صادق اور امین کے آئینی تقاضے - حسن بھٹی

اس بات سے قطع نظر کہ صادق اور امین کی شرط آئین میں ایک آمر کی داخل کردہ ہے، یہ بات تو طے ہے کہ ایمانداری اور سچائی وہ بنیادی شرائط ہیں جو تقریباً دنیا کی تمام اقوام کی حق حکمرانی کا تقاضا ہے۔ آپ ﷺ نے نبوت سے قبل لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا اور پوچھا کہ لوگو اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے فوج ہے تو تمہارا جواب کیا ہو گا؟ لوگ نے ہم آواز ہو کر کہا یا رسول ﷺ آپ یقیناً صادق اور امین ہیں۔ تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حکمران ہو اور وہ جھوٹا اور بے ایمان ہو؟ پارلیمان اور سینیٹ کسی بھی قانون کو منظور کرتے ہیں اس قانون یا آرٹیکل کی تشریح بار حال سپریم کورٹ کرے گی تو گویا صداقت اور ایمانداری کا تقاضا غلط نہیں بلکہ صادق اور امین ہونے کی تشریح سپریم کورٹ طے کرے گی۔ اس بات پر غور کرے گی کہ ملکی ترجیحات اور عوامی مفاد عامہ کی روشنی میں کون سے زمینی اصول ہیں جس پر کوئی شخص مزید صادق اور امین نہیں رہا۔

اس کے رد میں اکثر یہ بودی دلیل دی جاتی ہے کہ اگر 62 و 63 کا اطلاق پاکستان قوم پر کیا جائے تو شاید اس میں یہ کوئی بھی پورا نہیں اترے گا۔اگر حقیقت میں اس کی یہ تشریح کہ انسان کبھی جھوٹ نہیں بولے گا اور ہر معاملے میں ایماندار ہو گا، لاگو کی جائے تو شاید پوری پارلیمان نااہل ہو جائے۔ مگر دراصل اس کی یہ تشریح درست نہیں۔ اس دفعہ کی درست تعریف یہ ہے کہ وہ شخص جو عوامی مینڈیٹ لے کر ایوان میں آئے، یا اس کو وزارت، یا کسی اور عوامی منصب پر فائز کیا جائے تووہ اتنا امین ہو کہ عوامی پیسے کا غلط استعمال نہ کرے، وسائل کو بہترین عوامی مفاد میں بروئےکار لائے، عوامی ووٹ میں خیانت نہ کرے۔ صداقت کی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے ادا کردہ ٹیکسوں اور اثاثہ جات میں عوام سے جھوٹ نہ بولے، عوام کو درست حقائق اور قومی منصوبوں میں درست تصویر پیش کرے۔ صداقت اور ایمانداری کی یہ تعریف سپریم کورٹ اچھی طرح نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اس کے اطلاق کے لیے عقل و فہم بھی رکھتا ہے۔ یہ پاکستانی قوم کا بنیادی حق ہے کہ وزرات عظمیٰ پر فائز شخص اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد میں اپنے اثاثوں کو مکمل طور پر ظاہر کرے اور اپنی طاقت کو اپنے ذاتی کاروبار اور لوٹ مار میں استعمال نہ کرے۔ اگر اس کو ایک سطر میں تحریر کیا جائے توصداقت اور ایمانداری کا تعلق عوامی اور ملکی معاملات سے متعلق ہےنہ کہ بالعموم۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہیں یہ نوے دن اور چودہ روز - حبیب الرحمن

آئین کی ترمیم کی موجودہ بحث میاں محمد نواز شریف کے نااہلیت کے فیصلے کے بعد اٹھائی گئی ہے۔ وہ بڑی شدّومدّ کے ساتھ اس کی ترمیم کے حامی بن چکے ہیں۔ ماضی میں اٹھارویں ترمیم میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اصرار کے باوجود وہ اس کو نکالنے کے مخالف رہے۔ نااہلی کا فیصلہ آنے سے قبل وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننے اور حکومت نہ چھوڑنے کی بات کرتے رہے اور یکلخت نااہلیت کے بعد انہوں نے آئین میں تریم کی کوششیں شروع کر دی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تیسری بار وزیر اعظم بننے کی اجازت کی طرح ملکی آئین انفرادی افراد کی نااہلی کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے گا کہ جب بھی کوئی طاقتور آئین کو جب مرضی جائے جیسے مرضی چاہے رخ موڑ کر اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے؟۔ جمہوریت کے استحکام، پارلیمان کی بالا دستی اور سویلین بالا دستی کے لیے یہ بات سب سے اہم ہے کہ ہر پارٹی اپنی سطح پر اپنے اندر جمہوریت پیدا کرے، اداروں کو مضبوط اور سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے، آئین کی مکمل تشریح کی جائے اور اس کے وہ حصے جو کسی فرد واحد سے ٹکراؤ رکھتے ہیں ترمیم کا حق نہیں نہ رکھتے ہوں اور آخر میں سویلین سسٹم اور سپریم کورٹ میں ہی اتنا چیک اینڈ بیلنس ہو کہ کسی اور ادارے کو ملکی سالمیت کے نام پر شب خون مارنے کا موقع میسر نہ ہو۔ اس سے پہلے کہ معاملہ انتشار اور تحریکوں کی طرف جائے وہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں طے پا جائے۔