سیکولرازم، ایک دھوکا - حماد احمد

جس طرح انسان یا تو مذہبی ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی نہ کوئی مذہب ہوتا ہے یا پھر وہ غیر مذہبی ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اس کو ہم ملحد کہتے ہیں اور وہ خود کو بھی ملحد ہی کہتے ہیں۔ اسی طرح ریاست یا تو مذہبی ہوسکتی ہے یعنی وہ ان انسانوں کے لیے وجود میں آئی ہوتی ہے جو مذہبی ہوتے ہیں، یا پھر ریاست لامذہب یعنی ملحد ہوسکتی ہے۔

اس لیے ایک چیز ہمیں اچھی طرح سمجھنی چاہیے، ریاست بھی یا تو مذہبی ہوسکتی ہے یا پھر ملحد۔ سیکولرازم کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ غیر مذہبی لوگوں یعنی ملحدوں کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ ریاست سے مذہب کو نکال کر اپنی حکومت بناتے ہیں، جس میں ان کا جو جی چاہتا ہے، کر گزرتے ہیں وہ بھی پورے اطمینان کے ساتھ۔ کیونکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو الحادیوں نے مطمئن کیا ہوا ہوتا ہے کہ یہاں ہر کسی کو برابر کے حقوق ملیں گے، کسی ایک مذہب کی حکومت نہیں ہوگی۔ چونکہ مختلف مذاہب کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لیے نفرت ہی دلوں میں رکھتے ہیں اور اس کو کسی نہ کسی شکل میں باہر بھی نکالتے ہیں تو اس کا پورا پورا فائدہ اٹھا کر الحاد اپنی حکومت قائم کر کے ریاست کو 'سیکولر سٹیٹ' کا نام دے کر مذاہب کو خاموش کردیتا ہے۔

اگر تمام مذاہب کے لوگ اس پر متفق ہوجائیں کہ ریاست کا لازمی مذہب ہونا چاہیے تو الحاد کو حکومت کا موقع ہی نہیں مل سکے گا۔ اب الحاد سے تو تمام مذاہب کے لوگ نفرت کرتے ہیں اور اس کو معاشروں کے لیے ذلت اور لعنت سمجھتے ہیں تو کم از کم اس کے خلاف تو ایک ہوا جاسکتا ہے۔

اگر کسی مذہب کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ بہت کم تعداد میں ہیں لہٰذا ان کو حکومت شاید ہی کبھی ملے یا یہ کہ وہ سیکولرازم کے سائے تلے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔ مثال کے طور ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مغرب میں تو سیکولرازم کی حمایت کرتے ہیں لیکن اپنے ممالک میں وہ مذہب کا مطالبہ کرتے ہیں، جس طرح جمعیت علماء ہند بھارت میں سیکولرازم کے لیے خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کو تیار ہے اور پاکستان میں جمعیت علماء اسلام سیکولرازم کا نام بھی سننے کو تیار نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   دینی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں ملتے؟ مولانا محمد جہان یعقوب

وہ ایک بار تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اگر ہم جزیرہ العرب کو دیکھیں تو وہاں مشرکین کی حکومت تھی ہر طرف بتوں کی پوجا اور شرک کا بازار گرم تھا لیکن ایسے میں محمد مصطفیٰ ﷺ آتے ہیں اور دعوت کا کام شروع کردیتے ہیں ان کے ساتھ کچھ مخلص افراد ساتھی ہوجاتے ہیں اور وہ اس کوشش کو صبر و استقامت کے ساتھ جاری رکھتے ہیں۔ ان کی منزل ایک ہی ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کی حکومت، حاکم اعلیٰ صرف انسانوں کا خالق اور ریاست کا مذہب صرف اسلام ہونا چاہیے اور اس منزل تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سالوں تک پرامن عوامی سیاسی جدوجہد کی یہاں تک کہ ان کو کامیابی مل گئی اور پھر سالوں تک ان جگہوں پر بھی حکومت کی جہاں کا اسوقت کا کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

لہٰذا غیر مسلم جو ایسے ملک میں رہتے ہوں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو، ان کو سیکولرازم کے خلاف پرامن اسلامی سیاسی جماعتوں کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ ریاست میں اسلامی نظام کے ہوتے ہوئے ہر مذہب کے لوگوں کو شریعت یہ اجازت دے گی کہ وہ اپنے مذاہب کا کام کریں بلکہ اس حد تک تو اسلام پر تنقید بھی کرسکتے ہیں جس سے ریاست میں کسی قسم کی بغاوت یا فساد کا خطرہ نہ ہو۔

اب جن ممالک میں غیر مسلموں کی اکثریت ہو وہاں سیکولرازم کے خلاف مسلمانوں کو غیر مسلموں کا ساتھ اس شرط پر دینا چاہیے کہ ان کے مذاہب بھی اسلام کے لیے ویسے ہی اپنا سینہ کھلا رکھیں، جیسے اسلام کا سینہ دیگر مذاہب کے لیے کھلا رہتا ہے۔

غیر اسلامی مذاہب کے پاس اگرچہ حکومت کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں، نہ ہی وہ اس قابل ہیں کہ حکومت وہ کرسکیں لیکن بہرحال ان کا حق ہے کہ وہ اپنی حکومت کے لیے جدوجہد کریں اور اس چیز کو واپس لے آئیں جو الحاد نے ان سے چھینا۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

اس کے لیے ان مذاہب کے لوگوں کو چاہیے کہ پورا طریقہ کار مذہب اسلام سے سمجھ لیں کہ کس طرح حکومت بنانے کے لیے کوشش کی جائے اور کس طرح حکومت بنانے کے بعد عوام کو ساتھ لے کر چلا جائے۔

جو سب سے پہلا اور ضروری کام ہے کسی بھی مذہب کے فرد کے لیے وہ یہی ہے کہ ریاست کو الحاد سے چھین کر مذہب کے حوالے کیا جائے اور جتنی جلدی ممکن ہو وہ یہ بات سمجھ جائیں کہ سیکولرازم محض ایک بتی ہے جس کے پیچھے الحادیوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کو لگایا ہوا ہے تاکہ وہ اپنی حکومت قائم رکھ سکیں۔