قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ علی ملک

پاکستان اور انڈیا کے درمیان جو لکیر ہے، وہ اس لیے نہیں کہ ادھر بھی سیکولر اور ادھر بھی سیکولر ریاست کا قیام ہو، یہ لکیر اس لیے ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں یہ فرق واضح ہو سکے کہ دو قومی نظریہ کیا ہے؟

پاکستان کا جھنڈا اور اس جھنڈے کا قطب دو قومی نظریہ ہی ہے. قائداعظم نے یہ نہیں کہا کہ سیکولر مصیبت میں گبھرایا نہیں کرتا، بلکہ قائداعظم کا قول یہ تھا کہ مسلمان مصیبت میں گبھرایا نہیں کرتا. جب قائداعظم نے یہ فرمایا تھا، تب ٹڈی نما وہ لبرل پیدا نہیں ہوئے تھے جو قائداعظم پر تنقید کرتے کہ اس قول سے اقلیت کی دل آزاری ہو رہی ہے، اور نہ ہی اس دوران مجمع سے کوئی اقلیت کا نمائندہ کھڑا ہوا کہ قائد اعظم صاحب! یہ قول جو آپ نے کہا درست نہیں ہے کیونکہ آپ تو سیکولر ریاست بنا رہے ہیں.

اس وقت مسلمانوں پر مصیبت یہی تھی کہ وہ کیسے مل کر ایک ملک کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکیں. وہ قربانیاں تھیں جو مسلمانوں پر واجب و فرض ہو چکی تھیں کہ وہ اس ملک کے لیے دیں. پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا، اور ہر زبان پر تھا. یہ نعرہ ہرگز کسی سیکولر ریاست کی بنیاد نہیں بن سکتا. سیکولرازم اور اسلامی قوانین دو متضاد راستے ہیں، لیکن آج لبرل طبقہ اسلام اور سیکولرازم کا جو راؤنڈ اپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ایک گول چکر تو ہو سکتا ہے لیکن اس راہ کی کوئی منزل نہیں ہے.

اس وقت پاکستان کی جدوجہد میں شامل مسلم اور غیر مسلم سب پر یہ عیاں تھا کہ پاکستان کے حصول کی جدوجہد اسلامی نظریہ پر ہے. آج بعض لوگ پاکستانیوں کو دھوکہ دینے کی کوشش میں ہی‍ں کہ قائداعظم ایسا پاکستان نہیں چاہتے تھے جس پر آج کی نوجوان نسل یقین رکھتی ہے بلکہ وہ پاکستان چاہتے تھے جو یہ ہمیں بتاتے ہیں. پاکستان کی سمت کا تعین دو قومی نظریہ، قراداد مقاصد سے ہوتا ہے. یہی وہ منزل جس کے لیے ہمیں کھڑا ہونا ہے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی ہی‍ں. آج بھی وہ لہو اسی طرح گرم ہے جس طرح پاکستان بننے کے وقت تھا، ان قربانیوں کو ہم لبرلز کی موم بتیوں کی آگ میں جلنے نہیں دیں گے.

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.