پوشیدہ صلاحیتوں کو کیسے جانیں؟ - عفیفہ شمسی

علم التعلیم کا مضمون پڑھاتے ہوئے ہمیں جو بات سب سے زیادہ ذہن نشیں کروائی جاتی تھی، وہ یہ تھی کہ بچے میں کسی بھی شے کو حاصل کرنے کی تمنا ہونی چاہیے ، دلچسپی اور لگن ہونی چاہیے۔ اسے اس کی مرضی کےبغیر جو پڑھایا ،سکھایا جائے گا وہ اسے اتنا فائدہ نہیں دے سکے گا، جتنا وہ مضمون ، جسے وہ خود سیکھنا چاہتا ہو۔ اس کے اندر متعلقہ چیز کے لیے دلچسپی اور لگن پیدا کی جائے تاکہ وہ اس کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

کسی بھی علم کو سیکھنے سے قبل اس بات کا جاننا لازم ہے کہ آپ یا میں وہ علم کیوں سیکھنا چاہ رہے ہیں ؟ بس زبردستی یا دلچسپی اور لگن کے ساتھ ؟ اگر جواب میں سوال کا دوسرا حصہ آ جائے تو 50 فیصد کامیابی کی امید بندھ جاتی ہے، باقی محنت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگ کسی علم کو سیکھنے کے شوقین تو ہوتے ہیں پر اس کے لیے محنت کرنے پر تیار نظر نہیں آتے۔

اپنی کسی صلاحیت کی جانچ پرکھ کرنے کے لیے اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ

آیا آپ وہ کام دلی رضا مندی کے ساتھ کر رہے ہیں؟
اس کام کو کرنے میں دلی خوشی کا کتنا حصہ ہے ؟
ہم اس علم کو واقعی سیکھنا چاہتے ہیں یا پھر صرف ٹھپہ لگواناچاہتے ہیں؟
اس کام کو کرتے ہوئے ہمیں کتنی اور کس قسم مشکلات پیش آ رہی ہیں ؟
وہ مشکلات کسی اور کی جانب سے ہیں یا ہماری اپنی ہی توجہ کی خرابی ہے؟

صلاحیت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تو خداداد ،دوسری خود محنت کر کے پیدا کرنا۔ عموماً خداداد صلاحیتیوں میں دم ہوتا ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ لکھنا چاہتے ہیں لیکن لکھ نہیں پاتے۔ وہ لکھنے کے خواہش مند بھی ہوتے ہیں ،رضا مندی بھی ہوتی ہے اور لگن بھی، لیکن وہ اس میدان میں ناکام ہی رہتے ہیں۔ اس حال میں ان میں لگن تو موجود ہوتی ہے لیکن اس کے لیے میدان مختلف ہوتا ہے۔ ہر انسان ہر صلاحیت کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اگر آپ میں وہ صلاحیت نہیں ہے جو کسی دوسرے میں ہے تو آپ میں کوئی اور صلاحیت ضرور موجود ہوگی جو دوسرے میں نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:   کامیابی کا ایک ہی فارمولا - ام محمد سلمان

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، ایک دوست بڑی اداسی سے کہنے لگیں کہ میں بات کو لکھ کر بہت اچھے انداز میں بیان کر لیتی ہوں لیکن بولنے کے میدان میں فیل ہوں۔ ان سے کہا یہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہے جس پر آپ پریشان ہو رہی ہیں۔ ہمیں چند چیزیں دوسروں کے لیے بھی چھوڑ دینی چاہئیں۔ ہر میدان ہمارا میدان نہیں ہوتا ہے۔ اگر آپ تقریر نہیں کرسکتیں تو کسی اور کو کرنے دیں آپ تحریر کر لیں۔ صلاحیتیں بانٹنا سیکھیں اور اپنی پہچان کر اس پر صبر شکر کرنا سیکھیں۔ ہماری ذات میں موجود کوئی بھی صلاحیت زیادہ دیر چھپی نہیں رہ سکتی۔ اس کا تلاش کرنا مشکل نہیں ہوتا وہ جلد ہی سامنے آنے لگتی ہے۔ اگر کسی کو گانا آتا ہے وہ لاشعوری طور پر گنگناتا ہے۔ کسی کو لکھنا آتا ہے وہ جانے انجانے میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہے۔ بس ان ہی باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہاں اور کس جگہ ہماری توجہ مبذول ہو رہی ہے۔ اس میدان میں قدم بڑھا دیں کیوں کہ آپ کی دلچسپی پہلے سے ہے اب فقط محنت کی ضرورت ہے۔