عشرہ ذی الحجہ اور قربانی کے فضائل - حافظ محمد زبیر

عشرہ ذی الحجہ سے مراد ذو الحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ اکثر لوگ ان کی فضیلت اور اہمیت سے غافل ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سال بھر کے دنوں میں افضل ترین دن قرار دیا ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق ان دنوں میں جو نیک عمل کیا جاتا ہے، دوسرے دنوں میں کی جانے والی نیکی اس کے برابر نہیں ہو سکتی۔

صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کہ کیا دوسرے دنوں میں اگر جہاد کی نیکی کی جائے تو وہ بھی ان دنوں کی عام نیکی کے برابر نہیں ہے تو آپ نے فرمایا: ہاں دوسرے دنوں کا جہاد بھی ان دنوں کی عام نیکی سے بڑھ کر نہیں ہے الا یہ کہ کوئی مجاہد اپنی جان اور مال سب کچھ اللہ کے رستے میں لٹا دے تو پھر شاید ان دنوں کی نیکی کے برابر پہنچ سکتا ہے۔ تو ان دنوں میں نیکی کا اہتمام کرنا بہت ضروری ہے۔ اور ان دس دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنے کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق "یوم عرفۃ" کے روزے کے بارے آپ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے اللہ عزوجل تمہارے ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے گناہ معاف فرما دیں گے۔

پس سال بھر کی راتوں میں رمضان کے آخری عشرے کی دس راتیں افضل ہیں جبکہ سال بھر کے دنوں میں عشرہ ذی الحجہ کے پہلے دس دن افضل ہیں۔ اسی طرح سال بھر کی راتوں میں افضل ترین رات "لیلۃ القدر کی رات" ہے جبکہ سال بھر کے دنوں میں افضل ترین دن "قربانی کا دن" ہے۔ سنن ابو داود کی ایک روایت کے مطابق افضل ترین دن "یوم النحر" یعنی قربانی کا دن ہے۔ اور اس دن میں افضل ترین عمل "قربانی کا عمل" ہے۔

پس سال بھر کے دنوں میں افضل ترین دن عشرہ ذی الحجہ کے ہیں۔ عشرہ ذی الحجہ میں افضل ترین دن "قربانی کا دن" ہے۔ اور قربانی کے دن میں جتنے نیک عمل کیے جاتے ہیں مثلا تلاوت، ذکر، صدقہ وغیرہ تو ان میں سے سب سے افضل عمل "قربانی کا عمل" ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق جو شخص قربانی کی نیت اور ارادہ رکھتا ہو تو ذی الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد اپنے بال اور ناخن نہ لے۔ اس سے اس کے قربانی کے عمل کا ثواب بڑھ جائے گا۔ سنن الترمذی کی روایت کے مطابق گائے میں سات اور اونٹ کی قربانی میں دس صحابہ نے شرکت کی۔

اگر کوئی شخص قربانی کرے تو نیت میں اپنے تمام گھر والوں کو بھی شامل کر لے تو ان سب کو اجر پہنچے گا، ان شاء اللہ جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت یہ دعا کرتے تھے: باسم اللہ اللھم تقبل من محمد وآل محمد ومن امۃ محمد۔ ترجمہ: اللہ کے نام سے، اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی قبول فرما، ان کے خاندان کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف سے بھی۔

مستحب یہی ہے کہ قربانی کرنے والا اپنے جانور کو خود ذبح کرے کہ قرآن مجید میں ہے کہ دل کی جس کیفیت کے ساتھ جانور ذبح کی جاتا ہے، وہ کیفیت اللہ تک پہنچتی ہے۔ اس لیے جانور ذبح کرتے وقت یہی خیال کرے کہ اے پروردگار! یہ تو جانور تھا جو آپ کے رستے میں قربان کر دیا، اگر اپنی جان کی بھی ضرورت پڑی تو حاضر کر دوں گا۔ یا یہ خیال کرے کہ پروردگار! جس طرح اس جانور کو قربان کر دیا، اسی طرح اپنی خواہشات کو آپ کے لیے قربان کرنا پڑا تو دیر نہیں لگاؤں گا۔