شرمندہ کیوں؟ - غزالہ عزیز

موضوع گفتگو تو کچھ اور تھا لیکن نجانے کیسے کراچی کے گزشتہ ضمنی انتخابات کی جانب مڑ گیا۔ چند خواتین بالخصوص نوجوان، جنہوں نے وہ دن کیمپوں میں گزارا تھا، بہت مایوس تھیں۔ دوسری جماعتوں کو کتنے ووٹ پڑے، پچھلی بار سے کتنے زیادہ یا کتنے کم تھے؟ یہ بات تو درمیان میں آئی نہیں حالانکہ کل رجسٹرڈ ووٹرز میں سے چوتھائی بھی نہیں پڑے تھے، حالانکہ بذات خود یہ بھی بحث کے قابل بات تھی لیکن گفتگو کا محور جماعت اسلامی کا ملنے والے ووٹ تھے، جس پر سخت شرمندگی محسوس کی جا رہی تھی۔"آپ بتائیے، بھلا اتنے کم ووٹ لے کر شرمندگی نہ ہو تو کیا ہو؟"

ان کا خیال تھا کہ عوام اصل میں کرپٹ عناصر کو پسند کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے غیر قانونی، بلکہ قانونی کام بھی، کچھ نہ کچھ لے دے کر کروا دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا یہ حلقہ کوڑے کا ڈھیر ہے، کھنڈر کا منظر کا پیش کررہا ہے۔ سڑکوں پر گٹر ابل رہے ہیں، نلکوں میں پانی نہیں، مرکزی شاہراہ آثار قدیمہ جیسی ہے اور بجلی کا مسئلہ الگ۔ لیکن ووٹ پھر بھی انہی لوگوں کو پڑے جو ان مسائل کا سبب تھے اور گزشتہ کئی عشروں سے ان کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایماندار لوگ عوام کے سامنے ہوتے ہیں، امین و صادق کے معیار پر پورے اترتے ہیں تو وہ انہیں ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اپنی زکٰوۃ و صدقات کے لیے تو ان کا انتخاب کرتے ہیں لیکن ووٹ کے لیے کیوں نہیں؟ سوالات اہم تھے لیکن سب سے اہم بات تھی کہ شرمندہ کیوں ہوں؟ اور درحقیقت شرمندہ ہونا کسے چاہیے؟

وہ جو ووٹ کے معاملے میں تساہل کا شکار ہیں اور انتخابات کے دن بھی اپنے روزمرہ کاموں میں مشغول رہتے ہیں۔ اس حلقے کے ایک لاکھ 60 ہزار ووٹرز نے یا تو وہ دن گھر میں گزارا، یا کہیں بھی گزارا، پولنگ اسٹیشن نہیں آئے یا پھر وہ تھے جو پورے اہتمام سے نکلے اور آزمائے ہوؤں کو پھر آزمانے کا ارادہ کیا۔ کیوں؟ وہی گھسی پٹی "دلیل" کہ ہارنے والوں کو ووٹ دینے کا کیا فائدہ؟ جن کے جیتنے کا امکان ہے، انہیں دے آئے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا ’’عزمِ نو‘‘ - محمد نورالہدیٰ

درحقیقت، شرمندہ یا مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جماعت اسلامی کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں ہے۔ ایسے مواقع پر کوئی دوسری جماعت ہوتی تو شاید پہلے ہی دھچکے میں تحلیل ہو جاتی۔ اس کے ارکان پارٹی جھوڑکر دوسری جماعتوں میں یا جن کے حکومت میں آنے کا امکان ہو، اس میں شامل ہو جاتے لیکن یہ جماعت اسلامی ہے کہ ہر انتخابات میں ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کے باوجود بجائے کمزور ہونے کے مزید استقامت اور جذبے کے ساتھ دوبارہ میدان عمل میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اس لیے نہ جماعت اسلامی کو مایوس ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی شرمندہ ہونے کی۔ اس کے ہر کارکن کو عوام کے سامنے سر اٹھا کر کہنا چاہیے کہ ہم میدان میں موجود رہیں گے، تاکہ عوام کے سامنے بے ایمانوں کے مقابلے میں ایماندار افراد کا آپشن موجود رہے۔ اب وہ یہ آپشن کب استعمال کرتے ہیں، یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔

ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو ووٹ کی اہمیت کے بارے میں کچھ نہیں پتا، یہی وجہ ہے کہ وہ الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلتے۔ پھر دینی لحاظ سے بھی انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ووٹ دراصل ان کی طرف سے ڈالا جانے والا وزن ہے۔ اس وزن کو اگربدعنوان افراد کے لیے استعمال کیا تو ان کی ساری کرپشن میں ووٹ دینے والوں کا نام لکھا جاتا رہے گا۔ یہ محض "کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے" والا معاملہ نہیں بلکہ کرپشن، بے ایمانی، لوٹ مار، بھتہ خوری اور بے گناہوں کے قتل میں حصہ دار بننے کا معاملہ ہے۔

ہو سکتا ہے چند لوگ یہ کہیں کہ ہم اسی لیے تو ووٹ نہیں دیتے۔ وہ بھی ٹھنڈے ہوکر نہ بیٹھیں، ان کی خاموشی بھی وزن رکھتی ہے۔ اگر اس وزن کو صادق و امین کے حق میں استعمال نہیں کیا تو یہ بھی بے ایمان اور کرپٹ افراد کو آگے لانے کا سبب بنا ہے۔ اس لیے خاموش رہنا بھی دراصل کرپٹ عناصر کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔