اخوان الصفا - حافظ محمد زبیر

وہ سات دوست تھے جو کہ شہر سے باہر ایک پہاڑ کی چوٹی پر حلقہ لگائے بیٹھے تھے تا کہ اس ویرانی سے وہ، وہ باتیں کر سکیں جو وہ شہر کی آبادی سے نہیں کر سکتے تھے۔

ان میں سے
ایک نے کہا کہ اس بار ہم یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ ہم آدمی کی اچھل کود کی وجہ اور مقصد کو جان سکیں۔
دوسرے نے کہا کہ وہ وجہ یا تو پیٹ ہے، یا جنس ہے، یا دوسروں پر غالب آنے کی خواہش ہے۔
تیسرے نے کہا کہ ہم مذہبی آدمی کی بات کر رہے ہیں نہ کہ عام انسان کی، لہذا وجہ کے تعین میں تھوڑا خاص [specific] ہو جاؤ۔

چوتھے نے کہا کہ مذہبی آدمی کا المیہ بھی وہی ہے جو عام انسان کا ہے کہ جس قدر مذہبی علم میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے شکوک وشبہات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے علمی اجمال میں جو یقین کی کیفیت تھی، وہ علم کی تفصیل میں پڑنے سے شک میں تبدیل ہو گئی۔ تیسرے نے کہا کہ اسے شک کی ابتلاء کی بجائے یقین کے زوال کا نام دینا چاہیے۔

پانچویں نے کہا کہ مذہبی آدمی کا بحران اخلاقی ہے کہ سو میں سے پچانوے دوسروں کی اصلاح اور تربیت میں لگے ہیں۔ اصلاح وتبلیغ، دعوت وتربیت اور تحریک وجہاد کے نام پر ان میں سے ہر ایک لیڈر اور امام بننا چاہتا ہے، بھلے چار لوگوں کا ہی کیوں نہ ہو۔ ہر شخص اپنا ادارہ، اپنی جماعت، اپنی تحریک چاہتا ہے تا کہ اپنا "حق" [truth] دوسروں تک پہنچا سکے۔ سو مذہبی آدمیوں میں سے پچانوے نے حق بات کی تبلیغ کے لیے اسپیکرز کھول رکھے ہیں اور عام انسان تو کجا خود انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں! دوسروں نے کہا کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ اس نے کہا کہ خاص انسان سے عام آدمی بننے کی کوشش کرو۔ اپنی اصلاح پر خوب توجہ دو جبکہ دوسروں کی اصلاح کے لیے اتنی مذہبی ایکٹوٹی کافی ہے کہ ہفتے میں ایک درس ہو گیا۔ اگر دین کے لیے بھی ایک "گدھے" کی طرح کام کرتے رہو گے تو جدید انسان کی طرح بہت جلد اس زندگی سے تھک جاؤ گے۔

یہ بھی پڑھیں:   جہالت کے اندھیرے - نیلم اسلم

چھٹے نے کہا کہ جب تم بچے کو یہ کہتے ہو کہ تم میں کچھ خاص ہے، تم یہ کر سکتے ہو، دنیا میں کچھ مشکل نہیں ہے تو اس کی تخلیق اور پروڈکٹوٹی دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ اگر انسان کی زندگی سے "تحریک" نکال دو گے تو ان دونوں صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا اور مذہبی آدمی کی ان دونوں صفات کے کامل اظہار کے بغیر نہ تو اس امت کے لیے دنیا کی امامت کا خواب پورا ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ خلافت ارضی کی مستحق قرار پا سکتی ہے۔ اور اس سب کچھ سے گزرے بغیر نہ ہی خود انسان مکمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی شخصیت کی تعمیر کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ اگر بڑے بڑے خواب نہیں دیکھو گے تو اپنے زندہ رہنے کی وجہ جواز کھو بیٹھو گے اور بہت جلد زندگی سے اکتا جاؤ گے۔ پس اس امت کا اصل المیہ تحریکی شعور کی کمی ہے۔

ساتویں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ علمی شعور کا نقص ہے، اسے پورا کر لو تو وہ سکون میسر آ جائے گا کہ جس کی تلاش میں تم یہاں جمع ہوئے ہو۔ علمی شعور کے کمال نے ہماری اس طرف راہنمائی کی ہے کہ مذہبی افکار کے اس جنگل میں کھو جانے والے معاصر مذہبی آدمی کا اصل مسئلہ "دانش" ہے۔

باقیوں نے سوال کیا کہ "دانش" کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ "بکواس"۔ انہوں نے کہا کہ کہ "بکواس" کیا ہے؟ اس نے کہا کہ جو ہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ اس نے کہا کہ "بکواس" بند کر دو یا کم کر دو تو اس الجھن سے نکل آؤ گے کہ جس کے لیے یہاں جمع ہوئے ہو۔

دوسرے نے کہا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ تم سب میرے شعور کی ہی مختلف فیکلٹیز ہو جو مختلف احوال میں زندگی گزار رہی ہیں۔ پہلے نے کہا جو کہ معمر تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تم سب میرا ماضی ہو اور یہ سب باتیں، کیفیتیں اور احوال جو کہ تم بیان کر رہے ہو، مذہبی آدمی کے رستے کے سنگ ہائے میل [milestones] ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ "جہالت" بہت بڑی نعمت ہے لہذا اپنے شعور کی تمام فیکلٹیز کو جگانے کی غلطی نہ کرنا کہ ان میں باہمی اختلاف کا احساس زندہ ہو جائے گا۔ چوتھے نے کہا کہ نہیں "جہالت" کو نہیں بلکہ "کم علمی" کو نعمت سمجھو کہ ایسے شخص کو آسانی سے یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے۔ ساتویں نے کہا کہ "علم" تو بہت کم دیا گیا ہے، جو زیادہ ہے، وہ "دانش" ہے۔ پس دانش کی کمی بہت بڑی نعمت ہے۔ "علم" سب کا ایک ہے جبکہ "دانش" اپنی اپنی ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.