موجودہ دور کے 'اصحاب الاُخدود' - محمد رضی الاسلام ندوی

'اُخدود' عربی زبان میں گہری نالیوں اور لمبے گڑھوں کو کہتے ہیں. قرآن مجید نے 30 ویں پارے کی سورہ بروج میں 'اصحاب الاخدود' کا تذکرہ کیا ہے. یہ وہ لوگ تھے جو طاقت و قوت، مال و دولت اور لشکر کے مالک تھے. انھوں نے ایک بڑی آبادی کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا، گہرے گڑھے کھودے، ان میں آگ بھڑکائی، پھر بوڑھوں، جوانوں، عورتوں، نوعمروں، دوشیزاؤں، بچوں اور بچیوں کو ان میں دھکّا دے دیا. اس طرح ان کے زندہ جلنے کا تماشا دیکھا. ان بےچاروں کا قصور اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا کہ وہ ایک اللہ پر ایمان رکھتے تھے.

یہ ظالم کون تھے؟ مفسرین نے انھیں متعین کرنے کی کوشش کی ہے. تفسیر ابن جریر کی ایک روایت میں اسے ایران کا اور دوسری روایت میں بابل کا واقعہ بتایا گیا ہے. بعض مؤرخین نے اسے یمن کے ایک بادشاہ کی کارستانی بتائی ہے، جس نے نجران کے 20 ہزار عیسائیوں کا اس طرح قتل عام کیا تھا. بعض احادیث میں اسے توحید پرستوں کے ساتھ کسی بادشاہ کی بربریت قرار دیا گیا ہے. (مسلم:3005)

یہ واقعہ کسی زمانے کا ہو اور کسی علاقے میں پیش آیا ہو، میں سمجھتا تھا کہ یہ دورِ وحشت کی بات ہے، جب شخصی حکومتوں کا بول بالا تھا، انانیت عروج پر تھی، عوام کو دبا کر اور انسانوں کو غلام بناکر رکھا جاتا تھا، عقیدہ کے اختیار اور رائے کے اظہار کی آزادی نہ تھی اور طاقت ور اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنے میں آزاد تھے اور کوئی انھیں روکنے والا نہ تھا. دوسری طرف ایک جگہ کی خبریں دوسری جگہوں تک جلد نہیں پہنچ پاتی تھیں، اس بنا پر کسی جگہ ظلم و بربریت کا ننگا ناچ ہو تو دوسری جگہوں سے اس کے خلاف ردِّعمل کا اندیشہ کم رہتا تھا، لیکن برما سے جو خبریں آ رہی ہیں اور جو ویڈیو عام ہوئے ہیں، انھوں نے ثابت کردیا ہے کہ یہی رویّہ آج بھی قائم ہے، جبکہ نئی تہذیب کی چکاچوند نے نگاہوں کو خیرہ کردیا ہے، اور ہیومن رائٹس کے شور میں کانوں پڑی آواز نہیں سنائی نہیں دے رہی ہے. میری نگاہوں سے روہنگیا مسلمانوں کے ایسے ویڈیو گزرے ہیں جن میں لمبی اور گہری کھائیوں میں زندہ انسانوں کو پھینک دیا گیا، ان پر گولیاں برساکر ان کی جان لے لی گئی، پھر بھی تسلّی نہیں ہوئی تو ان بے دم لاشوں پر پٹرول چھڑکا گیا اور انھیں آگ لگا دی گئی. میں نے ویڈیو میں ایسی گہری نالیاں دیکھی ہیں جو انسانی لاشوں سی اٹی پڑی ہیں. یہ ما قبل مسیح کے وحشیوں کی درندگی نہیں ہے، بلکہ اکیسویں صدی کے تہذیب یافتہ اور امن کی فاختہ اڑانے والوں کی کارستانیاں ہیں، جو حیوانوں کی درندگی سے بھی آگے بڑھ گئی ہیں.

قرآن مجید نے اصحاب الاخدود کا واقعہ بیان کرکے واضح طور پر دو باتیں کہی ہیں:
ایک یہ کہ جو لوگ محض اپنے ایمان کی وجہ سے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہیں، انھیں دنیا والے چاہے جس نظر سے دیکھیں، لیکن حقیقت میں وہ 'بڑی کام یابی' سے بہرہ ور ہیں. اِس دنیا میں چاہے انھیں جینے کے حق سے محروم کردیا گیا ہو اور ان کی زندگی چھین لی گئی ہو، لیکن مرنے کے بعد وہ 'حیاتِ دوام' سے شادکام ہوں گے اور شاداں و فرحاں اپنے رب کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے.

دوسری بات قرآن نے یہ بتائی ہے کہ جو لوگ ان معصوموں پر اذیتوں کے پہاڑ توڑ رہے اور ان پر آگ برسا رہے اور گولیوں کی بارش کر رہے ہیں، وہ اپنے بُرے انجام سے غافل نہ رہیں. وہ قطعی الفاظ میں کہتا ہے: قُتِلَ اَصْحَابُ الاُخْدُوْدِ (گہری کھائیوں والے ہلاک ہوگئے)، ان کی ہلاکت کی یقینی ظاہر کرنے کے لیے قرآن نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے. قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اِس دنیا میں بھی اس کی سزا پائیں گے اور اگر یہاں بچے رہے تو آخرت میں ضرور انھیں جہنم میں جھونکا جائے گا. مرنے سے پہلے انھوں نے اہلِ ایمان کو آگ کا عذاب دیا ہے، مرنے کے بعد انھیں آگ کا عذاب دیا جائے گا. تاریخ گواہ ہے کہ قرآن کا یہ فرمان ثابت ہوکر رہا. یمن کے جس حکم راں نے نجران کے اہلِ ایمان پر یہ تشدد کیا تھا، شاہِ حبش نے اس کی سرکوبی کی اور اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا.

قرآن کی یہ آیات جس طرح اُن اہلِ ایمان کے لیے تسلّی کا سامان تھیں جو زمانہ نزول قرآن میں ستائے جارہے تھے، اسی طرح اس میں آج برما کے اِن اہلِ ایمان کے لیے بھی تسلّی کا سامان ہے، جن کی ترجمانی تحریک اسلامی کے مشہور شاعر حفیظ میرٹھی کے اس نعتیہ شعر سے ہوتی ہے :
ننگِ اسلام تھا، لیکن یہ مری خوش بختی
مجھ کو مارا ہے مسلمان سمجھ کر، آقا!

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.