لاپتہ - نورین تبسم

یہ سچی کہانی دو ایسی بچیوں کی داستان الم ہے جن میں کچھ بھی مشترک نہیں سوائے شناخت کی تلاش کے۔ ایک جسے کسی بدبخت کی نظر کھاگئی اور دوسری وہ جسے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ماں باپ نے اپنی رضا سے ہمیشہ کے لیے ایک ایسے انجان کے سپرد کر دیا جس سے انسانیت کے علاوہ اور کوئی رشتہ نہ تھا۔

وہ ڈھائی سال کی ایک پیاری سی گول مٹول بچی تھی، جسے جھیل کنارے اُمنڈتی گرد و غبارکی گھٹائیں نہ جانے کہاں سے کہاں لےگئیں؟ وہ پہلی اولاد تھی، نئے نئے بنے ماں باپ کی پہلی خوشی! پہلا بچہ پہلی محبت کی طرح ہوتا ہے جس کے اوّلین لمس کا احساس ساری زندگی ساتھ چلتا ہے۔ جس کے ننھے جسم کی نرمی بڑے بڑوں کی کرختگی جذب کر لیتی ہے تو اُس کی پہلی آواز، پہلا جملہ روح سرشار کر دیتا ہے۔

یہ جون2013ء کے پہلے ہفتے کا ذکر ہے، وہ اپنی لاڈلی کے ساتھ گھر سے دور لانگ ڈرائیو پر تھے۔ راستے میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج راول جھیل کنارے کچھ وقت گزارا جائے؟ شادی کے آٹھ برس بعد اُن کے سُونے آنگن میں ایک ننھی پری کی چہکار سنائی دی تھی اوروہ پچھلے کئی سالوں کے ان کہے خدشات بھلا کر اُس کی ناز برداریاں کرتے تھے۔

ابھی تو اس نے اٹک اٹک کر بولنا سیکھا تھا۔ ابھی تو وہ چھوٹے چھوٹے لفظوں کو جملوں میں تراشتی تھی۔ ابھی تو وہ اُڑتے پرندوں کو دیکھ کر انگلی سے اشارہ کرتی تھی۔ ابھی تو اس کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں اور ننھے ننھے نخرے شروع ہوئے تھے۔ ابھی تو ماں باپ نے اُس کی شرارتوں پر ہلکا سا جھنجھلانا شروع کیا تھا۔ ابھی تو وہ اُس کی معصومیت کے خمار سے نظر بچاتے اُسے اچھی باتیں یاد کراتے تھے اور رات سونے سے پہلے اُس کے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں دعائیں سن کر بےساختہ اپنے ساتھ لپٹانے کو لڑ پڑتے۔ اکثر ماں خود ہار مان لیتی باپ کی محبت دیکھ کر۔

باپ کی چاہت ہی ایسی ہوتی ہے بھرپور، مکمل یا شاید یہ مرد عورت کا رشتہ ہے، اس کی کشش ہے جو روزِ اوّل سے لکھ دی گئی ہے، اسی لیے تو ماں کے وجود کا حصہ ہو کر بھی بیٹی کو کبھی مکمل تسکین نہیں مل پاتی۔ ماں کے ساتھ عجیب محبت نفرت کا رشتہ ہوتا ہے۔ بیٹی کو ماں کی ممتا کا ثبوت خود اپنے وجود سے ہٹ کر کبھی نہیں ملتا۔ ماں کے ساتھ جُڑی روک ٹوک، ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ تک کی یادیں ایک بھیانک خواب کی صورت ماں کی حقیقت پر پردہ ڈالے رہتی ہیں۔ ایک لڑکی خواہ جتنا بھی اپنی ماں سے محبت کے دعوے کرے، خود ماں بن کر ماں کے جذبات کی گہرائیوں کو سمجھنے کا اعلان بھی کر دے لیکن ماں کے سامنے دل میں اُس سے خفا خفا سی رہتی ہے کہ ماں اسے دُنیا کے سامنے سر اُٹھا کر چلنے کا اعتماد نہیں دیتی، اُس کی ذات پر شک کرتی ہے۔

ایک ماں اپنی بیٹی کے اس احساس کو کبھی نہیں جھٹلاتی۔ وہ جانتی ہے کہ لڑکیاں کانچ کے برتن سے بھی نازک ہوتی ہیں۔ رویّوں کے کھردرے لمس کا بال بھی اس شیشے میں خراش ڈال سکتا ہے۔ ماں روکتی تو ہے پر چاہتی بھی ہے کہ بیٹی اپنا راستہ خود چُنے، آپ طے کرے کہ بند گلی کس سمت ہے؟ ایک بچی ماں کے خواب کا عکس ہوتی ہے۔ ماں اپنے خواب کی حقیقت جانتی ہے، لیکن پھر بھی اُس کا دل اپنے خواب کی سچی تعبیر کے لیے ہمکتا ہے۔ ماں کے ساتھ تخلیق کے درد کا رشتہ آخری سانس تک لاشعور میں لہروں کی صورت موجود رہتا ہے اور باپ کے جسم کا ادھورا احساس ساری عمر اپنے ملنے والے ہر رشتے میں محسوس ہوتا ہے، چاہے وہ بھائی ہو، شوہر ہو، بیٹا ہو اور یا پھر کوئی اجنبی مہربان۔

یہ بھی پڑھیں:   نوعمر بچے بات کیوں نہیں سنتے؟ حنا تحسین طالب

بات کہیں بہت دور چلی گئی۔ خیر، اُس روز جب وہ جھیل کے آس پاس خوش گپیاں کرتے لوگوں کو دیکھتے اسے اپنی زندگی کا حسین دن تصور کرتے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ یہ اُن کی زندگی کا بدترین دن ہوگا۔ اس سمے اُٹھتی کالی آندھی ہمیشہ کے لیے اُن کی محبتوں کا باغ ویران کر دےگی۔ اذان کی آواز رب کا بلاوا ہے کہ فلاح کی طرف آؤ اور عصر کا وقت تو ویسے بہت سے نافرمانوں کو سر جھکانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اُس روز تقدیر اپنی چال چل رہی تھی۔ ماں بیٹی کو باپ کے حوالے کر کے وضو کرنے گئی اور عین اسی لمحے صورِاسرافیل کی صورت فون کی گھنٹی بجی۔ یہ موبائل فون ایک عذاب ہے۔ انسان خود کو کسی سُپر پاور کے صدر سے کم نہیں سمجھتا کہ گھنٹی بجتے ہی فوراً نہ اُٹھایا تو شاید حریف پہلے ایٹمی دھماکہ نہ کر دے۔ ہم میں سے اکثر اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ جانے دوسری طرف کس کا ضروری فون آیا ہے اور ستم یہ کہ کان سے لگاتے ہی دنیا و مافیہا سے بےخبر ہو جاتے ہیں۔ اُس روز بھی یہی ہوا، نہ جانے کس کا فون تھا، کتنی لمبی بات ہوئی۔ آنکھ اس وقت کھلی جب ماں نے واپس آ کر بیٹی کو نہ پایا۔ باپ سے پوچھا تو اس نے پہلے تو بےنیازی سے کہا کہ میں سمجھا کہ تمہارے ساتھ چلی گئی ہے اور اگلے ہی لمحے دونوں کے ہاتھوں سے طوطے اُڑ گئے۔

عین اسی وقت سچ مچ کی آندھی چل پڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنی سواریوں میں بیٹھے اور بھاگنے لگے۔ عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔لوگ زندگی بچا کر اور خوشیوں کے دسترخوان لپیٹ کر بخیریت گھروں کو لوٹ رہے تھے اور یہ بدنصیب پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے راہ چلتوں کو روک کر اپنی جنت تلاش کر رہے تھے۔

کیسی شام ِغریباں تھی جو اُن بہتے پانیوں کے کربلا پر اُتری تھی، وہ کیسا وضو تھا کہ جس کی نماز نہیں تھی، وہ کیسی آواز تھی کہ جس نےآنگن سونا کر دیا تھا؟ وہ کیسی بے پروائی تھی کہ جس نے اُسی شاخ پر ضرب لگائی جس پر تنکا تنکا آشیانہ بنا تھا، وہ کیسا گناہ تھا کہ جس کی ندامت میں دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا رہے تھے، وہ کیسی خلش تھی کہ جو آنے والی راتوں میں انہیں ایک دوسرے سے یوں ڈرا دیتی تھی کہ دل کی دھڑکن بھی کہیں ایک دوسرے کی سرگوشی نہ سن لے، وہ کیسی بددعا تھی جو اُن کے دل سے نکلتی تھی تو لبوں تک آتے آتے دعا کی صورت اُن کا جگر چیر دیتی تھی؟

یہ بھی پڑھیں:   مردانگی یا حیوانگی - ڈاکٹر شفق حرا

وہ جس کی آمد کی نوید کے لیے آٹھ برس انتظار کیا، اب جیسےجیسے دن گزرتے جا رہے تھے، کبھی معجزے کی صورت واپسی کی اُمید رکھتے تو کبھی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ سے بچ کر اُس کی عزت کی موت کی دعا مانگتے۔ اُس آنگن کی کلی کیا کھوئی کہ جب اُس کی خوشبو کو باہر تلاش کیا تو پتہ چلا کہ دُنیا کے گندے بازاروں میں کچی کلیوں کو کس طرح مسلا جاتا ہے۔ آٹھ برس کی جامد خاموشی کے بعد ابھی صرف ڈھائی سال ہی تو نازک جذبوں کی پھوار برسی تھی اور اب دونوں طرف سنی سنائی باتوں کے خوف اور بولتی تصویروں نے مل کر ایسا حبس طاری کر دیا تھا کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ کوسوں دور چلے گئے۔ وہ مرد تھا اس نےباہر پناہ ڈھونڈ لی۔ فکرِ معاش کا لبادہ اُوڑھ لیا۔ آنکھوں میں تیرتی نمی چھپائے دُنیا کا سامنا کرتا تھا۔ خالی کمروں اور اُجڑی گود کے ساتھ ماں نے اللہ سے لو لگا لی۔ صبر و شکر اور تسلیم و رضا کی چنری پہن کراعتکاف میں بیٹھی۔ نہ جانے مالک نے کیسے اُس کے دل کو تسکین بخشی ہوگی، ہم نہیں جان سکتے۔ لفظوں کی چاہے جتنی مرضی کاری گری دکھا دیں، مالک اور بندے کے درمیان راز و نیاز کی خوشبو بھی نہیں پا سکتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں، ہم توعام انسان ہیں۔

ایک کہانی اگر سب کے سامنے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں غم کی سیاہی سے لکھی جا رہی تھی تو دوسری طرف ایک کہانی ایک ماں کی کوکھ میں بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ وہ ماں جس کی دو معصوم سی بیٹیاں تھیں اور اب پھر اُمید کے غنچے اس کی شاخوں پر کھلتے تھے۔

یہ اسی سال بڑی عید (اکتوبر2013ء) سے ایک دو روز پہلے کی بات ہے جب تین سو کلومیٹر کی دوری سے فون آیا کہ ابھی آؤ اور اپنی امانت لے جاؤ۔ یہ کیسا حساب تھا کیسی دوستی تھی کہ ایک ماں جس کی چھاتیوں میں ابھی تو بچے کی محبت کا رس بننا شروع ہی ہوا تھا۔ ابھی تو وہ درد و تکلیف کے مرحلے سے بخیر و عافیت سُرخرو ہو کر نیند کے انعام کی حقدار ٹھہری تھی۔ ابھی تو اس نے اپنے آپ کو تیار کرنا تھا کہ تیسری بیٹی پیدا ہونا کوئی جرم نہیں۔ اللہ نے صحت کے ساتھ اپنی رحمت اُن کے گھر آنگن میں اتاری ہے۔ لیکن شاید اپنی دوست کے کرب کا احساس ہر احساس پر غالب آگیا اور اُس باپ پر بھی آفرین جس نے اپنی شریک ِحیات کی خواہش کو عبادت جان کر اپنا جگرگوشہ اُس لٹے پٹے جوڑے کے حوالے کر دیا جو اُسے اپنا کھویا ہوا خزانہ جان کر دامن میں سمیٹ کر لوٹ آئے۔

اس سے آگے کچھ نہیں کہوں گی کہ تقدیر کے قلم کے آگے لفظوں کی بڑی سے بڑی فسوں کاری دم توڑ دیتی ہے۔ اللہ اس گھر کو آباد رکھے اور یکے بعد دیگرے آزمائشوں کے اس کھیل میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں