ہمارا صدر ہی ہمارا خلیفہ اور امیرالمومنین ہے – کاشف نصیر

خلافت یعنی خدا کی نیابت ایک تاج ہے جو ہر ایک مسلمان اور تمام مسلمانوں کے توسط سے ان کے نمائندہ حکمرانوں کو بطور امانت حاصل ہے۔ جب کوئی حکمران اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی اطاعت قبول کرلے تو اسکی حیثیت خود بخود خلیفہ کی ہوجاتی ہے۔ یوں خلافت مسلمانوں کے 'سیٹ آف بلیفس' کا ایک شاہکار تصور اور ٹائٹل ہے نہ کہ کوئی باقاعدہ مرتّب شدہ نظام حکومت۔ پس ایک بادشاہ ہو، چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر ہو یا جمہوری انداز میں چنا ہوا صدر، تینوں خلیفہ بھی ہوسکتے ہیں۔

خلافت کو باقاعدہ مرتب شدہ نظام حکومت کے طور پر پیش کرنے والوں سے جب یہ پوچھا جائے کہ اس کے خدوخال، ڈھانچے، شکل و صورت اور جزئیات سے آگاہ کریں، تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ یہ تصوّر ایک واضح غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو بطور مکمل ضابطہ اخلاق، دین کو سمجھنے میں فہم کے نقص سے وقوع پذیر میں آیا۔ اسلام یقیناً ایک مکمل ضابطہ حیات ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زندگی کے ہر معاملے میں جزئیات کی سطح پر احکامات بیان کردیے گئے ہوں۔ اس سے مراد زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی ہے۔ اس رہنمائی کی روشنی میں زمان و مکاں کے تقاضوں اور دیگر معروضی ضروریات کے مطابق مسلمان اپنا نظام اجتماعی مرتب کرنے یا بدلنے میں مکمل آزاد ہے۔ اصول ہمیشہ مسلّمہ رہتے ہیں جبکہ ان سے مرتب پانے والا نظام اور اجتہاد وقت کے تقاضوں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔

الہامی اصولوں کے کھونٹے سے بندھی یہ آزادی ہی اسلام کو قیامت تک کے لیے ایک آفاقی ہدایت کا مرکز بناتی ہے۔ اگر ہم اسے انسانوں کے بنائے ہوئے وقتی نظام میں بند کرنے کی کوشش کریں گے تو اس طرح اس کی آفاقی حیثیت مجروح ہوگی۔ آج سے پانچ سو سال پہلے کی دنیا میں موجودہ انداز کی جمہوریت کا تصور نہیں تھا اور عین ممکن ہے کہ اتنے ہی سالوں بعد انسانی سماج کا تغیّر اور پولیٹیکل سائنس ہمیں کسی ایسے نظریے سے روشناس کرائے جو جمہوریت سے بھی مقبول اور سب کے لیے قابل قبول ہو۔ ان حالات میں اسلام کہاں کھڑا ہوگا؟ اسلام یقیناً وہیں ہوگا جہاں آج سے 1400 سال پہلے اپنے آفاقی اصولوں کے ساتھ کھڑا تھا۔

ہم نے دیکھا کہ چاروں خلفہ راشدین نے علیحدہ علیحدہ طریقوں سے اقتدار حاصل کیا۔ سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی بیعت سیدنا عمرؓ کی تحریک پر ایک بڑے اجتماع نے کی، سیدنا عمرؓکو پچھلے خلیفہ نے نامزد کیا، سیدنا عثمانؓ کا انتخاب اس کونسل نے کیا جس کو ان سے پچھلے خلیفہ نے نامزد کیا تھا اور سیدنا علیؓ بزور شمشیر خلیفہ ہوئے۔ ان مقدس شخصیات کے معاملے میں ہم واضع طور پر دیکھتے ہیں کہ طریقہ کار بدلتا رہا لیکن اسلام کے اصولوں کی آخری درجے میں پیروی کی گئی۔ یہ قرون اولیٰ کی خلافت تھی جہاں بھی ہمیں کوئی ایک طے شدہ مرتب نظام نظر نہیں آتا۔ مزید یہ کہ یہ دور اپنے بعد آنے والی دور ملوکیت سے گو زمین و آسمان کا فرق رکھتا ہے لیکن تیکنیکی طور پر دونوں ادوار کو ہی دور خلافت تسلیم کیا گیا ہے۔

دور ملوکیت میں بنو امیہ، بنو عباس اور ترکان عثمان کی خلافتیں مکمل طور پر شاہانہ انداز اختیار کیے ہوئے نظر آتی ہیں۔ تقابلی جائزہ لیا جائے تو عباسی، عثمانی ترکوں سے بہتر اور اموی، عباسیوں سے بہتر نظر آتے ہیں۔ کئی مقامات پر ہمیں اسلامی اصولوں کا خون ہوتا بھی نظر آتا ہے لیکن اس کے باوجود مسلم فقہ بعض بنیادی نقاط کو بنیاد بناکر ان تمام سلاطین یا امراء کو خلیفہ قرار دیتے آئے ہیں جو 1924ء تک اس منصب کے دعویدار ہوئے۔ اگر اقتدار حاصل کرکے سب سے پہلے اپنے تمام بھائیوں اور شیرخوار بچوں کے قتل کا فرمان جاری کرنے والا سلطان خلیفہ ہوسکتا ہے تو مسلم عوام کا اعتماد حاصل کرکے صدر یا وزیراعظم بننے والا شخص کیوں اس ٹائٹل کا اہل نہیں ہوسکتا؟ آپ ایک شخص کے ہاتھ میں ہر سیاہ و سفید کا اختیار دے کر اسے خلافت قرار دیتے ہیں تو جمہور سے آپک و کیا مسئلہ ہے؟ کیا ایک شخص کے گمراہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں یا مسلمانوں کی اکثریت کے؟

پاکستان میں فی زمانہ تنظیم اسلامی اور حزب التحریر ایسی تنظیمیں نوجوانوں کو خلافت کے نام پر ایک ایسے ٹرک کے پیچھے لگاتی ہیں جو گھوم پھر کر اوریا مقبول جان ایسے ریٹائرڈ بیورکریٹ کے پاس آکر رُکتا ہے۔ پھر یہ نام نہاد دانشور ان نوجوانوں کو ہانک کر یا تو کسی عمران خان کے پہلو میں دھکا دے دیتے ہیں یا کسی جنرل کی گود میں ڈال دیتے ہیں۔ ان تنظیموں کے لیے خلافت صرف ایک دلکش نعرہ ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ خلافت کے نام پر تنظیم اسلامی افغان طالبان کے طرز کی سخت گیر ملّائیت نافذ کرنا چاہتی ہے تو حزب التحریر ایک مذہب اور ایک اسٹیٹ کا عزم رکھتی ہے لیکن دونوں جماعتیں اس اصل ناقابل عمل خیال کا اظہار کم کم ہی کرتی ہیں۔

آج سے ایک ہزار سال بعد کی دنیا کیا ہوگی؟ کیسے نظام رائج ہوں گے؟ اس کے تقاضے، ضروریات اور معروضی حالات کیا ہوں گے؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے، لیکن یہ طے ہے کہ اسلام کے اصول اس وقت بھی وہی ہوں گے جو آج سے 1400 سال پہلے رسالت مابﷺ نے پیش کئے تھے۔ البتہ ان اصولوں کی روشن میں مرتب پانے والا نظام بدلتا رہے گا۔ آج کی دنیا کا جائزہ لیں تو فرد واحد کی کاٹ کھانے والی بادشاہت اور بندوق کے زور پر ایک مسلح گروہ کے راج کے مقابلے میں جمہوریت سب سے بہتر ہے۔ جمہوری منہج کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی ممکن ہوسکتی ہے جس کا اجتماعی طور اللہ سے خیانت اور بغاوت پر تیار ہوجانا انتہائی مشکل ہے۔ جمہوریت کی خرابی اکثریت کی بالادستی کا تصور ہے، جسے پاکستان، ایران اور افغانستان کے دستور میں ختم کردیا گیا ہے۔ اجتہاد اور نئی قانون سازی کا دروازہ کھلا ہے جبکہ پوری پارلیمان ملکر بھی کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتی ہے جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔

پاکستان میں قراداد مقاصد اس باب میں ایک کلائمیکس کا درجہ رکھتا ہے۔ ہم نے 1949ء میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں اسلامی جمہوری نظام کا خاکہ تیار کیا اور اس کے نتیجے میں 1973ء کا خالص اسلامی جمہوری آئین مرتب پایا۔ اب اس کے بعد ہمیں کسی خلافتی ٹرک کے پیچھے لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ 1973ء کا دستور اپنی اصل روح کے ساتھ چلتا رہے تو ہمارا صدر ہی ہمارا خلیفہ اور امیرالمومنین ہے۔