موسمی مولویوں اور مفتیوں کے بیچ پھنسی تاریخِ اسلام - بلال شوکت آزاد

فرقہ واریت اور باہمی ہم آہنگی پر سارا سال دانشوری جھاڑنے والے اعلیٰ پائے کے دماغ اچانک محرّم کے آغاز سے گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر ایسی قلابازیاں لگاتے ہیں کہ ایک لمحے کے لیے یقین نہیں آتا یہ وہ ہی صاحبان ہیں جو فرقہ واریت کے خلاف سیر حاصل گفتگو کرکے مدمقابل کو چت کردیا کرتے تھے۔ افسوس اس موئی فرقہ واریت سے تو نظریاتی و ہمخیال دوست بھی محفوظ نہیں ہم عام آدمی کو کیا گلہ کریں؟ جب رہنما ہی گمراہ ہو جائیں یا خود کو ہر فن مولا سمجھنا شروع کردیں تو اقتداء کرنے والے ہمسفر ان کے پیچھے گڑھے میں ہی اترتے ہیں ناکہ سرسبز وادی میں۔

کیا کروگے آج کے وقتی مباحثے جیت کر یا اگلے کو خارجی کافر مشرک ناصبی اور رافضی ثابت کرکے؟ کونسی جنت کی کنفرم ٹکٹ ملے گی ایسا کرنے سے؟ کون سا تاریخی و مذہبی کردار قبر میں اچھل پڑے گا آپ کی فتح سے؟ یا کون سا تاریخی مجرم یقینی طور پر جہنمی نامزد ہوجائے گا آپ کی جیت سے؟ کن چکروں میں ہو یار تم سب؟ مقصد کیا ہے تمہاری دیمک زدہ فقاہت کا؟ مولوی گیری کرلو یا دانشور بن لو لیکن جو بھی کرو، خدا کے لیے یہ تفرقے بازی مت کرو جو آجکل سستی شہرت کا آسان ذریعہ ہے ۔

ہماری تمہاری بحث سے نہ کسی کا مقام گھٹنا ہے اور نہ بڑھنا ہے۔ جن کو جو مقام اور عزت ملنی تھی، وہ مل چکی۔ اب بس تاریخ کا تسلسل رہے گا لیکن کمی بیشی یا بڑھوتری کا کوئی امکان نہیں۔ جس نے تاریخ میں حق کا ساتھ دیا، وہ حق کا مجاہد ہی درج رہے گا اور جو ناعاقبت اندیش رہا وہ وہی رہے گا۔ جب یہ اصول طے ہیں کہ مرے ہوئے کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہے تو زندہ عوام کو کس نے اور کب یہ حق دیا کہ کسی کا اچھا یا برا کردار موضوع بحث بناکر مداری سیٹ اپ چلائے؟

یہ بھی پڑھیں:   بین المسالک ہم آہنگی اور مفاہمت - مفتی محمد اسحاق المدنی

اب یہ مت کہنا کہ اللہ نےقرآن و حدیث میں 'نہی عن المنکر اور امر بالمعروف' کا حکم دیا ہے۔ جو دنیا سے چلا گیا خواہ اچھا یا برا، اس کے بارے میں غلو کا تعلق قطعاً 'نہی عن المنکر اور امر بالمعروف' سے نہیں۔ اور بہت کچھ ہے اس بارے میں کہنے سننے کو لیکن دانشوری کا اولین اور بہترین تقاضہ یہ ہے کہ جتنا معلوم ہو سند اور حوالے کے ساتھ وہی بیان کیا جائے، باقی سب سے اجتناب ہی بھلا۔ اور سند وحوالہ ہمیشہ اس شخصیت اس کتاب اس وقت کا قابل قبول ہوتا ہے جس پر دونوں بحث کرنے والے متفق ہوں۔

فرقہ واریت کا وجود صرف میری کتاب اور تیری کتاب، میرا عالم اور تیرا عالم اور تیری تاریخ اور میری تاریخ جیسی کمزور تاویلات اور الزام برائے الزام پر کھڑا ہے۔ فرقہ واریت کی دیمک سب سے پہلے اتفاق کو نفاق میں بدلتی ہے، پھر معاشرہ ہم سے میں میں تقسیم ہوکر رہ جاتا ہے۔

آج خاص نسبت سے وہ دوست احباب بھی ایک دوسرے پر تبرّا کررہے ہیں، جو سارا سال ہم خیال و ہم احوال تھے۔ جن جن شخصیات کی وکالت اور مخالفت میں دست و گریبان ہیں، وہ بھی روز قیامت ان سے دین میں تفرقہ ڈالنے پر شاید منہ موڑ لیں۔ اگر تو یہ ان بحث مباحثے سے عالم اسلام کی کوئی بہت بڑی خدمت ہورہی ہے تو پھر جاری و ساری رکھیں۔ اگر اس سے پاکستان کے مسائل کا حل نکل رہے ہیں، عالم اسلام پر پھیلے سیاہ بادل چھٹنے کی امید ہو، کشمیر، فلسطین، شام، صومالیہ اور برما کے مجبور و مقہور مسلمانوں کو سکھ کا سانس نصیب ہوتا ہو۔ غرض کسی بھی طرح کا کوئی ملّی، ملکی اور قومی مفاد پورا ہوتا ہوتو ضرور اس بحث کو جاری رہنا چاہیے۔ بلکہ سب کو حصہ بقدر جثہ اس میں شامل کرنا چاہیے کہ یہ ایک طرح کا جہاد ہی ہوگا جو عالمی انقلاب کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   بین المسالک ہم آہنگی اور مفاہمت - مفتی محمد اسحاق المدنی

لیکن اگر ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تو انسان اور مسلمان بنواور فوراً یہ بحث مباحثے ترک کرکے ہم آہنگی پیدا کرنے والے موضوعات پر بات کرو۔ فرقہ واریت کی شکست درگزر اور اتحاد بین المسالک سے ممکن ہے، بغض اور بحث و مباحثے سے نہیں۔ جن باتوں اور فروعی معاملات اور تاریخی حوالوں پر اتفاق ہے ان کو فروغ دو۔ اختلاف پھر کسی دن صحیح!

ہوسکے تو میری باتوں کا برا ضرور منائیے گا کہ میں نے سب باتیں وہ کی ہیں جو کسی کے دل کی ترجمانی نہیں کرتی۔ اللہ اس مذہبی و سیاسی اور لسانی و نسلی تفرقہ بازی کے شر سے بچائے اور اپنی پناہ میں رکھے۔