریئر اور زندگی کے دیگر معاملات میں بچوں کی راہ میں مزاحم نہیں بنتے۔ تعلیمی ادارے صلاحیتوں میں چمک پیدا کرتے ہیں۔ پھر دنیا بھر میں عورت کے بدلتے ہوئے کردار نے ، بیجنگ پلس 95 جس کا معاہدہ بے نظیر بھی کر چکی تھیں اور جسے مشرف نے بخوبی آ گے بڑ ھا یا۔ فوج میں تعلیمی کور اور میڈیکل کور تو ہمیشہ سے خواتین کے لیے کھلا تھا مگر اب فائٹنگ کور کا در بھی وا ہوگیا۔ اس سارے پس منظر میں اور سب سے بڑھ کر گھر کی حوصلہ افزائی نے مریم کو ایک ایسا شعبہ اختیار کرنے کی مہمیز دی جس کے اس سے پہلے لڑکیاں صرف خواب ہی دیکھ سکتی تھیں۔ والدین کی کس حد تک سپورٹ رہی، اس بات کا اندازہ مریم کی والدہ کی میڈیا گفتگو سے لگا یا جا سکتا ہے۔ یہ حادثے کے فوراً بعد کی ہے جب انہیں اپنے نقصان کا صحیح ادراک بھی نہیں تھاشاید، جذبات اور جوش سے بھر پور آواز۔

’’۔۔۔۔۔میں نے کہا مریم تمہیں بہت آگے جا نا ہے۔۔۔خطرہ کیسا ؟ زندگی تو بس ایک لمحے کی ہوتی ہے۔ ۔۔تم NEDمیں داخلہ لے لو اور کوئی ایکسیڈینٹ ہوجائے تمہارا سڑک پر۔ ۔۔؟بس ایک سیکنڈمیں ختم! تو خطرات کی فکر نہ کرو۔۔۔۔جو تمہاری خواہش ہے ضرور پو را کرو۔۔۔میں تمہیں سٹار دیکھنا چاہتی ہوں SUN! ‘‘ تو اس نے کہا ’’ ماما MOON کیوں نہیں ؟ میں نے کہا چاند تو dependent ہے روشنی کے لیے۔ ۔۔۔! میں تو تمہیں Independent دیکھنا چاہتی ہوں سورج کی طرح۔ ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ !

ان الفاظ کو معنوی لحاظ سے نہ بھی دیکھا جا ئے تو ایک خود مختار اور با اختیار عورت کی امیج سازی خود بخود نظر آ رہی ہے اور یہ ہے پچھلے ڈیڑھ دو عشروں کی سرمایہ کاری کا نتیجہ! جی ہاں ! آزاد، اپنے فیصلے خود کرنے والی عورت، زندگی کے ہر پیشے میں نظر آنے والی عورت ! اب ایسا ماڈل معاشرے میں باآسانی دستیاب ہے ! بہت ہی مخصوص شعبوں میں جہاں لڑکے بھی کم تعداد میں پہنچتے ہیں لڑکیوں کا جوق در جوق داخل ہونا کس بدلتے ہوئے سماجی رویے کا غماز ہے ؟ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں !

دو ڈھائی عشرے پرانی بات ہے کہ یونیورسٹی میں طالبات کے درمیان ایک مبا حثہ تھا بعنوان :

عورت گھر اور باہر توازن سے کام کر سکتی ہے؟

اس بات کی مخالفت و حمایت میں دھواں دھار دلائل دیے گئے۔ دونوں طرف پلڑا برابر تھا۔ ججز کو فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی شاید۔ مگر اس دھواں دار بحث پرایک نو دس سالہ بچی کے تبصرے نے ، جو اپنی خالہ یا کسی کزن کے ساتھ آ ئی ہوئی تھی، اس مذاکرے کا رخ متعین کر دیا۔

’’۔۔۔۔۔میں چاہتی ہوں کہ جب میں اسکول سے آؤں تو امی گھر پر ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔! ‘‘

اس جملے نے واضح کر دیا کہ گھر کی تکمیل عورت کے وجود سے ہوتی ہے۔ یہ ہمارے اس وقت کے معاشرے کی ایک جھلک تھی جب خواتین کے لیے صرف تعلیمی یا طبی شعبے میں ہی خواتین نظر آ تی تھیں اور اس پر بھی بحث ہورہی تھی کہ اس کے اوقات کار ایسے نہ ہوں کہ گھر متاثر نہ ہو۔

اور پھر تبدیلی کی فضا نے ہر طبقے اور ذہنی و معاشرتی سطح کی عورت کو گھر سے باہر دھکیل دیا۔ ایئر ہوسٹس اور نر سز پر ہی اعتراضات ختم نہیں ہوئے تھے کہ بسوں اور کوچز میں بھی لڑکیاں میز بانی کرنے لگیں۔ پٹرول پمپوں پر، ہوٹلوں میں ویٹرز سے لے کر دکانوں پر سیلز گرلز وغیرہ وغیرہ۔ اب زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں خواتین موجود نہیں اور اس کا جواز ؟ " عورت سب کچھ کر سکتی ہے !" یہ ہے سب سے بڑا دھوکا ۔ سراسر غچہ دے کر عورت کو بے حال کیا گیا ہے۔ جب مرد سب کچھ نہیں کر سکتا ، نہ بچے پیدا کرسکتا ہے، نہ پال سکتا ہے تو عورت پر یہ ظلم کیوں کہ اسے جیک آف آل بنا یا جائے؟ اس حوالے سے آج کی نوجوان لڑکیوں پر بڑا ترس آ تا ہے۔ نسوانیت کا تقاضہ کہ بیوٹی ٹپس اور گھر کی سجاوٹ بناوٹ، رشتوں کی سمجھ بوجھ میں وقت گزارے، دوسری طرف کیریئر اور اس کے لوازمات بھی اس بات پر اکساتے ہیں کہ لڑکوں سے آگے جاناہے تو ان کی طرح حلیہ، بال اوررکھ رکھاؤ اپنا نا ہے! اس چکر میں تیتر بٹیر قسم کی نسل تیار ہورہی ہے۔

آئیے، اپنے موضوع کے اندر ہی آ تے ہیں ۔ مریم مختیار نے جس مخصوص شعبہ میں اپنی کارکر دگی دکھائی ، یا داد شجاعت دے کر اس سے پہلے ہی قربان ہوگئی ، اس پیشے کے تقاضے کیا ہو تے ہیں ؟ اس کی ایک جھلک اس ویڈیو میں نظر آ ئی جو اس کی شہادت سے پہلے کسی پروگرام کے لیے ریکارڈ کی گئی تھی۔ خواتین یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک دفعہ بحث میں کہا گیا تھا کہ لڑکیاں نقاب میں بھی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں، علیحدہ تعلیمی ادارے کی کیا ضرورت ہے ؟ بحیثیت طالبہ ہم نے اپنے دلائل دیے تھے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، بس ایک جملہ عرض کرتے ہیں۔ مخلوط تعلیم میں نفسیاتی اور جذباتی کشمکش سے تو تقریباً ہر طالب علم گزرتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی جنس سے ہو مگر نقاب پوش طالبہ مستقل نقاب میں رہنے سے مختلف جسمانی عوارض کا بھی شکار ہوتی ہے خصوصاً جلد پر اثرات۔ اس کے علاوہ بہت سے دباؤ کہ پردے پر کوئی ضرب نہ پڑے ۔ گویا اس طالبہ کاحال قبر کے مردے کی طرح ہوتا ہے۔

یہ تو صرف لیکچر لینے کی بات تھی اورجہاں ساتھ مل کر مشقیں کرنی ہوں اور سب کچھ مشترکہ اور مخلوط ہوکس قسم کاماحول بنے گا جس کی ضرب صرف خاتون پر نہیں بلکہ اس کے ساتھیوں حتٰی کے انسٹرکٹر ز پر بھی پڑتی ہے۔ Emotional Intelligence پر تحقیق تو خوب کی گئی مگر عمل بر عکس نظر آ تا ہے۔ اس حوالے سے امریکی اور دیگر ممالک میں جہاں مخلوط فوج ہو جنسی استحصال کے اعداد وشمار اس تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔ لبرل معاشروں بلکہ ہندو مذہب میں بھی خواتین کو اپنا جسم اپنے وطن پر قربان کرنے کے لیے استعمال کرنے کی نہ صرف اجازت بلکہ ترغیب بھی دی جاتی ہے جبکہ پوری مسلمان تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔

جہاں تک اپنے وطن کے لیے جان، مال قربان کرنے کی بات ہے توبیٹے اور بھائی بہنوں کے آ نچل کے لیے شہید ہوتے آئے ہیں جبکہ خواتین دیگر محاذ پر اپنی بہادری اور ہمت کے جوہر دکھلاتی آئی ہیں مگر خواتین کی حیثیت بدلنے والے اب اس کو میدان جنگ میں گھسیٹ لائے ہیں اور اس کی توجیہہ بھی اسلامی تاریخ سے حاصل کی جاتی ہے کہ غزوات میں صحابیہ شریک ہوتی تھیں۔ مستثنائی صورت حال کو عمومی بنا نا کس قدر غیر دانشمندی ہے ؟ یہ ہے ہمارے اس مضمون کا مرکزی خیال !

آہ مریم ! تمہاری شہادت ہمارا بہت بڑا نقصان ہے ! یہ محض ایک باعمل، نیک لڑکی کی شہادت نہیں ہے ہمارے معاشرتی نمونہ paradigm کو تبدیل کرنے کی بات ہے ۔ پچاس سال پہلے جنگ ستمبر میں فتح اور شہادت کے جذبات سے لبریز خواتین اپنے بیٹوں کو ایم ایم عالم بنانے اور خود راجہ عزیز بھٹی جیسے جانبازوں سے شادی کے خواب دیکھتی تھیں اور آج کی لڑکیاں مر یم مختیار بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں تودشمن تو اپنے ایجنڈے میں کامیاب ٹھہرانا؟ گھر ہی ڈھادو جہاں شہید پرورش پاتے ہیں!