یزیدِ وقت کو اونچا سنائی دیتا ہے - اسماعیل احمد

مولانا مودودی نے اپنی شاندار تصنیف "خلافت و ملوکیت "میں اسلام میں خلافت اور بادشاہت کے فرق کو نہایت مدلّل انداز میں بیان کر دیا۔ کم ازکم ان کی تصنیف پڑھنے کے بعد یہ جاننے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے کہ اسلام میں سیاست و حکومت کا تصور کیا ہے؟ اسلام میں حقِ حاکمیت کسے حاصل ہے؟اسلام میں حکومت کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ اور اس طرح کے دیگر بے شمار مسائل جو سیاست و حکومت کے باب میں پیداہوتے ہیں ،اسلام کی روشنی میں ان کا حل پیش کر دیا گیا۔

کیا کِیا جائے کہ صورتحال نہایت واضح ہونے کے باوجود یہ سوال پاکستان جیسے معاشروں میں سر اٹھاتے رہتے ہیں کہ اسلام نے کوئی سیاسی نظام دیا بھی یا نہیں۔ کیا حاکم ِوقت پر اسلام نے کوئی پابندی لگائی بھی یا وہ ظلِ الہیٰ ہے جوچاہے کرے۔کوئی مذہبی یا اخلاقی حدود و قیود مسندِاقتدار پر براجمان ہونے والوں پر بھی لاگو ہیں یا نہیں؟ ہمارے کچھ منجھے کالم نویس اور دانشور "سیاسی عصبیت " کا نعرہ لگا کر ابن ِخلدون کی روح کو تکلیف کو پہنچاتے ہوئےحاکمین وقت کو جب ہر طرح کے حساب اور احتساب سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں اور ان کے بال بچوں کی سیاست میں تشریف آوری کو موجودہ صدی کا سب سے بڑا جمہوری مظہر قرار دیتے ہیں تو جی میں یہی آتی ہے کہ پھر کیوں نہ واقعہ کربلا کو اپنی تاریخ سے کوئی "این آر او"کر کے نکال دیا جائے۔کیونکہ اگر ہر طرح کے حاکم کو صرف جمہوریت یا بندوں کی گنتی میں اکثریت کے باعث جو جی میں آئے کرنے کی اجازت ہے اور عدالتیں اس کے کسی مشکوک فعل پر بازپرس کا اختیار نہیں رکھتیں اور عام رعایا کو بھی ایک دفعہ حاکم ِوقت کو اپنے سروں پر بٹھانے کے بعد پھر پانچ سال اس سے کچھ بھی پوچھنے کا حق حاصل نہیں ہے تو پھرکربلا کے خونی میدان اور کوفہ کے تپتے ہو ئے ریگستان میں آل نبیﷺکی لاشوں کو اتفاقی حادثہ کہہ دیا جائے جو محض کسی غلط فہمی سے پیش آگیا۔

جی نہیں! ایسا ہر گز نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت مودودیؒ نے اسلامی دستور کےجو بنیادی اصول گنوائےآزادانہ انتخاب،شورائی نظام، اظہاررائے کی آزادی،خدا اور خلق کے سامنے جواب دہی،بیت المال کا بطور امانت استعمال ،قانون کی حکومت، کامل مساوات۔اِن میں سے بیشتر آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا طرہ امتیاز ہیں۔انتظامِ حکومت کے ضمن میں یہ روشن اصول ہی دراصل ترقی یافتہ ملکوں کے "ترقی یافتہ" ہونے کا سبب ہیں۔ دنیا کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک جس قدر ان اصولوں سے صرف ِ نظر کرتے جاتے ہیں اسی قدر بدحالیوں کا سامنا کرتے چلے جاتے ہیں۔ امامِ عالی مقام مسلمانوں کے لیے ہی نہیں ،تمام دنیا کےلیے حضرت محمدؐاور ان کے خلفائے راشدین کے سنہری دور کو اپنی بے مثال قربانی سے بطور نمونہ ثابت کرگئے کہ دیکھ لو یہاں تک میرے نبیؐ اور انؐ کے چار یاروں کا جمہوریت اور مساوات سے بھرپور دور ہے اور اس کے بعد شخصی حکومتوں اور خاندانی بادشاہتوں کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ امامِ عالی مقام کی شہادت کامقصد خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل ہونے والے تغیرات سے روکنا تھا۔خلافت جس کا نقطہ آغاز شورائیت اور جمہوریت سے ہوتا ہے۔شاید وقتی طور پر آپؑ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ ایسا ہوا کہ یزید اور یزید کے بعد خاندانی بادشاہت رائج ہوگئی ۔ لیکن تاریخ ِ عالم نے یہ ثابت کیا کہ جلد یا بدیر دنیا کے بیشتر ممالک نے خاندانی بادشاہت کو خیر باد کہہ کرجمہوریت پربطورنظم حکومت مہر ثبت کر دی۔مگر افسوس کے بیشتر اسلامی ممالک پر آج بھی بادشاہت کی گرد چھائی ہوئی ہے۔ جمہوری کہلانے والے اسلامی ممالک کی سیاسی پارٹیاں موروثیت کی لپیٹ میں ہیں۔ سب سے بڑھ کر امامؑ کی قربانی جس مذہب کے ماننے والوں کے لیے تھی ، وہی امامؑ کے مقصد ِ شہادت سے نابلد نظر آتے ہیں۔

ایک بار پھر 10 محرم کی آمد ہے، دو چھٹیاں ہوں گی، کچھ لوگ "ماتم" کریں گے ، کچھ "ماتم " کی مذمت کریں گے " کچھ اس"مذمت " کی مذمت کریں گے ۔ یہی بحثا بحثی بعض جگہوں پر خدانخواستہ سانحات کا سبب بھی بنے گی ۔ مگر امام حسین ؑ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کی شہادت کا پیغام یاد کرنے کی کوشش وہ کام ہے، جو اِس سارے منظر سے سب سے زیادہ غائب رہے گا۔کوئی ہے جو اس پیغام کو یاد رکھنےکی کوشش کرے۔

اذان آج بھی جاری ہے تیرے اکبرؑ کی

یزید ِ وقت کو اونچا سنائی دیتا ہے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.