زندگی کی بے ثباتی - مناحل عمر

ہائے وقت کا ہر پل زندگی کے درخت پر کلہاڑی کی وار سا تھا۔ میں اکثر زندگی میں موت کو فراموش کر دیتا تھا۔ جب آخری سانس لی تھی تو اس سانس میں آہ بھی پوشیدہ تھی کیونکہ کے نظر کے سامنے انجام اور ایک دروازے کے بند ہونے کی گرج دار آواز سنائی دی تھی، توبہ کا دروازہ! میری بخشش کا دروازہ! رب کی مہلت کا دور اب اختتام کو پہنچا۔

تمام عمر لگتا تھا کہ عمل کے لیے کافی وقت باقی ہے، ابھی آرام کرنے دو لیکن اب جب واقعی تا قیامت آرام کرنے کا وقت آنا تھا تو کروٹ کروٹ بے آرامی مقدر بنا لی تھی میں نے۔کاش! اللہ اس جہان میں واپس جانے دیتا تو اپنوں کو بتا سکتا کہ یہ جہان کرب ناک ہے۔ یہاں اعمال سے اجالا اور اعمال سے ہی اندھیرا۔

زندگی میں یہ کیوں نہ سمجھ سکا کہ ہر عمل سے اپنی اگلے جہان کے نصیب کو لکھ سکتا تھا میں؟ اللہ نے زندگی کی کتاب پر لکھنے کو اعمال کی سیاہی دی تو تھی کہ لکھ اپنا نصیب تجھے موت تک چھوٹ ہے!

اب ڈر اس بات کا ہے کی چند نیکیاں جو کی بھی تھیں، انہیں قیامت کے دن تعداد کے بجائے معیار پر پرکھ لیا گیا تو کیا بنے گا؟ اخلاص اور نیت سے نتیجے نکال لیے گئے تو کیا کروں گا؟ زندگی بھر محشر سے ڈرتا نہ تھا اور اب جو قیامت قبل از قیامت سے جا ملا ہوں، تو اس کی تاب نہیں لائی جاتی۔