جسدِ واحد - ایمن سہیل

اسلامی ریاست ٹکڑوں میں بٹنے لگی تو برصغیر پاک و ہند کے مسلمان تڑپ اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے تحریکِ خلافت برپا کر دی۔ 1979ء میں جب کعبہ پر حملہ ہوا تو پاک وطن کے جوانوں نے جرات و عظمت کی عظیم مثال قائم کر دی اور حملہ آوروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ کشمیر سے یکجہتی کا دن آیا تو پاکستانی قوم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے زنجیر کی مانند سڑکوں پر موجود تھی۔ بیت المقدس پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کو پاکستانی فوج تیار کھڑی تھی۔ شاید یہی وہ مثالیں ہیں جنہیں پیارے نبی صلیٰ اللٰہ نے امت کے جسدِ واحد ہونے سے تشبیہ دی ہے کہ ایک مومن اگر تکلیف میں ہو تو دوسرا مومن اس کے درد میں تڑپ اٹھتا ہے۔

پھر نجانے ایسا کیا ہوا کہ اسی برصغیر پاک و ہند کے وہ مسلمان جو اپنے بھائیوں کے غم پر رنج و غم کی للکار بنے گھروں سے باہر آ جاتے تھے، خود نفرتوں اور دشمنیوں کی آگ میں جلنے لگے۔ پھر نہ اپنی تکلیف پر متحد ہوتے اور نہ بھائی کے غم میں بے قرار۔

آج سر زمینِ برما مسلمانوں کے لیے تنگ کر دی گئی ہے، لوگ جل رہے ہیں لاشے کٹ رہے ہیں، عزتیں پامال ہو رہی ہیں۔ بچوں کے گلے دبا کر، رسیوں سے لٹکا کر اور کرنٹ جیسی اذیتیں دے کر موت کے منہ میں اتارا جا رہا ہے، مسجدیں، گھر، کھیت نذرِآتش کر دئیے گے ہیں۔ اس قدر دل سوز اور دل خراش بربریت سے لبریز مظالم کہ جن کو دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھے۔ اگر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز نشر نہ ہوتیں توشاید میرے جیسےبہت سے لوگ ان حقائق کو من گھڑت اور مبالغہ آرائی شمار کرتے۔ ایک قوم کس طرح کسی بےبس و مجبور اور محکوم اقلیت کے خلاف ظلم کی ایسی آگ بھڑکاسکتی ہے جس کی لپیٹ میں نہتے، بے یارو مدد گار لوگ ہزاروں کی تعداد میں جل کر راکھ ہو جائیں؟ جہاں مذہب کے نام پر مقامی لوگوں اور افواج کو ظلم و ستم پر ایسے آمادہ کیاگیا کہ خندقیں کھدوا کر سینکڑوں لوگوں کو زندہ دفن کر دیا۔ گھروں کو آگ لگا کر لوگوں کو اسی میں دھکیل دیا۔ چھروں کے وار کر کے انسانی اعضا کاٹ دیے۔ چھوٹے چوٹے بچوں کے سینوں اور چہروں پر پاؤں رکھ کر دم گھوٹ دئیے گے۔ عورتوں کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے؟ خالد ارشاد صوفی

کیا یہ حقائق ہر صاحب دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور نہیں کر دیتے؟ کیا انسانی جان اتنی ارزاں ہے کہ اسے رنگ، نسل اور مذہب کی بنیاد پر حیوانوں سے بھی بد تر مولی گاجر کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جائے؟ کہاں ہیں اقوامِ متحدہ کے امن کے ٹھیکے دار؟ کہاں ہے امتِ مسلمہ کی اتحادی فوج؟ کیا کسی مظلوم مسلمان کی جان، کسی مسلمان عورت کی آبرو یورپ کے پالتو جانورں سے بھی زیادہ سستی ہے؟ کیا کعبہ کے محافظ خدا کی عدالت میں اس مقدمے سے با عزت بری ہو جائیں گے کہ جب اس کے بندوں پر کفار ٹوٹ پڑے تو وہ ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنے رہے؟ ایمان کے اتنے کمزور ہو گئے کہ ان ظالموں سے سفارتی تعلقات بھی ختم نہ کر سکے؟ کیا یہی ہے وحدتِ مسلم جسے ایک جسم سے تشبیہ دی گئی ہے؟

آہ! اے برما کے مسلمان ! تیری حالتِ زار پر پاک وہند کے مسلمان بھائی کا دل تڑپا ہے، وہ بے چین ہوا ہے، لیکن وہ بیچارہ تو اپنے کمزور ایمان کے ہاتھوں اتنا مجبور ہے کہ تیرے ملک کے جابر حکمرانوں کو احتجاجی بیان دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ تو خود بھائی بھائی کا گریبان پکڑے جھنجھوڑ رہا ہے، جان و مال چھین رہا ہے، ایسے میں بھلا تیری آواز پر لبیک کیسے کہے؟ وہ کام جو صدیوں سے یہودو نصاریٰ کرنے کے لیے متحد تھے، اس قوم کو زبوں حالی سے دوچار کرنے کے درپے تھے، وحدتِ مسلم کا شیرازہ بکھیرنے کی چاہ میں تھے، آج بہت ہی مست اور خوشی سے سرشار ہیں کیونکہ 57 مسلمان ممالک میں ایک بھی صلاح الدین ایوبی نہیں۔