کرنسی کیا ہے؟ دو کہانیاں - محمد زاہد صدیق مغل

کرنسی (Money) کیا ہے اور اس کا آغاز و فروغ کیسے ہوا؟ اس بارے میں ایک کہانی تو مشہور زمانہ ہے جس کے مطابق افراد نے بارٹر اکانومی کے مسائل سے بچنے نیز تبادلے کے عمل کو تیز تر کرنے کے لیے ابتداء مختلف اشیاء (نمک، لکڑی کے ٹکڑوں وغیرہ) کا استعمال کرنا شروع کیا۔ پھر مرور زمانہ کے ساتھ اس میں بہتری آتی گئی، مثلاً سونے چاندی وغیرہ کے سکوں کا استعمال ہوا اور بالاخر انسان نے پیپر و بینک کرنسی جیسی زیادہ بہتر منی (money) ایجاد کرلی۔ چنانچہ اس کہانی کے مطابق منی اصلاً "میڈیم آف ایکسچنیج" ہے جس کی اوریجن مارکیٹ میں پیوست ہے، یعنی منی افراد کے نجی سطح پر ایفشنسی کو بڑھانے والے spontaneous انتخابات کے نتیجے میں وجود و ترقی پذیر ہوئی (معاشیات کے لٹریچر میں 'زر' یا 'کرنسی' کی اس کہانی کو Metallic theory یا M-Theory بھی کہتے ہیں)۔

اس کہانی کے البتہ چند مسائل ہیں:

- یہ کہانی متعدد سرکلر دلیلوں پر مبنی ہے۔

اس کے مطابق لوگ اس شے کو بطور 'منی' استعمال کرتے ہیں جو مارکیٹ میں زیادہ ٹریڈایبل ہو، دوسرے لفظوں میں "لوگ اس شے کو بطور منی استعمال کرتے ہیں جو یونیورسل ہو اور وہ شے یونیورسل اس لیے ہوتی ہے کیونکہ لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔"

اگر منی بنیادی طور پر میڈیم آف ایکسچینج ہے تو بطور میڈیم آف ایکسچینج اس سے فائدہ حاصل کرنا تب ممکن ہے جب "ایکسچینج سے قبل" اسے وجود میں لایا جائے۔

- اسی طرح یہ کہانی یہ واضح نہیں کرتی کہ آخر کسی معاشرے کے سب لوگ کسی ایک ہی شے کو بطور کرنسی استعمال کرنے پر کیسے راضی ہوتے رہے؟

- پھر یہ کہانی "ایک ملک -- ایک کرنسی" کے موجودہ phenomena فنامینا و اصول کی بھی وضاحت نہیں کرسکتی

کرنسی کے ارتقاء کے بارے میں اس نظریے سے علی الرغم دوسرا نظریہ یہ ہے کہ منی کی اوریجن سٹیٹ کا حکم و قانون ہے، یعنی منی کی خالق سٹیٹ رہی ہے۔ اس نظریے کے حامی مختلف محققین مختلف ریاستی امور کو اس کی تخلیق کی وجہ و بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق قدیم ترین معاشروں میں بھی لوگوں کے آپس میں ایک دوسرے پر یا لوگوں کے ریاست کی طرف ادائیگی مال کے حقوق واجب ہوا کرتے تھے۔ مثلاً کسی نے کسی کو قتل کردیا یا اس کا نقصان کردیا تو اب بطور دیت ایک شخص پر دوسرے کے حق میں کچھ ادائیگی لازم ہوگئی، جس کی ادائیگی کو لازم بنانا ریاست کا کام ہے۔ ایک شخص نے پیداوار میں سے ریاست کو بطور ٹیکس کچھ ادا کرنا ہے اور یا بطور جرمانہ کچھ ادا کرنا ہے وغیرہ۔ چنانچہ اس قسم کی ضرورتوں کے تحت حساب کتاب کو درست و سٹینڈرڈائزڈ بنانے کی خاطر یہ کام ریاستیں طے کرتی رہی ہیں کہ لوگوں کی میری طرف قرض ادائیگیاں یا ان کی آپس میں واجب الاداء ایسی ادائیگیاں فلاں شے میں گنی جائیں گی، نیز میں ان قرض ادائیگیوں کو تب قبول کروں گی جب انہیں گننے کی اسی شے میں ادا کیا جائے جو میں نے طے کی ہے۔ جب سٹیٹ یہ طے کرتی ہے کہ فلاں چیز کو بطور یونٹ آف اکاؤنٹ استعمال کیا جانا ہے۔ نیز، ادائیگیاں اسی کے ذریعے قابل قبول ہوں گی پھر لوگ اس شے کو بطور کرنسی استعمال کرتے اور اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

برصغیر و بالخصوص افریقہ میں انگریز نے اپنی آمد کے بعد وہاں کی اکانومیز کو اسی طرح مونیٹائزڈ کیا تھا کہ تمام خراج و ٹیکسوں کو اپنی طے کردہ کرنسی میں ہی واجب الاداء قرار دیا تھا۔ جب ہر شخص نے سٹیٹ کو ٹیکس مثلاً روپے میں ادا کرنا ہے تو ہر شخص اپنی اشیاء و خدمات کا کم از کم اتنا حصہ ضرور روپے کے بدلے ایکسچینج کرے گا جتنی مقدار میں اسے ٹیکس یا اس قسم کی دیگر ادائیگیاں کرنا ہوں۔ اس نظریے کے مطابق منی بنیادی طور پر "یونٹ آف اکاؤنٹ" ہے جسے میڈیم آف پیمنٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ منی کی اوریجن کا یہ نظریہ درج بالا مسائل و خامیوں سے دوچار نہیں ہوتا (اس نظریے کو Chartalism یعنی C-Theory یا بعض اوقات Modern Money Theory یا MMT بھی کہتے ہیں)۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */