میاں صاحب کیا معاملہ اتنا سادہ ہے؟ احسن سرفراز

نواز شریف نے کہا کہ چار ڈکٹیٹرز نے ملک پر آدھا عرصہ حکومت کی اور باقی سال اٹھارہ وزرائے اعظم کو مل سکے۔ فی آمر اوسطاً آٹھ سال اور فی وزیراعظم صرف دو سال ہی حکومت رہی۔

کیا معاملہ اتنا ہی سادہ ہے جتنا میاں صاحب نے بیان کیا؟ کیا ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار یہ آمر رہے؟ کیا اگر ایوب خان اپنے منہ بولے بیٹے اور نوجوان بھٹو کو اپنی مسلم لیگ کا سیکرٹری جنرل اور وزیر خارجہ نہ بناتے تو قوم کو ایک "قائد عوام " مل پاتا؟ کیا جنرل جیلانی ،ضیاءالحق اور اسٹیبلشمنٹ بھولے بھالے میاں صاحب کو وزیر خزانہ و وزیر اعلیٰ، آئی جی آئی کا صدر و وزیراعظم نہ بنواتے تو کیا قوم کو "قائد ثانی" نواز شریف مل پاتا؟ کیا جنرل پاشا اور دیگر "ایمپائرز" اگر الیکٹیبلز اور سیاسی سرمایہ کاروں کو تحریک انصاف کا رخ نہ دکھاتے تو عمران خان یکسر ایک سیٹ سے اٹھ کر ملکی سیاست پر یوں چھا پاتے؟ کیا ہر ڈکٹیٹر کو سیاستدانوں، ججز، بیوروکریسی ، جاگیر داروں و سرمایہ داروں کی حمایت نہ حاصل ہوتی تو وہ یوں ملک پر اتنا عرصہ حکومت کر پاتے؟

دراصل ملک کے مسائل کے ذمہ دار فوجی آمر ہی نہیں جاگیر داروں، سرمایہ داروں و بیورو کریسی پر مشتمل حکمران اشرافیہ ہے جو کسی نہ کسی صورت اس ملک پر مسلط ہے۔ چاہے حکومت فوج کی ہو یا ووٹوں سے آنے والوں کی اس اشرافیہ کی نمائندگی ہر حکومت میں ہوتی ہے، یہی لوگ ہر حکومت کے دست و بازو ہوتے ہیں، یہ ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں۔

ہم آدھا سچ بولتے ہیں، اس اشرافیہ میں جنکے جرائم پر دوسرے مخالف گروہ کا ہاتھ پڑتا ہے تو وہ چیخنا شروع ہو جاتا ہے، اسے انقلاب یاد آنے لگتا ہے اور جب اسکے جرائم پر کوئی خفیہ ڈیل ہوتی ہے اور ان جرائم کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو یہی لوگ پچھلے رونے دھونے بھول کر اپنے مخالف گروہ کو دھول چٹانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اگر کچھ بدلنا ہے تو اس نظام کو بدلنا ہوگا جسمیں کسی عام آدمی کا حصہ محض اشرافیہ کیلیے نعرے لگانے تک محدود ہو چکا ہے۔ یہاں جسکی لاٹھی اسکی بھینس کے کلچر کا خاتمہ ضروری ہے، سیاست میں پیسے کے عمل دخل کا خاتمہ ضروری ہے، اداروں کی آزادی اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے، حقیقی جمہوریت جس میں حکمران اپنے کرتے کی لمبائی کیلیے بھی عوام کو جوابدہ ہوں اس کا نفاذ ضروری ہے، ہمیشہ ہمیشہ کیلیے آئین توڑنے والوں کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ اداروں کا اپنے اپنے دائرہ کار میں ایمانداری کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ فوج، عدلیہ بیوروکریسی، میڈیا و سیاستدانوں سمیت سب سے پہلے بااثر طبقات کا بے لاگ اور یکساں احتساب ضروری ہے۔

ادارے چاہے فوج ہو عدلیہ، بیوروکریسی یا پارلیمان ہو وہ ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اداروں میں بیشمار خامیاں موجود ہیں لیکن انکا احترام ملحوظ خاطر رکھنا بہرحال لازم ہے۔ افراد آتے جاتے رہیں گے لیکن اداروں نے ریاست کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے۔ اداروں کی کمزوری ملکوں کو انارکی میں دھکیلتی ہے۔ اب وقت ہے کہ ملک کے صائب الرائے دانشور طبقات افراد کے درمیان تقسیم ہونے کی بجائے اداروں کی اصلاح کی بات کریں، احتساب سب کے مطالبے کے میکنزم پر بات کریں، انتخابی اصلاحات کے مؤثر نظام پر بات کریں، ہمیشہ کیلیے آمریت کا دروازہ بن کرنے پر بات کریں، اقتدار میں عام آدمی کی شرکت پر بات کریں۔ غربت، بیروزگاری، لسانی و مذہبی دہشت گردی ،فرقہ واریت، کرپشن کے خاتمے پر بات کریں۔

چہروں کی بجائے نظام بدلنے سے تبدیلی آئے گی، اگر سیاستدانوں کو مل بیٹھنا ہے تو پورے کے پورے نظام کی خرابیوں پر بات کرنے کیلیے مل بیٹھنا چاہیے۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کا رویہ اب نہیں چلے گا۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */