اپنی پاکستانیت کا ایکسرے کرائیں - یوسف ابوالخیر

13اگست کی شام ڈی جی رینجرز سندھ محمد سعید نے کراچی میں ایک اسکول کی تقریب سے خطاب کیا جس کے کچھ حصے کو لے کر اور مِس کوٹ کر کے بعض عناصر ایک بار پھر اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کرتے نظر آئے۔ میں نے خطاب کو کئی بار سنا اور پوری توجہ سے سنا۔ اول تو کسی بھی تقریر یا تحریر کا مخصوص حصہ لے کر اسے اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال کر اس پر کلام کرنا بددیانتی ہے، تقریر یا تحریر کو مکمل سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنا چاہیے تاکہ درست رائے قائم کی جاسکے۔ دوسرا اگر آپ محض اتنے حصے کو بھی سن لیں جسے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اس ٹکڑے میں بھی ایسی کوئی بات نہیں کی گئی جس کو بنیاد بنا کر چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا جائے۔

ڈی جی رینجرز نے اپنی تقریر میں کہا کہ
”میں کراچی کے عوام کے سامنے کچھ سوالات اٹھانا چاہتا ہوں۔ آپ سب اس کا جواب ڈھونڈیں، جواب اگر مثبت میں آئے تو فورسز سے اگر اپنی ڈیوٹیز میں کوتاہی ہو بھی جائے تو کراچی کا امن خراب نہیں ہوسکے گا۔ لیکن اگر جواب منفی ملتا ہے تو وفاقی و صوبائی حکومتیں اور رینجرز پولیس جو مرضی کر لے بدامنی اس شہر کا مقدر رہے گی۔ وہ سوالات یہ ہیں کہ کیا کراچی کے لوگ اپنے آپ کو اپنی پہچان کو سب سے پہلے پاکستان سے منسلک کرنے کو تیار ہیں؟ کیا کراچی کے لوگ سب سے پہلے اپنی پہچان کو اسلام سے وابستہ کرنے کو تیار ہیں؟ کیا کراچی کے لوگ سب سے پہلے اس شہر سے استوار کرنے کو تیار ہیں؟ اگر کراچی میں رہنے والے سے اگر کوئی پوچھے کہ تم کون تو اس کا جواب یہ تو نہیں ہوگا کہ میں مہاجر ہوں، میں پٹھان ہوں، سندھی، بلوچی، کچھی، گجراتی ہوں، پھر وہ یہ کہے کہ میں سنی ہوں، شیعہ ہوں، اسماعیلی ہوں، پھر وہ یہ کہے کہ میں سرجانی سے ہوں، بلدیہ سے ہوں، لانڈھی یا کورنگی سے ہوں۔ اور پھر کہیں اینڈ میں خیال آئے تو وہ کہے کہ میں مسلمان بھی ہوں اور پاکستانی بھی ہوں۔ ہم سب کو یہ اعادہ کرنا ہے کہ اپنی اپنی لسانیت، اپنی اپنی پہچان جو ہماری زبانی یا علاقے کی وجہ سے ہے اسے ہم نے اپنے دل میں بہت پیار سے رکھنا ہے، مقدم رکھنا ہے، اسکے ساتھ اٹیچمنٹ رکھنی ہے، لیکن اپنی عصبیت، لسانی اور فرقہ وارانہ پہچان سے پہلے اپنی پہچان تین چیزوں سے منسلک کرنی ہے۔ سب نے کہنا ہے کہ میں مسلمان ہوں، میں پاکستانی ہوں، میں کراچی آئیٹ ہوں۔“

آپ تعصب کی عینک اتار کر ٹھنڈے دل دماغ کے ساتھ ڈی جی ریجرز کی تقریر سنیں اور پوری ایمانداری سے بتائیں کہ اس تقریر میں کہاں پر انہوں نے کسی سے جذبہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ طلب کیا یا بانٹا؟ کب انہوں نے کسی کو بحیثیت قوم را کا ایجنٹ یا ملک دشمن کہا؟ یا ان کی تقریر میں کون سا ایسا لفظ استعمال ہوا جو کہ نامناسب تھا یا جس سے کسی کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچ سکتی ہو؟ اگر اعتراض پہلے پاکستانی بننے پر ہے تو پھر تو انہوں نے مسلمان بننے کی بھی تلقین کی، اس کا کیا مطلب ہے دینی جماعتیں جھنڈے بینر لے کر سڑکوں پر آجائیں کہ ڈی جی رینجرز نے ہماری مسلمانیت کو چیلنج کر دیا؟

میری دانست میں تو ڈی جی کی تقریر موقع محل کی مناسبت سے انتہائی مناسب، جامع، نظریاتی اور حب الوطنی سے بھرپور تھی۔ انہوں نے کراچی کے امن کی اہمیت کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ دیرپا اور پائیدار امن کے طریقے بھی بتائے۔ اب اگر کوئی ان کی تقریر کے بعض حصے کو پکڑ کر واویلا مچانا شروع کر دے کہ ہائے انہوں نے تو ہماری پاکستانیت پر سوال اٹھا دیا، تو میرے بھائی آپ پہلے ذرا اپنے پاکستانیت کا ٹیسٹ، ایکسرے اور الٹراساؤنڈ وغیرہ کروا لو، جو بات بے بات پر بلاوجہ مشکوک ہونے لگ جاتی ہے۔ یہ چور کی داڑھی میں تنکا والا معاملہ لگتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ آپ اب چونکہ اہلیان کراچی کے سامنے پوری طرح ایکسپوز ہو چکے ہیں، کراچی کے باشعور عوام آپ کے سیاہ کارناموں کی وجہ سے آپ کو پوجنا چھوڑ کر آپ سے لاتعلقی اختیار کرنے لگے ہیں، آپ کو دھتکار چکے ہیں تو آپ ایک بار پھر مہاجر کارڈ استعمال کرنا چاہ رہے ہیں، آپ لسانیت اور قومیت کی چنگاری بھڑکا کر اپنے مردہ جسم میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اطمینان رکھیں کہ اب ان شاء اللہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ عوام نے بار بار آپ پر اعتماد کر کے دیکھا، آپ کو ووٹ نوٹ سپورٹ سب کچھ دیا، آپ کو فطرہ بھی دیا اور کھالیں بھی۔ آپ کے کہنے پر جان دی بھی اور لی بھی۔ لیکن اس سب کے بدلے سوائے آپ کی ذہنی، فکری و بدنی عیاشی کے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ اس شہر کے 25 ہزار سے زائد نوجوان اندھیری راہوں میں مارے گئے۔ لیکن اب عوام کا شعور بیدار ہو چکا، انہیں احساس ہو چکا کہ آپ کو رہنما بنا کر ان سے بڑی بھول ہوئی، اور اب وہ اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔ اب کراچی کے عوام پہلے مسلمان اور پاکستانی، بعد میں کچھ اور ہیں۔ اب آپ کی دال نہیں گلنے والی حضور، اب آپ اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سو جائیں کہ جلد آپ کی پکڑ ہونے والی ہے، ایسی پکڑ جس سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا، امریکہ و بھارت بھی نہیں۔

ایسے میں ریاست کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ لوگوں کو اپنی غلطی کے ازالہ کرنے کا موقع دیں، آگے بڑھ کر انھیں سینے سے لگائیں، یہ احساس دلائیں کہ آپ بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے ڈی جی رینجرز یا کوئی بھی اور۔ تب ان شاء اللہ اہلیان کراچی بھی پوری طرح نہ صرف قومی دھارے میں شامل ہوں گے بلکہ باقی قوموں سے بڑھ کر اس وطن کی خدمت، محبت اور حفاظت کریں گے۔

Comments

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر

یوسف ابوالخیر فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کے طالب علم ہیں۔ اخبارات اور چینلز کے ساتھ کام کا تجربہ ہے۔ حالات حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں اور گاہے لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔ روایتی اور مروجہ انداز و اصالیب سے ہٹ کر کچھ منفرد لکھنے کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */