خود احتسابی کی جانب پہلا قدم - خواجہ مظہر صدیقی

کسی نے سچ کہا ہے کہ ہر وقت کف افسوس ملتے رہنا، مایوسی اور نا امیدی کا اظہار کرتے رہنا زندہ لوگوں کی صفت نہیں ہوتی. میں چونکہ ٹرینر ہوں. مختلف تربیتی ورک شاپس اور سیمینارز میں شرکت کے لیے ملک بھر میں جاتا رہتا ہوں. اس حوالے سے اکثر و بیشتر مختلف تقریبات ، محافل اور مجالس میں نئی نسل کے ایسے کم ہمت اور بے حوصلہ نمائندگان سے ملاقات ہوتی ہے جو ہر ملاقات میں اپنے نصیب اور اپنی قسمت کا رونا روتے ہوئے ملتے ہیں. وہ لوگوں اور حالات کی ستم ظریفیوں پر سب کو کوستے ہیں. وہ نظام کو بھی غلط کہتے اور سماجی نا ہمواریوں اور نا انصافیوں کا شکوہ کرتے ہیں.

جب میں ایسے احباب سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے اپنے لیے کیا کیا؟ کوئی ایسا کام جو امید، یقین اور حرکت میں اضافے کا باعث بنا ہو ؟ اور یہ بھی بتائیے کہ آپ نے شعور کے ساتھ نشان منزل تک پہنچنے لیے کتنی قوت،صلاحیت اور کوشش کو آزمایا ہے؟ اور میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے کبھی اپنے اندر احساس ذمہ داری کو پیدا ہونے دیا ہے؟اور کیا آپ نے تعلیم کے ساتھ اپنی تربیت اور کردار سازی کو مساوی اہمیت دی ہے؟ اور صحیح صحیح بتائیے کہ آپ نے اپنے سماج کو کیا دیا ہے؟

میرے ان احباب کے پاس میرے سوالات کا آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا. مشاہدہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ ایسے لوگوں کا کوئی دشمن نہیں ہوتا بلکہ یہ خود اپنے ہی دشمن ہوتے ہیں، اور الزام حکومتوں، اداروں اور سماج، حتی کہ اپنے والدین، دوستوں اور عزیز و اقارب کے سر تھوپتے ہیں.

انہوں نے کبھی سنجیدگی سے اپنی غلطیوں، کوتاہیوں، کمیوں اور کجیوں کا جائزہ نہیں لیا ہوتا. آپ یقین کریں کہ باتوں،گلوں اور شکووں کے بادشاہ لوگ ہی عمل کے میدان میں اپنی سستی، کاہلی اور کم علمی کی وجہ سے وقت کی رفتار سے پیچھے رہ جاتے ہیں. در اصل یہی لوگ ہی اپنی محنت، صلاحیت اور کارکردگی بڑھانے کی بجائے صرف اچھی قسمت کے منتظر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رہتے ہیں. اپنے مقدر اور قسمت کو آزماتے ہیں کہ وہ ان سے کیا کھیل کھیلتے ہیں.. کسی آسمانی مدد کے منتظر ہی رہتے ہیں. ایسے افراد ہی یقین سے مایوسی کا سفر کرتے اور ناکام ٹھہرتے ہیں.

یاد رکھیے!
عربی کہاوت ہے کہ اپنا احتساب کر لو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے. کوئی کسی کا دشمن نہیں ہوتا بلکہ آپ خود ان کٹھن اور دشوار گزار حالات میں اپنے دشمن ثابت ہوتے ہیں. خود احتسابی کی عادت کو اپنا کر الزامات سے نکلا جا سکتا ہے. اس کے لیے خود کو بدلنے کا پہلا قدم بھی ان احباب کو خود اٹھانا ہو گا. تبھی اندر اور باہر تبدیلی نمایاں انداز میں نظر آئے گی. اپنی غلطی یا کوتاہی تسلیم نہ کرنا اور اس کا ذمہ دار اپنی قسمت کو قرار دینا ایک بیوقوف انسان کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض اوقات قسمت بھی انتظار میں ہوتی ہے کہ اگر انسان کوشش کرے گا تو ہی اسے یہ چیز ملے گی۔ مگر کوشش نہ کرنے والا انسان خود اپنا دشمن ہوتا ہے۔

Comments

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی

خواجہ مظہر صدیقی بچوں کے ادیب، کالم نگار، تربیت کار و کمپیئر ہیں۔ تین کتابیں بعنوان نئی راہ، دھرتی ماں اور بلندی کا سفر، شائع ہو چکی ہیں۔ تجارت پیشہ ہیں، ملتان سے تعلق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.