کتاب نے زندگی کو ہمیشہ حیرتوں سے ہمکنار کیا - اختر عباس

میں اس لمحے کتاب سے دوستی کی باتوں کے سحر میں تھا اور عملاََ شہد کا چھتہ بنا برسوں سے جمع قطرہ قطرہ اس کتابی محبت کو اس مجمع کے ساتھ بانٹ رہا تھا جو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی وجہ سے پاک چائنہ سنٹر کے اس یخ بستہ ہال میں جمع تھا۔ ایک زمانہ تھا کالم اس لیے پڑھے اور پسند کیے جاتے تھے کہ کالم نگار دنیا کی بہترین کتابوں کا خزانہ اپنے قارئین کے ساتھ بانٹنا پسند کرتے تھے، پھر رواج بدلا، صرف وہ باتیں اور واقعات سامنے لائے جانے لگے جو لکھنے والے کی بات کی تائید کرتے۔ اب کم ہی کوئی اس تکلّف میں پڑتا ہے کہ کسی نئی کتاب سے ملوائے، اس کے مصنف کی باتیں اور نقطہ نگاہ بتائے، قاری کی تربیت اور تسکین دونوں ایک ساتھ ہو جاتی تھی، سیاسی تلخیوں نے اس نعمت سے بھی محروم کر دیا۔ اہل علم کی کوئی محفل ہو وہاں بھی ذکر کسی سیاسی خبر یا واقعہ کا ہی گفتگو میں ملے گا۔ کتاب سے محبت کرنے والے اب ڈھونڈنے پڑتے ہیں۔ ادب اور عالمی ادب کی چاشنی سے آشناکم ہی کوئی زبان ملتی ہے۔ ترجمہ اور سیلف ہیلپ کا لالچ دلانے والی کتابیں بہرحال لٹریچر کے زمرے میں آنے سے رہیں ۔

کتاب میری پہلی محبت ہے۔ میرے بیشتر دوستوں کی بھی اور میرے اکثر شاگردوں کی بھی، دوستیاں بھی انہی سے ہوئیں جو کتاب پڑھتے تھے اور کتاب کا تحفہ دیتے تھے۔ یونیورسٹی کے دنوں میں ماہنامہ 'ہمقدم' کی ادارت کے بعد میری زندگی کا پہلا شاندار کام بھی کتابوں کی اشاعت کے ایک ادارے کا انچارج بننا ہی تھا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ڈگری مکمل ہوئی اور پہلی سرکاری نوکری کے لیے یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں افسر تعلقات عامہ کے لیے انتخاب ہوا تو میں اس کے بجائے کتابوں کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے فیروز سنز میں مدیر بن گیا۔ میری زندگی کی سب سے زیادہ خوشی دینے والی دوستیاں اور تعلق یہیں سے بننے کا آغاز ہوا۔ جناب اشفاق احمد، بانو آپا، مستنصر حسین تارڑ، یونس جاوید، سید ضمیرجعفری، ممتاز مفتی، امجد اسلام امجد، اے حمید، میرزاادیب، طارق اسماعیل ساگر، بشری ٰرحمان، رضیہ بٹ، سائرہ ہاشمی، الطاف فاطمہ، جناب مختار مسعود، جناب مجیب الرحمن شامی، ڈاکٹر انور سدید، تنویر قیصر شاہد، عطاالحق قاسمی، پروفیسر عنایت علی خان، انور مسعود، مظفر محمد علی، وصی شاہ اور ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کیسے کیسے قیمتی اور نایاب لوگ ان کتابوں نے ملوائے بلکہ عطا کیے۔ ٹرینر بننے سے قبل میری پہچان ایک افسانہ نگار، کہانی کار اور مدیر کی ہی تھی۔ پھول کے تیرہ برس ہوں یا قومی ڈائجسٹ اور اردوڈائجسٹ کی ادارت کے قیمتی سال، سبھی کا تعلق لکھنے سے ہی تھا۔ میرے بیشتراعزازات چاہے یونیسیف ایوارڈز ہوں یا دعوۃ اکیڈیمی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن ایوارڈز، سبھی لکھنے سے ہی متعلق رہے۔ حالیہ یوبی ایل ایکسیلینس ایوارڈ بھی ایک کتاب کا ہی مرہون منت تھا۔ کتاب نے ہی خرم مراد صاحب سے ملوایا اور اسی نے جیلانی بی اے سے متعارف کروایا۔

کتاب نے ہمیشہ زندگی کی بڑی دلچسپ حیرتوں سے دوچار کیا، خصوصاَاس روز جب ہم ایک دوست کے ہاں مصطفیٰ ٹاؤن اس کے بچے کی پیدائش کی مبارک باد دینے گئے۔ وہ اور اس کی بیوی بچہ سنبھالنے لگے اور میں ان کے ڈرائنگ روم میں الماری میں سجی کتابیں دیکھنے لگا تو گیارہ کتابیں ایسی ملیں جو میری جانی پہچانی تھیں اور کبھی میری لائبریری کا حصہ تھیں مگر پھر وہاں سے غائب ہو گئیں۔ ان پر میرے دستخط مع تاریخ موجود تھے۔ یونیورسٹی کے زمانے سے میری عادت ہے کہ کتاب خرید کر پہلاکام یہی کرتا ہوں، وہاں سے واپسی پران گیارہ کتابوں کے بوجھ کے ساتھ سیڑھیاں اترتے د یکھ کر میری اہلیہ نے کھلکھلا کربس اتنا ہی کہا ’’ یوں لگ رہاہے جیسے آپ نے اپنی گود میں اپنے ہی باغیچے کے تازہ پھول اٹھا رکھے ہوں‘‘ ویسے اپنی ٹیم ممبر اور سابقہ کولیگ آمنہ کی شادی پر اس کے گھر جاکر بھی ایسی ہی کیفیت ہوئی تھی اور مروّت میں ان کتابوں کو وہاں چھوڑنا ایسے ہی لگ رہا تھا جیسے اپنے گھر آئی ڈولی وہاں چھوڑ دی ہو۔ گزشتہ برس کتاب کے دن اسلام آباد میں نیشل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرام میں اتنی دیر کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک لمحے کو بھی ایسی نہیں لگا کہ میں اپنی ذاتی محبتوں کے قصے سنا رہا ہوں حالانکہ معاملہ اس سے بھی سوا تھاجبھی تو ہال میں موجود کتابوں کی اشاعت سے وابستہ مقبول اور معروف ادار ے آفاق کے نئے سربراہ جناب محمدخلیق نے کہا ’’ میرے دل میں آیا تھا کہ تمہارا ماتھا چوم لوں۔ ‘‘ممتاز ٹرینرجناب شاہد وارثی نے اپنی باری پر یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ میں اپنا وقت بھی انہی کو دیتا ہوں کہ یہ کتاب دوستی کی باتیں اسی طرح کرتے رہیں۔کتاب سے محبت کی باتیں ہم سب کو اپنے ہی دل کی باتیں لگتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

گفتگوؤں میں کہنے کا یہی عام خیال رواج پا گیا ہے کہ کتاب سے لوگوں کی محبت کم ہوئی ہے۔ تین روز جوہر ٹاؤن میں واقع ایکسپو سنٹر میں لگے بک فیئر میں لوگوں کی آمد ورفت دیکھ کر تو ایسا بالکل نہیں لگا۔ بڑے سے ہال میں لگے چھوٹے بڑے سٹالز میں سجی کتابوں کو دیکھنے اور لینے لوگ جوق در جوق آرہے تھے، یہ اس بات کی گواہی تھی کہ لوگوں کی کتاب سے محبت قائم ہے اور اُس میں کمی نہیں ہوئی۔کچھ بچے اپنے والدین کو لے کر آئے تھے اور کچھ والدین اپنے بچوں کو لے کر آئے تھے۔ کتاب سے محبت کا یہ سفر ایسا ہی چلتا ہے کیونکہ یہی وہ محبت ہے جو دل ہی نہیں دن بھی بدل ڈالتی ہے۔ اس بار ایک نیا کام یہ ہوا کہ ہر روز نئی کتابوں کی تقریبات رونمائی کے لیے ایک ہال بھی دستیاب تھا، تین تقریبات تو میں نے بھگتائیں، ایک راحت عائشہ کی کتاب تھی، آم کا بھوت، جس میں نذیر انبالوی کے علاوہ ابن صفی کے بڑے صاحبزادے سے بھی ملاقات ہوئی جو ایک بڑی کمپنی میں اکاوئنٹس دیکھتے ہیں،کیا عمدہ بولے، دوسری کتاب راکعہ رضا کی کہانیوں کا مجموعہ تھا آخری سیڑھی،اس میں علامہ اقبال کے پوتے منیب اقبال بھی آئے اور اردوکتب کی اشاعت اور پذیرائی پر خوشی کا اظہار کیا۔تیسری کتاب رابعہ بک پبلشرز کے ابوالحسن طارق کی تھی جو انہوں نے حج کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے ایک راہنما کتاب کے طور پر تیار کی ہے،اس میں مہمان مقررین بھی کافی تھے، ہمارے دوست قاسم شاہ کی کتاب اونچی اڑان کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔

یہ ہمیشہ سے مانا جاتا رہا ہے کہ کتاب زندگی کو آپ کے لیے آسان کر دیتی ہے۔ آپ کے لیے دانش اور محبت کے راستے اور علم، مرتبے اور عزت کے بہت سارے دروازے کھول دیتی ہے۔ سابق امریکی صدر نکسن کی کتاب بینی کی عادت لیڈرز پر ایک عمدہ کتاب کی صورت میں سامنے آئی تھی، اور تو اور کلنٹن صاحب کی چھٹیوں کی ایک تصویر جو کسی پاپا زاری فوٹوگرافر نے بنائی تھی، وہ 'الکیمسٹ' کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کا باعث بنی تھی۔ اسی کتاب کو ساحل سمندر پر لیٹ کر پڑھتے ہوئے آسکر ایوارڈ یافتہ جولیا رابرٹس کی تصویر نے بھی بڑی دھوم مچائی تھی۔ ہاں! یہ الگ بات ہے کہ ہماری موجودہ سیاسی قیادت پر کتاب شناسی اور صاحب مطالعہ ہونے کی کوئی تہمت مشکل سے ہی لگائی جا سکتی ہے، میاں صاحب تو کتاب چھوڑ سرکاری فائل بھی پڑھنے میں کم ہی دلچسپی لیتے پائے گئے ہیں۔ جلا وطنی کے برسوں میں بھی کتاب بینی کی کوئی شکایت رؤف طاہر صاحب نے کبھی نہیں کی۔ چھوٹے میاں صاحب البتہ اشعار بروقت استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ سارا قصور 'کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں' والے شاعر کا نہیں ہو سکتا، جب تک آپ کے اندر کوئی شوق نہ ہو نظم اور نثر دونوں نہیں پڑھی جا سکتیں۔ اپنے خان صاحب کتاب اور شعر دونوں ہی پڑھنے پر یقین نہیں رکھتے، انہیں لفظوں سے آگ لگانے اور سلگانے کی جو سہولت میسر ہے اس کے بعد وہ کتاب کیوں پڑھنے لگے؟ زرداری صاحب پر توغلطی سے بھی یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا۔ سراج الحق صاحب کا ذاتی شوق نہ بھی ہو تو انہیں جماعتی ڈسپلن اور ضرورت کے مطابق پڑھنا پڑتا ہے۔ اسی لیے وہ دوران سفر بھی کتاب کے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔ فاروق ستار صاحب کی گفتگو سے تو کبھی نہیں لگا کہ کتاب سے کوئی دور پار کا تعلق رہا ہوگا۔ لیاقت بلوچ صاحب کا کتاب پڑھنے کا بہت عمدہ ذوق ہے، مولانا فضل الرحمٰن اپنے تعلیمی دنوں کے بعد کسی کتاب کا ذکر کرتے نہیں دیکھے۔ ہاں کئی برس قبل عرفان صدیقی صاحب کے کالموں کے مجموعے کی تقریب رونمائی میں پی سی میں وہ تشریف لائے۔ تقریر بھی کی اور اشتیاق سے میرا فیڈ بیک بھی لیا کہ میزبانی میرے ذمے تھی۔ ان کی گفتگو بہرحال سمجھداری سے نپی تلی بات کرنے والے سیاستدان کی ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی میں بلاول نے تو شاید ہی کوئی اردو لٹریچر کی کتاب دیکھی ہو، انگریزی ادب پڑھنے کی خواہش اور دادت کی بھی کوئی گواہی ابھی تک تو میسر نہیں۔ ایک زمانے میں جب یوسف رضا گیلانی صاحب کی چاہ یو سف سے صدا آئی تھی تو مرحوم مخدوم فہیم الزمان کی گفتگو سننے کا موقع ملا،وہ ایک صاحب مطالعہ شخص کی نشاندہی کرتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:   کتب بینی کی اہمیت -گہرام اسلم بلوچ

سیاسی قیادت درجہ اول کی ہو یا درجہ اول میں جانے اور شامل ہونے کی آرزو رکھنے والوں کی، ادب و کتاب سے دوستی اور تعلق کے بنا قابل تقلیدفہم اور دانش تک رسائی آسان نہیں ہو تی۔ کتاب ان ساری غلطیوں اور کوتاہیوں کی بھی آگاہی دیتی ہے جو تاریخ کے سفر میں جگہ جگہ ہوئی نظر آتی ہیں۔ اہل علم اور صاحبان مطالعہ کو ہم نے ہمیشہ نرم مزاج اور اعتدال کو اپنی شخصیت کا حصہ بناتے دیکھا، وہ ایشوز میں رائے ضرور دیتے مگر پارٹی بننے سے احتراز کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کے وہ چند کالم نگار جنہیں کتابوں سے علاقہ ہے وہ اس شوق اور ہنرکو ننگی تلوار بنائے ہر موضوع اورمخالف پر یوں استعمال کرتے ہیں جیسے کالم نگار نہ ہوں کسی پارٹی کے تلوار بازوں کے ہراول دستے کا حصہ ہوں۔

کتاب دوستی اہل علم میں ہو اہل سیاست میں یا اہل ثقافت میں، توازن اور بے تعصبی سے سوچنے اور سمجھنے کے باعث ان کا ایک درجہ ہمیشہ بلند ہی رہتا دیکھا ہے۔ صرف کالم نگاروں سے کیا شکوہ؟ کوئی چینل بھی کتاب پر بات کرنے کا روا دار نہیں سوائے پی ٹی وی کے کہ جہاں کبھی کبھار کتاب کا ذکر سننے کو مل جاتا ہے۔ ایک نیا کام پاک ٹی ہاؤس میں چند ادب دوستوں نے جناب ارشد جاوید اور عاطف مرزا کی ترٖغیب نے ضرور کیا ہے جہاں ہر ماہ کسی کتاب پر بات کی جاتی ہے چاہے وہ سیلف ہیلپ پر ہی کیوں نہ ہو۔ کتاب زندگی کو ہمیشہ حیرتوں اور سوالوں سے ہم کنار کرتی آئی ہے، اس خوشی اور آسودگی کا کوئی متبادل اب تک تو نہیں ملا۔ صدیوں اور نسلوں کی دانائی کی کتنی بھی قیمت ہو اس کی ادائی میں کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ سنا ہے سہیل وڑائچ صاحب اپنے صحافتی کیرئیر کے عروج پر اچانک ایک سال کے لیے کتاب لکھنے اپنی نوکری اور کام کو تج کے امریکہ جانے والے ہیں۔ وہ واقعی ایسا کرنے والے ہیں یا افواہ ہی ہے یہی تصدیق کے لیے انہیں فون کیا تو بند ملا ہاں دفتر سے استعفیٰ کی تصدیق ضرور ہو گئی ہے۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.