نو عمر بچے اور ہماری حکمت – ایمن طارق

چھلک پڑنے کو بیتاب آنکھیں اور کچھ شکایت بھرا انداز، اسکول کے گیٹ پر ہمارے منتظر رہنے کے کافی دیر بعد اندر سے نمودار ہوئے تھے صاحبزادے۔ سلام کے جواب میں ایک روہانسی سی آواز آئی اور شک سا ہوا کہ شاید آنسو بھی ٹپکا ہے، لیکن آپ جناب آگے قدم بڑھا چکے تھے۔ مطلب کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی۔ ہم نے بھی عافیت اسی میں جانی کہ پیچھے پیچھے چل پڑیں اور مناسب وقت پر تسلی تشفّی کے الفاظ بول کر اندرونی کہانی دریافت کریں۔ راستے بھر گاڑی کے اسٹیئرنگ کے ساتھ ہمارا دماغ بھی گھومتا اور کڑیاں ملاتا رہا کہ محترم سے بات کا آغاز کہاں سے کیا جائے؟ کیونکہ حالات کی نوعیت بتا رہی تھی کہ ایک لفظ بھی چنگاری ثابت ہوگا، اور یا تو بھڑک اٹھیں گے اور آگ پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ ورنہ ان کے جذبات کے سیلاب میں ہم ڈوب کر تیرتے ہی رہ جائیں گے۔

گھر پہنچ کر ان کو محبت سے صرف اتنا ہی کہا کہ بیٹا! کپڑے بدل لو تو کھانا لگا دیں، اور یہ بھی قابلِ برداشت نہ تھا اور ان کے پیر پٹختے اوپر جانے کی آواز سے ہم دہل سے گئے۔ آج کچھ ایسا ہوا ہے جو پہلے نہیں ہوا اور صاحبزادے ہم سے اپنے چہرے کے تاثرات چھپانا چاہ رہے ہیں، اسی لیے روزانہ کی نصیحتیں ہم نے حکمتاً گول کر دیں اور جوتے خود جگہ پر رکھ کے، ان کا زمین پر پڑا کوٹ ہینگر پر لٹکاکے اور سیڑھیوں پر پڑا بیگ اٹھا کر دبے پاؤں ان کے کمرے میں رکھ آئے۔ کچھ ایسا لگا جیسے کمبل میں گھس کر وہ سسکیاں سی لے رہے ہوں لیکن رکنا اور پوچھنا اس وقت خطرناک تھا۔

یہ صورتحال ہم میں سے بہت سے ماں باپ کے لیے انوکھی نہیں بلکہ ہم اس طرح کے رویے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے اس طرح کے رویے والدین کو ہر دفعہ ایک تکلیف دیتے ہیں اور فکر معاش، زندگی کے اور گوں نا گوں مسائل، مقابلے بازی کی دنیاوی دوڑ ویسے ہی تلخی کو مزاج کا حصہ بنا دیتی ہے اور ان حالات میں بچوں کے مسائل! جن کو سمجھے بغیر ہم ایسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ جو حالات کو سنوارنے کے بجائے مزید بگاڑ کی طرف لے کر جاتا ہے اور ضد، ہٹ دھرمی اور من مانی ان کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔

دس، گیارہ سال تک پہنچنے والے بچے جن کو pre- teens بھی کہا جاتا ہے اندر سے وہی معصوم، محبت کے متوالے، خوبصورت خواب دیکھنے والے اور خوشبودار شخصیت کے حامل ہوتے ہیں، جیسے وہ چھوٹی عمر میں ہمارے پیچھے پیچھے پھرتے، ہم سے توجہ کے طالب ہوتے تھے۔ البتہ بظاہر دیکھنے سے ان کی جسمانی نشوونما ہمیں اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اب یہ بڑے ہو گئے اور توقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہم ان سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ ہمارے یہ دل کے ٹکڑے عمر کی منازل طے کر کے آگے ضرور بڑھ گئے ہیں لیکن ابھی کچھ وقت ہے جس سے پہلےان کو ہمارے تحمّل اور برداشت کے ساتھ ان کے اس نئے سفر میں ان کو سمجھنے اورspace دینے کی ضرورت ہے۔ اس عمر کے بچوں کے بدلتے ہوئے رویے کوئی انوکھی اور غیر معمولی بات نہیں کیونکہ اندر سے وہ ابھی تک بچے ہی ہیں، جو نہیں جانتے کہ اپنے جذبات اور کیفیات کو الفاظ کا روپ کیسے دیا جائے؟ وہ خود کو اپنی ماں اور باپ سے الگ ایک individual سمجھنے لگتے ہیں اور اپنی ذات کے بارے میں بہت سے انکشاف ان کو پریشان کر دیتے ہیں، جیسے میں دوسروں سے لمبا ہوں یا قد میں چھوٹا؟ میرا رنگ گہرا ہے یا صاف؟ میں intelligent ہوں یا average؟ میں بہت تیز ہوں یا سست؟ لوگ مجھے دوست بنانا پسند کرتے ہیں یا نہیں؟ اور بہت سی باتیں اور خیالات ان کے دماغ میں آتے ہیں اور ان سے گھبرا کر اور کبھی چڑ کر وہ اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں سے بھی الجھ سکتے ہیں، آپ پر اونچی آواز میں چیخ سکتے ہیں، کھانا چھوڑ کر ضد پر آ سکتے ہیں، گھر میں داخل ہو کر چیزوں کو ٹھوکریں مار سکتے ہیں اور یہ سب بالکل فطری اور متوقع ہے۔

ہم کسی بھی دماغی لحاظ سے کمزور شخص سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جو بہت ناگوار گزرے لیکن چونکہ ہمارے دماغ نے یہ طے کر لیا ہوتا ہے کہ یہ تو ہے ہی ایسا، یا اس دماغی کمزوری کا رزلٹ یہی نکلتاہے، اسی لیے ہم اس کے رویے کو ignore کرتے ہیں۔ اس طرح ہمیں ان بچوں کے حوالے سے بھی اپنے دماغ میں اس حقیقت کو راسخ کرنا ہوگا کہ بچوں کی عمر کا یہ حصہ بڑا نازک ہے۔ چاہے ان کے پاؤں پٹخنا آپ کو لرزادے یا ان کا ' I don't care 'کہناآپ کے دل کو چیر دے، لیکن یہ صبر کا وقت ہے اور سمجھنے کا۔ بڑھتے ہوئے pre- teen بچے جب puberty کی طرف بڑھتے ہیں تو جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے مشکل میں ہوتے ہیں اور وہی بچہ جو چند لمحے پہلے آپ کے پکائے ہوئے لزانیہ کو بڑے شوق اور محبت سے کھا رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اپ کے اسکرین ٹائم سے منع کرنے پر آپ کی ساری محبت بھول کر بالکل اجنبی بن سکتا ہے۔ کبھی کبھی بچے یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے اندر کسی چیز پر ضد کی کتنی طاقت ہے اور وہ کس حد تک اپ سے misbehave کر سکتے ہیں اور پھر وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آپ جواباً کیا کریں گی۔ والدین کے لیے اور خصوصاًماؤں کے لیے parenting کے سفر کا یہ مرحلہ بہت ہی چیلنجنگ ہے جس کے لیے کچھ tips فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں :

1۔ ان کے mood swings اور غصے کے وقت آپ الجھنے اور سمجھانے کے بجائے منظر سے ہٹ جائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ وہ آپ کی شکل دیکھ کر یا آنسو دیکھ سب غم بھول جائیں گے کیونکہ اب ان کےلیے ان کے جذبات کبھی کبھی آپ سے زیادہ قیمتی ہیں۔ 2

۔ بچے کا دوبارہ سامنا کرنے اور گفتگو کا آغاز کرنے سے پہلے خود غور کریں کہ معاملہ کیا ہے اور background پرابلم کیا ہے؟ اس کے لیے بچے کے دوستوں سے، ٹیچرز سے، بہن بھائیوں سے معلومات اکھٹی کی جا سکتی ہیں لیکن ایسے کہ کسی کے سامنے اس کی عزتِ نفس نہ مجروح ہو۔ ہو سکتا ہے اسکول کے فٹ بال ٹرائل میں وہ کامیاب نہ ہوا ہو، ہوسکتا ہے اس کا best friend کسی اور کا دوست بن گیا ہو، یا ٹیچر کی بے توجہی کا شکار ہوا ہو، یا باقی سب کلاس فیلوز اس کا مذاق اڑاتے ہوں کہ تم کو تمہاری امی موبائل نہیں دیتیں، یا پھر کسی کی bullying کا شکار ہوا ہو؟

3۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی بھی حدود کا تعین کریں کہ کس حد تک ہم بچے کہ اس رویّے کو چھوٹ دے سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کسی بھی صورت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنے بدلتے ہوئے موڈ میں کسی کو جسمانی تکلیف دے، کوئی توڑ پھوڑ کرے، ماں باپ کو برے الفاظ کہے یا اپنا سر دیوار سے ٹکرا دے۔ اس کی سمجھ اس کو جب ہی آئے گی جب آپ ان رویّوں پر بالکل بے لچک ہوں۔ ہاں! البتہ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دینا، رو لینا، چیخ لینا، پاؤں پٹخ لینا، لڑ لینا، کچھ وقت کے لیے سو جانا، یہ سب وہ رویّے ہیں جن کو برداشت کر کے جذبات کا اُبال باہر آنے دینا والدین کی حکمت ہے۔

4۔ بہت اہم بات یہ سمجھنا بھی ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس صورتحال کا شکار ہو تو وہ خود کو سب سے مظلوم اور ناکام ماں باپ تصور نہ کرے کیونکہ انہی سارے phases سے تمام والدین گزرتے ہیں، اور قابل اعتماد دوستوں سے اپنے ان مسائل کو شیئر کرلینا بھی کبھی کبھی بہت اچھا ہے۔

5۔ مائیں خصوصاًجذبات کے اس اتار چڑھاؤ کو شکایتیں بنا کر باپوں کے گوش گزار کرنے سے گریز کریں اور اس مرحلے کو اچھی حکمت سے، مناسب وقت دیکھ کر پیار محبت سے خود ہی ڈیل کر لیں تو اچھا ہے۔ البتہ بوقتِ ضرورت باپ کی مداخلت بھی ضروری ہے۔

6۔ ہر ایک کے سامنے اپنے بچوں کے ان رویّوں کا رونا رونا یا دوسروں کے سامنے صورتحال، پس منظر اور مسئلے کی نوعیت کا اندازہ کیے بغیر ان بچوں کو label کر دینا کہ ' کہ آپ کی تو عادت بن گئی ہے ہر وقت رونا، یاآپ کی ہی غلطی ہے'' یہ طریقہ بہت تباہ کن اور بچے کو ہٹ دھرم، ڈھیٹ اور بے شرم بنا دیتا ہے اور اس کی عزتِ نفس کو ختم کرتا ہے

7۔ اور سب سے کارگر ہے ان بچوں کے لیے دعا اور ان کے مزاج میں نرمی، محبت، ٹھہراؤ،صبر کے لیے اللہ سے مدد مانگنا کیونکہ کبھی کبھی ہم خود اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور اس وقت صرف ایک ہی غیبی مدد ہمت بندھا سکتی ہے۔ بچوں کے سرہانے بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرنا اوران کے لیے راتوں کو اٹھ کر گڑگڑانا ہی کبھی کبھی سکون دل کا سبب بنتا ہے۔

Comments

ایمن طارق

ایمن طارق

ایمن طارق جامعہ کراچی سے ماس کمیونی کیشنز میں ماسٹرز ہیں اور آجکل انگلینڈ میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک اردو ٹیلی وژن چینل پر مختلف سماجی موضوعات پر مبنی ٹاک شو کی میزبانی کرتی ہیں۔ آپ اپنی شاعری ، تحریر و تقریر کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور دل میں تبدیلی کی خواہش مند ہیں۔ برطانوی مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر فلاحی اور دعوتی کاموں کے ذریعے سوسائٹی میں اسلام کا مثبت تصور اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.