نظریاتی لیڈر - یاسر امجد

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا، جس پر یا ر دوست سیخ پا ہیں کہ صرف ایک ’’ اقامہ‘‘ اور ایک ایسی فرم کی چیئر مین شپ کی بنا پر وزیراعظم کو نااہل ثابت کیا گیا جہاں سے انہوں نے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ لہذا وزیر اعظم کی نا اہلی ایک گہری اور منظم سازش کا نتیجہ ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ کورٹ کے پورے فیصلے کو مد نظر رکھے بغیر صرف ’’ اقامہ‘‘ کا پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور اس بات کی دل کو تسلی دی جا رہی ہے کہ نواز شریف میگاکرپشن کی بناء پر نا اہل نہیں ہوئے۔ کم وبیش وہی ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جیسا جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت کیا گیا تھا اور بہت سے دوست اس بات پر خوشی سے بغلیں بجاتے ہوئے مٹھائیاں کھاتے رہے کہ فیصلہ 2-3 سے آیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اندازہ ہوا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش میرٹ پر ہو نے کی وجہ سے ان کے قائداور شریف خاندان کا سیاسی زور مدھم پڑگیاجس کے نتیجے میں آج وہی لوگ اُسی جے آئی ٹی کو متنازع بنا نے کی پوری ناکام کوشش کر چکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کرپشن کیسز کو نیب کی طرف منتقل کر دیا تا کہ ٹرائل کورٹ میں نہ صرف پانامہ بلکہ دیگر قانونی اور مالی معاملات بھی زیر تفتیش لائے جا سکیں۔

بالفرض اگر ہم مان بھی لیں کہ نواز شریف کو کرپشن کیس پر نہیں بلکہ صرف ’’ اقامہ‘‘ پر فارغ کیا گیا ہے تب بھی توجہ طلب بات ہے کہ انہیں اور ان کے وزراء کو ’’ اقامہ‘‘ جیسی سہولت کیو ں درکار ہے؟ جب ایک ملک (پاکستان) کے پبلک سیٹ ہولڈرز اپنی بلیک منی کو دنیا کے مختلف گوشوں (بالخصوص سوئس بینکوں) میں چھپاتے ہیں تب وہ اس بات کی بھر پور احتیاط کرتے ہیں کہ اگر کبھی ان کے اثاثوں کی تفتیش کی جائے تو انہیں پاکستانی قومیت کی بنیاد پر تلاش نہ کیا جا سکے۔ ’’ اقامہ‘‘اُنہیں ایک دوسرے ملک کا حفاظتی دائرہ فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے قوانین پر عمل درآمد کرنے کے مجاز نہیں ہوتے۔

دوسری طرف اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ میاں صاحب کی مذکورہ فرم ان کے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے کاروبار کے لیے ایک سنٹرل ہب (Centeral Hub)کا کام کرتی ہے جہاں سے میاں صاحب کی ذات سے جڑی کرپشن کی ہر شاخ منسلک ہے۔قو م سے خطاب، اسمبلی میں تقریر اورشریف خاندان کے مختلف ادوار میں دیے گئے بیانات ایک دوسرے سے اس قدر متضاد نظر آنے کے باوجود میاں صاحب کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے اتنے مواقع فراہم کیے گئے جس کا کوئی شمار نہیں مگر آفریں ہے میاں صاحب اور اُن کے مریدوں کے کہ اب تک ’’کوا سفید ‘‘ ہونے پر ہی مُصر ہیں۔ میاں صاحب کو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کورٹ نے ایک نسبتََا نرم فیصلہ کر کے ان کی ملک دشمن سرگرمیوں پر پردہ ڈال دیا ہے ورنہ دسویں جلد اگر پبلک ہو جاتی تو نہ جانے لوگ ان کی حالیہ گھر واپسی کے وقت کس چیز سے استقبال کرتے۔

ہم ایک لمحے کے لیے یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ میا ں صاحب کے خلاف واقعی سازش ہوئی ہے۔ تب بھی کیا میاں صاحب ایسا شکوہ کرنے میں حق بجانب ہیں جن کی اپنی ساری سیاسی زندگی گٹھ جوڑ اور سازشوں کے نتیجے میں ذاتی اور سیاسی مفادات حاصل کرنے میں گزری ہو؟ پاکستان کے تین وزاء اعظم کو غیر جمہوری طریقے سے اتارنے میں میا ں صاحب کا کردار کھلی کتا ب کی طرح سب کے سامنے ہے۔ ساری زندگی سازشی تانے بُننے والے اپنے خلاف ’’خود ساختہ‘‘ سازش کا شکار ہو کر کیوں بو کھلائے ہوئے ہیں؟ قدرت کا اصول ہے ـ’’مکافات عمل‘‘، جو بویا ہے وہ کا ٹنا بھی پڑے گا۔ اگر میاں صاحب کے خلاف کسی نے سازش کے تحت نا انصافی کی ہے تو تھوڑا انتظار کیجیے ! مکافات عمل کا ایسا ہی نتیجہ ان سازشیوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ خاکسار کی نظر میں جتنے مواقع میاں صاحب کو قدرت نے دیے ہیں شاید ہی کسی کو دئیے گئے ہوں۔ لیکن میاں صاحب کی ’’مستقل مزاجی‘‘ کو داد دینے کو بھی دل چاہتا ہے کہ تین دفعہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ملک کو اندھیروں سے نکال سکے، نہ بدامنی اور مہنگائی پر قابو پا سکے، نہ خارجی اُمور میں کوئی قابل ذکر کامیابی حا صل کر سکے اور نہ اپنے حق میں عوام کی رائے کو سنوار سکے۔ اگر سنوار اہے تو صرف اپنے اور اپنے اہل خانہ کی طرز زندگی کو۔ بد قسمتی سے میاں صاحب کو قوم کے سسکتے بچوں کا مستقبل تو نظر نہیں آیا لیکن اپنی آل اولاد کی سات نسلوں کے لیے اتنا انتظام ضرور کر دیا کہ قوم کے پیسوں سے عیش و عشرت والی زندگی گزار سکیں۔ لیکن میا ں صاحب افسوس اِس بات کا ہے کہ قدرتی مکافات عمل تینوں دفعہ آپکو لے ڈوبا پر آپ کو پھر بھی سمجھ نہیں آئی۔ پہلے صدر، پھر فوج اور اب عدلیہ کے ہاتھوں بے نقاب ہونکے باوجود آپ کی ازلی ’’مستقل مزاجی‘‘ برقرار ہے۔ آج بھی آپ اور آپ کی ٹیم آپ کی دُختر نیک اختر کی زیر نگرانی جس طرح سپریم کورٹ اور سیاسی مخالفین کی کردار کشی پر تُلی ہوئی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ ا بھی بھی 90ء والی سیاست پر ہی یقین رکھتے ہیں دوسروں کو کنٹینر سیاست پر طعنے دینے والے آج خود سڑکیں ما پنے پر مجبور ہیں۔ گو کہ یہ میاں صاحب کا جمہوری حق ہے کہ اپنی عوام سے ملاقات کریں لیکن کیاہی اچھا ہوتا اگر یہ نام نہاد ریلی سرکاری وسا ئل کی بجائے ذاتی جیب سے ترتیب دی جاتی؟

یہ بھی پڑھیں:   وزیر اعظم عمران خان دو دن چھٹی پر نہیں تھے : ڈاکٹر شاہد مسعود

نااہلی کے فیصلے کے بعد اپنے وزراء سے خطاب کرتے ہوئے میاں صاحب نے جس مظلومیت کی تصویر پیش کی اور کہاکہ انہیں پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے جانے کی وجہ سے سزا دی گئی ہے تو یقین کریں کہ بہت سے ایسے لوگ جو حب الوطنی کے چکر میں اُن کی نا اہلیت پر خوش تھے، یکدم افسردہ ہو گئے۔ اس سے پہلے کہ اُنہیں بھی میاں صاحب کے ساتھ ہونیوالی ـ ’’ناانصافی‘‘ پر یقین آتا، اچانک ہی میاں صاحب کے منہ سے نظریاتی ہونے کا دعویٰ بھی نکل گیا۔ہوش مند اور باشعور لوگ جانتے ہیں کہ میا ں صاحب نظریاتی ہونے کا پرچار بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ اگر 1999 تک کے اعمال کو سیاسی بلوغت سے پہلے کا درجہ بھی دے دیا جائے تو اس کے بعد کی سیاست بھی ’’ نظریہ ذاتی ضرورت‘‘ کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتی۔ میاں صاحب اگر آپ واقعی خود کو ایک نظریا تی لیڈر کہلوانا چاہتے ہیں تو……آپ نے آج تک ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے کوئی تسلی بخش اقدامات کیوں نہیں کیے؟ آپ نے آج تک با اثر افراد بشمول، بیوروکریٹس، صحافیوں،ججوں اور دیگر سیاستدانوں کی کرپشن کے خلاف کبھی کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھایا؟ آ پ نے کیوں مشرف کو اس ملک سے بھاگنے دیا؟ یقین کریں اگر آپ اُس وقت عوام کی عدالت میں اپنا کیس رکھتے تو پہلے سے زیادہ پذیرائی اور اختیارات ملتے۔ لیکن اس کے لیے دل گردہ ہونے کیساتھ ساتھ ذاتی معاملات کی شفافیت بھی ضروری ہوتی ہے جو بد قسمتی سے کبھی بھی آپ کی شخصیت کا وتیرہ نہیں رہی۔ آپ نے کیوں زرداری اور اس کے ساتھیوں کی کرپشن پر خاموشی سادھے رکھی؟ چلیں پھر سے مان لیا کہ آپ 2013 تک وفاق میں نہیں تھے۔ لیکن 2013 کے بعد سے زرداری دور میں وقوع پذیر ہونے والے کتنے کرپشن کیسز کو آپ نے شفافیت سے حتمی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ آپ کو اپنے تمام مالی اور سیاسی معاملات ایک ’’ نظریہ مفاہمت‘‘ کے تحت چلانا تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

آپ نے کیوں اپنے ہی منسٹرز کے آن ریکارڈ ثبوتوں کے با وجود کوئی کارروائی نہیں کی؟ قصور میں ہونے والے انسانیت سوز واقعات کے ذمہ داران آج بھی آزادی سے گھومتے پھر رہے ہیں۔آپ کے مشہور زمانہ صوبائی وزیر تعلیم کی ویڈیو ابھی بھی انٹر نیٹ پر پڑی ہے۔ آپ کب تک ایسے بے شمار سکینڈلز سے منہ چھپائے بیٹھے رہنا چاہتے تھے؟

نندی پور پاور پلانٹ، قائد اعظم سولر پارک، ایل این جی پراجیکٹ، سستی روٹی پراجیکٹ، دانش سکول منی لانڈرنگ اور میڈیا پر ذاتی نشہیر کی لیے استعمال ہونیوالے قومی وسائل تو صرف خلاصہ داستاں ہیں۔ کیا یہی ہیں وہ قومی نظریات جن کا دعویٰ تو آپ ببا نگ دہل کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے متضاد نظر آتی ہے اور آپ کے نظریات ’’مطلب پرستی، ذاتی مفاد اور انتقام‘‘ سے بڑھ کر کچھ دکھائی نہیں دیتے۔ اسی قسم کے’’ نظریہ انتقام‘‘ نے آپ کو تاریخ کے اُس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے آپ نے نصرت بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور جمائما خان کی کردار کشی کی تھی۔ اکیسویں صدی میں بھی آپ کی روایتی سیاست کے ہتھیار قوم کی ایک او ر بیٹی عائشہ گلا لئی کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکے ہیں۔ شاید آپ کو یقین نہیں آرہا کہ آپ اس دفعہ بُری طرح سے گِھر چکے ہیں۔اور آپ کی ہر سیاسی چال آپ ہی پر اُلٹ رہی ہے۔ ابھی بھی آپکا جی ٹی روڈ کا سفر آپکے مریدوں کی منت ترلوں کے باعث جس قسم کی ’’گہماگہمی‘‘ کا منظر پیش کررہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر عوام کو اب اتنا سیاسی شعور ضرور حاصل ہو چکا ہے کہ وہ ایک نا اہل وزیر اعظم کے استقبال کے لیے اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کر سکتے۔

میاں صاحب! خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اور ہر اُس بندے کو اس کی چوٹ سہنی پڑتی ہے جو جھوٹ، نا انصافی اور غیر اخلاقی اعمال کا مرتکب ہو۔ جس انکساری اور عاجزی کا مظاہرہ آپ اور آپ کے اہل خانہ آج کل کر رہے ہیں،کاش کہ یہ ہی رویہ وہ پچھلے چار سال بھی اختیار رکھتے لیکن شاید اب پانی سر سے گزر چکا ہے کیونکہ مکافات عمل شروع ہو چکا ہے۔