یہ ایک مذہبی فیصلہ ہے اور سیکولر بھی - ذوالفقار علی بھٹو

ترجمہ: سلیم منصور خالد

اسلام میں جہاں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے، وہیں عقیدۂ ختم نبوت بھی اس ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر ایمان و اعتقاد کی یہ بنیاد متزلزل ہوجائے تو اسلام سے وابستگی کی پوری بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے۔

۲۲مئی ۱۹۷۴ء سے شروع ہونے والی ’تحریک ختم نبوت‘ کے دوران پاکستان کی قومی اسمبلی کے تمام ارکان نے بطور تحقیقاتی کمیٹی جب اپنی کارروائی مکمل کرلی، اور دستور میں ترمیم کرکے منکرینِ ختم نبوت (قادیانیوں) کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ کیا، تب قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے انگریزی میں ایک طویل خطاب کیا۔ ذیل میں اس کا اُردو ترجمہ دیا جارہا ہے۔بعض مخصوص این جی اوز ’قادیانیت‘ کے بارے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں مذکورہ ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ تو صرف علما کے ایک طبقے نے اُٹھایا تھا۔ جناب بھٹو کے زیرنظر خطاب سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فیصلہ پوری قوم نے کیا تھا، جس میں علما اور منتخب عوامی نمایندے بھی شامل تھے اور کوئی ایک ووٹ بھی اس ترمیم کی مخالفت میں نہیں ڈالا گیا تھا۔(مترجم)


جناب اسپیکر! میں جب یہ کہتاہوں کہ یہ فیصلہ ایوان کا متفقہ فیصلہ ہے، تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلے پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبادلۂ خیال کیا، جن میں تمام پارٹیوں اور ہرطبقۂ خیال کے نمایندے موجود تھے۔ اور آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے، یہ ایک قومی فیصلہ ہے۔

یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے، خواہشات اور ان کے جذبات کا عکاس ہے۔ میں نہیں چاہتا ہے کہ فقط حکومت ہی اس فیصلے کی تحسین کی مستحق قرار پائے، اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد اس فیصلے کی تعریف و تحسین کا حق دار بنے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مشکل فیصلہ، کئی پہلوؤں سے بہت ہی مشکل فیصلہ، جمہوری اداروں اور جمہوری حاکمیت کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔

یہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے۔ یہ ۹۰ سال پرانا مسئلہ ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا ہے۔ اس نے ہمارے معاشرے میں بہت سی تلخیاں اور تفرقے پیدا کیے ہیں، لیکن آج کے دن تک اس مسئلے کا کوئی حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ: ’یہ مسئلہ ماضی میں بھی پیدا ہوا تھا، ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔‘ ہمیں بتایا گیا کہ: ’ماضی میں اس مسئلے پر جس طرح قابو پایا گیا تھا، اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔‘ مجھے نہیں معلوم کہ ماضی میں اس مسئلے سے کس طرح نبٹا جاتا رہا، لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ ۱۹۵۳ء میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے کیا کِیا گیا تھا۔

۱۹۵۳ء میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وحشیانہ انداز سے طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔ جناب اسپیکر اور اس ایوان کے محترم ارکان، کسی مسئلے کو دبا دینے سے آپ اس مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔ اگر اسی طرح کے کچھ صاحبانِ عقل و فہم، حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کرکے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے، تو ہم شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکال لیتے، لیکن یہ مسئلے کا صحیح اور درست (genuine)حل نہ ہوتا۔ اس سے ابھرے ہوئے جذبات کو دبایا نہ جا سکتا۔ ممکن ہے مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا۔

ہماری موجودہ کوششوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے، اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے، اورغیر معمولی احساسات اُبھرے، قانون اور امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوا، جایداد اور جانوں کا نقصان ہوا، پریشانی کے لمحات بھی آئے۔ پوری قوم گذشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی، کش مکش اور امید اور بے امیدی کے عالم میں رہی۔ طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں اور تقریریں کی گئیں۔ مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے اور زیادہ پریشانی ہوئی۔

میں یہاں اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ ۲۲اور ۲۹ مئی [۱۹۷۴ء] کو کیا ہوا تھا(۱)۔میں موجودہ مسئلے کی فوری وجوہ کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا، کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا، اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں ہے کہ موجودہ معاملات کی تہہ تک (genesis)جاؤں لیکن میں اجازت چاہتا ہوں کہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلاؤں، جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ۱۳جون کے روز کی تھی۔

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ: ’یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔ پاکستان، مسلمانوں کے مادرِ وطن کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کر لیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت، اسلام کی تعلیمات اور عقیدے کے خلاف سمجھتی، تو اس سے پاکستان کے مقصدِوجود (raison d'etre)اور اس کے تصور کو بھی خطرناک حد تک صدمہ پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا، اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت سے میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر ۱۳جون ہی کو کوئی فیصلہ دے دیا جاتا۔

لاہو رمیں مجھے ایسے بہت سے لوگ بھی ملے، جو اس مسئلے کے باعث شدید طور پر مشتعل (agitated)تھے۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ: ’’آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے، جو پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ اوراگر میں یہ اعلان کر دوں تو اس سے میری حکومت کو بڑی دادوتحسین ملے گی۔ اور ایک فرد کے طور پر نہایت شان دار شہرت اور ناموری حاصل ہوگی‘‘۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ: ’’اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا، تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقعے سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے‘‘۔

میں نے اپنے ان احباب سے کہاکہ: ’’یہ ایک انتہائی پیچیدہ، گہرا اور نہایت بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے نے برعظیم کے مسلمانوں کو فکری سطح پر ۹۰ سال سے مشتعل کررکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے‘‘۔ میرے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ میں اس اضطراری (exigencies) موقعے سے فائدہ اٹھانے (Capitalise) کی کوشش میں کوئی فیصلہ کردیتا۔ میں نے ان کرم فرماؤں سے کہا کہ: ’ہم نے پاکستان میں جمہوریت قائم کی ہے۔ ہم نے جمہوریت بحال کی ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے۔ یہ ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بلند مرتبہ ادارہ ہے۔ میری راے میں،میری ناچیز راے میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے میں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دباؤ (whip) نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلے کے حل کو ارکانِ قومی اسمبلی کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں اور اپنی پارٹی کے ارکان کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود فیصلہ کریں۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ سمبلی میری اس بات کی گواہی دیں گے کہ جہاںمیں نے کئی مواقع پر انھیں بلا کر اپنی پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا اور انھیں پالیسی کے مطابق ہدایات دی ہیں، اور انھیں پارٹی کے اختیارات دیے ہیں، لیکن اس مسئلے پر اور اس موقعے پر میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک ممبر کو بھی بلا کر نہ کوئی ہدایت دی ہے اور نہ اس پراثر انداز ہونے کی کوئی کوشش کی ہے۔

آپ کو یہ بتاتے ہوئے جنابِ اسپیکر، مجھے حیرت نہیں ہو رہی کہ اس مسئلے کے باعث اکثر میں پریشان اور راتوں کو نیند سے محروم رہا ہوں۔ اس مسئلے پر جو فیصلہ ہوا ہے، میں اس کی شاخ درشاخ پیچیدگیوں (ramifications) اور اس ردِعمل (repercussion)سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ جس کا اثر، مملکت کی سلامتی(security) پر ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی سا (light)مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جو برعظیم کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے علیحدہ مملکت چاہتے تھے، اور اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے۔ میں اس فیصلے کو جمہوری طریقے سے راہ یاب کرنے (channelising) میں، اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کررہا:

یہ بھی پڑھیں:   مذہبی ہم آہنگی کے نام پر سیکولرازم کا منجن - محمد سعد

1۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ ’اسلام ہمارا دین ہے۔‘ اسلام کی خدمت پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اوّلین اہمیت رکھتی ہے۔

2۔ ہماری سیاست کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ’جمہوریت ہماری سیاست ہے۔‘ چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلے کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔

3۔ اوراس کے ساتھ میں فخرسے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح پابندی کریں گے کہ ’پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلزم پر ہو۔‘ ہم سوشلسٹ اصولوں پر یقین رکھتے ہیں۔(۲)

یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلے میں ہم نے اپنے کسی اصول سے انحراف نہیں کیا ہے۔ ہم اپنی پارٹی کے تینوں بنیادی اصولوں پر پختگی سے پابند رہے ہیں۔ میں نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ اسلام کے بنیادی اصول اور اعلیٰ ترین معیارات (norms) سماجی انصاف کے حصول کے تقاضوں کے خلاف نہیں ہیں اور ہم سوشلزم کے ذریعے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے حامی ہیں۔

یہ ایک مذہبی فیصلہ بھی ہے اور ایک سیکولرفیصلہ بھی۔ مذہبی فیصلہ اس لحاظ سے ہے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے، جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں،اور سیکولر فیصلہ(۳) اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں۔ ہمارا آئین ایک دنیاوی آئین ہے، اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخرواعتماد سے، بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد، اپنے طبقے کی امنگوں اور اپنے مکتب فکر (sect) کی سوچ کا اظہار کر سکے۔پاکستان کے آئین میں، پاکستانی شہریوں کو اس امر کی ضمانت دی گئی ہے۔

میری حکومت کے لیے اب یہ بات انتہائی اہم فرض کی حیثیت اختیار کر گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کسی قسم کے ابہام (ambiguity) کی گنجایش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی اور مقدس اسلامی فرض ہے۔

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں جناب اسپیکر،اور اس ایوان سے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں کوئی شبہہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم اپنے ملک میں کسی قسم کی غارت گری(vandalism) اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔

جناب اسپیکر، گذشتہ تین مہینوں کے دوران، اور اس بڑے شدید (acute) بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں، کئی لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور چند مزید اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہماری منصبی ذمہ داری تھی۔ ہم اس ملک میں بدنظمی اور فسادی عناصر کا غلبہ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ بدنظمی اور سرکش قوتیں حاوی ہو جائیں۔ حفاظتی اقدامات کرنا ہمارے فرائض میں شامل تھا، جن کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا لیکن میں اس موقعے پر، جب کہ تمام ایوان نے متفقہ طور پر ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے۔ اب، جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہوچکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ایسے افراد سے نرمی(lenience) برتی جائے۔ مجھے امید ہے کہ ان لوگوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا، جنھوں نے اس عرصے میں اشتعال انگیزی سے کام لیا، یا کوئی اور مسئلہ پیدا کیا تھا۔

جناب اسپیکر، جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کامیابی نہیں ہے۔ میں بار بار زور دے کر کہتا ہوں کہ یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے، جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں اس فیصلے پر سارے ایوان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جاسکتا تھا، اگر تمام ایوان کی جانب سے اور یہاں موجود تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا۔

آئین سازی کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا یہ جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ۲۷برس صرف ہوئے، اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یاد گار لمحہ تھا، جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا(۴)۔ اسی جذبے کے تحت ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔

یہ بات کسے معلوم ہے جناب اسپیکر، کہ مستقبل میں ہمیں مزید مشکل، اور زیادہ مشکل ترین مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن میری ناچیز رائے میں، میں سوچتا ہوں کہ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے، یہ مسئلہ سب سے زیادہ مشکل ترین مسئلہ تھا۔ میں شاید یہ سوچنے کی غلطی پر ہوں کہ کل کو اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل مسائل ہمارے سامنے آسکتے ہیں، جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

لیکن، ماضی کو دیکھتے ہوئے، اور اس مسئلے کے تاریخی پہلوؤں پر اچھی طرح غور کرتے ہوئے میں پھر کہوں گا کہ یہ بہت زیادہ مشکل مسئلہ تھا۔ گھر گھر میں اس کا اثر تھا۔ ہر گاؤں میں اس کا اثر تھا اور ہر فرد پر اس کا اثر تھا۔ یہ مسئلہ اپنی وسعت کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک عفریت (monster) کی شکل سی اختیار کر گیا۔

ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہی تھا۔ ہمیں تلخ حقائق کا دیانت داری سے سامنا کرنا ہی تھا، کہ ہمارے لیے اس سے فرار کی کوئی راہ نہیں تھی۔ بلاشبہ ہم ٹال مٹول سے کام لینے کے لیے، اس مسئلے کو سپریم کورٹ یا اسلامی مشاورتی کونسل کے سپرد کر سکتے تھے، یا اسلامی سیکرٹریٹ کے سامنے اس کو پیش کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ حکومت اور حتیٰ کہ افراد بھی مسائل کو ٹالنے کا فن جانتے ہیں اور جس کے تحت وہ انھیں جوں کا توں رکھ سکتے ہیں، اور درپیش صورت حال سے نمٹنے کے لیے معمولی اقدامات پر گزارا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم نے اس مسئلے کو اس انداز سے نبٹانے کی کوشش نہیں کی ہے، کیوںکہ ہم اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔

ہم نے اس مسئلے کو حتمی طور پر حل کرنے کے جذبے سے قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی کی صورت میں رازدارانہ اجلاس کرنے کا کام سونپا۔ پھر قومی اسمبلی کے راز دارانہ اجلاس شروع ہوئے۔ قومی اسمبلی کے رازدارانہ اجلاس منعقد کرنے کی کئی وجوہ تھیں۔ اگر قومی اسمبلی اس رازداری سے اجلاس نہ کرتی، تو جناب! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تمام سچی باتیں اور حقائق ہمارے سامنے آ سکتے تھے؟ اور لوگ اس طرح آزادی اور بغیر کسی جھجک کے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے تھے؟ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ یہاں گیلری میں بیٹھنے والوں کا ان پر دباؤ ہے اورلوگوں تک ان کی باتیں پہنچ رہی ہیں، اور ان کی تقاریر اور بیانات کو اخبارات کے ذریعے شائع کرکے ان کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، تو قومی اسمبلی کے ممبر ان اس اعتماد اور کھلے دل سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کرسکتے، جیسا کہ انھوں نے ان رازدارانہ اجلاسوں میں اظہار خیال کیا۔

اب ہمیں ان رازدارانہ اجلاسوں کی کارروائی کا کافی عرصے تک احترام کرنا چاہیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ کوئی بات بھی خفیہ نہیں رہتی۔ تاہم اُن باتوں کے عام کرنے کا ایک موزوں وقت ہوتا ہے۔ چونکہ اسمبلی کی کارروائی خفیہ (in camera)رہی ہے، اور ہم نے اسمبلی کے ہر رکن کو، اور ان کے ساتھ ان لوگوں کو بھی، جو ہمارے سامنے پیش ہوئے انھیں یہ کامل یقین دلایا تھا کہ ان کی باتوں کو راز رکھا جائے گا، جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، ان بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جائے گا۔ ان باتوں کو سیاسی یا کسی اور مقصد کے لیے بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن قوانین میں تازہ ترین ترمیم اور ختمِ نبوت کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

میرے خیال میں، ایوان کے لیے یہ ضروری اور مناسب ہے کہ وہ ان اجلاسوں کی کارروائی کو ایک خاص وقت تک راز داری (secrecy) میں رکھے اور ظاہر نہ کرے۔ ایک مناسب وقت گزرنے کے بعد ہمارے لیے ممکن ہوگا کہ ہم ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائی کو منظرعام پر لے آئیں،کیوں کہ اس کے ریکارڈ کا ظاہر ہونا بھی ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان اجلاسوں کے ریکارڈ کو دفن (bury) ہی کر دیا جائے، ہرگزنہیں(Not at all)۔ اگر میں یہ کہوں تو یہ ایک خلافِ واقعہ اور غیر حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔ (۵)

میں فقط یہ کہتا ہوںکہ اگر اس مسئلے کا باب ہمیشہ کے لیے بند کرنے، اور ایک نئے آغاز کے لیے، نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے، آگے بڑھنے کے لیے اور قومی مفاد کو محفوظ رکھنے کے لیے اور پاکستان کے حالات معمول پر رکھنے کے لیے، اور اس مسئلے کے حوالے سے ہی نہیں، بلکہ دوسرے مسائل کی بھی مناسبت سے، ہمیں ان اُمور کو خفیہ رکھنا ہوگا۔

میں ایوان پر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل، دوسرے کئی مسائل پر تبادلۂ خیال اور بات چیت اور مفاہمت کا نقیب بنے گا۔ ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ حل ہمارے لیے نیک شگونی کا باعث ہے، اور اب ہم آگے بڑھیں گے، اور تمام توقعات، لڑائی جھگڑے کی دعوت دینے والے مسائل کو مفاہمت اور مطابقت کے جذبے سے حل کریں گے۔

جناب اسپیکر، میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ اس معاملے کے بارے میں میرے جو احساسات تھے، انھیں بیان کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہے، جس کا ہمارے عقائد سے تعلق ہے۔ یہ پورے ایوان اور پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ عوامی خواہشات کے مطابق ہے۔ میرے خیال میں یہ انسانی (humanly)طاقت سے باہر تھا کہ یہ ایوان اس سے بہتر کچھ فیصلہ کر سکتا۔ اسی طرح میرے خیال میں یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کے لیے موجودہ فیصلے سے کم کوئی اور فیصلہ ہو سکتا۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہو سکتے ہیں، جو اس فیصلے سے خوش نہ ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ فیصلہ ناگوار ہو۔ یہ ایک فطری سی بات ہے۔ ہم یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ اس مسئلے کے فیصلے سے تمام لوگ خوش ہوں گے، جو گذشتہ ۹۰سال سے حل نہیں ہو سکا۔ اگر یہ مسئلہ سادہ سا ہوتا اور ہر ایک کو خوش رکھنا ممکن ہوتا، تو یہ مسئلہ بہت پہلے حل ہو گیا ہوتا، لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا تھا۔ ۱۹۵۳ء میں بھی ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ۱۹۵۳ء میں حل ہو چکا تھا، وہ لوگ اصل صورت حال کا صحیح تجزیہ نہیں کرتے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں، جو اس فیصلے پر نہایت ناخوش ہوں گے۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں ان لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کروں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ یہ ان لوگوں کے طویل المیعاد مفاد میں ہے کہ یہ مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ آج یہ لوگ غالباً ناخوش ہی ہوں گے، انھیں یہ فیصلہ پسند نہیں ہوگا اور اس فیصلے پر رنجیدہ ہوں گے۔ لیکن حقیقت پسندی (objectively) سے کام لیتے ہوئے، اور ذاتی طور پر ان لوگوں سے یہ کہوں گا، کہ ان کو بھی اس بات پر خوش ہونا ہی چاہیے کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ حل ہوا، اور ان کو آئینی حقوق کی ضمانت حاصل ہوگئی۔

مجھے یاد ہے کہ جب حزبِ اختلاف کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی[م:۲۰۰۳ء] نے یہ تحریک پیش کی، تو انھوں نے ان لوگوں کو فیصلے کی روشنی میں مکمل تحفظ دینے کا ذکر کیا تھا، جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ اس یقین دہانی پر یہ پورا ایوان اور پوری قوم پُرعزم ہے۔ اب یہ ہرپارٹی کا فرض ہے، یہ حکومت کافرض ہے، یہ حزبِ اختلاف کا فرض ہے اور یہ ہر شہری کافرض ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی یکساں طور پر حفاظت کرے۔

یہ اَمر واقعہ ہے کہ اسلام کی یہی روح (essence) ہے، اور اس کی نصیحت رواداری ہے۔ مسلمان ہمیشہ رواداری پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اسلام نے فقط رواداری کی تبلیغ نہیں کی، بلکہ پوری تاریخ میں اسلامی معاشرے نے رواداری سے کام لیا ہے۔ اسلامی معاشروں نے اس تیرہ و تاریک زمانے (Dark Days)میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا، جب کہ یورپ میں عیسائیت ان پر ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی۔اگر یہودی دوسرے حکمران معاشروں سے بچ کر، عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت ایک اسلامی مملکت ہے، ہم مسلمان ہیں، ہم پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا مقدس (sacred)فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں، تمام لوگوں اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ فراہم کریں۔

جناب اسپیکر، ان الفاظ کے ساتھ ہی مَیں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔آپ کا شکریہ!


۱- ۲۲مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ کا سیاحتی گروپ ریل گاڑی کے ذریعے ملتان سے راولپنڈی کو روانہ ہوا۔ طلبہ کی قیادت اسٹوڈنٹس یونین کے صدر ارباب عالم کر رہے تھے (یاد رہے یہ اسٹوڈنٹس یونین، اسلامی جمعیت طلبہ کے حمایت یافتہ طلبہ پر مشتمل تھی)۔ جیسے ہی ریل گاڑی قادیانی جماعت کے مرکز ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی، تو وہاں قادیانی مبلغین نے ان طلبہ میں اپنی جماعت کے پروپیگنڈا پمفلٹ تقسیم کرنا چاہے۔ تب جواب میں طلبہ نے پمفلٹ لینے کے بجاے ’ختم نبوت زندہ باد‘ ’تاج دارِ ختمِ نبوت زندہ باد‘ اور ’مرزائیت مردہ باد‘ کے نعرے بلند کیے۔ ایک ہفتے کے سیاحتی دورے کے بعد مذکورہ طلبہ، راولپنڈی سے واپس ملتان آرہے تھے۔۲۹مئی۱۹۷۴ء کو جب ان کی ریل گاڑی ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو قادیانی نوجوانوں کی ’فورس‘ نے لاٹھیوں، ڈنڈوں اور آہنی مکوں سے ان طلبہ پر حملہ کر دیا، جس سے متعدد طلبہ بے ہوش اور بہت سے طلبہ بُری طرح زخمی ہوگئے۔ ان مجروح طلبہ کو لے کر گاڑی ربوہ سے چلی اور فیصل آباد پہنچی۔ اسی دوران یہ خبر فیصل آباد پہنچ چکی تھی اور شہر بھر میں اشتعال پھیل گیا تھا۔ اس پر سخت احتجاج شروع ہوگیا جو ملک گیر ’تحریک ختم نبوت‘ میں تبدیل ہو گیا۔ اس طرح پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں آگیا۔ اس احتجاج میں پاکستان کے علما، سیاسی جماعتیں، طلبہ تنظیمیں، وکلا، اساتذہ، دانش ور، ادیب اور تاجر شریک ہو گئے۔یہ احتجاج اس وقت ختم ہوا، جب۷ستمبر۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے دستور پاکستان میں دوسری ترمیم کا بل منظور کیا، جس کے تحت ختم نبوت کے منکرین کو غیرمسلم قرار دیا گیا۔ یہاں بھٹو صاحب اس واقعے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ (مترجم)

۲- پیپلزپارٹی کے منشور میں ’سوشلزم‘ بطور پروگرام شامل تھا۔ ہمارا اُس وقت بھی اِس نکتے سے اختلاف تھا اور آج تو دنیا نے خود ۷۳سالہ تجربے سے دیکھ لیا کہ ’سوشلزم‘ انسانی فطرت سے متصادم نظریہ تھا،اور عملاً ۱۹۹۱ء میں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اب یہ محض یادگار کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں محفوظ حوالہ ہے۔

۳- یہاں وزیراعظم بھٹو کی مراد یہ ہے کہ پارلیمنٹ، ’’عوامی اُمنگوں کے مطابق کثرت آرا سے فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے‘‘، اور یہی اصول مغرب کی سیکولر جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اس طرح مذہبی بنیادوں کے علاوہ ہم نے مسلمہ جمہوری اصول کے تحت بھی یہ فیصلہ کیا ہے۔

۴- اشارہ اس طرف ہے کہ پاکستان میں دستور سازی کا مسئلہ تاخیر کا شکار رہا۔ آخر کار مارچ۱۹۵۶ء میں متفقہ دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان منظور ہوا، مگر اکتوبر۱۹۵۸ء میں مارشل لا حکومت نے دستور توڑ دیا۔ پھر ۱۹۶۲ء میں اسی مارشل لا حکومت نے ایک دستور مسلط کیا، جسے مارچ ۱۹۶۹ء میں دوسرے مارشل لا نے ختم کر دیا۔ دسمبر۱۹۷۱ء میں پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا۔ باقی ماندہ ملک میں ۲۷برس بعد ۱۹۷۳ء میں آئین بنا۔

۵- افسوس کہ ہماری حکومتوں نے اس ریکارڈ کو عوام کے لیے نہ کھولا۔ ۲۰۱۰ء میں قومی اسمبلی کی اسپیکر ڈاکٹرفہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کارروائی کو مشتہرکرنے کا اعلان کیا تھا، مگر بعدازاں وہ اس پر عمل نہ کرسکیں۔ افسوس کہ اس کارروائی کو قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر آج تک نہیں فراہم کیا گیا، البتہ اب قومی اسمبلی کی یہ رازدارانہ کارروائی دسمبر ۲۰۱۵ء سے انٹرنیٹ کے اس پتے پر موجود ہے۔