عسکری ماحول ختم کیجیے - رعایت اللہ فاروقی

افغان جہاد کا فیصلہ ایک ایسے پاکستان کے ارباب اختیار نے کیا تھا جسے ستائیس سال سے افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا تھا۔ تب کا افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے 1947ء میں پاکستان کی اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ پچاس، ساٹھ اور ستر تینوں دہائیوں میں اس نے پاکستان کے خلاف اپنے ہاں علیحدگی پسندوں کے کیمپ قائم کئے جو گریٹر بلوچستان اور پختونستان مومنٹس کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے کام آئے۔ ان حالات میں جب وہاں روسی فوجیں داخل ہوئیں تو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ ریڈ آرمی کا اگلا پڑاؤ پاکستان ہی میں ہوگا۔ تب ہمارے فیصلہ سازوں کو بنیادی سوال یہی درپیش تھا کہ سوویت یونین کو وہاں خود کو مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرکے پاکستان پر اس کے حملے کا انتظار کیا جائے اور جب یہ سپر طاقت پاکستان پر حملہ کر دے تو تب وطن کا دفاع کیا جائے یا اسے افغانستان میں قدم جمانے کا موقع دیے بغیر پاکستان کے دفاع کی جنگ افغان سرزمین پر شروع کر دی جائے؟ جنرل ضیاء نے دوسرا آپشن اختیار کیا جس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔

افغان جہاد کی اس حکمت عملی میں اگر آگے چل کر دو غلطیاں نہ کی جاتیں تو وہ جنگ پاکستان کے لیے طعنہ کبھی نہ بنتی۔ پہلی غلطی یہ کی گئی کہ اس میں پاکستان کے سویلین افراد کو بھی شریک کیا گیا جو بڑی تعداد میں عسکری تربیت حاصل کرتے چلے گئے۔ دوسری غلطی یہ کی گئی کہ جب یہ پاکستانی افغان جہاد سے فارغ ہوئے تو انہیں کشمیر جہاد میں جھونک دیا گیا۔ یوں ہمارے گلی کوچوں میں نوے کی پوری دہائی کے دوران عسکریت کا ماحول قائم ہوتا چلا گیا۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی ضلع ہو جہاں ان عسکری تنظیموں کے دفاتر نہ رہے ہوں۔ یہ دفاتر فنڈ ریزنگ بھی کرتے اور اپنا لٹریچر بھی آبادی میں تقسیم کرتے۔ ہزاروں کی تعداد میں جہادی تقاریر کی کیسٹیں تقسیم کی جاتیں جس سے نوجوانوں پر مشتمل مزید افرادی قوت ان تنظیموں کو میسر آتی۔ میں خود اس زمانے میں حرکت الانصار کا قائمقام ناظم اطلاعات و نشریات رہا ہوں اور میں مستقبل میں بہت سے پریشان کن امکانات کو صاف دیکھ رہا تھا جس کا اظہار بھی کرتا رہتا تھا۔ حرکت المجاہدین اور حرکت الجہاد کے انضمام سے وجود میں آنے والی یہ تنظیم 1997ء کے آغاز میں ٹوٹ گئی تھی اور سابقہ دونوں تنظیمیں اپنے پرانے ناموں سے بحال ہوچکی تھیں۔ میرے بات بات پر اعتراض سے تنگ آ کر حرکت المجاہدین کی شوری نے اکتوبر 1997ء میں اس تنظیم سے مجھے خارج کیا تو دیگر عسکری تنظیموں کی دعوت کے باجود پھر میں کبھی بھی کسی عسکری تنظیم کا حصہ نہیں بناکیونکہ میں جانتا تھا کہ جلد یا بدیر عسکریت کے اس ماحول کے تباہ کن نتائج ظاہر ہوں گے۔ آج جب ملک کو ان تنظیموں کے مستقبل کا چیلنج درپیش ہے تو مجھے ان سے الگ ہوئے بیس برس ہوچکے، اس سے زیادہ مقام اطمینان اور کیا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   قندوز کے مقتول حفاظ - آصف محمود

یہ نتائج نائن الیون کے فورا بعد اس وقت ظاہر ہوئے جب ہماری فوج مغربی سرحد کے دفاع کے لئے وزیرستان میں داخل ہوئی اور وہاں اسے مقامی لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا اس سے اگرچہ کشمیرکی جہادی تنظیموں کا کوئی واسطہ نہ تھا لیکن اس بات سے تو انکار ممکن نہیں کہ وزیرستان کے غلام خان بارڈر سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان میں ہماری تین بڑی عسکری تنظیموں کے دفاتر قائم رہے تھے اور ان کی وجہ سے اس علاقے میں عسکری ماحول جہاد افغانستان ختم ہونے کے باوجود برقرار تھا۔ اسی ماحول نے اس علاقے میں پاک فوج کے خلاف جہاد کی نام نہاد کال کا موقع فراہم کیا تھا۔ پاک فوج سے ابتدائی عرصے میں جو لوگ وزیرستان میں لڑے ان میں حرکت المجاہدین سے وابستہ صرف ایک شخص شریک تھا باقی سب کے سب اجنبی تھے اور ان کا افغان جہاد سے کوئی تعلق رہا تھا اور نہ ہی جہاد کشمیر سے کوئی لینا دینا تھا۔ یہ ایک شخص عبد اللہ محسود تھا جو افغان جہاد کے اختتام پر اس تنظیم میں آیا تھا ۔ بہت بعد میں الیاس کشمیری اور عصمت اللہ معاویہ بھی ان میں شامل ہوئے ۔ الیاس کشمیری کا جو بت میڈیا نے بنا دیا تھا وہ اپنی جگہ لیکن کبھی نوے کی دہائی کے کسی جہادی سے پوچھئے تو کہ الیاس کشمیری واقعی کوئی پھنے خاں تھا یا اس کی شہرت کسی اور حوالے سے تھی ؟ اسی طرح عصمت اللہ معاویہ کی کسی عسکری تنظیم سے وابستگی 1997ء میں ہوئی تھی اور مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمارے دفتر میں اس کی کل ذمہ داری یہ تھی کہ ہم اس سے چائے وغیرہ منگواتے تھے۔ بعد میں جب جیش محمد بنی تو حرکت المجاہدین میں اپنی اسی ’’ناقدری‘‘ سے تنگ آ کر اس نے جیش سے وابستگی اختیار کرلی۔ جہادی ماحول کا اثر دیکھئے کہ جب 2001ء کی ابتدا میں میں نے مولانا مسعود اظہر کے خلاف روزنامہ اوصاف میں کالم لکھا تو اس کے جو چار جواب اسی اخبار میں شائع ہوئے ان میں سے ایک اسی عصمت اللہ معاویہ کا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عسکری ماحول کے فروغ میں ہمارے مین سٹریم میڈیا کا بھی بھرپور حصہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   طالبان عسکریت پسندی، طالبانائزیشن کو سمجھیں - محمد عامر خاکوانی

ہمیں تین باتیں سمجھنی ہوں گی۔ پہلی یہ کہ جنرل ضیاء الحق 2017ء کے ماحول میں بیٹھ کر 1979ء والا فیصلہ نہیں کر رہے تھے۔ اگر ان کے پاس یہ سہولت ہوتی تو شاید نہیں بلکہ یقیناًوہ جہاد افغانستان کے چکر میں نہ پڑتے یا اگر پڑتے تو اس جہاد کے ختم ہوتے ہی ملک سے عسکری ماحول کا خاتمہ کردیتے۔ لھذا جنرل ضیاء کو گالی دینے کے بجائے کوئی تعمیری کام کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ جہاد افغانستان یا جہاد کشمیر کی کوئی تنظیم یا اس کے افراد پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث نہیں۔ ان تنظیموں میں ہزاروں افراد تھے لیکن ان کے جو لوگ پاکستان میں نائن الیون کے بعد والی دہشت گردی میں ملوث ہوئے ان کی کل تعداد کوئی درجن بھر بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ لھذا ان تنظیموں کو ٹی ٹی پی کی صف میں کھڑا کرنا زیادتی ہے۔ تیسری یہ کہ عسکری ماحول کا خاتمہ ضروری ہے اور اس ماحول کے خاتمے کے لئے لازم ہے کہ یہ تنظیمیں بھی موجود نہ ہوں۔ جب حافظ سعید اور مسعود اظہر کے کشمیر کے حوالے سے بیانات شائع ہوں گے تو اس کا نقصان ہوگا۔ ان لوگوں کی زبان بندی، ان کے تنظیمی نیٹورک کا خاتمہ لازم ہو چکا ہے۔ میڈیا میں ان کی کوریج پر مکمل پابندی ہونی چاہئے اور انہیں کسی اور دہندے سے جوڑنا چاہئے۔ اب ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان تنظیموں کی قیادت کو لیڈری کا چسکا لگ چکا ہے اور وہ بھی لگ بھگ تیس برس کا چسکا ہے تو متبادل کے طور پر یہ سیاسی میدان میں آنا چاہتے ہیں تاکہ قائدانہ شان برقرار رہے لیکن سیاسی جماعتیں انہیں سیاسی میدان میں قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اب یا تو اس کا کوئی حل نکالنا چاہئے یا پھر انہیں تھنک ٹینک ٹائپ کے ادارے بنا کر دے دیے جائیں جہاں یہ سیکیورٹی ایشوز پر سیمینارز، ریسرچ، مباحثے اور مذاکرے کا کام کریں اور اپنے تجربے کی روشنی میں دنیا کو عسکریت کے فوائد اور نقصانات سے آگاہی فراہم کریں۔ یہ حضرات اگر قائد محترم کی جگہ چیئرمین بننے پر گزارہ کرلیں تو قوم کو بھی فائدہ ہوگا اور ان کی ٹھرک بھی پوری ہوجائے گی۔ ارباب اختیار سے التجا ہی کی جا سکتی ہے سو التجا ہے کہ کچھ بھی کیجئے لیکن ملک سے عسکری ماحول ختم کیجئے ورنہ یہ کسی بھی وقت نئے فساد کا موجب بنے گا !

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں