پھولوں کی سیج - کفیل اسلم

ماں تیزی سے پُل پر اپنی دونوں بیٹیوں اور چھوٹے بیٹے کو قدرے دھکیلتے ہوئے چلارہی تھی اور خود بوجھل قدموں سے کسی سوچ میں گُم آگے کو چلے جا رہی تھی۔ دھوُل میں اٹے اور الجھے ہوئے بال، میلے چیکٹ کپڑے، سوکھے ہونٹ اور مرجھایا ہوا چہرہ، جیسے کئی دن سے کچھ کھایا نہ ہو۔ بچے بھی لگ بھگ اسی حالت کے آئینہ دار تھے۔ وہ گاہے بگاہے پلٹ کر ماں کے چہرے کا تاثر لینے کی کوشش کرتے کہ کیا ہوا ہے ماں کو؟ چھوٹا بیٹا معصوم تھا ڈانٹ کے خوف سے عاری پوچھ بیٹھا امی کہاں جا رہے ہیں ہم؟ ماں بدستور آگے کا راستے دیکھتے ہوئے چلے جارہی تھی، بیٹے کی پیٹھ پر ہاتھ مار کر چلتے رہنے کو کہنے لگی۔ عین پُل کے اختتام پر جہاں پتلا سا ایک راستہ پل کے دائیں طرف سے نیچے بہتے پانی کی طرف اُتر رہا تھا وہاں رک گئی اور بچوں کو بولی بیٹا نیچے دیکھو۔ تینوں ابھی نیچے دیکھنے کو جھکے ہی ہوں گے کہ ماں نے یک بارگی اپنے بے رحم دھکے کی مدد سے ان تین معصوموں کو پُل کے نیچے بہتے غلیظ پانی کے ریلے کی نظر کر دیا۔ بچے چشمِ زدن میں آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ تھوڑی ہی دیر میں ماں نے خود بھی چھلانگ لگا ئی اور بچوں کی طرح لقمہِ اجل بن گئی۔ اگلے دن یہ اخبار کی سرُخیوں میں گردش کررہے تھے "بے رحم ماں تین بچوں کو گندے نالے میں دھکا دے کر خود بھی کوُد گئی "

وجہ کیا تھی؟ کس سے پوشیدہ ہے کہ وطنِ عزیز میں پھولوں کی سیج پر بیٹھے حکمرانوں کے عوام کے منہ سے ان کا نوالا چھیننے میں کیا کسر نہیں چھوڑی؟ کیا یہ حکمران کل بڑی عدالت میں جواب نہ دیں گے؟

پھولوں کی سیج سے یاد آیا، کہتے ہیں کہ کسی ریاست کا بادشاہ جو عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا تھا، پھولوں کے بستر پر سونے کی عادت میں مبتلا تھا۔ روز رات کو اُسے نئے پھولوں کی سیج والا بستر چاہیے ہوتا تھا۔ ایک روز ایک باندی بادشاہ کے کمرے میں کسی خدمت کے سلسلے میں گئی دیکھا تو بادشاہ حضور موجود نہیں، نجانے دل میں کیا آیا کہ سیج والے بستر پر بیٹھ گئی۔ نیند کا غلبہ تھا سو نیم دراز ہوئی اور سو گئی۔ اسی اثناء میں بادشاہ حضور کمرے میں داخل ہوئے۔ دیکھتے ہی جیسے آپے سے باہر ہوگئے، جلال میں آگئے۔ سوختہ بختی باندی کی آنکھ کھل گئی۔ بادشاہ نے خادم کو حکم دیا کہ ابھی اس گستاخ کو نشانِ عبرت بنایا جائے، اس کو اُلٹا ٹانگ دیا جائے اور اِتنے کوڑے مارے جائیں کہ اس کی جان نکل جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   مظلوم کی حمایت کیوں ضروری ہے - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

حکم کی تعمیل ہوئی۔ باندی کو اُلٹا لٹکادیا گیا اور کوڑے لگانا شروع کردئے گئے۔ ہر کوڑے پر باندی بلبِلا اٹھتی، چیختی چلاتی مگر بادشاہ کے حکم پر کسی کو رحم نہ آیا۔

بادشاہ یہ منظر دانت پیِستے اور نخوت کے عالم میں دیکھتا رہا۔ اُسے باندی کے جسم پر پڑتے ہر کوڑے سے تسکین مل رہی تھی۔

کچھ ہی دیر گزری کہ روتی ہوئی باندی کو ہنسی آنے لگی۔ ہنسی قہقہے میں بدل گئی۔

اب عالم یہ تھا کہ کبھی کوڑا لگنے پر اذیت کے مارے رو پڑتی اور کبھی کوڑا پڑتے ہی ہنس پڑتی۔

بادشاہ اس پر بڑا حیران ہوا۔ خادم کو ہاتھ کے اشارہ سے روکا اور کہا کہ اِس پاگل سے پوچھو یہ وقت کوئی ہنسنے کا ہے؟

خادم نے باندی سے پوچھا تو باندی بولی "روتی اس لیے ہوں کہ ہر کوڑا عالمِ نزع کی سی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ درد کی شدت ایسی ہوتی ہے کہ بس اذیت کی انتہا ہوجاتی ہے مگر ہنستی اس لیے ہوں کہ مجھے ایک لمحے پھولوں کی سیج پر سونے کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے، سوچ رہی ہوں کہ اُس کا اگلے جہان میں کیا حال ہوگا جو عمر بھر پھولوں کی سیج پر سوتا رہا ہے؟"

یہ جواب سن کر بادشاہ کو کیسا لگا ہوگا؟ اس پر مورخ خاموش ہے مگر یہ واقعہ پڑھ کر سوچیے یہ پھولوں کی سیج پر بیٹھے حکمران کل بڑی عدالت میں کیا فیصلہ سننے والے ہیں؟ ذرا سوچیے گا۔

Comments

Avatar

کفیل اسلم

کفیل اسلم شعبہ ِ تدریس سے وابستہ ہیں۔ معاشیات میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کر چکے ہیں۔ بنیادی تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور ہر کشمیری کی طرح پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ شاعری اور کامیابی لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.