ماہ محرم، دس محرم کا روزہ، فضیلت اور سبب – عادل سہیل ظفر

دس محرم کے روزے کی فضیلت بیان کرنے سے پہلے مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصراً دس محرم کے روزے کی تاریخ اور سبب بھی ذِکر کرتا چلوں، تا کہ پڑھنے والے اِن شاء اللہ یہ سمجھ جائیں کہ دس محرم کی فضیلت یا اِس دِن روزہ رکھنے کے اجر کا نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم، جنت کے نواجوانوں کے سردار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چوتھے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کے بیٹے حسین بن علی رضی اللہ عنہما و أرضاہُما کی شہادت جس کے واقع ہونے کی تاریخ دس محرم بتائی جاتی ہے، سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ماہ محرم کی فضیلت

اللہ جلّ جلالہ ُ کا فرمان ہے اِنَّ عِدَّۃُ الشُّھُورِعِندَ اللَّہِ اَثنا عَشَرَ شَھراً فِیِ کِتَابِ اللَّہِ یَومَ خَلَق َ السَّمَوَاتِ وَ الاَرض َ مِنھَا اَربعَۃَ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّینُ القَیِّمُ فَلا تَظلِمُوا فَیھِنَّ اَنفُسَکُم وَقَاتِلوُا المُشرِکِینَ کآفَۃً کمَا یقَاتِلُونَکُم کآفَۃً وَ اعلمُوا اَنَّ اللَّہَ مَعَ المُتَقِینَ بِلا شک جِس دِن اللہ نے زمین اور آسمان بنائے اُس دِن سے اللہ کے پاس اللہ کی کتاب میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے جِن میں چار حُرمت والے ہیں اور یہ درست دِین ہے لہذا تُم لوگ اِن مہینوں میں اپنے آپ پر ظُلم نہ کرو اور شرک کرنے والوں سے پوری طرح سے لڑائی کرو جِس طرح وہ لوگ تُم لوگوں کے ساتھ پوری طرح سے لڑائی کرتے ہیں، اور جان رکھو کہ اللہ تقویٰ والوں کے ساتھ ہے(سورت توبہ(9) /آیت 36)

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا الزَّمَانُ قَد استَدَارَ کَہَیئَتِہِ یوم خَلَقَ اللَّہ ُ السَّماواتِ وَالاَرضَ السَّنَۃُ اثنَا عَشَرَ شَہرًا منہا اَربَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَاثَۃٌ مُتَوَالِیَاتٌ ذُو القَعدَۃِ وَذُو الحِجَّۃِ وَالمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الذی بین جُمَادَی وَشَعبَانَ سال اپنی اُسی حالت میں پلٹ گیا ہے جِس میں اُس دِن تھا جب اللہ نے زمنیں اور آسمان بنائے تھے، سال بار ہ مہینے کا ہے جِن میں سے چار حُرمت والے ہیں، تین ایک ساتھ ہیں، ذی القعدہ، ذی الحج، اور مُحرم اور مُضر والا رجب جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے(صحیح البُخاری /حدیث 3025/کتاب بدا الخلق /باب2، صحیح مُسلم /حدیث 1679/کتاب القسامۃ و المحاربین و القصاص و الدِیّات /باب9)

یعنی محرم اُن مہینوں میں سے ہے جِس میں اللہ کی طرف سے لڑائی اور قتال وغیرہ سے منع کیا گیا ہے، اِس کے عِلاوہ محرم کے مہینے میں روزے رکھنے کی ایک فضیلت ملتی ہے، جِس کا ذِکر اور سبب اِن شاء اللہ ابھی ذِکر کیا جائے گا،

دس محرم کا روزہ، فضیلت اور سبب

دس محرم ہماری اِسلامی تاریخ کا وہ دِن جِس کے متعلق بہت قصے کہانیاں پھیلائی جا چکی ہیں، اور ہر سال اِن میں مزید رنگ آمیزی کر کے اِنہیں نشر کیا جاتاہے، ایسے قصے کہانیاں جو اُمتِ مُسلّمہ کو فتنے اور فساد کا شکار کرنے کے بنیادی اسباب میں سے ہیں، مسلسل پھیلائے جا تے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کی کاروائیوں کا اتنا افسوس اور دُکھ نہیں، کیونکہ یہ سب کچھ اُنہوں نے تو کرنا ہی ہوتا ہے۔ زیادہ دُکھ اور افسوس اپنے اُن کلمہ گو بھائی بہنوں پر ہے جو، خُرافات اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بخشش پائے ہوئے اور جنتی ہونے کی اسناد پانے والے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی کِردار کُشی پر مبنی اِن کہانیوں اور من گھڑت قصوں کو گویا کہ قُرآن اور سُنّت کی طرح سینوں سے لگائے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اطمینان و اضطراب - مفتی منیب الرحمٰن

محرم کے مہینے کی فضیلت کا ذِکر ابھی کیا گیا ہے، جِس کے عِلاوہ قُران کریم میں تو اِس مہینے کی کوئی اور فضیلت بیان نہیں فرمائی گئی۔ جی ہاں، اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے اِس ماہ یا اِس کے کِسی خاص دِن کے بارے میں ہمیں کچھ مزید تعلیم دِی گئی ہے، آئے پڑھتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیا بتایا، سکھایا گیا ہے۔

عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودی دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےدریافت فرمایا کہ﴿ یہ کیا ہے؟ ﴾، تو اُنہیں بتایا گیا کہ " یہ دِن اچھا ہے (کیونکہ)اِس دِن اللہ نے بنی اسرائیل کو اُن کے دشمن (فرعون )سے نجات دِی تھی تو موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا "، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَانَا أحقُ بِمُوسیٰ مِنکُم، فَصَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ میرا حق موسیٰ پر تُم لوگوں سے زیادہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِس دِن کا روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حُکم دِیا (صحیح البُخاری /حدیث2004/کتاب الصوم/باب69) ابو موسی رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ"دس محرم کے دِن کو یہودی عید جانتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےاِرشاد فرمایا فَصُومُوهُ أَنْتُمْ تُم لوگ اِس دِن کا روزہ رکھو "(صحیح البُخاری /حدیث 2005/کتاب الصوم/باب69۔)

دس محرم کا روزہ رمضان کے روزوں سے پہلے بھی تھا، لیکن فرض نہیں تھا

اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر الفاروق کے بیٹے عبداللہ، اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایات ہیں کہ اِس دس محرم کا روزہ اہلِ جاہلیت بھی رکھا کرتے تھے اور رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکھا کرتے تھے اور اِس کا حُکم بھی فرمایا کرتے تھے اور اِس کی ترغیب دِیا کرتے تھے، جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ اِس کا حُکم دِیا، نہ اِس کی ترغیب دِی اور نہ ہی اِس سے منع کیا۔ (یہ مذکورہ بالا باتیں، صحیح مُسلم /کتاب الصیام / باب صوم یوم عاشوراء کی مختلف احادیث کا مجموعہ ہیں)

یہ بھی پڑھیں:   اطمینان و اضطراب - مفتی منیب الرحمٰن

پہلے اموی خلیفہ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ ھذا یَومُ عَاشُورَاء َ ولَم یَکتُب اللَّہُ عَلَیکُم صِیَامَہُ وانا صَائِمٌ فَمَن شَاء َ فَلیَصُم وَمَن شَاء َ فَلیُفطِر یہ دس محرم کا دِن ہے اور اللہ نے تُم لوگوں پر اِس کا روزہ فرض نہیں کِیا، اور میں روزے میں ہوں تو جو چاہے وہ روزہ رکھے اور جو چاہے وہ افطار کرے (صحیح البُخاری حدیث 2003 /کتاب الصوم/باب69، صحیح مُسلم حدیث 1169/کتاب الصیام/باب19)

دس محرم کے روزے کی فضلیت اور أجر

عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے مَا رَأَيْتُ النَّبِىَّ - صَلّى اللهُ عَليهِ وَ علیٰ آلہِ وَسلّمَ - يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، إِلاَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ . يَعْنِى شَهْرَ رَمَضَانَ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ نہ تو وہ(صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم) کِسی بھی اور دِن کے (نفلی)روزے کواِس عاشوراء کے دِن کے روزے کے عِلاوہ زیادہ فضلیت والا جانتے تھے اور نہ کِسی اور مہینے کو اِس مہینے سے زیادہ (فضیلت والا جانتے تھے، یعنی رمضان کے مہینے کو﴾ (صحیح البُخاری /حدیث 2006/کتاب الصوم/باب69)

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ایک لمبی حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ اَحتَسِبُ علی اللَّہِ اَن یُکَفِّرُ السّنَۃَ المَاضِیَۃَ اور میں عاشوراء کے دِن (یعنی دس محرم) کے روزے کے بارے میں اللہ سے یہ اُمید رکھتا ہوں کہ (اِس کے ذریعے)پچھلے ایک سال کے گُناہ معاف فرما دے گا﴾ (صحیح مُسلم حدیث 1162/کتاب الصیام/باب36، صحیح ابن حبان /حدیث3236)

محرم کے مہینے اور خاص طور پر دس محرم کی صِرف یہ ہی فضلیت ہمیں قُرآن اور حدیث میں ملتی ہے۔ کچھ لوگ اِس روزے کو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، رسول اللہ کے چوتھے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمین علی رضی اللہ عنہ ُ کے بیٹے، جنّت کے جوانوں کے سردار، حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے واقعے سے جوڑتے ہیں، جبکہ اِس جوڑ کو قُران کریم، صحیح ثابت شُدہ سُنّت مُبارکہ اور تاریخ کی موافقت مُیسر نہیں، اِس روزے کا سبب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات عطاء ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔

پس خیال رکھیے، اور یاد رکھیے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِس دِن کا روزہ رکھنے کی تربیت دِی ہے، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت اور اُن کی اطاعت کا تقاضا یہی ہے کہ اِس دِن روزہ رکھا جائے، نہ کہ رنگ برنگ مشروبات کی سبیلیں لگا کر خود بھی روزے سے دُور رہا جائے اور دُوسروں کو بھی روزے سے دُور رہنے کا سبب بنا جائے۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں