آصف زرداری کی بریت - آصف محمود

آصف زرداری نے نواز شریف سے مفاہمت کی. نواز شریف اور آصف زرداری کے خورشید شاہ نے مل کر چیئرمین نیب کا تعین کیا. نیب نے کیس ہی ایسا پیش کیا کہ بریت یقینی تھی. اب سمجھ آئی ان بڑی شخصیات کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی کیوں ضروری ہے؟

نیب اب اپیل نہیں کرے گا. کرنا پڑی تو ہومیوپیتھک سی اپیل ہوگی جس کا خارج ہونا لازم ہوگا. سپریم کورٹ کیا کرے؟ ان کا تماشا دیکھتی رہے یا حکم دے کہ ٹھیک سے اپیل کرو. حکم دے دیا تو قانون غنے کہیں گے سپریم کورٹ مداخلت کر رہی ہے.

یہ سوال البتہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ نگرانی کا یہ اہتمام صرف نواز شریف کے لیے ہی کیوں؟ سبھی طاقتور لوگوں کو ایک چھلنی سے کیوں نہ گزارا جائے.

مکرر عرض ہے کہ احتساب صرف نواز شریف کا ہوا تو اسے قانون کی عملداری کہنا مشکل ہو جائے گا.

انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ری ٹرائل کا حکم دیا جائے اور ایک عدد جے آئی ٹی بٹھا کر معلوم کیا جائے صاحب کتنے بےگناہ ہیں.

البتہ جماعت اسلامی کو خبر ہو کہ اب صرف قبلہ سراج الحق ہی نہیں بلکہ جناب آصف علی زرداری بھی باسٹھ تریسٹھ پر پورے اتر کر صادق اور امین قرار پا چکے ہیں.
یعنی خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے صادق اور امین دو.

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.