قلوب مطہرہ کا قبول اسلام - نزہت وسیم

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے عرب کے کفر و شرک میں ڈوبے معاشرے میں جب اعلانِ توحید کیا اور حق کی دعوت دی تو ان کی تائید کرنے والا کوئی نہ تھا۔ عرب کا ذرہ ذرہ اس صدائے حق کا دشمن تھا۔ آپ ﷺ نسل در نسل چلنے والے رسم و رواج کو چھوڑ دینے کی دعوت دیتے تھے۔ موروثی مذہب اور عادات جو لوگوں کی رگ وپے میں سرایت کرچکی تھیں ان کو ترک کرنے کا حکم دیتے۔ چوری، ڈاکہ، قتل و خونریزی، کینہ، عداوت، بغض، سود، قماربازی، زنا، شراب غرض وہ تمام افعال جو عربوں کی خصوصیات اور پہچان بن چکی تھیں آپ ﷺ ان کا قلع قمع کرنے اور ان برائیوں کو جڑ کو اکھاڑ دینا چاہتے تھے محمد صلی الله علیہ وسلم کے پاس کوئی ظاہری طاقت اور حکومت نہ تھی نہ ہی دولت اور خزانہ تھا جس سے دعوت حق کو قبول کرنے والوں کی معاونت اور حفاظت فرماتے۔ ہر شخص جانتا تھا کہ اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے ہی گھر، بستی اور معاشرے سے نکال دیا جائے گا۔ مال و جائیداد سے محروم ہوجائے گا، خاندان کی نفرت اور معاشرے کی ملامت کا شکار ہوگا۔ قبیلے کے رؤساء اور صاحب اقتدار لوگوں کی سختیوں اور ظلم و ستم کا نشانہ بنے گا۔ دعوت حق قبول کرنے والوں پر جو ظلم و ستم اور قہر برسایا جا رہا تھا وہ سب کے سامنے تھا۔

تمام تر مخالفت اور معاشرتی بائیکاٹ کے باوجود لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو تلاشِ حق میں محمد عربی صلی الله علیہ وسلم تک پہنچ رہا تھا۔ عرب کے دور دراز قبائل سے لوگ چھپ چھپا کر آتے اور محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بیعت کرکے لوٹ جاتے۔ جس دل میں حق کوپہچاننے اور حاصل کرنے کی تڑپ ہوتی، وہ شوق سے ان تمام تکالیف اور مصائب کے باوجود اسلام کے دامن توحید سے لپٹ جاتا۔ آخرکار وہ معاندین ومخالفین جو سالہا سال اسلام اور رسالت ماب صلی الله علیہ وسلم کے سخت ترین مخالف تھے، ایک دن سرجھکانے اور اسلام کی حقانیت قبول کرنے پر مجبور ہوگئے۔

یہ کہہ دینا بہت آسان ہے کہ محمد صلی الله علیہ وسلم اور ان کی جماعت نے لڑ کر لوگوں کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنایا لیکن سوال یہ ہے کہ ہزاروں جانثار اور لڑنے والے کہاں سے آئے اور کیونکر پیدا ہوئے؟ ان کو کس نے لڑ کر مطیع بنایا اور لڑنے پر مجبور کیا؟ درحقیقت دعوت حق کو قبول کرنے کا کوئی ایک سبب نہ تھا بلکہ ہر حق کے طلبگار دل اور صالح طبیعت کے لیے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی مختلف دلیلیں مؤثر اور کارگر ہوئیں۔

حضرت ابوبکر رضی الله عنہ صرف دعوٰی نبوت کی صداقت سن کر ایمان لے آئے کیونکہ آپ ﷺ کے چالیس سالہ حیات کا کردار اور آپ کی صداقت و عزم ان کے سامنے تھا۔ حضرت عبدالرحمان بن عوف، عثمان بن مظعون، ابو عبیدہ بن جراح رضوان الله علیھم یہ دیکھ کر اسلام لے آئے کہ ابوبکر جیسا دانشمند اس صداقت سے متاثر ہے۔ آپ کی شریک زندگی حضرت خدیجہ رضی الله عنھا یہ کہہ کر آپ پر ایمان لے آئیں کہ آپ جیسے بلند اخلاق کا مالک جو غریبوں کا ہمدرد، مقروضوں کا خیرخواہ، مسافروں کا ملجا ہے، وہ کبھی شیطان کے شرمیں گرفتار نہیں ہوسکتا۔ حضرت انیس غفاری اور عمرو بن عنبسہ یہ دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے کہ آپ مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت عمر، طفیل بن عمرو دوسی، جبیر بن معطم، نجاشی شاہ حبش وغیرہ جیسے صاحب علم اشخاص کلام الله کی معجزانہ تاثیر میں گرفتار ہوکر مسلمان ہوئے۔ حضرت ضماد بن ثعلبہ ازدی نے صرف لا الہ الا الله سُن کر نعرہ حق بلند کر دیا۔ حضرت عبد الله بن سلام آپ صلی الله علیہ وسلم کا چہرہ انور دیکھ کر پکار اٹھے کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں۔ ضمام بن ثعلبہ رئیس بنی سعد نے بے تکلفی سے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو قسم دلائی کہ تمہیں سچ مچ الله نے اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے قسم کھائی تو وہ مسلمان ہوگئے۔ اوس اور خزرج کے لوگ اپنے یہودی ہمسایوں سے نبی آخرالزماں کے ظہور کے قصے سنتے تھے حج کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی دعوت کو سنا تو حق کو پہچان کر آپ کے گرویدہ ہوگئے۔

فتح مکہ کے بعد سینکڑوں قبائل کے قبول اسلام کی وجہ یہ تھی کہ خانہ خلیل کسی جھوٹے نبی کے قبضہ میں نہیں جا سکتا۔ ایک پورا قبیلہ محض آپ صلی الله علیہ وسلم کی فیاضی دیکھ کر مسلمان ہو گیا۔ متعدد شعرائے عرب کلام الله کی معجزانہ آیات سن کر دل پر قابو نہ رکھ سکے اور اسلام کی حقانیت پر ایمان لائے۔ متعدد قریشی جو مرعوب نہ ہوئے، مسلمانوں کے آداب و اخلاق دیکھ کر اسلام لائے۔ ابو سفیان جس کونہ معجزات متاثر کرسکے نہ آپ کا اخلاق وکردار، نہ ہی کلام الله کی تاثیر نے اس کے قلب کو مسخر کیا، نہ رشتہ دامادی نے اس کا دل موم کیا وہ اس نظارے کو دیکھ کر اپنے ضمیر کو اعتراف سے نہ روک سکا کہ قیصرِ روم اپنے تختِ جلال پر بیٹھ کر مکہ کے بوریا نشین پیغمبر کے پاؤں دھونے کی آرزو رکھتا ہے۔ فتح مکہ پر آپ کی نرمی و عام معافی دیکھ کا ثمامہ بن آثال، ہند زوجہ ابوسفیان اور وحشی قاتلِ حمزہ جیسے پتھر دل موم ہوگئے۔ عدی بن حاتم جو قبیلہ طے کے رئیس تھے مدینہ میں آپ کی بادشاہت اور درباری شان و شوکت کا تصور لے کر آئے اور دیکھا کہ تاجدار دوجہاں مکہ سے آئی لونڈی کی حاجت روائی کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں تو اس کا دل پکار اٹھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم بادشاہ نہیں بلکہ الله کے پیغمبر ہیں۔ قریش کے بہت سے لوگ فتح روم کی پیش گوئی پوری ہونے پر اسلام لے آئے۔