اندر والی جیب - حنا نرجس

اب پتہ نہیں یہ تازہ ترین قصہ زیادہ دلچسپ تھا یا سنائے جانے کا انداز کہ اگلی سیٹ پر بیٹھے عثمان نے بے اختیار "پاز" کا بٹن دبا کر لیکچر کو عارضی وقفہ دیا اور پوری طرح ہمہ تن گوش ہو کر انہی باتونی خواتین کی طرف متوجہ ہو گیا جن کی گفتگو سے تنگ آ کر اس نے کانوں میں ایئر فون لگائے تھے اور ایک علمی لیکچر سننا شروع کر دیا تھا، مگر کیا کیا جائے کہ جزوی سماعت پھر بھی جاری رہی تھی.

"تو بہن کہاں کہاں نہ ڈھونڈنے میں نے اپنے دو تولے کے جھمکے. ذرا کی ذرا اپنا پرس ساتھی ٹیچر کو پکڑا کر واش روم تک ہی تو گئی تھی. مگر وہ تو ایسے کھوئے جیسے زمین کھا گئی ہو یا آسمان نگل گیا ہو. میں کبھی سٹاف روم میں کام کرنے والی آیا جی پر شک کرتی تو کبھی اپنی ہی ساتھی ٹیچرز پر. گھر والے بھی میری پریشانی میں پریشان ہونے کے بجائے الٹا مجھے ہی برا بھلا کہنے لگے کہ میں بہت لا پرواہ ہوں. ساس نے تو یہاں تک کہہ دیا،

"اس نے ضرور خود ہی ادھر ادھر کیے ہیں. پڑ گئی ہوئی گی میکے میں کوئی ضرورت."

میں نے اپنے پرس کی ہر جیب چھان ماری پھر اپنے آپ کو ہی کوستی رہی کہ کیوں پہن گئی میں یہ بھاری جھمکے. دہم کلاس کی پارٹی ہی تو تھی، کوئی شادی کی تقریب تو نہیں نا."

"تو پھر ملے نہیں وہ؟" سننے والی خاتون کا تجسس بھی عروج پر تھا.

"وہی تو بتا رہی ہوں کہ دو سال بعد جب میں اس واقعے کو بالکل بھول چکی تھی، ایک دن یونہی اپنے پرانے کپڑے، پرس، جوتے، جیولری وغیرہ کام والی کی بیٹی کے لیے نکال رہی تھی، ایک پرانا پرس جو ہاتھ میں پکڑا تو اس میں کوئی چیز محسوس ہوئی. یونہی بس تجسس کے مارے سب جیبوں میں ہاتھ مارا لیکن کچھ نہ ملا. پھر اندر کی ایک چھوٹی سی جیب میں اچانک میری دو انگلیاں ایک سوراخ میں داخل ہو گئیں. سلائی ادھڑی ہوئی تھی. اف اللہ کیا دیکھتی ہوں، چمڑے اور اس کے اندر کی جانب لگے کپڑے کی درمیانی تہ میں میرے وہی جھمکے پڑے ہیں!!! میں تو خوشی سے چلاتی باہر بھاگی. یوں جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو اور..."

واقعے کا ڈراپ سین ہوچکا تھا اور ابھی منزل مقصود یعنی ملتان پہنچنے میں دو گھنٹے باقی تھے. عثمان نے لیکچر کا تسلسل وہیں سے جوڑا جہاں ٹوٹا تھا مگر اب اس کی توجہ ہٹ چکی تھی اور وہی بے نام سی بے کلی ایک بار پھر سر ابھارنے لگی تھی جسے وہ سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہا تھا.

= = = = = = = = = =

اندر والی جیب سے ملنے والی خوشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا. ابھی پچھلے سال ہی ابا جان کے دیرینہ دوست ملنے آئے. عثمان چائے کی ٹرالی لیے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا. سلام دعا کے بعد اس کا جلد ہی کھسکنے کا ارادہ تھا مگر جس قصے کا انہوں نے ابھی ابھی آغاز کیا تھا، اس نے اس کے قدم روک لیے. وہ ابا جان کو بتا رہے تھے، "مبشر، کوئی تین ماہ قبل اچانک ایسی صورتحال ہوئی کہ تنخواہ ملنے میں ابھی کچھ دن باقی تھے اور کچھ ضروری اخراجات آ پڑے جو ناگزیر تھے. میں سخت پریشان تھا. سوچا کسی سے ادھار لے لوں مگر طبیعت آمادہ نہیں ہوئی. ایسی کشمکش میں مَیں اٹھا اور دو رکعت نفل ادا کر کے صدق دل سے اللہ رب العزت کے سامنے اپنا مسئلہ رکھا. کچھ سکون تو محسوس ہوا لیکن میں حیران تھا کہ پیسے آخر آئیں گے کہاں سے. اسی ادھیڑ بن میں بیٹھا تھا کہ یونہی مجھے خیال آیا میری ایک پرانی وارد کہ سِم جو کافی عرصے سے استعمال نہیں ہوئی، کہیں بلاک ہی نہ ہو گئی ہو. میں اٹھا اور الماری سے پرانا بٹوہ نکالا جس کے اندر والی خفیہ جیب میں وہ سِم رکھی تھی. کیا دیکھتا ہوں وہاں پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ پڑے ہیں. میری آنکھوں میں خوشی سے بے اختیار آنسو آ گئے کہ ربِ مہربان نے اس لیے اچانک سِم کا خیال میرے دل میں ڈالا تھا. یہ رقم میں نے خود ہی چند ماہ پہلے رکھی تھی اور اب بھول چکا تھا. دریافت پر جو خوشی ہوئی، وہ بیان سے باہر ہے."

یہ بھی پڑھیں:   عکس - اختر عباس

عثمان کے دل میں یہ بے نام سی بے کلی تب بھی موجود تھی.

= = = = = = = = = =

اسے یاد تھا اس ہلکی سی کسک کا آغاز تین سال قبل ہوا تھا جب وہ ایف ایس سی سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا. وہ ہمیشہ سے پڑھاکو بچہ تھا مگر حسِ جمال بھی خوب رکھتا تھا. سکول کا کام مختلف رنگوں سے مزین کرنا اور فارغ وقت میں ڈرائنگ کرنا اسے بہت پسند تھا اور اسی وجہ سے اسے ہر اچھے رزلٹ پر خالہ، ماموں، چچا، پھوپھو سب سے رنگ برنگے بال پوائنٹس، مارکرز، کلر پنسلز، کرے آنز، پوسٹر، واٹر، آئل کلرز، ہائی لائٹرز اور برش وغیرہ تحفے میں ملتے. وہ یہ چیزیں بہت شوق سے استعمال میں لاتا اور ساتھ ہی ساتھ ہر بار کچھ چیزیں اپنے پرانے بیگ کی اندر والی خفیہ جیب میں محفوظ کر لیتا. سکول سے کالج کا سفر طے ہوتے پتہ بھی نہ چلا، اور پھر ایف ایس سی پری انجینئرنگ کی مشکل پڑھائی، وہ ان کے بارے میں بالکل بھول گیا.

ایف ایس سی کے بورڈ کے امتحانات قریب تھے جب ایک دن امی کو سٹور کی صفائی کے دوران وہ بیگ ملا. انہیں بھاری محسوس ہوا تو لا کر عثمان کو دیا کہ دیکھ لے شاید اس کے کام کی کوئی چیز اس میں پڑی ہو. عثمان اس خزانے کی دریافت پر بے انتہا خوش ہوا مگر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اتنی بے پایاں خوشی کیوں کر؟؟؟ یہ سب چیزیں ایک ایک کر کے خود اس نے ہی تو جمع کی تھیں، اب یکبارگی سامنے آئیں تو وہ اتنا خوش کیوں ہے؟؟؟

= = = = = = = = = =

تین دن چچا کے ہاں ملتان گزار کر اب وہ واپس لاہور آ چکا تھا. اس دن یونیورسٹی سے لوٹا تو دروازہ امی کے بجائے اس کے سات سالہ بھانجے حذیفہ نے کھولا. عثمان کی ساری تھکن یک لخت کافور ہوئی اور وہ "یاہو" کا نعرہ لگاتے حذیفہ کو گود میں لیے اندر کی جانب بڑھا.

"آہا!! سعدیہ آپی آئی ہیں!! آپ نے اس بار بہت دیر نہیں کر دی آتے آتے؟ اتنا ظلم نہ کیا کریں ہم پر." سعدیہ آپی سے اس کی ہمیشہ بہت بنتی تھی. وہ آپی کی گود میں لیٹی عنایا کے گال کھینچتے ہوئے شکایت کر رہا تھا.

یہ بھی پڑھیں:   اے غُربت! تیرا شکریہ - امجد طفیل بھٹی

"بس وہ آپ کے بھائی مصروف تھے اور پھر سردی بھی خوب رہی ان دنوں، مگر آج بالآخر میں نے ہمت کر ہی لی. خیر، تم نے کون سا چکر لگا لیا اس دوران." وہ وضاحت دینے کے ساتھ ہی گلہ بھی کر گئیں.

حذیفہ کو گود سے اتارا تو وہ عثمان کا بازو کھینچتا ہوا اسے لان میں لے آیا. اس کی آنکھیں شرارت اور دبے دبے جوش سے چمک رہی تھیں.

"ماموں، یہ دیکھیں... بین ٹین والی کوائنز والی نئی گھڑی.. اس کا یہاں سے بٹن دبائیں تو یہ ایسے..."

"میری جان، اس کا فنکشن تو میں چیک کر ہی لوں گا، یہ بتاؤ ممّا کو پتہ ہے کہ آپ یہ یہاں لائے ہو؟"

"نہیں،" شرارتی مسکراہٹ کے بیچ بتایا گیا.

"میں تو اپنی جیکٹ کی اندر والی جیب میں چھپا کر لایا ہوں."

"یار، ہر بار آپی سے ڈانٹ کھاتے ہوں اور پھر بھی..."

"اور مزے کی بات یہ ہے ماموں کہ ممّا ہر بار میری جیکٹ کی اندر والی جیبیں چیک کرنا بھول جاتی ہیں. خیر ہے، میں ڈانٹ کھا لوں گا. آپ چلا کر تو دیکھیں اسے."

"اندر والی جیب..!" بے کلی نے پھر سر ابھارا مگر اس بار... ہاں اس بار... یہ بے نام نہ رہی تھی...

حذیفہ عثمان کی بے توجہی محسوس کرتے ہوئے خود ہی گھڑی سے کوائنز چلا کر پھینکنے میں مگن ہو گیا مگر عثمان کی ذہنی رو بہت دور تک کا سفر طے کر آئی تھی.

"اندر والی جیب ہمیشہ ہی ہر ایک کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنی"جیب" میں بہت کچھ "چھپا" لوں. میں اگر کوئی نیکی کرتا بھی ہوں تو باتوں باتوں میں دانستہ و نادانستہ ذکر کر جاتا ہوں. کیا ضروری ہے ہر نیکی کا ذکر ہر ایک سے ہر جگہ کرتے رہا جائے؟ نہیں، ہر گز نہیں. اب میں دنیا والوں سے چھپا کر بھی بہت کچھ جمع کر لوں گا. خواہ وہ کسی نیک کام کے لیے دیا گیا مختصر سا چندہ ہو یا ملازموں سے کیا گیا حسن سلوک، دوست کو تحفتاً دیا گیا قرآن و حدیث کی تفسیر والا میموری کارڈ ہو یا انٹرنیٹ کے ذریعے شیئر کیا گیا کوئی دینی و علمی لیکچر، اولڈ ہوم میں بزرگوں کے ساتھ گزارا گیا وقت ہو یا ہسپتال میں بیماروں کی تیمارداری، بچوں سے برتی شفقت ہو یا سب انسانوں کے لیے کی گئی بے غرض و مخلص دعا، رات کو رب سے کی گئی مناجات ہوں یا دن میں دوستوں کے ساتھ شیئر کیا گیا عام سا سامانِ ضرورت. کیونکہ اس دن جب ہر نفس ایک ایک نیکی کے لیے ترس رہا ہو گا تو ان "چھپی ہوئی" چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا انبار یکبارگی پانا کس قدر قابلِ مسرت ہو گا. وہ تصور ہی تصور میں اُس خوشی کو محسوس کر کے مسکراتے ہوئے اٹھ کر حذیفہ کی گھڑی دیکھنے چل دیا.

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں