اپنے مردوں کو دفنانے میں جلدی کرو - عمارہ خان

یہ فرمان کیوں ہے؟

کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہے؟

کیا ھم نے کبھی احساس بھی کیا ہے؟

اگر دفنانے کاحکم جلدی کا ہے تو یقیناً کوئی بہترین وجہ ہوگی کیونکہ دین اسلام کا کوئی بھی حکم بے جا نہیں، وہ انسانیت کی ہی بھلائی کے لیے ہے۔

اب اگر اس بات کے پس منظر کو دیکھنا چاہیں یا اپنے معاشرے کے چلن کو دیکھیں تو ہم دو، تین دن تک اپنے پیاروں کی نعش سنبھال کے رکھتے ہیں کیونکہ دور دراز کے رشتے داروں نے آنا ہوتا ہے۔

کبھی ماں کے مرنے پہ سالوں سے پردیس کی خاک چھاننے والے بیٹے کا انتظار یا آنکھوں کی ٹھنڈک بیٹی کے آنے کی توقع، جو عرصے دراز سے نہیں مل پائی تھی کہ بار بار بال بچوں کے ساتھ سات سمندر پار آنا جانا آسان کہاں؟

کبھی برادری والوں کا انتظار کہ پھر وہ پنچایت نہ بٹھا لیں یا کبھی کسی سہاگن بیوی کو اس کے شوہر کے ہاتھوں دفنانے کا انتظار یا اپنے خاندان والوں کی اچھی گزربسر کے لیے جانے والا پردیسی باپ، جس کی حسرت بھری بانہیں آخری وقت تک اولاد کی خواہش کو پوری کرتے نہیں تھکتیں اور بالآخر وہ کماتے کماتے مر ہی جاتا ہے اور پھر اس کی لاش ہی اپنے ملک آ پاتی ہے۔

بحیثیت مسلمان ہم اس کو مانتے ہیں کہ لوگ اپنے پیاروں کو مٹی کی چادر اوڑھاکے جب واپس ہوتے ہیں تو فرشتے سوال جواب کے لیے آتے ہیں اور تین سوال کرتے ہیں ۔ اگر ان کے صحیح جوابات دیے جائیں تو آگے کے سفر کا تعین ہوتا ہے۔

اس لیے جلد تدفین کے دو پہلو ہو سکتے ہیں ، ایک اسلامی ایک سائنسی ۔ اسلامی پہلو یہ کہ مرنے کے بعد ہم کو بتایا گیا ہے ، مردے پہ ایک مکھی بھی بیھٹے تو وہ پہاڑ جتنا وزن محسوس کرےگا اور ظاہر ہے پھر اسے اتنی ہی تکلیف بھی ہوگی تو جتنی جلد ممکن ہو اس کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیاجائے ۔

سائنسی پہلو ، مرنے کے 48 گھنٹے تک انسان کا دماغ زندہ رہتا ہے۔ جلد دفنانے سے مردہ اپنے اپ کو تیزی سے اس حقیقت سے روشناس کرالے کہ وہ اب دنیا میں نہیں اور فرشتوں کے سوال جواب کے وقت وہ سوالوں کے صحیح جواب دے پائے ۔

آپ جتنی جلدی اپنے پیاروں کو مٹی سپرد کردیں گے، اتنا ان کے حق میں بہتر ہوگا۔ آپ کے رونے کا ، بیرون ممالک سے ادھار مانگ کے یا ایمرجنسی میں آنے کا کوئ فائدہ نہی ں۔ یہ لوازمات زندہ لوگوں کے لیے بچارکھیں اب ۔ آگے جانے والے اب صرف آپ کے تحائف کے منتظر ہیں جو کہ ان کی طرف سے آپ دنیا میں نیک کام کرے گئے یعنی صدقہ جاریہ ۔

مسجد میں یا کسی ضرورت مند کو پنکھا دینا ، کسی کی شادی کرانا ، کسی کے لیے پانی کا بندوبست کرانا، آس پڑوس کے افراد، چوکیدار، گارڈ کو کھانا کھلانا، پھیری والوں کو پانی پلادینا، علاقے کے موچی کو اس کی اجرت سے دس بیس روپے زیادہ دینا اور ان چھوڑے چھوٹے اعمال، جن کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب ہمارے آگے جانے والوں کو ملے ۔ اس سے آپ کے ثواب میں ہر گز کوئی کمی نہیں آئے گی ، اس کا بھی یقین کامل رکھیں ۔ لیکن وہ لوگ جو آگے جاکے صرف آپ کے محتاج ہیں، ان کے لیے یہ ایک بہترین تحفہ ہے۔