میں روشن خیال ہونا چاہتا ہوں مگر - محسن حدید

جب بھی روشن خیال ہونا چاہتا ہوں، کوئی کشمیر، کوئی فلسطین، چیچنیا یا روہنگیا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ ہر طرف لاشے ہیں، معصوم تڑپتے بلکتے، مری ہوئی مگر مرنے سے پہلے آبروریزی کا شکار ہو چکی عفت مآب مائیں ہیں جن کی نوچی ہوئی چھاتیوں سے اب دودھ نہیں، خون ابلتا ہے۔ لیکن بلکتے ہوئے بچے نہیں سمجھتے اور چمٹے رہتے ہیں، روتے رہتے ہیں حتی کہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ جب سوچتا ہوں کہ مائیں بدقسمت ہیں تو اچانک یاد آتا ہے، نہیں وہ تو جلد مار دی جاتی ہیں، اصل بدقسمت تو یہ بچے ہیں، جنھیں بھوک، پیاس اور موسم کی شدت سے مرنا پڑتا ہے۔ قاتل کے کسی کام کے جو نہیں۔

میں پریشان ہو جاتا ہوں، گھر میں بیٹھے ہوئے اپنے بچے کا ماتھا چومتے ہوئے، سو نعمتیں اپنے بچوں پر نچھاور کرتے ہوئے، چھوٹی سی تکلیف پر انھیں اپنی گود اپنے سینے پر لٹا کر رات گزارتے ہوئے، ان کا ہر درد اپنے پورے بدن کی ایک ایک پور پر محسوس کرتے ہوئے، میں سوچتا ہوں بلکہ سوچتا بھی نہیں، یونہی خیال کا کوئی آوارہ جھونکا مجھے یہ احساس دلا دیتا ہے کہ میرے بچے کو کچھ ہوگیا تو؟ بدن لرز جاتا ہے، صرف خیال سے، ایک احساس سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ یہ بھی تو ماں باپ کے اتنے ہی پیارے تھے، ان کو بھی کسی عورت نے جنا ہوگا، خواب، خواہشات، ارمان اور آرزؤوں سے بھرپور بچے کسی انسان کے بچے۔

اضطراب حد سے بڑھ جاتا ہے تو میں خود کو تسلی دینے کی کوشش کرتا ہوں کہ جو تصاویر اور خبریں میرے گھر پہنچ رہی ہیں، وہی دنیا کے ہر گھر میں پہنچ رہی ہوں گی، انسانی حقوق کے نمائندے دیکھ رہے ہوں گے، دنیا میں امن کے ٹھیکیدار اس کا نوٹس لیں گے، ویسا ہی نوٹس جو مشرقی تیمور میں عیسائی آبادیوں پر مظالم کے وقت لیا گیا تھا۔

میں مختلف چینلز بدلنا شروع ہو جاتا ہوں، صبح سے لے کر شام تک، اگلے دن اس سے اگلی رات میں ان دانشوروں کو تلاش کرتا ہوں جنہوں نے مجھے بتایا تھا کہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ انسان کی جان کی قدر کرنا سیکھو، بس یہی خالق کی منشا ہے۔ خبریں آتی ہیں کہ اتنے ہزاروں مر چکے، بےگھر ہو گئے، لاشے بو مارنے لگے، اور پناہ گزین لاکھوں تک پہنچ گئے، لیکن انسانیت کو مذہب سے بھی زیادہ مقدس کہنے والے نہیں بولے۔

آخر ایک مشہور دانشور نظر آئے جو فرما رہے تھے کہ یہ پہچان کا مسئلہ ہے، اسے مذہب سے جوڑنے والے شدت پسند ہیں، یہ علاقائیت اور قومیت کا مسئلہ ہے مذہب کا اس سے لینا دینا کچھ نہیں، ایسے ہی کچھ گمراہ لوگ معصوم اذہان کو بہکا رہے ہیں۔ میں انسانیت کے اس علمبردار کے منہ سے ان لاشوں بارے مذمت ملامت اور افسوس کے اظہار کی بجائے تضحیک اور تمسخر واضح انداز میں محسوس کرتا ہوں۔ میرا دل ڈوب جاتا ہے، انسانوں کے اس رویے نے مجھے الجھن کا شکار کر دیا ہے، میں انسانوں کے اس دوہرے معیار پر بوکھلاہٹ میں جانوروں والا چینل لگا دیتا ہوں، نیشنل جیو گرافک پر اس وقت امریکہ کے ایک قصبے کی کہانی لگی ہے، ایک کتا کسی کھائی میں گر گیا ہے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مجھے یاد آیا کہ اسی امریکہ نے آج تک روہنگیا مسلمانوں کے لیے ایک لفظ نہیں بولا۔ جمہوریت امن کے ٹھیکیدار سبھی اسے میانمار کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں۔ میرا ذہن اب گھوم رہا ہے، مجھے لگتا ہے میں کبھی بھی نارمل نہیں ہو سکتا، میرے پاس شدت پسند مسلمان بننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ میرے انسان جن کے کتوں سے بھی گئے گزرے ہیں، انہیں میرا امن نہیں، میری بزدلی اور میرے اجتماعی ضمیر کی موت چاہیے۔ میں جب بھی روشن خیال بننا چاہتا ہوں، امت کا کوئی المیہ مجھے واپس لوٹا دیتا ہے۔ ہر سانحہ مجھے بتا دیتا ہے کہ میں ان جیسا نہیں.
لکم دینکم ولی دین

Comments

محسن حدید

محسن حدید

محسن حدید میڈیکل پروفیشنل ہیں، لاہور میں میڈیکل لیب چلاتے ہیں۔ کھیلوں سے انتہا درجے کی دلچسپی ہے۔ روزنامہ دنیا اور دلیل کے لیے کھیل پر مستقل لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.